واشنگٹن، 28 اکتوبر 2026 (نیوز ڈیسک): مصنوعی ذہانت (AI) کی معروف لیب اینتھروپک (Anthropic) کے اندرونی کاروباری نظام تک اے آئی ایجنٹس نے 12 گھنٹوں سے کم وقت میں رسائی کا راستہ تلاش کر لیا ہے۔ یہ دعوٰی سائبر سیکیورٹی کی نئی کمپنی کیتھیڈرل (Cathedral) کی مسودہ رپورٹ میں کیا گیا ہے، جس کا واشنگٹن پوسٹ (The Washington Post) نے جائزہ لیا ہے۔ اینتھروپک نے اس رسائی کی تصدیق کی ہے، تاہم اس کی حد اور مدت کے بارے میں دونوں کمپنیوں کا مؤقف ایک دوسرے سے مختلف ہے۔
کیتھیڈرل کو چند ماہ قبل امریکی حکومت کے اخراجات میں کمی کے ادارے ڈوج (DOGE) کے چار سابق ملازمین نے قائم کیا تھا۔ اس کے بانیوں میں گیون کلیگر (Gavin Kliger)، لوک فیریٹر (Luke Farritor)، مارکو ایلیز (Marko Elez) اور جیک اسٹائن (Jack Stein) شامل ہیں۔ کمپنی نے رواں برس جولائی میں 1.4 ارب ڈالر کی قدر پر 16 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کی تھی۔ یہ کمپنی امریکی حکومت اور کاروباروں کے لیے اے آئی کی مدد سے سائبر سیکیورٹی کے اوزار بناتی ہے۔
یہ آزمائش اینتھروپک کے بگ باؤنٹی پروگرام (Bug Bounty Program) کے تحت ہوئی۔ اس پروگرام میں کمپنی باہر کے ماہرین کو اپنے نظام کی خامیاں تلاش کرنے کی دعوت دیتی ہے اور انعام دیتی ہے، تاکہ خامیاں غلط ہاتھوں میں جانے سے پہلے سامنے آ جائیں۔ اس لیے یہ کوئی مجرمانہ ہیکنگ نہیں تھی، بلکہ اجازت سے کی گئی جانچ تھی۔ تنازع اس بات پر ہے کہ جانچ کے دوران کیا کچھ جائز تھا اور کیا نہیں۔
اندر جانے کا راستہ کیا تھا
کیتھیڈرل کی مسودہ رپورٹ کے مطابق اس کے اے آئی ایجنٹس نے پہلے اینتھروپک کے اپنے سافٹ ویئر کو نشانہ بنایا، مگر وہاں انھیں کوئی راستہ نہ ملا۔ اس کے بعد ایجنٹس نے ان بیرونی پروگراموں کا رخ کیا جنھیں کمپنی فروخت، انتظامی کاموں اور عملے کے انتظام کے لیے استعمال کرتی ہے۔ اس قسم کے پروگرام ہزاروں کمپنیوں میں استعمال ہوتے ہیں، اس لیے ایک خامی کا اثر ایک کمپنی تک محدود نہیں رہتا۔
رپورٹ کے مطابق ان راستوں سے ایجنٹس کو اندرونی اجلاسوں کی تحریری نقل، ملازمین کی تنخواہوں کی معلومات، ملازمت کی پیشکشوں کی تفصیلات اور جدید ماڈلز کے بارے میں سلیک (Slack) پر ہونے والی گفتگو تک رسائی مل گئی۔ کیتھیڈرل کا کہنا ہے کہ یہ سب 12 گھنٹوں سے کم وقت میں ہوا۔
اینتھروپک نے تصدیق کی ہے کہ محققین اس کی فروخت، انسانی وسائل اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے نظام کے ایک محدود حصے تک پہنچ گئے تھے، جس میں بعض صارفین اور شراکت داروں کے کاروباری رابطوں کی معلومات اور بنیادی صارف اکاؤنٹس کا ریکارڈ شامل تھا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کلاڈ (Claude) سے صارفین کی گفتگو، سورس کوڈ اور ماڈل ویٹس تک کوئی رسائی نہیں ہوئی۔
