کوپن ہیگن (نمائندہ خصوصی) — مصنوعی ذہانت نے انسان کی شکل اور آواز کی نقل بنانا جتنا آسان کر دیا ہے، اتنا ہی مشکل کر دیا ہے یہ پہچاننا کہ اسکرین پر نظر آنے والا شخص اصل ہے یا محض ایک ڈیجیٹل دھوکہ۔ اسی بڑھتے ہوئے خطرے سے نمٹنے کے لیے ڈنمارک کی حکومت نے جمعرات کو پارلیمنٹ میں ایک ایسا بل پیش کرنے کا اعلان کیا ہے جو یورپ میں اپنی نوعیت کا پہلا قانون بن سکتا ہے — ایک ایسا قانون جو ہر شہری کو اس کے چہرے، آواز اور جسمانی خدوخال پر باقاعدہ قانونی حق دے گا۔
اس بل کے تحت کسی بھی شخص کی اجازت کے بغیر اس کی "حقیقت سے قریب تر" ڈیجیٹل نقل بنا کر شیئر کرنا غیرقانونی ہوگا۔ اور یہ تحفظ صرف مشہور شخصیات تک محدود نہیں — ڈنمارک کا ہر عام شہری اس کا حقدار ہوگا۔
بل میں ہے کیا؟
تجویز کردہ قانون ڈنمارک کے کاپی رائٹ ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے لایا جا رہا ہے، مگر یہ آپ کے چہرے پر "کاپی رائٹ" لگانے جیسا سادہ معاملہ نہیں۔ دراصل یہ کاپی رائٹ کے ہمسایہ حقوق کے ماڈل پر ایک نیا قانونی حق تخلیق کرتا ہے — آپ کی شکل اور آواز کا حق۔
بل کی اہم شقیں کچھ یوں ہیں:
رضامندی لازمی: کسی کی حقیقت نما ڈیجیٹل نقل عوام کے سامنے لانے کے لیے اس شخص کی واضح اجازت ضروری ہوگی۔ اور یہ ثابت کرنے کی ذمہ داری مواد شیئر کرنے والے پر ہوگی کہ اجازت لی گئی تھی — نیز یہ اجازت کسی بھی وقت واپس بھی لی جا سکے گی۔
موت کے بعد بھی تحفظ: یہ حق شخص کی وفات کے 50 سال بعد تک برقرار رہے گا۔ یعنی کسی کے انتقال کے بعد بھی اس کی جعلی ویڈیو بنا کر پھیلانا غیرقانونی ہوگا۔
فنکاروں کا خصوصی تحفظ: بل کی ایک الگ شق فنکاروں کے لیے ہے — کسی گلوکار، اداکار یا پرفارمر کی پرفارمنس کی حقیقت نما ڈیجیٹل نقل بھی اس کی اجازت کے بغیر شیئر نہیں کی جا سکے گی، چاہے وہ پرفارمنس غیر لفظی یا بے ساختہ ہی کیوں نہ ہو۔
پلیٹ فارمز کی ذمہ داری: سوشل میڈیا کمپنیوں کو شکایت موصول ہونے پر جعلی مواد جلد ہٹانا ہوگا۔ ناکامی پر انہیں بھاری جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اور معاملہ یورپی کمیشن تک بھی جا سکتا ہے۔
ہرجانے کا حق: متاثرہ شخص مواد ہٹانے کا مطالبہ کرنے کے ساتھ ساتھ ہرجانے کا دعویٰ بھی کر سکے گا — اس کے لیے یہ ثابت کرنا ضروری نہیں ہوگا کہ اس کی ساکھ کو نقصان پہنچا۔
یہ قانون کاپی رائٹ کے ذریعے کیوں؟
یہ سوال اہم ہے کہ ڈنمارک نے اس مسئلے کے لیے کاپی رائٹ کے قانون کا سہارا کیوں لیا۔ اس کے پیچھے ایک ٹھوس عملی وجہ ہے۔
سائنٹیفک امریکن میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق محققین نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر 50 جعلی فحش ڈیپ فیکس پوسٹ کر کے ان کی رپورٹ دو طریقوں سے کی — 25 کو کاپی رائٹ کی خلاف ورزی کے طور پر اور 25 کو نازیبا مواد کے طور پر۔ نتیجہ حیران کن تھا: پلیٹ فارم نے کاپی رائٹ کی شکایات پر تیزی سے مواد ہٹا دیا، مگر پرائیویسی کی شکایات پر ایک بھی نہیں ہٹایا۔ یعنی قانونی حق نے عمل کرایا، پرائیویسی کی اپیل نے نہیں۔
