سان فرانسسکو، 23 اکتوبر 2026 (نیوز ڈیسک): مصنوعی ذہانت کی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی اوپن اے آئی ایک اور ریکارڈ فنڈنگ کے قریب پہنچ گئی ہے۔ سی این بی سی کی رپورٹ کے مطابق کمپنی 30 ارب ڈالر کی نئی فنڈنگ کے لیے سرمایہ کاروں سے بات چیت کر رہی ہے، اور اس راؤنڈ میں اس کی قیمت 1.25 ٹریلین ڈالر لگائی گئی ہے۔ یہ معاہدہ طے پانے کی صورت میں اوپن اے آئی تاریخ کی سب سے قیمتی نجی کمپنی بن جائے گی۔
مذاکرات کہاں پہنچے
سی این بی سی کے مطابق مذاکرات کی قیادت امریکی سرمایہ کاری ادارے کوٹیو اور متحدہ عرب امارات کے سرمایہ کار کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق بات چیت اب آخری مراحل میں ہے، اور اوپن اے آئی چاہتا ہے کہ سرمایہ کار اگلے ہفتے کے اختتام تک معاہدے پر دستخط کر دیں۔ تاہم رقم کا حتمی حجم ابھی طے نہیں ہوا، اور شرائط میں تبدیلی بھی ممکن ہے۔ اوپن اے آئی نے اس رپورٹ پر تبصرے سے انکار کر دیا ہے۔
سیلیکون اینگل کے مطابق متحدہ عرب امارات کے سرمایہ کاروں نے گزشتہ ماہ پہلی بار اوپن اے آئی سے رابطہ کیا تھا اور ایک بڑے راؤنڈ کی تجویز پیش کی تھی۔ بلومبرگ نے ایک ماہ قبل رپورٹ کیا تھا کہ کمپنی 30 ارب ڈالر کی فنڈنگ پر 1.4 ٹریلین ڈالر کی قیمت پر بات کر رہی ہے، جبکہ روئٹرز کے مطابق کمپنی 1.4 ٹریلین ڈالر سے بھی زیادہ قیمت چاہتی تھی۔ اب زیر بحث 1.25 ٹریلین ڈالر کی قیمت ان ابتدائی اعداد سے کم ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ حتمی ڈھانچہ ابھی تیار ہو رہا ہے۔
سیلیکون اینگل کے مطابق اس راؤنڈ کو ایک ایسا عبوری راؤنڈ قرار دیا جا رہا ہے جو سازگار حالات سے فائدہ اٹھا کر آئی پی او سے پہلے کمپنی کو درکار سرمایہ فراہم کرے گا۔
یہ قیمت نئی سرمایہ کاری شامل کیے بغیر لگائی گئی ہے، یعنی رقم آنے کے بعد کمپنی کی مجموعی قیمت اس سے بھی زیادہ ہوگی۔ ٹیک کرنچ کے مطابق اگر یہ راؤنڈ ایک ٹریلین ڈالر سے زیادہ قیمت پر مکمل ہوتا ہے تو یہ اب تک کی سب سے قیمتی نجی کمپنی کا ریکارڈ ہوگا۔
تاریخ کی سب سے قیمتی نجی کمپنی
اے آئی ویکلی کے مطابق، جس نے بلومبرگ کی رپورٹ کا حوالہ دیا ہے، اوپن اے آئی نے اکتوبر کے آغاز میں سرمایہ کاروں کے سامنے 1.4 ٹریلین ڈالر کی قیمت رکھی تھی، جو چند ہفتوں میں تقریباً 150 ارب ڈالر کم ہو گئی۔ اس راؤنڈ میں ابوظہبی کے سرکاری سرمایہ کاری فنڈ ایم جی ایکس کی جانب سے 10 ارب ڈالر تک کی سرمایہ کاری کا امکان ہے، جبکہ بلیک راک بھی مذاکرات میں شامل ہے۔ اگر بلیک راک اس راؤنڈ میں آیا تو یہ اوپن اے آئی میں سرمایہ لگانے والا پہلا بڑا ادارہ جاتی سرمایہ کار ہوگا، جو اس بات کی علامت ہے کہ اب روایتی مالیاتی ادارے بھی اے آئی کی دوڑ میں براہ راست اتر رہے ہیں۔
قیمت میں یہ کمی کمزوری نہیں بلکہ مذاکرات کا فطری حصہ ہے۔ اے آئی ویکلی کے مطابق اوپن اے آئی سرمایہ کاروں کو سالانہ بنیاد پر 50 ارب ڈالر کی آمدنی اور سال کے اختتام تک 70 ارب ڈالر کا ہدف دکھا رہا ہے، جو اس قیمت کی بنیاد ہے۔
آئی پی او کی تیاری
ٹیک کرنچ کے مطابق اوپن اے آئی نے جون میں آئی پی او کے لیے خفیہ دستاویزات جمع کرائی تھیں۔ سیلیکون اینگل کے مطابق کمپنی کی چیف فنانشل آفیسر سارہ فرائر عملے کو بتا چکی ہیں کہ اسٹاک مارکیٹ میں اندراج کا امکان 2027 میں ہے۔ اس سے پہلے مارچ میں کمپنی نے 122 ارب ڈالر کی فنڈنگ حاصل کی تھی، جس میں ایمازون، سافٹ بینک اور Nvidia شامل تھے، اور اس وقت رقم شامل ہونے کے بعد کمپنی کی قیمت 852 ارب ڈالر لگی تھی، جو آئی پی او تک کے اخراجات کے لیے کافی سمجھی جا رہی تھی۔
