سان فرانسسکو، 13 اکتوبر 2026 (نیوز ڈیسک): امریکن ایکسپریس نے اے آئی ایجنٹس کے ذریعے ہونے والی آن لائن خریداری کو محفوظ بنانے کے لیے ایک نیا فریم ورک متعارف کرا دیا ہے، جس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ کوئی مصنوعی ذہانت والا معاون صارف کی مرضی کے بغیر یا اس کی دی گئی ہدایت سے ہٹ کر کوئی خریداری مکمل نہ کر سکے۔ یہ نظام صارف کی خریداری کی نیت کو لین دین سے پہلے ہی محفوظ کر لیتا ہے اور ایجنٹ کو صارف کے طے کردہ دائرے میں رکھتا ہے۔
خریداری سے پہلے نیت کی تصدیق
نئے نظام کو "انٹینٹ انٹیلی جنس فریم ورک" کا نام دیا گیا ہے۔ امریکن ایکسپریس کا کہنا ہے کہ اے آئی ایجنٹس اب صارفین کی طرف سے لین دین کرنے لگے ہیں، مگر لارج لینگویج ماڈلز کی غیر یقینی فطرت کی وجہ سے یہ ایجنٹس بعض اوقات وہ کر بیٹھتے ہیں جو انہیں کرنا نہیں چاہیے تھا۔ ایسے میں ایک غلط خریداری کا خطرہ پیدا ہوتا ہے، اور اسی مسئلے سے پہلے نمٹنے کے لیے یہ فریم ورک لایا گیا ہے۔
کمپنی کا خیال ہے کہ صارف کی خریداری کی ہدایات خریداری کے لمحے سے لے کر اس کے بعد کے تمام مراحل تک ساتھ رہنی چاہئیں۔ امریکن ایکسپریس کو امید ہے کہ یہ فریم ورک اے آئی سے چلنے والی تجارت کا صنعتی معیار بن جائے گا۔
"ہم چاہتے تھے کہ ایجنٹوں کے ذریعے ہونے والی لین دین اتنی ہی بے رکاوٹ، قابلِ اعتماد اور محفوظ ہو جتنی ہمارے کارڈ رکھنے والے صارفین توقع رکھتے ہیں۔" امریکن ایکسپریس میں ایجنٹ شراکت داری اور حکمت عملی کی نائب صدر ہینا بوزین نے ٹیک کرنچ کو انٹرویو میں بتایا۔
نظام کیسے کام کرے گا
فریم ورک کا آغاز "کریئٹ انٹینٹ" API سے ہوتا ہے، جو صارف کی خریداری کی ہدایات کے ساتھ ساتھ وہ پابندیاں بھی درج کر لیتی ہے جو صارف نے اپنی درخواست میں لگائی ہوں، جیسے دکان کا نام، زیادہ سے زیادہ بجٹ اور مصنوعات سے متعلق دیگر ترجیحات۔ ہینا بوزین کے مطابق نیت جمع کرنے کا طریقہ استعمال ہونے والے اے آئی ماڈل کے لحاظ سے مختلف ہو سکتا ہے، مگر منصوبہ یہ ہے کہ یہ فریم ورک اتنا لچکدار ہو کہ ایجنٹ والی تجارت کے تمام ماڈلز اسے استعمال کر سکیں۔
اس کے بعد صارف اپنی شناخت کی تصدیق کرتا ہے اور ایجنٹ کی درج کردہ نیت پر دستخط کر کے اسے منظور کرتا ہے۔ پھر ایک "انٹینٹ آئی ڈی" بنتی ہے، جو اس ارادے کی منفرد شناخت ہوتی ہے، اور ساتھ ہی "پروف آف انٹینٹ ٹوکن" جاری ہوتا ہے جس میں صارف کی بنیادی پابندیاں شامل ہوتی ہیں۔ اس ٹوکن کے ذریعے ایک محفوظ ڈیجیٹل ادائیگی کی کنجی حاصل کی جاتی ہے، جسے ایجنٹ چیک آؤٹ کے وقت صارف کے اصل کریڈٹ کارڈ نمبر کی جگہ استعمال کرتا ہے۔ یوں خریداری محفوظ بھی رہتی ہے اور اسی دائرے میں ہوتی ہے جس کی صارف نے اجازت دی تھی۔
یہ آئی ڈی اور ٹوکن لین دین کے مختلف مراحل میں بھی استعمال ہو سکتے ہیں، جس سے فراڈ کی روک تھام اور تنازعات کے حل میں مدد ملے گی۔
نائکی کے جوتے اور ایڈیڈاس کی غلطی
ہینا بوزین نے ایک عملی مثال دے کر نظام کی افادیت سمجھائی۔ فرض کیجیے صارف ایجنٹ سے کہتا ہے کہ سفید رنگ کے نائکی جوتے، سائز 9 خرید دو، مگر ایجنٹ غلطی سے ایڈیڈاس کے جوتے خریدنے کی درخواست بھیج دیتا ہے۔ ایسے میں امریکن ایکسپریس اس لین دین کو روک سکے گی، کیونکہ ایجنٹ نے غلطی کی ہے اور خریداری صارف کی درج کردہ نیت سے میل نہیں کھا رہی۔
ان کا کہنا تھا کہ آج کل کے بیشتر ایجنٹس خریداری سے پہلے صارف کی رضامندی مانگتے ہیں، مگر مستقبل میں ایجنٹس کہیں زیادہ خود مختار ہو سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر صارف اپنے ایجنٹ کو گھر کی روزمرہ کی اشیا، جیسے کاغذی تولیے یا ٹشو پیپر، خود بخود دوبارہ منگوانے کی اجازت دے سکتا ہے، جہاں اصل پابندی صرف قیمت اور سائز ہوتی ہے، نہ دکان نہ برانڈ۔ ایسے معاملات میں یہ سمجھ میں آتا ہے کہ ایک ٹیکنالوجی درمیان میں موجود ہو جو یہ اضافی جانچ کرے کہ لین دین واقعی صارف کے ارادے کے مطابق ہے۔
