اسلام آباد، 12 اکتوبر 2026 (نیوز ڈیسک): مصنوعی ذہانت کی دنیا میں گزشتہ کچھ عرصے سے یہ تصور زور پکڑ رہا تھا کہ ایک AI agent کی بجائے کئی agents کی ٹیم بنائی جائے تو کام بہتر اور تیز ہوگا۔ OpenAI اور Anthropic جیسی بڑی کمپنیوں نے بھی اپنے سسٹمز میں ملٹی ایجنٹ سپورٹ شامل کر دی، جہاں ایک سربراہ agent کام کے حصے مختلف ذیلی agents میں بانٹتا ہے اور پھر ان کے نتائج کو جوڑتا ہے۔ اب ایویلیویشن کمپنی Vals AI کی ایک نئی تحقیق نے اس تصور کو سنجیدہ چیلنج دے دیا ہے۔
کیا پایا گیا؟
Vals AI نے دو طاقتور AI ماڈلز، GPT-6 Sol اور Claude Opus 5.5، کو اپنے Vibe Code Bench نامی ٹیسٹ پر پرکھا۔ اس benchmark میں ہر ماڈل کو ایک مکمل پروڈکٹ تفصیل سے 50 ویب ایپلی کیشنز بنانی تھیں، اور ہر ایپ کی جانچ browser agents کرتے تھے جو اس کے کام کے مراحل پر کلک کر کے دیکھتے تھے۔ ہر ماڈل کو اکیلے بھی آزمایا گیا اور ٹیم کی صورت میں بھی، اور دونوں کو درمیانی اور زیادہ سے زیادہ استدلالی کوشش کی سطحوں پر چلایا گیا۔
نتائج حیران کن تھے۔ ٹیموں نے اکیلے agent کے مقابلے میں 1.8 سے 5.1 گنا زیادہ ٹوکن خرچ کیے، مگر چار میں سے تین مقابلوں میں اسکور میں کوئی شماریاتی اعتبار سے اہم فرق نہ پڑا۔ صرف ایک مقابلے میں بہتری واضح تھی: GPT-6 Sol نے درمیانی استدلالی کوشش پر ٹیم کی صورت میں 7.3 پوائنٹس زیادہ حاصل کیے، یعنی 84.9 فیصد بمقابلہ 77.6 فیصد۔ مگر اس کی قیمت بھی تقریباً ڈھائی گنا تھی، ہر ایپ پر 3.07 ڈالر بمقابلہ 1.22 ڈالر۔
باقی تین مقابلوں میں فرق منفی 0.3 سے جمع 3.4 پوائنٹس کے درمیان رہا، جو شماریاتی اعتبار سے اہم نہیں تھا۔ ایک دلچسپ نکتہ یہ سامنے آیا کہ Sol کے لیے زیادہ استدلالی کوشش لگانے سے اکیلے agent کا اسکور 11.4 پوائنٹس بڑھ گیا، یعنی ٹیم بنانے سے زیادہ فائدہ تو ماڈل کو زیادہ سوچنے کا موقع دینے میں نکلا۔ زیادہ سے زیادہ کوشش والا اکیلا agent درمیانی کوشش کی ٹیم سے بھی 4.1 پوائنٹس آگے رہا، البتہ اس کی لاگت 1.6 گنا اور وقت تین گنا زیادہ تھا۔
کلاڈ اوپس کے چونکا دینے والے اخراجات
Claude Opus 5.5 کی ٹیم نے زیادہ سے زیادہ کوشش پر پوری تحقیق کا سب سے زیادہ اسکور ضرور حاصل کیا، 93.2 فیصد، مگر اس کی قیمت سن کر ہوش اڑ جاتے ہیں۔ یہ ٹیم درمیانی کوشش کے اکیلے agent کے مقابلے میں تیس گنا زیادہ خرچ پر چلی، یعنی ہر ایپ پر اوسطاً 122 ڈالر بمقابلہ 23.77 ڈالر۔ اور یہ فرق بھی شماریاتی اعتبار سے اہم نہ تھا۔
