سان فرانسسکو، 18 اکتوبر 2026 (نیوز ڈیسک): مصنوعی ذہانت کی معروف کمپنی اینتھروپک نے قانونی فرموں سے رابطہ کیا ہے۔ وہ چاہتی ہے کہ اس کے اے آئی ایجنٹ لوگوں کی نمائندگی کرتے ہوئے سودے کریں۔ یہ خبر فنانشل ٹائمز نے دی ہے، جس کے مطابق کمپنی اپنے ایجنٹس کے لیے مذاکرات کے منصفانہ اصول تیار کرنا چاہتی ہے۔
یہ ایجنٹ مستقبل میں قیمتوں پر سودا کر سکیں گے۔ گاہکوں کی شکایتیں حل کریں گے۔ ملازمت کے معاہدوں کی بہتر شرائط طے کر سکیں گے۔ تنخواہ کے بہتر پیکج کے لیے بھی بات چیت کر سکیں گے۔ اہم سوال یہ ہے کہ وکیل کی طرح ایجنٹ اپنے کلائنٹ کا مفاد کیسے بچائے اور ساتھ ہی انصاف کے اصول بھی برقرار رکھے۔ اینتھروپک اسی کو سمجھنے کے لیے وکلا سے مشورہ لے رہی ہے۔
پس منظر: چیٹ بوٹ سے سودے گر ایجنٹ تک
چند سال پہلے اے آئی صرف سوالوں کے جواب دیتی تھی۔ اب وہ کام کرنے لگی ہے۔ اے آئی ایجنٹ وہ سسٹم ہیں جو صارف کی ہدایت ملنے کے بعد خود قدم اٹھاتے ہیں۔ وہ ٹکٹ بک کرتے ہیں۔ ای میل لکھتے ہیں۔ خریداری کرتے ہیں۔ اب اگلا مرحلہ مذاکرات کا ہے۔
اینتھروپک اسی مستقبل کی تیاری کر رہی ہے۔ کمپنی اے آئی ایجنٹس کو اپنی مستقبل کی حکمت عملی کا مرکزی حصہ بنا چکی ہے۔ سرمایہ کاروں کا خیال ہے کہ کمپنی کی ممکنہ اسٹاک مارکیٹ لسٹنگ تاریخ کی سب سے بڑی لسٹنگز میں سے ایک ہوگی۔ اس دوڑ میں میٹا نے اپنا ذاتی ایجنٹ ٹول "میوز" بڑے پیمانے پر متعارف کرایا ہے۔ اوپن اے آئی نے حال ہی میں مقابلے میں "ڈاٹس" نامی پروڈکٹ پیش کیا ہے۔ اینتھروپک چاہتی ہے کہ جب ایجنٹ میدان میں اتریں تو اصول پہلے سے طے ہوں۔
جب دو ایجنٹ ایک دوسرے سے سودا کریں گے
مستقبل میں صورتحال پیچیدہ ہوگی۔ آپ کا ایجنٹ سودا کرے گا۔ سامنے بھی کوئی انسان نہیں بلکہ دوسرے فریق کا ایجنٹ ہوگا۔ دونوں اپنے اپنے صارف کا مفاد چاہیں گے۔ مفاد ایک دوسرے سے ٹکرائیں گے۔
اینتھروپک کے نزدیک ایسے میں مذاکرات کے اصول طے ہونے چاہیئیں۔ رپورٹ میں اینتھروپک سے واقف دو افراد کے حوالے سے بتایا گیا کہ کمپنی یہ سمجھنا چاہتی ہے کہ وکیل اپنے کلائنٹ کی نمائندگی کرتے ہوئے منصفانہ نتیجے کی پاسداری کیسے کرتے ہیں۔ اسی اصول کو ایجنٹس پر لاگو کیا جائے گا۔
کئی اہم سوال زیر غور ہیں۔ ایجنٹ کو کتنی آزادی ملے گی۔ وہ کب صارف سے مزید ہدایت مانگے گا۔ وہ دوسرے اے آئی ایجنٹ کی بات پر کتنا شک کرے۔ ایک شخص کے مطابق کمپنی اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ ایجنٹ اپنے اے آئی ہم منصبوں کے بارے میں کتنا شکی ہو۔ مگر شرط یہ ہے کہ وہ جنونی یا سازشی نظریات کا شکار نہ ہو جائے۔
