نیویارک، 16 اکتوبر 2026 (نیوز ڈیسک): میٹا نے اپنی کاروباری شرائط میں ایسی تبدیلی کر دی ہے جس کے بعد کمپنی نیوز ویب سائٹس کا مواد سکریپ کر کے اپنے اے آئی ماڈلز کی تربیت میں استعمال کر سکتی ہے۔ صحافت کے شعبے کی تحقیقی اشاعت نیمین لیب نے تین قانونی ماہرین کی مدد سے ان شرائط کا جائزہ لیا۔ تینوں ماہرین کی رائے ہے کہ ان شرائط کو اس طرح بھی پڑھا جا سکتا ہے کہ میٹا کو نیوز سائٹس کا مواد سکریپ کرنے کی اجازت مل جاتی ہے۔
نئی شرائط میں کیا تبدیلی آئی
میٹا نے اپنی کمرشل شرائط کو اپ ڈیٹ کیا ہے۔ یہ شرائط 30 اکتوبر 2026 سے نافذ ہوں گی۔ ان کا اطلاق ان تمام کاروباری اکاؤنٹس پر ہوگا جو فیس بک، میسنجر، انسٹاگرام اور واٹس ایپ کو تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ان اکاؤنٹس کے ذریعے ادارے یا عوامی شخصیات اپنی موجودگی کا انتظام کرتے ہیں، اشتہارات چلاتے ہیں اور مارکیٹنگ پیغامات بھیجتے ہیں۔
نئی شرائط میں واضح لکھا ہے کہ میٹا خودکار سافٹ ویئر، یعنی ویب اسکریپرز، بوٹس، اسپائڈرز، کرالرز اور یوزر ایجنٹس کے ذریعے ویب سائٹس تک رسائی حاصل کر سکتی ہے اور ان کا تجزیہ کر سکتی ہے۔ یہ رسائی ان ڈومینز، ویب پیجز یا یو آر ایلز پر ہوگی جو کسی کاروباری صارف کی مصنوعات یا خدمات سے منسلک ہیں۔ جمع کیے گئے مواد کے جن استعمالات کا نام لیا گیا ہے ان میں میٹا کی مصنوعات کی "تربیت" بھی شامل ہے۔ میٹا نے اپنے بلاگ اور میٹا بزنس سویٹ پر وضاحت کی ہے کہ وہ منسلک ویب سائٹس کے مواد کو اپنی مصنوعات کی تربیت کے لیے استعمال کر سکتی ہے۔
شرائط کے مطابق میٹا انڈیکسنگ، کیشنگ، تجزیے، مواد جمع کرنے اور بازیافت کے لیے یہ رسائی رکھے گی۔ میٹا کاروباری اکاؤنٹس سے منسلک ویب سائٹس تک پہنچنے کے لیے ٹیسٹ اکاؤنٹس بھی بنا سکتی ہے۔
پبلشرز کے لیے خطرہ کیا ہے
نیمین لیب کی رپورٹ کے مطابق نئی شرائط ان نیوز پبلشرز پر بھی لاگو ہوتی ہیں جن کے کاروباری اکاؤنٹس میٹا کے پلیٹ فارمز سے منسلک ہیں۔ میڈیا اور دانشورانہ املاک کے وکیل میٹ ٹاپک نے کہا کہ یہ شق میٹا کو ایسے مواد تک رسائی دے سکتی ہے جو لائسنسنگ مارکیٹ میں لاکھوں ڈالر مالیت کا ہوگا۔
"یہ شق میٹا کو ایسے مواد تک رسائی دے سکتی ہے جس کی لائسنسنگ مارکیٹ میں قیمت لاکھوں ڈالر ہوگی۔"
میٹ ٹاپک، میڈیا اور دانشورانہ املاک کے وکیل، لوئی اینڈ لوئی
یہ بات اس لیے اہم ہے کہ میٹا پہلے ہی سی این این، فاکس نیوز، یو ایس اے ٹوڈے اور پیپل انکارپوریشن جیسے بڑے اداروں کے ساتھ معاوضے والے لائسنسنگ معاہدے کر چکی ہے۔ ان معاہدوں میں واضح تحریری اجازت اور فیس شامل ہوتی ہے۔ نئی شرائط کے تحت میٹا کہیں بڑے ذخیرے سے بغیر کسی الگ لائسنس کے مواد لے سکتی ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ متعلقہ ویب سائٹ کسی ایسے کاروباری اکاؤنٹ سے منسلک ہو جو میٹا کی اشتہاری یا لنک سروسز استعمال کرتا ہے۔
آپٹ آؤٹ کا کوئی راستہ نہیں
پبلشرز کے لیے سب سے تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ ان نئی شرائط سے نکلنے کا کوئی آپشن نہیں رکھا گیا۔ شرائط میں لکھا ہے کہ اگر کوئی اپ ڈیٹ شدہ شرائط سے متفق نہیں تو وہ کاروباری یا تجارتی مقاصد کے لیے میٹا کی مصنوعات کا ہر قسم کا استعمال بند کر دے۔ دوسرے الفاظ میں پبلشرز کے پاس صرف دو راستے ہیں: یا تو وہ ان شرائط کو قبول کریں، یا میٹا کے پلیٹ فارمز کو کاروباری مقاصد کے لیے استعمال کرنا چھوڑ دیں۔
میٹا نے اپنے ڈویلپر پیج پر روبوٹس ڈاٹ ٹی ایکس ٹی کے ذریعے کرالرز کو روکنے کی ہدایات ضرور دی ہیں۔ لیکن قانونی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ نئی شرائط کی زبان میٹا کو یہ دلیل دے سکتی ہے کہ اس کی کمرشل شرائط روکنے کی دیگر ہدایات پر غالب آتی ہیں۔