"ہماری نگرانی نے کیتھیڈرل کی سرگرمی کا کچھ حصہ ان کی اطلاع سے پہلے ہی پکڑ لیا تھا، اور ہم نے اسی روز ان کی رسائی بند کر دی تھی۔"
اینتھروپک نے اسی روز متاثرہ راستے بند کر دیے، متعلقہ بیرونی پروگراموں کو اس وقت تک غیر فعال رکھا جب تک خامی دور نہ ہو گئی، اور امریکی وفاقی حکام کو اطلاع دی۔ کمپنی کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسے کوئی شواہد نہیں ملے کہ کیتھیڈرل کے سوا کسی اور نے ان خامیوں سے فائدہ اٹھایا ہو۔
دونوں کمپنیوں کا مؤقف
مدت اور حد پر دونوں کا مؤقف مختلف ہے۔ اینتھروپک کا کہنا ہے کہ یہ کوشش کئی روز تک جاری رہی، اور ایجنٹس نے پہلے اس کے اپنے نظام کو آزمایا، پھر بیرونی پروگراموں کا رخ کیا۔ وہاں انھیں دو خامیاں ملیں، مگر کیتھیڈرل نے صرف ایک کی اطلاع دی، جبکہ دوسری اینتھروپک نے خود تلاش کر کے دور کر دی۔
اینتھروپک کی ریڈ ٹیم کے رکن لوگن گراہم (Logan Graham) نے کہا ہے کہ بیرونی فراہم کنندگان کو نشانہ بنانا اور ڈیٹا نکالنا پروگرام کی محفوظ حدود سے باہر تھا، تاہم انھوں نے خامیوں کی دریافت کا خیرمقدم کیا۔ اینتھروپک کا الزام ہے کہ کیتھیڈرل نے قومی سلامتی کے اثرات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا اور اپنی تمام سرگرمی ظاہر نہیں کی۔
کیتھیڈرل کا مؤقف ہے کہ اس نے تحقیق کے معیاری طریقوں پر عمل کیا اور ڈیٹا تک رسائی کم سے کم رکھی۔
سابق اوپن اے آئی ملازم ول ڈیپیو (Will Depue) نے دعوٰی کیا ہے کہ ان کے معتبر ذرائع کے مطابق کیتھیڈرل کو سلیک کے پورے نظام تک منتظم کی رسائی مل گئی تھی، وہ ہر پیغام پڑھ سکتا تھا اور کسی بھی صارف کے اکاؤنٹ میں داخل ہو سکتا تھا۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ اینتھروپک اور اوپن اے آئی (OpenAI) دونوں اپنے تحقیقی راز سلیک پر رکھتے ہیں، اور منتظم کی چابیاں نظام میں بکھری ہوئی ہیں۔ گراہم نے اس دعوے کو غلط قرار دیا، مگر تفصیل بتانے سے گریز کیا، اور یہ تسلیم کیا کہ صنعت کو ہر برس اپنے حفاظتی انتظامات نئے سرے سے بنانے ہوں گے۔
ستمبر 2026 میں اینتھروپک چھوڑنے والے جیکب کوکسن (Jacob Coxon) نے پہلے بھی تنقید کی تھی کہ کمپنی خطرناک تحقیق عام دفتری سافٹ ویئر پر چلا رہی ہے۔
ماہرین اس واقعے کو کیوں اہم سمجھتے ہیں
اے آئی اسٹارٹ اپ کوگنیشن (Cognition) کے چیف سیکیورٹی افسر الیکس اسٹیموس (Alex Stamos) نے واشنگٹن پوسٹ کو بتایا کہ یہ نتائج اہم ہیں۔ ان کے مطابق بیرونی پروگراموں کا ایک دوسرے سے جڑا ہونا پوری صنعت کا بڑا مسئلہ ہے، اور اینتھروپک اپنے بیرونی نظام کو بہتر طریقے سے محفوظ کر سکتی تھی۔
