ٹورنٹو، 23 اکتوبر 2026 (نیوز ڈیسک): پاس ورڈ مینیجر کمپنی 1Password نے اے آئی ایجنٹس کے لیے ایک نیا نظام متعارف کرایا ہے، جس کے تحت ایجنٹ صارف کے آن لائن اکاؤنٹس میں لاگ ان تو کر سکے گا، مگر اسے صارف کا پاس ورڈ کبھی نظر نہیں آئے گا۔
کمپنی نے جمعرات کو "1Password for Agents" نامی اس پلیٹ فارم کا اعلان کیا۔ اس کا مقصد ایک بڑھتا ہوا مسئلہ حل کرنا ہے۔ لوگ اب اپنے اے آئی ایجنٹس سے بل بھروانے، چھٹیوں کی منصوبہ بندی کروانے اور تحفے خریدنے جیسے کام کراتے ہیں، جن کے لیے اکثر کسی نہ کسی اکاؤنٹ میں لاگ ان ہونا پڑتا ہے۔ اب تک آسان طریقہ یہ تھا کہ صارف اپنا پاس ورڈ ایجنٹ کی چیٹ میں لکھ دے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ پاس ورڈ کی ایک نقل ایجنٹ کے پاس محفوظ ہو جاتی تھی، اور صارف کا اس پر کوئی کنٹرول نہیں رہتا تھا۔
نظام کیسے کام کرے گا
جب ایجنٹ کسی لاگ ان صفحے پر پہنچے گا تو وہ ایک منفرد ڈیجیٹل کلید کے ذریعے 1Password کو اپنی شناخت کرائے گا۔ اس کے بعد صارف کو 1Password ایپ میں ایک اطلاع ملے گی، جس میں لکھا ہوگا کہ کون سا ایجنٹ کس اکاؤنٹ تک رسائی چاہتا ہے اور کس کام کے لیے۔ صارف کی منظوری کے بعد 1Password خود صارف نام اور پاس ورڈ متعلقہ سائٹ میں بھر دے گا۔ ایجنٹ کو یہ معلومات کبھی نہیں دکھائی جائیں گی۔
اہم بات یہ ہے کہ رسائی ہر سیشن کے لیے الگ ہوگی اور صرف منظور شدہ اکاؤنٹس تک محدود رہے گی۔ پاس ورڈ اور ایک بار استعمال ہونے والے کوڈ 1Password کے محفوظ چینل سے گزریں گے اور ایجنٹ کے ماڈل تک نہیں پہنچیں گے۔ منظوری کا یہ عمل 1Password ایپ میں ہوگا، جو دو مرحلہ تصدیق جیسا ہے۔ صارف خود طے کرے گا کہ ایجنٹ کون سا پاس ورڈ، کس کام کے لیے اور کتنی دیر تک استعمال کر سکتا ہے۔ ایجنٹ خود اپنی رسائی منظور نہیں کر سکے گا۔
کون سے ایجنٹ شامل ہیں
شروع میں یہ نظام میٹا کے Muse، اینتھروپک کے Claude Duet، اوپن اے آئی کے ChatGPT Work اور Dots، ایلون مسک کی کمپنی کے Grok Bot اور اسٹارٹ اپ Town کے Townie کے ساتھ کام کرے گا۔ Town نے اسی ہفتے دس کروڑ اسی لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کی ہے۔ کمپنی کے مطابق براؤزر بیس، پرپلیکسٹی اور ریمپ سمیت مزید کئی کمپنیاں بھی جلد اس نظام سے جڑیں گی۔
1Password کے چیف پروڈکٹ افسر آشش ترپاٹھی کہتے ہیں کہ ایجنٹ اب صارفین کی طرف سے حقیقی کام کرنے لگے ہیں۔
"ایجنٹ اب ہماری طرف سے حقیقی کام کرنے لگے ہیں۔ پرانا طریقہ اب نہیں چلتا، جس میں پاس ورڈ تھما کر بہتری کی امید رکھی جاتی تھی۔"
ان کے بقول ایجنٹ کو جو کام سونپا گیا ہے وہ اسے کرنا چاہیے، مگر اسے اکاؤنٹ کی ہر چیز تک مستقل رسائی نہیں ملنی چاہیے۔ 1Password یہی اعتماد فراہم کرتا ہے۔
بینک کیوں پریشان ہیں
یہ اعلان اسی دن سامنے آیا ہے جس دن امریکی خبر رساں ادارے ایکسیوس نے رپورٹ کیا کہ امریکہ کے بینکوں نے صارفین کے اکاؤنٹس میں ایجنٹس کی سرگرمی کا سراغ لگانا شروع کر دیا ہے۔ بینکوں کے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ یہ نہیں بتا سکتے کہ ایجنٹ کی سرگرمی صارف کی مرضی سے ہو رہی ہے یا نہیں۔ ایکسیوس سے بات کرنے والے بینکاروں نے صورتحال کو "خوفناک" قرار دیا، جب کہ Chase بینک کے ترجمان نے کہا کہ صارفین کو اپنا صارف نام اور پاس ورڈ کسی کو نہیں دینا چاہیے۔
یعنی مسئلہ صرف سرکش ایجنٹس کا نہیں۔ اصل صورتحال یہ ہے کہ لوگ خود اپنے ایجنٹس کو مالی معاملات سمیت ہر کام کی اجازت دے رہے ہیں، اور بینکوں کے پاس یہ پرکھنے کا کوئی طریقہ نہیں کہ اجازت کس نے دی تھی۔
ڈویلپرز کے لیے بھی راستہ
1Password نے یہ نظام صرف عام صارفین کے لیے نہیں بنایا۔ کمپنی ایجنٹ بنانے والے ڈویلپرز کو بھی دعوت دے رہی ہے کہ وہ اسے اپنے ایجنٹس میں جوڑیں۔ اس کے علاوہ پاس ورڈ بدلنے پر بھی آسانی ہوگی: پاس ورڈ صرف ایک جگہ بدلنا ہوگا اور تمام جڑے ایجنٹ خودکار طور پر نیا پاس ورڈ استعمال کریں گے، ہر جگہ الگ الگ اپ ڈیٹ کی ضرورت نہیں رہے گی۔
پس منظر
یہ 1Password کا ایجنٹس کی دنیا میں پہلا قدم نہیں۔ جولائی میں کمپنی نے Claude کے ساتھ اسی نوعیت کا انضمام متعارف کرایا تھا۔ اس وقت کمپنی نے خبردار کیا تھا کہ براؤزر ایجنٹ کو پاس ورڈ دینے کا مطلب اسے سادہ متن میں ماڈل کے حوالے کرنا ہے، جہاں ماڈل اسے پڑھ سکتا ہے۔ نیا پلیٹ فارم اسی حل کو Claude سے آگے تمام بڑے ایجنٹس تک پھیلا دیتا ہے۔
پاکستان کے لیے اس کا مطلب
پاکستان میں بھی آن لائن بینکنگ، ای کامرس اور فری لانسنگ کے لیے اے آئی ایجنٹس کا استعمال بڑھ رہا ہے۔ یہاں بھی صارفین اکثر سہولت کے لیے اپنے پاس ورڈ ایجنٹس یا نامعلوم ٹولز کے حوالے کر دیتے ہیں، جو اتنا ہی خطرناک ہے جتنا کہیں اور۔