معاہدہ بمقابلہ کاپی رائٹ قانون
واشنگٹن کے وکیل بابک اخلاقی نے اس تبدیلی کے قانونی پہلو کو یوں سمجھایا۔ ان کے مطابق میٹا اس معاملے کو کاپی رائٹ کے سوال سے نکال کر معاہدے کے دائرے میں لانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اگر میٹا کے پاس مواد کو تربیت کے لیے استعمال کرنے کا درست لائسنس موجود ہے تو سوال یہ نہیں رہتا کہ استعمال منصفانہ تھا یا نہیں۔ سوال یہ بن جاتا ہے کہ کیا میٹا کے پاس مواد استعمال کرنے کی اجازت تھی۔
"میٹا اس معاملے کو کاپی رائٹ کے سوال سے نکال کر معاہدے کے دائرے میں لانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اگر میٹا کے پاس مواد استعمال کرنے کا درست لائسنس ہے تو سوال یہ نہیں کہ استعمال منصفانہ تھا یا نہیں، سوال یہ ہے کہ اجازت تھی یا نہیں۔"
بابک اخلاقی، وکیل
یہ نکتہ اس لیے اہم ہے کہ اے آئی تربیت میں کاپی رائٹ شدہ مواد کے استعمال پر امریکی عدالتوں میں متعدد مقدمات چل رہے ہیں۔ میٹا خود بھی کئی کاپی رائٹ مقدمات میں مدعا علیہ ہے۔ فیئر یوز کے اصول پر عدالتوں کے فیصلے ملے جلے آئے ہیں۔ اسی پس منظر میں ماہرین کا خیال ہے کہ میٹا نئی شرائط کے ذریعے اپنے لیے قانونی تحفظ کی ایک نئی دیوار کھڑی کرنا چاہتی ہے۔
میٹا ون اور پیسے والا پہلو
اسی دوران میٹا نے "میٹا ون" کے نام سے ایک ادا شدہ سبسکرپشن بھی متعارف کرائی ہے۔ اس کے تحت تخلیق کاروں سے پوسٹس میں لنکس شامل کرنے کی فیس لی جاتی ہے۔ یعنی ایک طرف پبلشر لنکس لگانے کے لیے میٹا کو ادائیگی کرے گا۔ دوسری طرف نئی شرائط کے تحت میٹا انہی لنکس کے ذریعے ویب سائٹس کا مواد مفت سکریپ کر سکے گی۔ پبلشرز کے لیے یہ دوہرا بوجھ ہے۔
پاکستان کے پبلشرز کے لیے تناظر
پاکستان کے بڑے اخباری ادارے اور ڈیجیٹل میڈیا ہاؤسز بھی میٹا پر کاروباری اکاؤنٹس چلاتے ہیں۔ وہ اپنی خبریں فیس بک اور انسٹاگرام پر پوسٹ کرتے ہیں، اشتہارات چلاتے ہیں اور قارئین کو ویب سائٹس پر لاتے ہیں۔ نئی شرائط کے بعد ان اداروں کا شائع شدہ مواد بھی میٹا کے اے آئی ماڈلز کی تربیت کا حصہ بن سکتا ہے۔ وہ بھی بغیر کسی الگ معاوضے کے۔
امریکی میڈیا گھروں کے برعکس پاکستانی پبلشرز کے پاس نہ تو مہنگے وکلاء کی ٹیمیں ہیں اور نہ ہی لائسنسنگ معاہدوں میں اتنی سودے بازی کی طاقت۔ ان کے لیے واحد عملی راستہ یہ ہے کہ وہ 30 اکتوبر سے پہلے اپنی قانونی ٹیم سے ان شرائط کا جائزہ کرائیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ فیس بک اور انسٹاگرام پاکستانی میڈیا کے لیے ٹریفک کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔ ان پلیٹ فارمز کو چھوڑنا اکثر اداروں کے لیے ممکن نہیں۔
پس منظر
دنیا بھر کے پبلشرز اب اے آئی کمپنیوں سے لائسنسنگ معاہدے کر رہے ہیں۔ لیکن میٹا کی نئی شرائط اس پورے ماڈل کو الٹ سکتی ہیں۔ اگر ایک بڑی ٹیکنالوجی کمپنی معاہدے کی ایک شق سے مفت مواد حاصل کر سکتی ہے تو دوسری کمپنیاں بھی یہی راستہ اپنائیں گی۔
آگے کیا ہوگا
نئی شرائط 30 اکتوبر 2026 کو نافذ ہوں گی۔ اس سے پہلے پبلشرز کو فیصلہ کرنا ہے۔ قانونی ماہرین کی رائے میں اگر کوئی پبلشر ان شرائط کو چیلنج کرنا چاہے تو اسے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑے گا۔ تب تک میٹا کے پاس ایک تحریری دستاویز ہوگی جس میں صارف نے خود مواد کے استعمال کی اجازت دی ہے۔
نیمین لیب کی رپورٹ نے اس معاملے کو عوامی بحث میں لایا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ میڈیا کے بڑے ادارے اس پر کیا ردعمل دیتے ہیں۔ کیا وہ میٹا کے ساتھ نئے لائسنسنگ معاہدوں کی میز پر بیٹھیں گے۔ یا وہ اپنے کاروباری اکاؤنٹس بند کرنے کی دھمکی دیں گے۔ جو بھی ہو، اے آئی کی تربیت اور صحافتی مواد کے تعلق کا یہ باب ابھی ختم نہیں ہوا۔




