نیویارک، 26 اکتوبر 2026 (نیوز ڈیسک): اپولو گلوبل مینجمنٹ (Apollo Global Management) کے چیف اکانومسٹ ٹورسٹن سلوک (Torsten Slok) نے کہا ہے کہ ٹیکنالوجی کے شعبے سے باہر کی امریکی کمپنیوں کو مصنوعی ذہانت سے تاحال کوئی مالی فائدہ نہیں ہوا، حالانکہ اس شعبے میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری ہو چکی ہے۔ یہ تجزیہ 24 اکتوبر کو اپولو کے روزانہ نوٹ ڈیلی اسپارک (Daily Spark) میں شائع ہوا تھا، اور 25 اکتوبر کو ٹیک کرنچ (TechCrunch) اور بیرنز (Barron's) نے اس کی خبر دی۔
سلوک نے امریکی اسٹاک مارکیٹ کے اہم اشاریے ایس اینڈ پی 500 (S&P 500) کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ ایک طرف سات بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کا گروپ ہے، جسے میگ 7 (Magnificent 7) کہا جاتا ہے، اور دوسری طرف باقی 493 کمپنیاں ہیں، جنھیں وہ ایس اینڈ پی 493 کا نام دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اے آئی کی کہانی کا فیصلہ انہی 493 کمپنیوں میں ہوگا، سات بڑی کمپنیوں میں نہیں۔
اعداد کیا بتاتے ہیں
سلوک کے پیش کردہ اعداد کے مطابق سات بڑی کمپنیوں میں فی ملازم آمدنی 2022 کے بعد سے تیزی سے بڑھی ہے اور اب تقریباً 7 لاکھ 80 ہزار ڈالر (780,000 ڈالر) تک پہنچ گئی ہے۔ اس کے برعکس باقی 493 کمپنیوں میں فی ملازم آمدنی تقریباً 5 لاکھ 25 ہزار ڈالر (525,000 ڈالر) کے آس پاس رکی ہوئی ہے، اور اس میں کوئی واضح بہتری نظر نہیں آتی۔
شرح منافع میں بھی یہی فرق نظر آتا ہے۔ سات بڑی کمپنیوں کا شرح منافع تقریباً 30 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جبکہ باقی کمپنیوں کا شرح منافع تقریباً 10 فیصد کے آس پاس ٹھہرا ہوا ہے۔ سلوک کے مطابق مجموعی پیداواری صلاحیت (Total Factor Productivity) میں بھی کوئی واضح تیزی نظر نہیں آئی۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اے آئی ابھی تک پوری معیشت کی پیداواریت نہیں بڑھا سکی۔
میگ 7 میں شامل کمپنیاں الفابیٹ (Alphabet)، ایمیزون (Amazon)، ایپل (Apple)، میٹا (Meta)، مائیکروسافٹ (Microsoft)، Nvidia اور ٹیسلا (Tesla) ہیں۔ یہی کمپنیاں اے آئی کے ماڈل، چپس اور کلاؤڈ کا کاروبار چلاتی ہیں، اور انہی کی آمدنی اور منافع میں اضافہ ہوا ہے۔ باقی معیشت، یعنی بینک، فیکٹریاں، اسپتال، دکانیں اور ٹرانسپورٹ کمپنیاں، اس دوڑ میں پیچھے نظر آتی ہیں۔
خرچ چند ہاتھوں میں سمٹ گیا ہے
سلوک کے نوٹ کا دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ اے آئی پر خرچ بھی چند بڑی کمپنیوں تک محدود ہے۔ ان کے اعداد کے مطابق سب سے بڑی 10 فیصد کمپنیاں ماڈل چلانے اور انفرنس (Inference)، یعنی ماڈل سے جواب لینے کے خرچ کا 99.5 فیصد اٹھاتی ہیں۔ نیو کلاؤڈ (Neocloud) کے خرچ کا 99 فیصد بھی انہی کے حصے میں آتا ہے، جبکہ اوپن اے آئی (OpenAI) اور اینتھروپک (Anthropic) سے جڑے خرچ کا 95 فیصد سے زیادہ حصہ بھی یہی بڑی کمپنیاں ادا کرتی ہیں۔
یوں اے آئی کی معیشت ابھی تک چند ہاتھوں میں سمٹی ہوئی ہے۔ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں ماڈل بیچتی ہیں، چند بڑی کمپنیاں انھیں خریدتی ہیں، اور باقی کمپنیاں یا تو اس دوڑ سے باہر ہیں یا زیادہ خرچ کے باعث پیچھے ہٹ رہی ہیں۔ سلوک کے مطابق عام کمپنیاں اب ٹوکن (Token) کے خرچ کو ترقی کا ذریعہ نہیں، بلکہ منافع پر بوجھ سمجھنے لگی ہیں۔ ٹوکن وہ اکائی ہے جس کے حساب سے اے آئی ماڈل استعمال کرنے کا بل بنتا ہے۔ ملازمین جتنے زیادہ سوال پوچھتے ہیں، یا اے آئی ایجنٹ جتنے پیچیدہ کام سنبھالتے ہیں، یہ بل اتنا ہی بڑھتا جاتا ہے۔