وقت کی بات کریں تو Opus کی ٹیمیں بعض صورتوں میں اکیلے agent سے 2.3 گنا زیادہ وقت بھی لیتیں۔ چار تجربے چار گھنٹے سے زیادہ چلے، اور ایک ٹیم تو 5.25 گھنٹے کی حد کو چھو گئی۔ اس کے برعکس Sol کی ٹیمیں تیز رہیں، زیادہ سے زیادہ کوشش پر اس کا دورانیہ 38 سے کم ہو کر 28 منٹ رہا۔
رپورٹ کے مطابق اضافی خرچ کی سب سے بڑی وجہ پہلے سے محفوظ شدہ ان پٹ تھی۔ ہر ذیلی agent کے پاس اپنی معلومات کا ذخیرہ ہوتا ہے جس میں تفصیلات اور کام کی موجودہ حالت محفوظ ہوتی ہے، اور یہ ذخیرہ ماڈل کو ہر درخواست پر دوبارہ بھیجا جاتا ہے۔ زیادہ سے زیادہ کوشش پر Opus کے ذیلی agents نے ہر ایپ پر اوسطاً 224 ملین cached tokens پڑھے، جبکہ سربراہ agent نے صرف 17 ملین اور اکیلے agent نے 55 ملین۔ ایک ٹیم تو وقت ختم ہونے کے بعد بھی تصدیق کر رہی تھی، اور اس کے ٹوکن سے اندازہ لگایا گیا خرچ تقریباً 189 ڈالر تھا۔
Anthropic کے اپنے تجربات بھی یہی کہتے ہیں
یہ صرف Vals AI کی کہانی نہیں۔ Anthropic نے اپنے دو ٹیسٹوں میں بھی دیکھا کہ Opus 5.5 کے ساتھ agents کی تعداد بڑھانے سے معیار میں بہتری کم ہوتی گئی۔ بڑی ٹیمیں کارکردگی کی ایک خاص سطح تک تیزی سے پہنچیں، مگر دس سے سو agents تک جانے پر 24 گھنٹے کے بعد اسکور میں صرف معمولی سا اضافہ ہوا۔ علیحدہ ProgramBench ٹیسٹوں میں رفتار کی بہتری کے ساتھ ٹوکن کا استعمال بھی بڑھا۔
Fable 5.1 نامی ایک اور ماڈل نے دس سے زیادہ agents پر Lean theorem proving کے کام میں کچھ بہتر کارکردگی دکھائی، مگر معلوماتی ذخیرے کے کام میں 30 سے 100 agents پر اس کا اسکور تھوڑا گر بھی گیا۔ یعنی زیادہ agents بعض اوقات فائدے کی بجائے نقصان بھی دے سکتے ہیں۔
OpenAI کے محقق کی رائے
OpenAI کے محقق Noam Brown نے Dwarkesh Podcast میں اس رجحان کی تصدیق کی۔ ان کے مطابق multi-agent سسٹم بنیادی طور پر رفتار خریدتا ہے، معیار نہیں۔ چار agents نے ایک کام دگنی رفتار سے مکمل کیا، مگر قیمت بھی دگنی تھی۔ سولہ agents پر یہی رجحان قائم رہا، مگر کارکردگی قدرے کم موثر ہو گئی۔
"دس ہزار agents کو ناول لکھنے پر لگانا اتنا ہی بے مقصد ہے جتنا دس ہزار انسانوں کو لگانا۔"
Brown نے وضاحت کی کہ یہ اثر کام کی نوعیت پر بہت منحصر ہے۔ ویب ریسرچ اور ریاضی جیسے کام متوازی ہو سکتے ہیں، مگر ناول لکھنا نہیں۔ انتہائی بڑے پیمانے پر agents بڑھانا اب بھی بڑے حد تک نا آزمودہ ہے، کیونکہ اس کی لاگت بہت زیادہ ہے۔
