سان فرانسسکو — ایلون مسک نے اعلان کیا ہے کہ ان کی مصنوعی ذہانت سے چلنے والی آن لائن انسائیکلوپیڈیا گروکیپیڈیا کا انتظام اب مکمل طور پر گروک بوٹس کے سپرد کیا جائے گا۔ مسک نے جمعرات کی رات ایکس پر لکھا کہ گروک بوٹس ہی اب گروکیپیڈیا چلائیں گے۔ ان کا یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب گروکیپیڈیا کے سرکاری اکاؤنٹ نے انکشاف کیا کہ نیا ورژن 0.3 لانچ ہونے کے ایک ہفتے کے اندر گروک نے قارئین کی درخواستوں پر 4,400 سے زائد نئے مضامین لکھے اور روزانہ 2,200 سے زائد ترامیم کیں۔
یہ انسانی علم کی تاریخ کا ایک انوکھا موڑ ہے: پہلی بار ایک مکمل انسائیکلوپیڈیا ایسی مشینوں کے حوالے کی جا رہی ہے جو خود مضمون لکھتی ہیں، خود اس کی جانچ کرتی ہیں، اور خود فیصلہ کرتی ہیں کہ قاری کی تجویز قابلِ قبول ہے یا نہیں۔
کیا اعلان ہوا
ایلون مسک نے جمعرات 8 اکتوبر کی رات امریکی وقت کے مطابق رات 8 بج کر 19 منٹ پر ایکس پر ایک پوسٹ کا جواب دیتے ہوئے لکھا کہ اب گروک بوٹس گروکیپیڈیا کا انتظام سنبھالیں گے۔ جس پوسٹ کا انہوں نے حوالہ دیا اس میں گروکیپیڈیا کے براہ راست ترمیمات والے صفحے کی جھلک دکھائی گئی تھی اور اسے مصنوعی ذہانت کے زیرِ انتظام انسائیکلوپیڈیا قرار دیا گیا تھا۔ مسک نے کوئی ٹائم لائن نہیں بتائی اور نہ یہ واضح کیا کہ انتظام کی منتقلی سے روزمرہ کے کام میں کیا تبدیلی آئے گی، مگر ان کا ایک جملہ ہی کافی تھا کہ ٹیکنالوجی کی دنیا میں بحث چھڑ جائے۔
اس اعلان سے چند گھنٹے پہلے گروکیپیڈیا کے سرکاری اکاؤنٹ نے نئے ورژن 0.3 کے پہلے ہفتے کے اعداد و شمار جاری کیے تھے: ایک ہفتے میں 4,400 سے زائد بالکل نئے مضامین گروک نے قارئین کی درخواستوں پر لکھے، اور روزانہ 2,200 سے زائد مضامین میں ترامیم کی گئیں۔ سائٹ کے مرکزی صفحے پر لگے کاؤنٹر کے مطابق منظور شدہ ترامیم کی مجموعی تعداد 11 لاکھ 95 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ مضامین کی کل تعداد 60 لاکھ سے زائد ہے۔
گروکیپیڈیا کیسے کام کرتی ہے
گروکیپیڈیا کا طریقہ کار ویکیپیڈیا سے بنیادی طور پر مختلف ہے۔ ویکیپیڈیا پر دنیا بھر کے رضاکار براہ راست مضامین لکھتے اور ان میں ترمیم کرتے ہیں، جبکہ گروکیپیڈیا پر قارئین کسی صفحے میں خود تبدیلی نہیں کر سکتے۔ وہ صرف تجاویز بھیج سکتے ہیں۔ ان تجاویز کا جائزہ گروک خود لیتا ہے، فیصلہ کرتا ہے کہ کون سی تجویز منظور ہوگی اور کون سی مسترد، اور پھر مضمون میں ترمیم بھی خود ہی کرتا ہے۔
نئے ورژن 0.3 میں یہ عمل عوام کے سامنے بھی آ گیا ہے۔ سائٹ کے براہ راست ترمیمات والے صفحے پر ہر تبدیلی اسی وقت درج ہوتی ہے: پرانا متن کاٹ کر دکھایا جاتا ہے، نیا متن اس کے ساتھ لکھا ہوتا ہے، اور ایک "کیوں" نوٹ میں اس ماخذ کا حوالہ دیا جاتا ہے جس کی بنیاد پر تبدیلی کی گئی۔ ایک حالیہ مثال میں نیویارک کے ایک پینٹ ہاؤس کی تفصیل میں "ٹرپلیکس" کا لفظ بدل کر "چار منزلہ" کیا گیا، اور حوالے کے طور پر سی این بی سی کی رپورٹ کا ذکر تھا۔ سائٹ کے مرکزی صفحے پر اس عمل کا خلاصہ ایک جملے میں لکھا ہے: قارئین تجویز کرتے ہیں، ماخذ سے جانچ ہوتی ہے، گروک منظوری دیتا ہے۔
پس منظر: ویکیپیڈیا کا چیلنجر
گروکیپیڈیا کا آغاز 27 اکتوبر 2025 کو ایلون مسک کی مصنوعی ذہانت کمپنی ایکس اے آئی نے کیا تھا۔ مسک کا دعویٰ تھا کہ ویکیپیڈیا متعصبانہ ہو چکا ہے اور گروکیپیڈیا اس کا غیر جانبدار متبادل ہوگی۔ لانچ کے اگلے ہی دن انہوں نے ایکس پر لکھا تھا کہ گروکیپیڈیا وسعت، گہرائی اور درستگی میں ویکیپیڈیا سے کئی گنا آگے نکل جائے گی۔ پہلے ورژن میں 8 لاکھ 85 ہزار سے زائد مضامین شامل تھے، اور جنوری 2026 میں تصاویر اور معلوماتی خانے بھی شامل کیے گئے۔