ایک اور تجویز بھی سامنے آئی ہے۔ صارف ایجنٹ کو دستخط شدہ ڈیجیٹل دستاویز دے گا۔ اس دستاویز میں صارف کی ہدایات، مقاصد اور ایجنٹ کے اصول لکھے ہوں گے۔ یوں ایجنٹ کی حدود پہلے سے طے ہوں گی اور بعد میں تنازع کم ہوگا۔
طاقتور ماڈل بہتر سودا کرتا ہے: مساوات کا خدشہ
اینتھروپک کے اپنے تجربات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ طاقتور ماڈل مذاکرات میں بہتر سودا لیتا ہے۔ یہ خوشخبری بھی ہے اور خطرے کی گھنٹی بھی۔ اگر بہترین ماڈل صرف امیر صارفین اور بڑی کمپنیوں کے پاس ہو تو معاشرتی عدم مساوات بڑھے گی۔ امیر کا ایجنٹ سستا سودا کرے گا۔ غریب کا ایجنٹ ہارے گا۔
گزشتہ ماہ کے ایک تجربے میں ملازمین نے ایجنٹس کو ورچوئل ٹریڈنگ فلور پر کتابیں خریدنے اور بیچنے پر لگایا۔ نتائج دلچسپ تھے۔ "بے رحم" رویے والے ایجنٹ تھوڑے بہتر سودے لے سکے۔ تعاون کرنے والے ایجنٹ کبھی کبھار سب کو فائدہ پہنچانے کے لیے کم پسندیدہ چیز بھی قبول کر لیتے تھے۔
اسی لیے اینتھروپک چاہتی ہے کہ اصول پہلے طے ہوں اور ایجنٹ بعد میں میدان میں اتریں۔
وکلا کی خدمات: چار ماہ میں ڈیڑھ لاکھ ڈالر تک
یہ صرف مذاکرات کی بات نہیں۔ اینتھروپک "کنسیپچوئل ریزننگ فیلوز" کے نام سے وکلا بھرتی کر رہی ہے۔ یہ فیلو چار ماہ تک کلاڈ کو قانون، فلسفہ، علمی نفسیات، معاشیات اور سیاسیات کے ایسے سوالات پر آزمائیں گے جن میں صحیح اور غلط کا فرق واضح نہیں ہوتا۔ تنخواہ ایک لاکھ سے ایک لاکھ سڑسٹھ ہزار ڈالر تک ہے۔
اصل وجہ ڈیٹا کا مسئلہ ہے۔ ریاضی اور کوڈنگ میں ماڈل بہتر بنانا آسان ہے۔ وہاں تصدیق شدہ ڈیٹا بہت ہے۔ قانون اور انسانی علوم میں ایسا ڈیٹا موجود نہیں۔ صحیح اور غلط کے جواب اکثر واضح نہیں ہوتے۔ اینتھروپک کو ایسے ماہرین چاہیئیں جو ٹیسٹ کیسز اور جانچ کے معیار بنا سکیں۔
اینتھروپک کے تکنیکی عملے کے رکن جسٹن کرل قانون، اداروں اور اے آئی پر تحقیق کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ قانون میں معیار کی تعریف کرنا انتہائی مشکل کام ہے۔
قانون میں یہ طے کرنا انتہائی مشکل ہے کہ اچھے فیصلے کی تعریف کیا ہے۔ جسٹن کرل، اینتھروپک
ماہرین کی تنبیہ: حملے اور رسائی کا مسئلہ
ہر کوئی اس منصوبے سے خوش نہیں۔ ہارورڈ بزنس اسکول کی اسسٹنٹ پروفیسر مشیل ویکارو نے خبردار کیا ہے کہ پرامپٹ انجکشن جیسے حملے ان سسٹمز کو دھوکا دے سکتے ہیں۔ اگر کسی نے ایجنٹ کے پیغام میں چھپا حکم داخل کر دیا تو ایجنٹ صارف کے خلاف فیصلہ کر سکتا ہے۔
