آن لائن، 26 اکتوبر 2026 (ویب ڈیسک): ایلون مسک (Elon Musk) کی کمپنی xAI کے ویڈیو ساز ٹول گروک امیجن (Grok Imagine) نے ہومر (Homer) کی قدیم رزمیہ نظم اوڈیسی (Odyssey) کی پہلی قسط ایکس (X) پر جاری کر دی ہے۔ یہ قسط سات منٹ بارہ سیکنڈ طویل ہے اور 4K معیار میں جاری کی گئی ہے۔ مسک نے بھی یہ قسط شیئر کی، جس کے بعد یہ ویڈیو لاکھوں بار دیکھی گئی۔
گروک امیجن کے اکاؤنٹ سے 23 اکتوبر کو پوسٹ کی گئی اس قسط کو ونڈر اسٹوڈیوز (Wonder Studios) اور ہدایت کار ڈیو واکر (Dev Walker) کی مشترکہ تخلیق قرار دیا گیا ہے۔ اکاؤنٹ نے ناظرین سے یہ بھی پوچھا ہے کہ کیا وہ اس قسط کی تیاری کی مکمل تفصیل دیکھنا چاہیں گے۔ تاحال یہ واضح نہیں کہ اس سیریز میں کل کتنی اقساط ہوں گی، اگلی قسط کب آئے گی، اور ایکس کے سوا یہ کہاں دکھائی جائے گی۔
پہلی قسط میں کیا دکھایا گیا ہے
پہلی قسط میں اوڈیسیئس (Odysseus) کو ٹرائے کی مہم پر روانگی کی تیاری کرتے دکھایا گیا ہے۔ ان کی اہلیہ پینیلوپی (Penelope) انھیں رخصت کرتی ہیں، یونانی لشکر سمندر کے راستے روانہ ہوتا ہے، اور اس کے ساتھ ساتھ نوجوان ٹیلی میکس (Telemachus) کی نشوونما اور جنگی تربیت کے مناظر بھی دکھائے گئے ہیں۔ قسط کا مرکزی منظر یونانیوں کا ٹرائے پہنچنا ہے، جس میں قدیم بحری جہاز، ساحل اور لشکر کے مناظر شامل ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ہومر کی نظم کا آغاز دراصل ٹرائے کی جنگ ختم ہونے کے دس برس بعد ہوتا ہے، جب اوڈیسیئس گھر واپسی کی کوشش کر رہا ہوتا ہے۔ یوں پہلی قسط نظم کے آغاز سے پہلے کی کہانی سناتی ہے، یعنی ٹرائے کی طرف روانگی، نہ کہ واپسی کا سفر۔ ناقدین نے اسی نکتے پر توجہ دلائی ہے کہ یہ قسط اوڈیسی سے زیادہ اس کے پیش منظر کی جھلک ہے۔
وعدہ مکمل فلم کا تھا
یہ قسط 22 جولائی 2026 کے اس وعدے کا پہلا عملی نتیجہ ہے، جب مسک نے کہا تھا کہ سال کے اختتام سے پہلے گروک امیجن ہومر کی اوڈیسی کی مکمل، تاریخی طور پر درست فلم بنائے گا۔
"اس سال کے اختتام سے پہلے، گروک امیجن ہومر کی اوڈیسی کی مکمل فلم بنائے گا، جو تاریخی طور پر درست اور ہومر کے فن سے سچی ہوگی۔" ایلون مسک، بانی، xAI
تین ماہ بعد جو کچھ سامنے آیا ہے، وہ مکمل فلم نہیں بلکہ سات منٹ کی ایک قسط ہے، جسے اب اوڈیسی سیریز کی پہلی قسط کہا جا رہا ہے۔ اس تبدیلی کو کئی مبصرین نے وعدے کی خاموش ترمیم قرار دیا ہے، کیوں کہ ایک مکمل فلم اور ایک جاری سیریز میں بڑا فرق ہے۔ دوسری جانب، اس منصوبے کے حامیوں کا کہنا ہے کہ سات منٹ کی مربوط کہانی بھی اے آئی ویڈیو کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے، کیوں کہ اس سے پہلے اے آئی سے بنی ویڈیوز زیادہ تر چند سیکنڈ کے کلپس تک محدود رہی ہیں۔
یہ وعدہ اس وقت سامنے آیا تھا جب مسک نے ہدایت کار کرسٹوفر نولان (Christopher Nolan) کی اوڈیسی کی کاسٹنگ پر تنقید کی تھی۔ ان کا مؤقف تھا کہ تاریخی درستی کو فلم سازی میں اولیت ملنی چاہیے۔ اسی بحث نے گروک کے منصوبے کو ایک تکنیکی تجربے سے بڑھ کر ایک ثقافتی مقابلے کی شکل دے دی۔
یہ قسط کیسے بنی
رپورٹوں کے مطابق اس قسط میں گروک امیجن (Grok Imagine) کا ویڈیو ساز ماڈل استعمال ہوا ہے، جو متن سے ویڈیو بنانے والا ماڈل ہے اور ایک ہی عمل میں تصویر کے ساتھ ہم آہنگ آواز بھی تیار کرتا ہے۔