مگر یہ منصوبہ زیادہ دیر رفتار نہ پکڑ سکا۔ 24 اپریل 2026 کے آس پاس مضامین کی تجدید رک گئی اور کئی ماہ تک سائٹ پر کوئی تبدیلی نظر نہ آئی۔ اسی دوران فروری 2026 میں اسپیس ایکس نے ایکس اے آئی حاصل کر لی، اور گروکیپیڈیا اسپیس ایکس اے آئی کے زیرِ انتظام آ گئی۔ 30 ستمبر 2026 کو ورژن 0.3 جاری ہوا جس میں نیا لوگو، نیا ڈیزائن، نمایاں مضامین اور براہ راست ترمیمات کا ٹریکر شامل تھا۔ 28 اور 29 ستمبر کو تجدید کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوا، اور اب مسک نے اس کا انتظام مکمل طور پر بوٹس کے حوالے کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
تنقید: رفتار تو ہے، بھروسا؟
تیز رفتاری کے باوجود گروکیپیڈیا پر تنقید بھی کم نہیں۔ خبر رساں ادارے پولیٹی فیکٹ کی جانچ میں پایا گیا کہ گروکیپیڈیا کے بہت سے مضامین ویکیپیڈیا سے تقریباً ہو بہو لیے گئے ہیں، اور جہاں متن مختلف ہے وہاں معلومات کی کوالٹی اور ماخذ دونوں مسائل سے بھرے ہیں — نیا مواد اکثر حوالوں سے خالی ہوتا ہے یا غلطیوں پر مبنی ہوتا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ مضامین میں سیاسی جھکاؤ بھی پایا گیا ہے اور کم معتبر ماخذ کا حوالہ دیا گیا ہے۔
سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ گروکیپیڈیا کا مواد مسک کے اپنے نظام سے باہر بھی پھیل رہا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق چیٹ جی پی ٹی نے ایک درجن سے زائد سوالات کے جوابات میں گروکیپیڈیا کا نو بار حوالہ دیا — یعنی ایک مشین کی لکھی ہوئی انسائیکلوپیڈیا دوسری مشین کے جوابات کو متاثر کر رہی ہے۔ اگر گروک بوٹس اب اس انسائیکلوپیڈیا کا مکمل انتظام سنبھال لیتے ہیں تو یہ سوال اور بھی اہم ہو جائے گا کہ غلط معلومات کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی۔
تجزیہ: علم کی کتاب اب مشین لکھے گی؟
گروکیپیڈیا کا تجربہ دراصل دو مختلف فلسفوں کا ٹکراؤ ہے۔ ایک طرف ویکیپیڈیا کا انسانی ماڈل ہے — لاکھوں رضاکار، بحث، اتفاقِ رائے، اور غلطی کی صورت میں انسانی جوابدہی۔ دوسری طرف گروکیپیڈیا کا مشینی ماڈل ہے — رفتار، پیمانہ، اور چوبیس گھنٹے کام کرنے والے بوٹس۔ مسک کا تازہ اعلان اس مشینی ماڈل کی انتہا ہے: اب انسان صرف تجویز دے گا، فیصلہ مشین کرے گی۔
حامیوں کا کہنا ہے کہ انسانی رضاکاروں پر مبنی نظام سست ہے اور متنازع موضوعات پر تعطل کا شکار ہو جاتا ہے، جبکہ بوٹس لاکھوں مضامین کو دنوں میں تازہ کر سکتے ہیں۔ ناقدین کا جواب ہے کہ علم صرف معلومات کا ڈھیر نہیں، اس میں فیصلے کی صلاحیت، سیاق و سباق کی سمجھ اور جوابدہی شامل ہے — اور یہ تینوں چیزیں ابھی مشین کے بس سے باہر ہیں۔ جب ایک بوٹ خود لکھے، خود جانچے اور خود منظور کرے تو غلطی پکڑنے والا دوسرا آزاد ذہن کہاں سے آئے گا؟
پاکستان کے لیے اس خبر کا مطلب
پاکستان میں لاکھوں طلبہ، محققین اور صحافی روزانہ ویکیپیڈیا اور گوگل سے معلومات حاصل کرتے ہیں۔ اردو ویکیپیڈیا پر مضامین کی تعداد انگریزی کے مقابلے میں بہت کم ہے، اور پاکستانی تاریخ، ثقافت اور شخصیات پر مواد اکثر نامکمل ملتا ہے۔ اگر گروکیپیڈیا جیسی مشین سے چلنے والی انسائیکلوپیڈیا اردو سمیت دیگر زبانوں تک پھیلتی ہے تو پاکستانی موضوعات پر مواد کی مقدار میں تیزی سے اضافہ ممکن ہے۔
مگر یہیں احتیاط بھی لازم ہے۔ مشین سے لکھی گئی معلومات میں غلطی ہو تو وہ انسانی لکھاری کی غلطی سے زیادہ خطرناک ہو سکتی ہے، کیونکہ وہ اعتماد کے ساتھ، ہزاروں صفحات پر، ایک ساتھ پھیلتی ہے۔ پاکستانی قارئین کے لیے سبق واضح ہے: مصنوعی ذہانت سے لکھا ہوا مواد حوالہ تو ہو سکتا ہے، حتمی سند نہیں۔ کسی بھی اہم فیصلے، تحقیق یا خبر سے پہلے اصل ماخذ کی جانچ اب پہلے سے زیادہ ضروری ہو گئی ہے — خاص طور پر اس دور میں جب انسائیکلوپیڈیا خود بوٹس چلانے لگے ہیں۔