ڈنمارک کی حکومت نے اسی سبق کو قانون کی شکل دی ہے — جب آپ کے چہرے پر آپ کا قانونی حق ہوگا، تو ٹیک کمپنیاں اسے نظر انداز کرنے کی جرات نہیں کر سکیں گی۔ وزیرِ ثقافت زینیا اسٹیمپے کے مطابق اس بل کا ایک بنیادی مقصد ہی یہ ہے کہ ٹیک کمپنیاں جعلی مواد جلد از جلد ہٹائیں تاکہ نقصان کم سے کم ہو۔ ان کے بقول، AI سے بنائی گئی جعلی ویڈیوز اور تصاویر غلط معلومات پھیلا سکتی ہیں اور اس بارے میں بنیادی شک پیدا کر سکتی ہیں کہ اصل ہے کیا۔
طنز و مزاح محفوظ رہے گا
بل میں اظہارِ رائے کی آزادی کا خیال بھی رکھا گیا ہے۔ خاکے، طنز، پیروڈی اور وہ مواد جو معاشرے یا حکمرانوں پر تنقید کرتا ہے، اس قانون کی زد سے باہر رہے گا۔ تاہم بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ طنز اور پیروڈی کے کیسز کا فیصلہ عدالتوں کو انفرادی بنیادوں پر کرنا پڑے گا، جو عمل کو پیچیدہ بنا سکتا ہے۔
یہ بھی واضح رہے کہ بل صرف عوامی شیئرنگ پر پابندی لگاتا ہے — نجی طور پر ڈیپ فیک بنانا غیرقانونی نہیں ہوگا۔ ناقدین کے مطابق یہ ایک کمزوری بھی ہے، کیونکہ نجی دائرے میں بنا مواد بھی لیک ہو کر پھیل سکتا ہے۔
ایک طویل سفر
یہ بل راتوں رات نہیں آیا۔ جون 2025 میں ڈنمارک کی حکومت نے اس تجویز کا اعلان کیا تھا اور اسے تقریباً تمام سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل تھی۔ ڈنمارک نے 2025 کے دوسرے نصف میں یورپی یونین کی کونسل کی صدارت کے دوران اس نقطہ نظر کو یورپ بھر میں بھی فروغ دیا۔
اصل منصوبہ تھا کہ قانون 31 مارچ 2026 کو نافذ ہو جائے، مگر قبل از وقت عام انتخابات نے شیڈول بگاڑ دیا۔ اب حکومت کو امید ہے کہ پارلیمنٹ کی منظوری کے بعد یہ قانون نئے سال کے آس پاس نافذ العمل ہو جائے گا۔
دنیا کیا کر رہی ہے؟
ڈنمارک کا راستہ سب سے منفرد ضرور ہے، مگر وہ اکیلا نہیں۔ اٹلی نے 2025 سے دھوکہ دہی پر مبنی نقصان دہ جعلی مواد پھیلانا فوجداری جرم قرار دے رکھا ہے۔ برطانیہ اور جنوبی کوریا جنسی نوعیت کے ڈیپ فیکس بنانے اور دیکھنے کو جرم قرار دینے کی سمت بڑھ رہے ہیں۔ یورپی یونین کا ڈیجیٹل سروسز ایکٹ پہلے ہی پلیٹ فارمز پر غیرقانونی مواد ہٹانے کی ذمہ داری ڈالتا ہے — ڈنمارک کا بل اسی نظام کو متحرک کرنے کی قانونی بنیاد فراہم کرے گا۔
ماہرین کے مطابق اگر ڈنمارک کا بل منظور ہو گیا تو یہ یورپ میں ڈیپ فیکس کے خلاف سب سے وسیع شہری تحفظ ہوگا، اور دیگر ممالک کے لیے ایک نمونہ بن سکتا ہے۔
پاکستان کے لیے سبق
یہ خبر پاکستان سے بہت دور کی نہیں۔ یہاں بھی انتخابات کے موسم میں سیاستدانوں کی جعلی ویڈیوز، واٹس ایپ پر پھیلنے والے جعلی آڈیو پیغامات اور خواتین کو ہراساں کرنے کے لیے بنائے گئے ڈیپ فیکس ایک سنگین مسئلہ بن چکے ہیں۔ ہمارے ہاں سائبر کرائم کے قوانین موجود ضرور ہیں، مگر "آپ کا چہرہ آپ کی ملکیت ہے" کا واضح قانونی اصول کہیں نظر نہیں آتا۔
ڈنمارک نے جو سوال اٹھایا ہے وہ ہم سب کے لیے ہے: جب AI کسی کو بھی ڈیجیٹل کاپی مشین سے گزار سکتی ہے، تو کیا آپ کی ڈیجیٹل شناخت اب بھی آپ کی ہے؟ جس ملک نے اس سوال کا جواب قانون میں لکھ دیا، وہ اس دوڑ میں سب سے آگے ہوگا۔



