لندن، 14 اکتوبر 2026 (ویب ڈیسک): گوگل ڈیپ مائنڈ اور گوگل کلاؤڈ نے اعلان کیا ہے کہ وہ یورپ کے 200 تک سائنسدانوں کو کمپنی کے جدید ترین اے آئی ماڈلز تک براہ راست رسائی فراہم کریں گے، اور اس کے ساتھ 30 لاکھ ڈالر کے کمپیوٹ کریڈٹس بھی دیے جائیں گے۔ یہ اعلان 14 اکتوبر کو گوگل کے بلاگ پر سامنے آیا، جس کی مصنفہ گوگل کلاؤڈ کی نائب صدر مارین کوسٹیلو ہیں، جو برطانیہ، آئرلینڈ اور سب سہارا افریقہ کے امور دیکھتی ہیں۔ روئٹرز نے بھی اس اعلان کی آزادانہ تصدیق کی ہے۔
وعدے میں کیا کیا شامل ہے
گوگل کے اعلان کے مطابق منتخب محققین کو کمپنی کے وہ سائنسی اے آئی ٹولز استعمال کرنے کو ملیں گے جن تک عام طور پر محدود حلقے کی رسائی ہوتی ہے۔ ان میں پروٹین اور مولیکیولر ساخت کی پیشگوئی کرنے والا الفا فولڈ 3، موسم کی پیشگوئی کے لیے ویدر نیکسٹ، جینیاتی مواد کے تجزیے کے لیے الفا جینوم، سائنسی تحقیقی الجوردمز بنانے والا الفا ایولو اور زمین کی سیٹلائٹ مشاہدے پر مبنی الفا ارتھ فاؤنڈیشنز شامل ہیں۔
گوگل کا کہنا ہے کہ یہ عزم یورپی یونین کے اے آئی برائے سائنس کے کام کی حمایت میں کیا گیا ہے، اور اس کا مقصد ان محققین کو براہ راست کمپیوٹنگ طاقت اور ٹولز پہنچانا ہے جو یورپ میں سائنسی مسابقت کو تیز کرنا چاہتے ہیں۔ گوگل کے مطابق یہ تحقیقی ٹیمیں انتہائی موسمی حالات کی پیشگوئی سے لے کر مولیکیولر ساخت کے نقشوں تک کے مسائل حل کر سکیں گی۔
یہاں ایک باریک فرق سمجھنا ضروری ہے: یہ کوئی نیا صارفین کا پروڈکٹ نہیں، بلکہ ایک محدود کوہورٹ کے لیے رسائی کا عزم ہے۔ یعنی 200 محققین کو مخصوص نظاموں تک براہ راست رسائی اور کچھ حد تک مفت کمپیوٹ ملے گا، لیکن گوگل نے ابھی تک یہ نہیں بتایا کہ کریڈٹس کی تقسیم کے اصول کیا ہوں گے، رسائی کا شیڈول کیا ہوگا، اور کون کون اس کے اہل قرار پائے گا۔
'ریز' پہل کیا ہے
گوگل کا یہ وعدہ یورپی یونین کی 'ریز' پہل کے فریم ورک کے اندر آ رہا ہے۔ ریز (RAISE) کا مطلب ہے 'یورپ میں اے آئی سائنس کے لیے وسائل'، یعنی یورپ میں اے آئی سائنس کا وسیلہ۔ یہ ایک مجازی تحقیقی ادارے کے طور پر بنایا گیا ہے جو کمپیوٹنگ طاقت، ڈیٹا، ماہرین اور تحقیقی فنڈنگ کو یکجا کر کے یورپ کے محققین کے لیے دستیاب کرے گا۔
اس کا تصور یورپی کمیشن کی 'اے آئی ان سائنس' حکمت عملی میں پیش کیا گیا تھا، جسے کمیشن نے یورپ کی تکنیکی اور سائنسی قیادت کو مضبوط بنانے کے لیے شروع کیا۔ اس حکمت عملی میں ہنر کے لیے 58 ملین یورو 'ریز' پائلٹ کے تحت رکھے گئے ہیں تاکہ 'یورپ کا انتخاب کرو' مہم کے تحت اے آئی اور سائنسی ماہرین کی تربیت، برقرار رکھنے اور انہیں راغب کرنے کا کام ہو۔ کمپیوٹ کے لیے ہورائزن یورپ سے 600 ملین یورو مختص ہیں، جن سے یورپی محققین اور اسٹارٹ اپس کے لیے مخصوص اے آئی گیگا فیکٹریوں تک رسائی یقینی بنائی جائے گی۔ حکمت عملی کا ہدف یہ بھی ہے کہ ہورائزن یورپ میں اے آئی کی سالانہ سرمایہ کاری دگنی کر کے 3 ارب یورو سے زیادہ کی جائے، جس میں سائنس میں اے آئی کی فنڈنگ بھی دگنی ہوگی۔
وہ کمپیوٹ کی کمی جسے گوگل دور کرنا چاہتا ہے
اس اعلان کی سب سے اہم بات وہ مسئلہ ہے جس کا گوگل حل پیش کر رہا ہے: کمپیوٹ کی کمی۔ جدید اے آئی ماڈلز کو چلانے اور ان پر تحقیق کرنے کے لیے درکار کمپیوٹنگ طاقت اتنی مہنگی ہے کہ بیشتر یونیورسٹیاں اور تحقیقی ادارے اسے خرید نہیں سکتے۔ گوگل نے اسی خلا کو تسلیم کیا ہے اور کہا ہے کہ یورپی سائنسدان بعض اوقات اس کمی کا شکار ہوتے ہیں۔