OpenAI کے ڈیولپر Eric Provencher نے حال ہی میں agents کے غول کے استعمال کے خلاف خبردار کیا تھا۔ ان کے بقول یہ زیادہ تر پیسے کا ضیاع ہے، کیونکہ agents کے درمیان رابطہ کاری ٹوٹ جاتی ہے۔
"agents کے غول زیادہ تر پیسے کا ضیاع ہیں، کیونکہ agents کے درمیان رابطہ ٹوٹ جاتا ہے، اور اس ناکامی کی قیمت کو رابطہ کاری ٹیکس کہتے ہیں۔"
پاکستان کے لیے اس کا کیا مطلب ہے
پاکستان میں بھی اب کئی startups اور سافٹ ویئر ہاؤسز AI agent پروڈکٹس بنا رہے ہیں، اور ان میں سے بہت سے cloud compute کے لیے ڈالر میں ادائیگی کرتے ہیں۔ اس تحقیق کا سب سے عملی سبق یہ ہے کہ agents کی تعداد بڑھانے کی دوڑ میں شامل ہونے کی بجائے اکثر ایک ہی agent کے prompt اور استدلالی کوشش کو بہتر بنانا زیادہ فائدہ مند ہوتا ہے۔ خاص طور پر جب ٹوکن کی قیمت براہ راست کاروباری لاگت بنتی ہو، تو ٹیم کا ہر اضافی agent بل بڑھاتا ہے، معیار نہیں۔
ڈیولپرز کے لیے پیغام واضح ہے۔ اگر کام ایسا ہے جو متوازی حصوں میں بٹ سکتا ہے، جیسے ویب ریسرچ یا بڑے کوڈ ذخائر پر کام، تو ٹیمیں وقت بچا سکتی ہیں۔ مگر اگر مقصد بہتر جواب ہے، تو پہلے اکیلے agent کو پوری طاقت سے چلانا بہتر حکمت عملی ہے۔
تحقیق کی حدود
رپورٹ میں خود بھی تسلیم کیا گیا ہے کہ یہ مشاہدات صرف ایک benchmark، یعنی مکمل اسٹیک ویب ایپس بنانے، پر مبنی ہیں اور دوسری قسم کے کاموں پر لاگو نہ بھی ہوں۔ ہر ترتیب کو صرف ایک بار چلایا گیا، اس لیے دیے گئے intervals اور p-values ایپس کے درمیان فرق کو ظاہر کرتے ہیں، نہ کہ بار بار چلانے کے فرق کو۔ Vals AI کے مطابق اگلا قدم ان کاموں کی تلاش ہے جن میں بہت سے آزاد حصے ہوں اور طویل الگ الگ کام، جیسے بڑے کوڈ ذخائر، وسیع تحقیقی سوالات، یا کئی دستاویزات پر پھیلی تجزیات۔ وہیں ٹیموں کو سب سے زیادہ فائدہ ملنے کی توقع ہے۔
تجزیہ
مجموعی طور پر یہ تحقیق AI انڈسٹری کے ایک مقبول تصور کو زمین پر لاتی ہے۔ agent ٹیمیں رفتار تو دے سکتی ہیں، مگر بہتر جواب کی ضمانت نہیں دیتیں۔ The Decoder کے مطابق یہ نتائج اس خیال کو تقویت دیتے ہیں کہ اضافی compute کی لاگت اکثر معیار میں بہتری میں نہیں بدلتی، خاص طور پر جب ماڈل پہلے ہی پوری طاقت سے چل رہا ہو۔ کمپنیوں اور ڈیولپرز کے لیے سبق سادہ ہے: swarm بڑھانے سے پہلے ٹوکن کا بل ضرور دیکھیں۔