پرامپٹ انجکشن جیسے حملے ان سسٹمز کو دھوکا دے سکتے ہیں۔ مشیل ویکارو، ہارورڈ بزنس اسکول
دوسری تشویش رسائی کی ہے۔ بہترین ماڈل ابھی امیر صارفین اور کمپنیوں تک ہی محدود ہیں۔ ایسے میں سودے بازی کی ٹیکنالوجی بھی انہی کے ہاتھ میں ہوگی۔ اینتھروپک کا کہنا ہے کہ اسی لیے منصفانہ اصولوں پر توجہ دی جا رہی ہے۔ مگر ناقدین پوچھتے ہیں کہ اصول بنانے والا خود ہی سب سے طاقتور ماڈل بیچے تو انصاف کی ضمانت کون دے گا۔
تجزیہ: اصول بنانے والا ہی معیار طے کرے گا
یہ خبر ایک حکمت عملی کا اعلان بھی ہے۔ ٹیکنالوجی کی تاریخ میں جو کمپنی پہلے اصول بناتی ہے، اسی کا ڈھانچہ آگے صنعت کا معیار بنتا ہے۔ اینتھروپک مذاکرات کے اصول خود طے کرنا چاہتی ہے۔ اگر اس کے اصول اپنائے گئے تو اس کے ایجنٹ ہر جگہ انہی اصولوں پر چلیں گے۔
دوسری طرف یہ ایک ذمہ داری کا اعتراف بھی ہے۔ کمپنی جانتی ہے کہ اس کے ماڈل طاقتور ہیں۔ وہ جانتی ہے کہ طاقتور ماڈل بہتر سودا لیتا ہے۔ اب وہ اس طاقت کو قابو میں رکھنے کا طریقہ ڈھونڈ رہی ہے۔ یہ وہ سوال ہے جو ہر بڑی اے آئی کمپنی کے سامنے آئے گا۔
پاکستان کے لیے اس کا مطلب
پاکستان میں سودے بازی روز کا معمول ہے۔ بازار میں دکاندار سے بھاؤ تاؤ کرنا ہر پاکستانی جانتا ہے۔ آن لائن خریداری میں بھی لوگ بہتر قیمت کی تلاش میں رہتے ہیں۔ اگر کل کو اے آئی ایجنٹ صارف کی نمائندگی میں قیمتیں طے کرنے لگے تو یہاں کے صارفین کے لیے بھی نئی سہولت ہوگی۔
ساتھ ہی سوالات بھی اٹھیں گے۔ اگر ایجنٹ غلط سودا کر لے تو ذمہ داری کس کی ہوگی۔ صارف کی، کمپنی کی یا ایجنٹ کی۔ پاکستان میں ڈیجیٹل صارفین کے تحفظ کے قوانین ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں۔ ایسے میں اینتھروپک جیسے اصولوں کی مثال اہمیت رکھتی ہے۔
مقامی کمپنیاں بھی اے آئی ایجنٹ استعمال کر رہی ہیں۔ بینک اور ٹیلی کام کمپنیوں کے چیٹ بوٹ اب شکایتیں حل کرتے ہیں۔ اگلا قدم یہ ہوگا کہ یہ ایجنٹ قیمتوں اور معاہدوں پر بھی بات کریں۔ اس سے پہلے اصول بن جانا بہتر ہے۔ ورنہ تنازعات عدالتوں میں جائیں گے اور قانون پیچھے رہ جائے گا۔
نتیجہ
اینتھروپک نے ایک بنیادی سوال اٹھایا ہے۔ جب مشینیں آپ کے لیے سودا کریں گی تو وہ کس قانون کے تحت کام کریں گی۔ کمپنی وکلا سے جواب چاہتی ہے۔ اصول ابھی بن رہے ہیں۔ ایجنٹ ابھی میدان میں نہیں اترے۔ یہی مناسب وقت ہے۔ جو آج اصول بنائے گا، کل کا بازار اسی کے اصولوں پر چلے گا۔




