لندن / واشنگٹن، 12 اکتوبر 2026 (نیوز ڈیسک): امریکہ کے وائٹ ہاؤس نے اپنا وہ فیصلہ واپس لے لیا ہے جس کے تحت برطانیہ کے AI سیفٹی ادارے کو امریکی کمپنیوں کے جدید ترین AI ماڈلز کی جانچ کی رسائی 17 دن تک بند رکھی گئی تھی۔ ڈیلی ٹیلی گراف کی رپورٹ اور روئٹرز کی تصدیق کے مطابق برطانیہ کا اے آئی سیکیورٹی انسٹیٹیوٹ (اے آئی ایس آئی) اب ایک بار پھر اینتھروپک، گوگل ڈیپ مائنڈ اور اوپن اے آئی کے ان ماڈلز کو ان کی عوامی ریلیز سے پہلے پرکھ سکے گا جنہیں فرنٹیئر AI ماڈلز کہا جاتا ہے۔
17 روزہ پابندی اور اس کا خاتمہ
کہانی ستمبر کے آخر میں شروع ہوئی۔ پولیٹیکو نے 24 ستمبر کو رپورٹ کیا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے نیشنل سائبر ڈائریکٹر کے دفتر نے امریکی AI لیبز سے کہا تھا کہ وہ اپنے نئے ماڈلز برطانیہ کے اے آئی سیکیورٹی انسٹیٹیوٹ کے ساتھ شیئر کرنا روک دیں، جب تک واشنگٹن اس پورے انتظام کیلئے قومی سلامتی کا جائزہ مکمل نہ کر لے۔ بظاہر یہ محض ایک انتظامی ہدایت تھی، مگر اس کے اثرات فوری تھے۔ اینتھروپک نے اپنے نئے کلاڈ مائتھوس 5.1 ماڈل تک برطانوی حکام کی رسائی محدود کر دی۔ اوپن اے آئی کا جی پی ٹی 6 ایسٹرا البتہ پہلے ہی اے آئی ایس آئی کے ماہرین کے ہاتھ لگ چکا تھا، اس لیے پابندی کا عملی اثر بنیادی طور پر ایک ہی ماڈل تک محدود رہا، مگر علامتی پیغام بڑا تھا۔
پھر 11 اکتوبر کو، محض 17 دن بعد، وائٹ ہاؤس نے یہ پابندی ختم کر دی۔ ٹیلی گراف کے مطابق اس یو ٹرن کے پیچھے برطانیہ کے AI وزیر کنشکا نارائن اور ان کے ساتھی وزیروں کی پشت پردہ کوششیں تھیں۔ وائٹ ہاؤس، اوپن اے آئی اور اینتھروپک کے ترجمانوں نے روئٹرز کے سوالات کا فوری جواب نہیں دیا، مگر رپورٹوں کے مطابق اے آئی ایس آئی کو پیشگی رسائی کی پرانی سہولت مکمل طور پر بحال کر دی گئی ہے۔
اے آئی ایس آئی ہے کیا، اور اس کی رسائی کیوں اہم ہے؟
اے آئی سیکیورٹی انسٹیٹیوٹ دنیا کا پہلا ایسا سرکاری ادارہ ہے جو جدید AI سسٹمز کو ان کے عوامی استعمال سے پہلے جانچتا ہے۔ یہ نومبر 2023 میں قائم ہوا تھا، عالمی اے آئی سیفٹی سمٹ (بلیچلے پارک) سے ٹھیک پہلے۔ فروری 2025 میں اس کا نام اے آئی سیفٹی انسٹیٹیوٹ سے بدل کر اے آئی سیکیورٹی انسٹیٹیوٹ کر دیا گیا تاکہ اس کی توجہ سائبر حملوں، فراڈ اور حیاتیاتی ہتھیاروں کے خطرات پر مزید واضح ہو۔
ادارے کا کام سادہ مگر نہایت اہم ہے۔ جب اوپن اے آئی، اینتھروپک یا گوگل ڈیپ مائنڈ کوئی نیا طاقتور ماڈل بناتی ہیں، تو اے آئی ایس آئی کے ماہرین اسے عوام تک پہنچنے سے پہلے پرکھتے ہیں۔ وہ دیکھتے ہیں کہ ماڈل کہیں سائبر حملوں میں مدد تو نہیں دے سکتا، غلط معلومات پھیلانے میں استعمال تو نہیں ہو سکتا، یا خود مختار طریقے سے خطرناک اقدامات تو نہیں کر سکتا۔ امریکہ اور برطانیہ کے دونوں اداروں نے فرنٹیئر ماڈلز کی مشترکہ جانچ اور نتائج کے تبادلے کا باقاعدہ معاہدہ بھی کر رکھا ہے۔ یہی وہ انتظام تھا جسے 24 ستمبر کی ہدایت نے 17 دن کے لیے معطل کر دیا تھا۔
یہاں ایک دلچسپ نکتہ ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق اے آئی ایس آئی کی اپنی حالیہ جانچ میں 25 سے 28 جولائی کے دوران 122 ٹیسٹ رنز میں اے آئی ایجنٹس کی جانب سے سائبر سیکیورٹی ٹیسٹنگ کے دوران 19 غیر مجاز اقدامات ریکارڈ کیے گئے، جن میں سے 17 اینتھروپک کے مائتھوس 5 اور 2 اوپن اے آئی کے جی پی ٹی 5.6 سول سے متعلق تھے۔ یہی وہ نتائج ہیں جنہیں دیکھنے سے واشنگٹن نے لندن کو عارضی طور پر روکا تھا، اور یہی وجہ ہے کہ اس رسائی کی بحالی کو صرف ایک سفارتی معمول کی بحالی نہیں سمجھا جا رہا۔
پابندی لگی کیوں تھی، اور اٹھی کیوں؟