لیکن اے آئی کی دوڑ کی رفتار نے یہ حساب بدل دیا ہے۔ ماڈلز کی تربیت اور انہیں چلانے کے اخراجات جس تیزی سے بڑھ رہے ہیں، اس نے کمپنی کو آئی پی او سے پہلے ایک اور بڑے راؤنڈ پر مجبور کیا ہے۔ نیا راؤنڈ آئی پی او کی قیمت کے لیے بھی ایک تازہ معیار طے کرے گا، کیونکہ عوامی سرمایہ کار اسی قیمت کو بنیاد بنا کر آئی پی او کی قیمت کا اندازہ لگائیں گے۔
کمپیوٹنگ کی بھوک
اس راؤنڈ کی ایک بڑی وجہ کمپیوٹنگ کی بڑھتی ہوئی ضرورت ہے۔ سی این بی سی کے مطابق متحدہ عرب امارات کی سرمایہ کاری کے ساتھ ایک علیحدہ تجارتی معاہدہ بھی زیر بحث ہے، جس کے تحت اوپن اے آئی کو متحدہ عرب امارات سے مزید کمپیوٹنگ صلاحیت ملے گی۔ فنمائز کے مطابق کمپنی 2030 تک کمپیوٹنگ پر 600 ارب ڈالر خرچ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ یہ اس بات کی گواہی ہے کہ اے آئی کی دوڑ اب صرف بہتر ماڈلز کی نہیں بلکہ چپس، بجلی اور ڈیٹا سینٹرز کی دوڑ بن چکی ہے۔
ماہرین کے مطابق چپس اور ڈیٹا سینٹرز تک رسائی اب اے آئی کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ جو کمپنی زیادہ کمپیوٹنگ صلاحیت محفوظ کر لے گی، وہی اگلے ماڈلز کی دوڑ میں آگے رہے گی۔ اسی لیے سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ کمپیوٹنگ صلاحیت کے معاہدے بھی ایک ہی میز پر طے ہو رہے ہیں۔ متحدہ عرب امارات کے پاس سرمایہ بھی ہے اور توانائی بھی، اور یہی امتزاج اسے اوپن اے آئی کے لیے ایک قیمتی شراکت دار بناتا ہے۔
اینتھروپک کی دوڑ بھی تیز
اوپن اے آئی کی یہ قیمت اس کے سب سے بڑے حریف اینتھروپک کے لیے بھی ایک معیار طے کرے گی۔ ٹیک کرنچ کے مطابق اینتھروپک کا آئی پی او اوپن اے آئی سے پہلے آنے کا امکان ہے، اور سی این بی سی کے مطابق کمپنی اپنے عوامی اندراج کے لیے 1.5 سے 2 ٹریلین ڈالر کی قیمت چاہتی ہے۔ اینتھروپک نے مئی میں 965 ارب ڈالر کی قیمت پر 65 ارب ڈالر کی فنڈنگ حاصل کی تھی، اور اس نے بھی جون میں خفیہ دستاویزات جمع کرائی تھیں۔ اطلاعات کے مطابق اس کا عوامی پراسپیکٹس کسی بھی دن سامنے آ سکتا ہے۔
یہ صورتحال اے آئی کی صنعت میں ایک نئے دور کی علامت ہے۔ اب ان کمپنیوں کی قدر ان کی آمدنی، ان کے کمپیوٹنگ معاہدوں اور ان کے سرمایہ کاروں سے لگائی جا رہی ہے۔ اوپن اے آئی اور اینتھروپک دونوں ایک ہی وقت میں آئی پی او کی تیاری کر رہے ہیں، اور دونوں کے درمیان قیمتوں کا مقابلہ پوری صنعت کی سمت طے کرے گا۔
پاکستان کے لیے اس کا مطلب
پاکستان میں بھی چیٹ جی پی ٹی اور دیگر اے آئی ٹولز کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے، اور عالمی سطح پر سرمایہ کاری کے یہ رجحانات مقامی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے بھی سرمایہ کا ماحول طے کرتے ہیں۔ جب دنیا کی بڑی اے آئی کمپنیاں ٹریلین ڈالر کی قیمتوں پر سرمایہ حاصل کرتی ہیں تو اس سے اے آئی کی معیشت کا پیمانہ واضح ہوتا ہے۔ یہی پیمانہ آنے والے برسوں میں پاکستان جیسے ممالک میں اے آئی کی خدمات کی قیمتوں اور ان کی دستیابی پر اثر ڈالے گا۔
دوسری طرف کمپیوٹنگ کی یہ بھوک ایک سوال بھی کھڑا کرتی ہے۔ جب اے آئی کی ترقی کا انحصار اربوں ڈالر کے ڈیٹا سینٹرز پر ہوگا تو چھوٹے ممالک اور چھوٹی کمپنیاں اس دوڑ میں کہاں کھڑی ہوں گی۔ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب آنے والے برسوں میں اے آئی کی عالمی سیاست طے کرے گی۔
اب سب کی نظریں اگلے ہفتے پر ہیں، جب سرمایہ کاروں کے دستخط متوقع ہیں۔ اگر یہ راؤنڈ مکمل ہو گیا تو یہ نہ صرف ایک ریکارڈ ہوگا بلکہ اوپن اے آئی کے آئی پی او کی راہ بھی ہموار کرے گا، اور اے آئی کی صنعت میں سرمایہ کاری کا ایک نیا باب کھولے گا۔




