واشنگٹن، 14 اکتوبر 2026 (نیوز ڈیسک): مصنوعی ذہانت کی دنیا کی معروف کمپنی اینتھروپک نے ایک تحقیقی مضمون میں انکشاف کیا ہے کہ اس کے اے آئی ماڈل کلاڈ کی استدلال کی صلاحیتیں چوری کرنے کے لیے صنعتی پیمانے پر منظم حملے جاری تھے۔ تین محاذوں پر نئے دفاعی اقدامات کے بعد چوروں کے ہاتھ لگنے والے استدلال کے ڈیٹا میں 90 سے 99 فیصد تک کمی آئی ہے۔ اس سلسلے میں دسیوں ہزار جعلی اکاؤنٹس بند کیے گئے ہیں، اور اینتھروپک نے دو چینی کمپنیوں کا نام بھی علانیہ لیا ہے۔
الزام کیا ہے
اینتھروپک نے 12 اکتوبر کو شائع ہونے والے ایک تفصیلی تحقیقی مضمون میں بتایا ہے کہ اس کے خلاف ڈسٹلیشن کے منظم حملے ہو رہے ہیں۔ ڈسٹلیشن کا طریقہ یہ ہے کہ چور بڑے اور زیادہ صلاحیت والے ماڈل سے لاکھوں جوابات نکالتے ہیں اور پھر ان جوابات سے چھوٹے ماڈل کو سکھاتے ہیں کہ وہ بڑے ماڈل کے طرز عمل کی نقل کرے۔ یوں حریف کمپنیاں اربوں ڈالر کی تحقیق کیے بغیر، سستی قیمت پر، ایک مضبوط ماڈل تیار کر لیتی ہیں۔
اینتھروپک کے مطابق یہ حملے صرف اکا دکا صارفین کی چھیڑ چھاڑ نہیں بلکہ لاکھوں جعلی اکاؤنٹس کے منظم نیٹ ورک تھے۔ سب سے زیادہ قیمت والی چیز کلاڈ کے جواب کے الفاظ نہیں بلکہ اس کی استدلال کی نقل تھی۔ وہ سوچنے کا عمل جو کلاڈ جواب دینے سے پہلے خود تحریر کرتا ہے۔ چوروں کی نظریں اسی عمل پر تھیں۔
استدلال کی نقل کیوں سب سے قیمتی ڈیٹا ہے
آج کے جدید اے آئی ماڈل براہ راست جواب دینے سے پہلے اندر ہی اندر سوچتے ہیں۔ یہ سوچنے کا سلسلہ، جسے استدلال کی نقل کہا جاتا ہے، ماڈل کی اصل ذہانت کا خزانہ ہوتا ہے۔ اینتھروپک کے مضمون کے مطابق مکمل استدلال کی نقل سے ڈسٹل کیا گیا ماڈل کوڈنگ کے بینچ مارک SWE-bench Verified پر 80.4 فیصد اسکور کرتا ہے، جبکہ صرف خلاصہ شدہ استدلال سے ڈسٹل کیا گیا ماڈل 71.8 فیصد اسکور کرتا ہے۔ یہ فرق واضح کرتا ہے کہ چور مکمل سوچنے کے عمل کے پیچھے کیوں تھے۔ اکنامک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق اس کا ایک اور خطرناک پہلو یہ ہے کہ ڈسٹلیشن سے بنے ماڈل اکثر بغیر مناسب حفاظتی انتظامات کے گردش میں آ جاتے ہیں۔
جن لیبز کے نام لیے گئے
اینتھروپک کے مضمون میں دو چینی لیبز کا نام علانیہ لیا گیا ہے۔ پہلی کمپنی زیپو ہے۔ اینتھروپک کا الزام ہے کہ زیپو نے امریکہ کے معروف ماڈلوں سے سائبر صلاحیتیں نکال کر اپنا ماڈل GLM-5.3 تیار کیا۔ امریکی مرکز برائے ترقی یافتہ انوویشن اور سپر انٹیلی جنس کے معیارات کے اندازے کے مطابق یہ ماڈل اب تک کا سب سے زیادہ سائبر صلاحیت رکھنے والا اوپن ویٹس ماڈل ہے اور یہ شروع سے آخر تک مکمل ایکسپلائٹس بنا سکتا ہے۔
دوسری کمپنی مون شاٹ ہے، جو کِمی ماڈلز کی خالق ہے۔ اینتھروپک کا کہنا ہے کہ کِمی ماڈلز کو ملنے والی صارف کی درخواستیں خفیہ طور پر کلاڈ کو بھیجی جا رہی تھیں۔ صرف دس دنوں میں تقریباً تین لاکھ درخواستیں اس طرح کلاڈ کے ذریعے گزاری گئیں۔ ان میں ایک ایسی درخواست بھی تھی جس کے بارے میں اینتھروپک کا اندازہ ہے کہ اس کا تعلق چین کی فوج سے جڑے صارف سے تھا، جو سی سی ٹی وی کی نگرانی کے تجزیے کی درخواست کر رہا تھا۔
یونائیٹ اے آئی کی رپورٹ کے مطابق اسی مضمون میں مون شاٹ کی طرف سے مئی سے جولائی کے درمیان 23 ملین سے زیادہ تبادلے، ڈیپ سیک کی طرف سے جولائی کے 14 دنوں میں 12.1 ملین تبادلے، اور شیاؤمی کی طرف سے مارچ اور اپریل کے 20 دنوں میں 4 لاکھ تبادلے بھی درج ہیں، جو اس جنگ کے پیمانے کو ظاہر کرتے ہیں۔
تین محاذوں پر دفاع