یہ خلا کوئی معمولی بات نہیں۔ آج اے آئی تحقیق کی رفتار اس بات سے طے ہوتی ہے کہ کس کے پاس زیادہ GPU اور زیادہ ڈیٹا سینٹر کی گنجائش ہے۔ بڑی ٹیک کمپنیاں ہزاروں چپس پر ماڈلز تربیت دیتی ہیں جبکہ یونیورسٹی لیبز اکثر ایک ہی چھوٹے سرور پر چلتی ہیں۔ اس فرق کی وجہ سے جدید تحقیق کا مرکز تیزی سے نجی لیبوں کی طرف منتقل ہو رہا ہے، اور عوامی سائنس پیچھے رہنے کا خطرہ محسوس کرتی ہے۔
اسی تناظر میں 30 لاکھ ڈالر کے کریڈٹس کو سمجھنا چاہیے۔ یہ رقم ایک بڑے ماڈل کی تربیت کے اربوں ڈالر کے اخراجات کے مقابلے میں معمولی ہے، لیکن ان 200 تحقیقی ٹیموں کے لیے جنہیں رسائی ملے گی، یہ ان کی روزمرہ کی تحقیق کے لیے ایک حقیقی اور فوری سہولت ہوگی۔ اس کی اصل اہمیت علامتی سے زیادہ عملی ہے: یہ نجی شعبے اور عوامی سائنس کے درمیان بڑھتی ہوئی دوری کو کم کرنے کی ایک کوشش ہے۔
بڑی تصویر: سائنس میں اے آئی کی دوڑ
الفا فولڈ جیسے ٹولز نے پہلے ہی ثابت کر دیا ہے کہ اے آئی سائنس کو کیسے بدل سکتا ہے۔ الفا فولڈ نے کروڑوں پروٹین کی ساخت کی پیشگوئی کی، وہ کام جو روایتی طریقوں سے دہائیوں کا تھا۔ اس ٹیم کو 2024 میں نوبل انعام بھی ملا۔ اب ویدر نیکسٹ موسم کی درست پیشگوئی اور الفا جینوم جینیاتی تحقیق میں اسی طرح کی تبدیلی کا وعدہ کرتے ہیں۔
یہ وہ پس منظر ہے جس میں گوگل کا فیصلہ دیکھا جا رہا ہے۔ کمپنی اپنے سائنسی ٹولز کو یورپی تحقیقی نظام کے اندر رکھ کر دو مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہے: ایک طرف یورپ کی سائنسی مسابقت بڑھے گی، دوسری طرف گوگل کے اپنے ٹولز مزید تحقیقی میدانوں میں آزمائے جائیں گے اور ان کی افادیت ثابت ہوگی۔
یہاں یہ بھی قابل ذکر ہے کہ یہ اعلان اسی ہفتے آیا ہے جب اینویڈیا نے یورپ میں 2 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری اور برطانیہ کے حفاظتی لیبوں کے لیے 250 ملین ڈالر کے کمپیوٹ کا وعدہ کیا۔ یعنی یورپ میں سائنسی اور تحقیقی اے آئی انفراسٹرکچر کے لیے وسائل کی ایک بڑی لہر چل رہی ہے، اور گوگل کی یہ پیشکش اسی لہر کا حصہ ہے۔
پاکستان کا زاویہ
یورپ کے سائنسدانوں کو درپیش کمپیوٹ کی کمی کا ذکر پاکستان جیسے ممالک کے لیے بھی مانوس ہے۔ ترقی پذیر ممالک کی یونیورسٹیوں میں تحقیقی ٹیمیں اکثر اسی مسئلے سے دوچار ہوتی ہیں کہ جدید اے آئی ماڈلز پر تجربات کے لیے درکار کمپیوٹنگ طاقت ان کی پہنچ سے باہر ہے۔ گوگل کی اس طرح کی رسائی کی پیشکشیں اگرچہ فی الحال یورپ تک محدود ہیں، لیکن یہ رجحان خود اہم ہے: نجی کمپنیاں اب تسلیم کر رہی ہیں کہ عوامی سائنس کو ان کے ٹولز کی ضرورت ہے۔
پاکستان کے لیے اس خبر کی ایک عملی جہت موسم کی پیشگوئی ہے۔ ویدر نیکسٹ جیسے ٹولز مون سون اور سیلابی صورتحال کی بہتر پیشگوئی میں مددگار ہو سکتے ہیں، اور ایسے خطے جہاں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات شدید ہیں، وہاں یہ ٹیکنالوجی جان بچانے والی ثابت ہو سکتی ہے۔ اسی طرح الفا ارتھ فاؤنڈیشنز جیسے سیٹلائٹ مشاہدے کے ٹولز زراعت اور آبی وسائل کی نگرانی میں استعمال ہو سکتے ہیں۔
نتیجہ
گوگل کا یہ اعلان کوئی بڑا ماڈل لانچ نہیں، بلکہ ایک پالیسی نوعیت کا فیصلہ ہے، اور اسی لیے یہ اہم ہے۔ اے آئی کی دنیا میں اب لڑائی صرف بہتر ماڈل بنانے کی نہیں رہی، بلکہ اس بات کی بھی ہے کہ ان ماڈلز تک کس کی رسائی ہوگی۔ یورپی یونین اپنی 'ریز' حکمت عملی کے ذریعے اس رسائی کو ادارہ جاتی شکل دے رہی ہے، اور گوگل اس میں اپنا حصہ ڈال رہا ہے۔ اگلے مرحلے میں یہ دیکھنا ہوگا کہ 200 محققین کا انتخاب کیسے ہوگا، کریڈٹس کی تقسیم شفاف ہوگی یا نہیں، اور کیا اس ماڈل کو یورپ سے باہر بھی پھیلایا جائے گا۔