سلوک نے یہ بھی لکھا ہے کہ عام کمپنیاں اب تازہ ترین اور مہنگے ماڈلز کے لیے زیادہ قیمت ادا کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ ان کے نزدیک روزمرہ کے کاموں کے لیے سستے ماڈل کافی ہیں، جبکہ وینچر کیپیٹل سے چلنے والی نئی کمپنیاں اب بھی ٹوکن کے استعمال میں تیزی سے اضافہ کر رہی ہیں۔ اس فرق سے اے آئی فراہم کرنے والی کمپنیوں کے لیے بھی یہ سوال جنم لیتا ہے کہ اگر بڑے گاہک مہنگے ماڈلز نہ خریدیں تو ان کی آمدنی کہاں سے بڑھے گی۔
سلوک کا استدلال: حساب کتاب فیصلہ سازی نہیں
سلوک کا بنیادی استدلال یہ ہے کہ اے آئی کی طاقت کو کاروباری نفع میں بدلنا آسان نہیں۔
"بھاری سرمایہ کاری اور اے آئی کے چرچے کے باوجود، ٹیکنالوجی کے شعبے سے باہر کارپوریٹ امریکہ کو اس ٹیکنالوجی سے کوئی مالی فائدہ نہیں ہوا۔" ٹورسٹن سلوک، چیف اکانومسٹ، اپولو گلوبل مینجمنٹ
ان کے بقول مسئلہ یہ ہے کہ کاروبار میں اصل ذہانت حساب کتاب نہیں، فیصلہ سازی ہے۔ اے آئی جوابدہی، اعتماد، کاروباری ثقافت، غیر تحریری اصولوں، اخلاقی کشمکش اور انصاف کو نہیں سمجھتی، اور یہی وہ چیزیں ہیں جو کسی کمپنی کی ساکھ اور اس کے منافع کا فیصلہ کرتی ہیں۔
"اے آئی ایک بہترین حساب کتاب کرنے والی مشین تو ہوسکتی ہے، مگر کاروبار میں ذہانت کا مطلب زیادہ تر فیصلہ سازی ہوتا ہے۔" ٹورسٹن سلوک، چیف اکانومسٹ، اپولو گلوبل مینجمنٹ
سلوک کو اس بات پر بھی شک ہے کہ عام کمپنیاں سستی ہوتی ہوئی ذہانت کو زیادہ آمدنی اور منافع میں بدل سکیں گی۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک ایجنٹک اے آئی (Agentic AI) اور ٹوکن کا خرچ معیشت کے ایک چھوٹے سے حصے تک محدود رہے گا، اس وقت تک اے آئی کے مجموعی معاشی اثرات بھی محدود رہیں گے۔
یہ دعویٰ کتنا مضبوط ہے؟
یہ بات واضح رہے کہ سلوک کا تجزیہ ایک ماہر معاشیات کی مجموعی اعداد پر مبنی رائے ہے، کسی ایک کمپنی کا آڈٹ نہیں۔ مجموعی اعداد یہ تو بتا سکتے ہیں کہ بڑی تصویر کیا ہے، مگر یہ نہیں بتاتے کہ کسی ایک کمپنی کے اندر اے آئی سے کیا فائدہ ہوا اور کیا نقصان ہوا۔ اس لیے اس دعوے کو حتمی فیصلہ نہیں، بلکہ ایک سنجیدہ سوال سمجھنا چاہیے۔
دوسری جانب، ٹیک کرنچ نے نوٹ کیا ہے کہ حالیہ چند تحقیقی مطالعات میں بھی اے آئی سے پیداواریت میں نمایاں بہتری کے شواہد نہیں ملے۔ اس سے سلوک کے تجزیے کو کچھ تقویت تو ملتی ہے، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ کاروبار میں اے آئی کے عام استعمال کو ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا۔ نئی ٹیکنالوجیوں کا معاشی فائدہ عموماً دیر سے ظاہر ہوتا ہے، کیوں کہ کمپنیوں کو اپنا کام کرنے کا طریقہ، عملہ اور نظام بدلنے میں وقت لگتا ہے۔ اس لیے یہ سوال ابھی کھلا ہوا ہے کہ آیا 493 کمپنیوں کی سست روی ایک مستقل حقیقت ہے یا صرف وقت کی بات ہے۔
پاکستان کے کاروبار کے لیے سبق
اگرچہ سلوک کا تجزیہ امریکی کمپنیوں کے بارے میں ہے، پھر بھی پاکستان کے کاروبار کے لیے اس میں ایک عملی سبق ہے۔ پاکستانی سافٹ ویئر ہاؤسز اور برآمدی کمپنیاں بھی اے آئی کے ماڈل ڈالر میں خریدتی ہیں، اور ان کا ٹوکن بل بھی امریکی کمپنیوں کی طرح بڑھتا ہے۔ اگر اے آئی کا خرچ ناپا نہ جائے تو یہ خاموشی سے منافع گھٹا سکتا ہے۔
اس لیے پاکستانی کاروباروں کے لیے دانشمندانہ راستہ یہ ہوسکتا ہے کہ وہ ہر کام کے لیے مہنگا ترین ماڈل استعمال کرنے کے بجائے کام کی نوعیت کے مطابق ماڈل چنیں، روزمرہ کے کام سستے ماڈل سے کرائیں، اور ہر مہینے یہ حساب رکھیں کہ اے آئی کے ہر روپے کے خرچ پر کتنی آمدنی یا بچت ہوئی۔ طلبہ اور فری لانسرز کے لیے بھی پیغام یہی ہے کہ صرف ماڈل چلانا کافی نہیں، بلکہ شعبہ جاتی مہارت اور فیصلہ سازی کی صلاحیت ہی اصل قیمت رکھتی ہے، جو اے آئی خود نہیں دے سکتی۔ سلوک کے الفاظ میں، اے آئی کی کہانی سات بڑی کمپنیوں میں نہیں، باقی 493 کمپنیوں میں طے ہوگی۔