اینتھروپک نے بتایا ہے کہ اس کا دفاعی ڈھانچہ تین محاذوں پر کام کرتا ہے۔ پہلا محاذ استدلال کے ڈیٹا کی نقل و حرکت پر قابو ہے۔ اس کا مرکزی حصہ محفوظ سوچ نامی فیچر ہے، جو کلاڈ فےبل 5.1 اور اوپس 5.5 کے ساتھ آیا ہے۔ اس فیچر کے تحت 31 اگست 2026 کے بعد بننے والے نئے اے پی آئی اکاؤنٹس کلاڈ کے پہلے سے موجود متن میں ترمیم نہیں کر سکتے۔ اینتھروپک کا کہنا ہے کہ یہی وہ طریقہ تھا جس سے حملہ آور لمبی استدلال کی نقلیں نکال رہے تھے۔
دوسرا محاذ دو مرحلوں کا درجہ بندی کرنے والا نظام ہے، جو نکالنے کی کوششوں کو پہچان کر بلاک کرتا ہے۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس نظام کی غلط مثبت شرح 0.1 فیصد سے کم ہے، اور یہ اب سونٹ 5.5، اوپس 5 اور 5.5، اور فےبل 5 اور 5.1 ماڈلوں پر لاگو ہے۔ تیسرا محاذ مسلسل خلاف ورزی کرنے والوں پر پابندی ہے۔ بار بار کوشش کرنے والوں کے لیے سخت شرح کی حدود لگائی گئیں، مشتبہ اکاؤنٹس ڈسٹلیشن مہم کے پکڑے جانے کے دو گھنٹے کے اندر بند کیے جاتے ہیں، اور 24 ستمبر سے بلاک شدہ درخواستوں پر چارج بھی لگایا جا رہا ہے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ دفاعی اقدامات لگنے کے بعد استدلال کے ٹوکن کے نکلنے کی شرح میں 10 سے 100 گنا کمی آئی، یعنی وہی 90 سے 99 فیصد کا دعویٰ جس سے یہ خبر بنی ہے۔
اینتھروپک کی قیمت اور اعتراف
اینتھروپک نے یہ بھی اعتراف کیا ہے کہ ان دفاعی اقدامات کی اسے بھاری قیمت چکانی پڑی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اسے آمدنی کا نقصان ہوا اور اندرونی وسائل کی بھاری سرمایہ کاری کرنی پڑی، کیونکہ چوروں کے نیٹ ورکوں سے آنے والے کھربوں ٹوکن کا ٹریفک اس نے مسترد کیا۔ کمپنی یہ بھی مانتی ہے کہ دفاعی جال میں بعض جائز صارفین بھی پھنسے ہیں۔
اپنے مضمون میں اینتھروپک نے تمام اے آئی ڈویلپرز کو پکارا ہے کہ وہ بھی ایسے تحفظات اپنائیں۔ کمپنی کے الفاظ میں:
ڈسٹلرز کا مقصد بڑے اور زیادہ صلاحیت والے ماڈل سے لاکھوں جوابات حاصل کرنا اور پھر ان جوابات سے چھوٹے ماڈل کو سکھانا ہے کہ وہ بڑے ماڈل کے طرز عمل کی نقل کرے۔
اس مقصد کے لیے سب سے قیمتی ڈیٹا کلاڈ کے استدلال کی نقل ہے، وہ سوچنے کا عمل جو کلاڈ جواب دینے سے پہلے تحریر کرتا ہے۔
اینتھروپک کا کہنا ہے کہ غیر مجاز نکالنے کو روکنے کے لیے ماڈل بنانے والوں اور کلاؤڈ فراہم کرنے والوں کے درمیان صنعت بھر میں تعاون ضروری ہے۔ البتہ، اے آئی ویکلی کی رپورٹ کے مطابق 90 سے 99 فیصد کا دعویٰ ابھی کسی آزاد تیسری پارٹی نے تصدیق نہیں کیا، یہ اینتھروپک کا اپنا بیان ہے۔
پاکستان کے لیے سبق
یہ خبر پاکستان کے لیے کئی حوالوں سے سبق آموز ہے۔ پہلا یہ کہ اے آئی معیشت میں اصل قیمت اب ماڈل کی تربیت نہیں بلکہ اس کی استدلال کی صلاحیت ہے۔ پاکستانی اسٹارٹ اپس اور ڈویلپرز جو امریکہ کے اے آئی ماڈلوں کے اے پی آئی پر اپنی مصنوعات بنا رہے ہیں، انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہ کمپنیاں اب اپنی استدلال کی نقل کو سخت تحفظ دے رہی ہیں، اور دفاعی اقدامات غلطی سے جائز صارفین کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔
دوسرا سبق یہ ہے کہ اے آئی اب قومی سلامتی کا موضوع بن چکا ہے۔ جب امریکہ کی ایک بڑی کمپنی کھلے عام کہے کہ چوری شدہ صلاحیتیں غیر ملکی فوجی نظاموں تک پہنچ سکتی ہیں، تو مستقبل میں ماڈلوں کی حفاظت کے بین الاقوامی اصول بننے کا امکان بڑھ گیا ہے۔ پاکستان جیسے ممالک کو ان اصولوں کی تشکیل میں اپنی آواز بلند کرنے کا موقع ملا ہے، کیونکہ یہ اصول آئندہ کی ٹیکنالوجی تک رسائی کا راستہ طے کریں گے۔
مجموعی طور پر یہ کہانی اے آئی کی دنیا کی نئی حقیقت بیان کرتی ہے۔ اب مقابلہ صرف بہترین ماڈل بنانے کا نہیں بلکہ اس کی حفاظت کا بھی ہے، اور جو کمپنیاں اس حفاظتی جنگ میں آگے ہوں گی، وہی اگلی دہائی کی قیادت کریں گی۔