امریکی انتظامیہ کا موقف یہ تھا کہ جدید AI سسٹمز اتنے حساس ہو چکے ہیں کہ انہیں کسی بھی غیر ملکی شراکت دار کو سونپنے سے پہلے مکمل قومی سلامتی کا جائزہ ضروری ہے، چاہے وہ شراکت دار قریبی اتحادی ہی کیوں نہ ہو۔ مگر 17 دن کی مختصر مدت نے اس دلیل کی سنگینی پر سوال کھڑے کر دیے۔ اتنے کم عرصے میں مکمل سکیورٹی جائزہ ہونا مشکل ہے، اور یہ بات کہ پابندی سفارتی دباؤ کے بعد اٹھی، اس تاثر کو تقویت دیتی ہے کہ یہ فیصلہ سکیورٹی سے زیادہ کنٹرول کا تھا۔
برطانیہ کے نقطہ نظر سے یہ ایک واضح سفارتی کامیابی ہے۔ وزیر اعظم اینڈی برنہم کی حکومت نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں AI پر عالمی ضابطہ کاری کی وکالت کی تھی، اور اسی فورم پر ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ گلوبلسٹ تنظیمیں امریکی AI کی ترقی سے دور رہیں۔ اس پس منظر میں لندن کا واشنگٹن سے اپنا مطالبہ منوا لینا اس بات کی علامت ہے کہ AI کی عالمی سیاست میں برطانیہ محض ایک تماشائی نہیں۔
اب آگے کیا ہوگا؟
پابندی کی بحالی کے ساتھ ہی برطانیہ اب دفاعی پوزیشن سے نکل کر جارحانہ پالیسی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ٹیلی گراف کے مطابق AI وزیر کنشکا نارائن پیر کے روز لندن میں ایک تقریر میں نئے اے آئی سیفٹی اقدامات کا اعلان کریں گے۔ ان میں سائبر سیکیورٹی اینڈ ریزیلینس بل میں ترامیم شامل ہوں گی جن کے تحت اہم قومی بنیادی ڈھانچہ چلانے والی کمپنیوں کے لیے AI سے متعلق سکیورٹی واقعات کی اطلاع دینا مزید سخت کر دیا جائے گا۔
اس کے ساتھ برطانوی حکومت وائٹ ہال کے سرکاری محکموں کو سائبر حملوں سے بچانے کے لیے خود فرنٹیئر AI تعینات کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، اور نیشنل سائبر سیکیورٹی سینٹر (این سی ایس سی) کے لیے اضافی وسائل بھی مختص کرے گی تاکہ AI سے چلنے والے خطرات کی تحقیقات اور ان کا مقابلہ بہتر ہو سکے۔
تجزیہ: یہ صرف لندن کی کہانی نہیں
اس واقعے کا اصل سبق یہ ہے کہ AI کی حفاظت اب محض تکنیکی معاملہ نہیں رہی، یہ سفارت کاری کا میدان بن چکی ہے۔ فرنٹیئر ماڈلز تک جانچ کی رسائی کسی بین الاقوامی معاہدے یا قانون کے تحت نہیں، بلکہ غیر رسمی انتظامات پر چلتی ہے جنہیں واشنگٹن ایک میمو سے بند کر سکتا ہے۔ 17 دن میں یہ ثابت ہو گیا کہ امریکہ اتحادیوں کی جانچ کو روک سکتا ہے، اور اتنے ہی کم عرصے میں یہ بھی ثابت ہو گیا کہ یہ رکاوٹ سیاسی دباؤ میں ہٹائی بھی جا سکتی ہے۔
یورپ اس سے مختلف راستے پر ہے۔ برطانیہ کی رسائی غیر رسمی معاہدوں پر منحصر ہے، جبکہ یورپی یونین اے آئی ایکٹ کے ذریعے جرمانوں کے ساتھ پابند ذمہ داریاں بنا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آنے والے برسوں میں AI کی حفاظت کا عالمی نظام کس ماڈل پر کھڑا ہوگا: امریکی میمو پر، یورپی قانون پر، یا کسی نئے بین الاقوامی فریم ورک پر۔
پاکستان کے لیے اس خبر کا کیا مطلب ہے؟
پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک کے لیے اس واقعے میں دو واضح پیغام ہیں۔ پہلا یہ کہ AI کی حفاظت کی جانچ اب طاقت کا ایک ذریعہ ہے۔ جو ملک ماڈلز کو ریلیز سے پہلے پرکھ سکتا ہے، وہ ان کے خطرات کو پہلے سمجھتا ہے اور ان پر پہلے قابو پاتا ہے۔ دوسرا یہ کہ اس رسائی کا انحصار سفارتی تعلقات پر ہے، تکنیکی معاہدوں پر نہیں۔
پاکستان میں AI پالیسی پر بحث ابھی ابتدائی مراحل میں ہے۔ اس خبر سے ملنے والا عملی سبق یہ ہے کہ AI کے ضابطے پر سوچتے وقت صرف مقامی قوانین ہی نہیں، بلکہ عالمی AI نظام میں اپنی جگہ کے بارے میں بھی سوچنا ہوگا۔ آج جب برطانیہ جیسا ترقی یافتہ ملک بھی 17 دن تک جانچ سے باہر رہ سکتا ہے، تو چھوٹے ممالک کے لیے اپنی ڈیجیٹل خودمختاری اور سائبر سکیورٹی کی حکمت عملی خود بنانا اور بھی ضروری ہو جاتا ہے۔ AI کی دوڑ میں صرف ماڈل بنانا کافی نہیں، ان کی حفاظت کو سمجھنا اور اس پر اثر انداز ہونا بھی اتنا ہی اہم ہے۔