گراہم نے خبردار کیا ہے کہ حملہ آور پہلے ہی اے آئی ایجنٹس کو چوبیس گھنٹے چلا رہے ہیں، اور ان کا خاص نشانہ بیرونی انحصار ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق فرنٹیئر سے ایک نسل پیچھے کے ماڈلز بھی ایسے حملوں کے لیے کافی ہیں۔
"آپ کو ہر وقت خود اپنی جانچ کرتے رہنا چاہیے۔ موجودہ ماڈلز بہت تخلیقی ہیں۔"
ان کا حل یہ ہے کہ کمپنیاں اپنے نظام کی جانچ مسلسل خود کرتی رہیں اور سافٹ ویئر کو رسمی تصدیق (Formal Verification) یعنی ریاضیاتی ثبوت کے ذریعے جانچیں اور دوبارہ بنائیں، جسے اے آئی نے اب معاشی طور پر ممکن بنا دیا ہے۔
اس واقعے کو بڑا اس لیے بھی سمجھا جا رہا ہے کہ اینتھروپک کو سائبر دفاع کے لیے دنیا کے طاقتور ترین اے آئی ماڈلز تک رسائی رکھنے والی کمپنیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ مگر دراندازی مرکزی ماڈل سے نہیں، عام کاروباری پروگراموں کے راستے ہوئی، اور یہی نکتہ اس خبر کو ایک کمپنی سے بڑا بناتا ہے۔
اے آئی ایجنٹس سائبر سیکیورٹی کا کھیل اس لیے بدل رہے ہیں کہ وہ کئی مراحل والا کام انسان کی ہر قدم پر منظوری کے بغیر انجام دے سکتے ہیں، ناکامی پر طریقہ بدلتے ہیں اور بغیر تھکے آزمائش جاری رکھتے ہیں۔
یہ خبر اسی ہفتے سامنے آئی ہے جب اینتھروپک نے اسٹاک مارکیٹ میں آنے کی تیاری کے تحت اپنی دستاویزات جمع کرائی ہیں۔
پاکستان کے کاروباروں کے لیے سبق
پاکستان کے سافٹ ویئر ہاؤسز، اسٹارٹ اپس اور بڑے کاروبار بھی اپنے روزمرہ کاموں کے لیے بیرونی پروگراموں پر انحصار کرتے ہیں۔ ٹیم کی گفتگو، صارفین کا ریکارڈ، عملے کا انتظام اور فروخت کا نظام اکثر مختلف کمپنیوں کے تیار کردہ اوزاروں پر چلتا ہے۔ جب یہ اوزار ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں تو ایک خامی پورے نظام کا دروازہ بن سکتی ہے۔
اس واقعے سے نکلنے والا عملی سبق یہ ہے کہ ہر بیرونی پروگرام کی رسائی کا وقتاً فوقتاً جائزہ لیا جائے، اے آئی ایجنٹس کو صرف اتنی اجازت دی جائے جتنی ان کے کام کے لیے ضروری ہو، اور بیرونی اقدام سے پہلے انسانی منظوری لازمی ہو۔ یہ احتیاطیں مہنگی نہیں، مگر ان کے بغیر ایک خودکار ایجنٹ چند گھنٹوں میں وہ کر سکتا ہے جس میں انسان کو دنوں لگ جائیں۔
فی الحال متاثرہ بیرونی پروگراموں کے نام سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر ظاہر نہیں کیے گئے ہیں، اور اینتھروپک نے متعلقہ پروگراموں کو خامی دور ہونے تک بند رکھا ہے۔