اس قسم کے ماڈل کی اصل آزمائش یہ ہے کہ کئی منٹ تک کرداروں کی شکل، ماحول اور لہجہ ایک جیسا رکھا جائے۔ چند سیکنڈ کے کلپ میں کردار کی شکل بدل بھی جائے تو ناظر شاید محسوس نہ کرے، مگر سات منٹ کی کہانی میں ہر تبدیلی نظر آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس قسط کو اے آئی ویڈیو کی ایک سنجیدہ آزمائش قرار دیا جا رہا ہے، نہ کہ صرف ایک نمائشی کلپ۔
ونڈر اسٹوڈیوز نے اس قسط کی تشہیر کے لیے صرف ایک جملہ استعمال کیا ہے۔
"ہومر کے پاس گروک نہیں تھا، ہمارے پاس ہے۔" ونڈر اسٹوڈیوز
اس اسٹوڈیو کے دفاتر لندن، نیویارک اور لاس اینجلس میں ہیں۔ اس کی بنیاد زیویر کولنز (Xavier Collins) اور جسٹن ہیکنی (Justin Hackney) نے رکھی تھی۔ اکتوبر 2025 میں اس نے ایٹومیکو (Atomico) کی قیادت میں 1 کروڑ 20 لاکھ ڈالر (12 ملین ڈالر) کی سرمایہ کاری حاصل کی تھی، اور اس کے گاہکوں میں یوٹیوب (YouTube)، بی بی سی (BBC)، گوگل ڈیپ مائنڈ (Google DeepMind) اور یونیورسل میوزک گروپ (Universal Music Group) شامل رہے ہیں۔
نولان کی فلم سے موازنہ
کرسٹوفر نولان کی اوڈیسی جولائی 2026 میں سینما گھروں میں آئی۔ اس نے پہلے ہفتے کے آخر میں تقریباً 26 کروڑ 40 لاکھ ڈالر (264 ملین ڈالر) کمائے، اور مجموعی طور پر 1 ارب 78 کروڑ ڈالر (1.78 بلین ڈالر) سے زیادہ کا بزنس کیا۔ اس کی شوٹنگ چھ ملکوں میں ہوئی اور اس میں ہزاروں افراد نے کام کیا۔
گروک کی قسط اس کے برعکس ایک چھوٹی ٹیم اور ایک ویڈیو ساز ماڈل کی مدد سے بنی ہے۔ یہ موازنہ صرف بجٹ یا پیمانے تک محدود نہیں۔ نولان نے عملی فلم سازی پر زور دیا، یعنی اصل لوکیشنز، اصل سیٹ اور بڑی کاسٹ، جبکہ گروک کا تجربہ یہ ثابت کرنے کی کوشش ہے کہ جنریٹو اے آئی (Generative AI) طویل کہانی بھی سنا سکتی ہے۔ تاحال یہ سوال کھلا ہے کہ آیا سات منٹ کی قسط اس دعوے کا ثبوت ہے یا صرف ایک جھلک۔
ردعمل: تعریف بھی، تنقید بھی
ناظرین کا ردعمل ملا جلا رہا۔ کئی مناظر کو دیکھنے میں متاثر کن قرار دیا گیا، مگر ساتھ ہی کرداروں کی شکل میں تبدیلی، کہانی کے کمزور ربط اور اے آئی سے بنی ویڈیو کی مخصوص جھلکیوں کی نشان دہی بھی کی گئی۔ بعض ناظرین نے یہ بھی کہا کہ قسط میں صرف اوڈیسیئس کا نام لیا گیا ہے اور بیانیہ بہت مختصر محسوس ہوتا ہے، جس سے کہانی سے جڑنا مشکل ہو جاتا ہے۔
ایک اور تنقید قسط کی کاسٹ کی تشکیل پر ہوئی۔ ناقدین نے کہا کہ قسط کی کاسٹ یکساں نظر آتی ہے۔ یہ وہی نکتہ ہے جس پر مسک نے نولان کی فلم پر اعتراض کیا تھا، اس لیے اس تنقید کو خاص توجہ ملی۔
اتوار کی سہ پہر تک اصل پوسٹ 33 لاکھ سے زیادہ بار دیکھی جا چکی تھی، جبکہ پیر تک شائع ہونے والی رپورٹوں میں اسے تقریباً 60 لاکھ بار دیکھا جانا بتایا گیا۔ اس پوسٹ کو 19 ہزار سے زیادہ لائکس اور 2,100 سے زیادہ ری پوسٹس بھی ملیں۔
پاکستان کے قارئین کے لیے اس کا مطلب
پاکستان میں آزاد فلم سازوں، یوٹیوبرز اور اشتہاری تخلیق کاروں کے لیے اس تجربے میں ایک عملی سبق ہے۔ اگر یہ ٹیکنالوجی اسی رفتار سے بہتر ہوتی رہی تو چھوٹی ٹیمیں بھی مہنگی لوکیشنز اور بڑے سیٹ کے بغیر مختصر فلمیں، تاریخی مناظر اور اشتہار بنا سکیں گی۔ اس سے لاگت کم ہوگی اور وہ کہانیاں بھی پردے تک پہنچ سکیں گی جن کے لیے پہلے بڑا بجٹ درکار ہوتا تھا۔
تاہم، اس قسط نے یہ بھی دکھایا ہے کہ کہانی، کرداروں کی مستقل مزاجی اور مکالمے اب بھی انسانی ہدایت کار کے بغیر نہیں سنبھلتے۔ اصل مہارت اب یہ ہوگی کہ کہانی کیسے لکھی جائے، کرداروں کی شکل کیسے ایک جیسی رکھی جائے، اور مناظر کو کس ترتیب سے جوڑا جائے۔
اگلی قسط کب آئے گی اور سال کے اختتام تک مکمل فلم کا وعدہ پورا ہوگا یا نہیں، یہ دونوں سوالات تاحال جواب کے منتظر ہیں۔