"ہمارا طریقہ کار دوسروں کے طریقوں سے اس لیے مختلف ہے کہ یہ ارادے کو لین دین کے بہاؤ میں پہلے مرحلے پر لے آتا ہے، اور یہ اس لیے اہم ہے کہ اس سے خطرہ پیدا ہونے سے پہلے ہی ٹل جاتا ہے۔" ہینا بوزین نے وضاحت کی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ کس ایجنٹ نے کب کیا منظور کروایا، اس کا ریکارڈ رکھنے سے ایجنٹ کی طرف سے ہونے والے فراڈ سے نمٹنے میں بھی مدد ملے گی۔
صارفین کی تیاری اور کمپنی کے اعداد
امریکن ایکسپریس نے بتایا کہ ابھی تک اسے ایجنٹ والی تجارت کی وجہ سے تنازعات میں کوئی اضافہ نظر نہیں آیا، مگر وہ اس تجارت کے پھیلنے سے پہلے ہی یہ ٹیکنالوجی بنا کر آگے رہنا چاہتی ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ صارفین نے اشارہ دیا ہے کہ وہ ایجنٹ والی تجارت آزمانے کے لیے تیار ہیں۔
کمپنی کی حالیہ ٹرینڈیکس رپورٹ کے مطابق سروے میں شامل 66 فیصد امریکی صارفین نے کہا کہ وہ اگلے 12 ماہ میں کسی مصنوعات یا سروس کی بہترین قیمت معلوم کرنے کے لیے اے آئی ایجنٹس استعمال کرنے کا امکان رکھتے ہیں، اور 61 فیصد نے کہا کہ وہ مصنوعات یا سروس کی سفارش کے لیے ایجنٹ استعمال کریں گے۔
ایجنٹ والی تجارت کی بڑھتی دوڑ
یہ اعلان اس وقت سامنے آیا ہے جب بڑی ٹیکنالوجی اور ادائیگیوں کی کمپنیاں ایجنٹ والی خریداری کے میدان میں آگے بڑھنے کی دوڑ میں لگی ہیں۔ گوگل نے بھی دکانداروں کو ایجنٹ والی خریداری کے دور میں کامیاب بنانے کے لیے نئے ٹولز پیش کیے ہیں، جبکہ ویزا اپنے "نو یور کسٹمر" جیسے اقدامات سے ایجنٹ والی تجارت کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔
یہ فریم ورک امریکن ایکسپریس کے اپریل میں شروع کیے گئے "اے سی ای ڈیولپر ٹول کٹ" کے بعد سامنے آیا ہے، جسے "ایجنٹک کامرس ایکسپیرینسز" کہا جاتا ہے۔ نیا انٹینٹ فریم ورک اب اسی ٹول کٹ میں شامل خدمات کا حصہ ہے۔ کمپنی کے مطابق وہ ادائیگیوں کے نظام میں اپنے شراکت داروں سے اے سی ای کے نفاذ پر بات چیت کر رہی ہے، اور جیسے جیسے ایجنٹ والی تجارت کا ماحول بدلے گا، وہ اس ٹول کٹ کو مزید بہتر بناتی رہے گی۔
ہینا بوزین 13 اکتوبر کو ٹیک کرنچ ڈسرپٹ 2026 کے انڈسٹری اسٹیج پر اس نئے فریم ورک اور ایجنٹ والی تجارت کے مستقبل پر مزید تفصیل سے بات کریں گی۔
پاکستان کے لیے اس کا مطلب
پاکستان میں آن لائن خریداری تیزی سے بڑھ رہی ہے اور ڈیجیٹل ادائیگیاں عام ہوتی جا رہی ہیں۔ اگرچہ اے آئی ایجنٹس کے ذریعے خریداری ابھی یہاں ابتدائی مرحلے میں ہے، مگر یہ رجحان عالمی ہے اور جلد یا بدیر مقامی ای کامرس تک بھی پہنچے گا۔ ایسے میں غیر مجاز خریداری کا خطرہ ہر جگہ یکساں ہے، چاہے صارف کراچی میں ہو یا کیلیفورنیا میں۔ امریکن ایکسپریس جیسے اداروں کا نیت کی تصدیق کو لین دین کا لازمی حصہ بنانا اس بات کی علامت ہے کہ آنے والے برسوں میں آن لائن خریداری کی حفاظت کا معیار یہی ہوگا: ایجنٹ کتنا ہی ذہین کیوں نہ ہو، پیسے خرچ کرنے سے پہلے صارف کی مرضی کی مہر لازمی ہوگی۔
امریکن ایکسپریس کی یہ کوشش اگر صنعتی معیار بن جاتی ہے تو اس کے اثرات صرف امریکی صارفین تک محدود نہیں رہیں گے۔ دنیا بھر کے ادائیگیوں کے نظام اسی طرز پر ایجنٹوں کے لیے حفاظتی دیواریں کھڑی کریں گے، اور پاکستان کے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے ماحول کو بھی انہی اصولوں سے فائدہ پہنچے گا۔



