USA TODAY کا OpenAI پر 250 ملین ڈالر کا وار — خبروں کی چوری پر AI جنگ کا نیا محاذ
نیویارک (نمائندہ خصوصی) — مصنوعی ذہانت کی دنیا میں کاپی رائٹ کی سب سے بڑی قانونی جنگ نے جمعرات کو ایک نیا اور فیصلہ کن موڑ لے لیا۔ امریکہ کے سب سے بڑے اخباری اداروں میں سے ایک، USA TODAY نے OpenAI کے خلاف مین ہٹن کی وفاقی عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ الزام سنگین ہے: OpenAI نے لاکھوں کاپی رائٹ شدہ خبروں کو بغیر اجازت اپنے AI ماڈلز کی تربیت کے لیے استعمال کیا، اور اب وہی صحافت چیٹ بوٹ کے جوابات میں اس طرح پیش کی جاتی ہے جو اصل خبروں کا متبادل بن چکی ہے۔
ادارے نے 250 ملین ڈالر سے زائد ہرجانے کا مطالبہ کیا ہے، ساتھ ہی عدالت سے یہ حکم بھی مانگا ہے کہ OpenAI کی مبینہ خلاف ورزی کو روکا جائے۔
مقدمے کی تفصیل
یہ مقدمہ 8 اکتوبر 2026 کو نیویارک کے جنوبی ضلع کی امریکی ڈسٹرکٹ کورٹ میں دائر ہوا۔ مدعی صرف USA TODAY نہیں — اس کے ساتھ اس کے ماتحت 19 اشاعتی ادارے بھی شامل ہیں، جن میں Indy Star، Arizona Republic اور Detroit Free Press جیسے معروف علاقائی اخبارات شامل ہیں۔
شکایت میں کہا گیا ہے کہ OpenAI نے ان اشاعتوں کے لاکھوں مضامین اور دیگر مواد کی نقل بنا کر انہیں اپنے لینگویج ماڈلز — جن پر مقبول چیٹ بوٹ ChatGPT چلتا ہے — کی تربیت میں استعمال کیا۔ عدالت میں دائر کردہ دستاویزات کے ساتھ کاپی رائٹ رجسٹریشنز کی فہرست اور GPT-5.6 کے جوابات کی مثالیں بھی بطور ثبوت پیش کی گئی ہیں۔
قانونی ماہرین کے مطابق جس قانونی ڈھانچے کا حوالہ شکایت میں دیا گیا ہے، اس کے تحت مدعی ہر جان بوجھ کر کی گئی خلاف ورزی پر ڈیڑھ لاکھ ڈالر تک، اور کاپی رائٹ کی انتظامی معلومات (مصنف کا نام، اشاعت کا نام، کاپی رائٹ نوٹس) ہٹانے پر فی خلاف ورزی 25 ہزار ڈالر تک وصول کر سکتا ہے۔ لاکھوں مضامین کے دعوے کے پیشِ نظر رقم کہیں بھی جا سکتی ہے۔
یہ مقدمہ اکیلا نہیں
USA TODAY کی شکایت درجنوں ایسے مقدمات کی ایک لمبی فہرست میں تازہ ترین اضافہ ہے جو کاپی رائٹ کے مالکان نے OpenAI، Anthropic اور Meta جیسی ٹیک کمپنیوں کے خلاف دائر کیے ہیں۔ انہی میں سے کئی مقدمات اسی عدالت میں یکجا ہو کر چل رہے ہیں — اور USA TODAY نے باقاعدہ درخواست دی ہے کہ اس کے مقدمے کو بھی اسی یکجا قانونی کارروائی سے منسلک سمجھا جائے۔
اسی ہفتے ایک اور محاذ بھی کھلا: Emmerich Newspapers کی قیادت میں مقامی امریکی اشاعتی اداروں نے Microsoft اور OpenAI پر مقدمہ کیا، جس میں الزام ہے کہ دونوں کمپنیوں نے دسیوں ہزار کاپی رائٹ شدہ مضامین "منظم اور جان بوجھ کر چرا کر" AI ماڈلز کی تربیت میں استعمال کیے — اور پبلشرز کو "ایک پیسہ بھی نہیں ملا"، حالانکہ کمپنیاں اربوں ڈالر کما رہی ہیں۔
سب سے مشہور مقدمہ البتہ نیویارک ٹائمز کا ہے، جو OpenAI اور Microsoft کے خلاف اسی عدالت میں چل رہا ہے۔ مصنفین کی ایک بڑی جماعت بھی اسی جنگ میں شامل ہے۔
OpenAI کا جواب: دفاع یا جوابی حملہ؟
ٹیک کمپنیوں کا روایتی موقف یہ رہا ہے کہ ان کے سسٹم کاپی رائٹ شدہ مواد کا "منصفانہ استعمال" (fair use) کرتے ہیں — یعنی اسے کسی نئی چیز میں بدل دیتے ہیں۔ مگر اس ہفتے OpenAI نے مصنفین کے مقدمے میں ایک جارحانہ قانونی چال چلی: عدالت سے کہا کہ شکایت کے کئی دعوے خارج کیے جائیں، جن میں بالواسطہ کاپی رائٹ خلاف ورزی، ڈیجیٹل ملینیم کاپی رائٹ ایکٹ کی خلاف ورزی، غیر منصفانہ مسابقت اور "ناانصافی پر مبنی افزودگی" جیسے الزامات شامل ہیں۔
OpenAI کے وکلاء کا استدلال ہے کہ مدعیوں کا یہ دعویٰ قانونی طور پر غلط ہے کہ ChatGPT کا ہر جواب لازمی طور پر خلاف ورزی پر مبنی "ماخوذ کام" ہے۔ تاہم کمپنی نے براہِ راست کاپی رائٹ خلاف ورزی کے دعوے کو خارج کرنے کی درخواست نہیں کی — اسے وہ بعد میں قانونی بنیادوں پر حل کرنا چاہتی ہے۔
USA TODAY کی تازہ شکایت پر OpenAI کے ترجمانوں نے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
اصل لڑائی کس بات پر ہے؟
اس قانونی جنگ کے مرکز میں ایک بنیادی سوال ہے: کیا AI ماڈل کی تربیت کے لیے انٹرنیٹ سے مواد اٹھانا "منصفانہ استعمال" ہے، یا یہ محض بڑے پیمانے کی چوری ہے؟
پبلشرز کا کہنا ہے کہ AI کمپنیاں ان کی محنت سے بنی صحافت کو مفت میں نگل کر اربوں ڈالر کے کاروبار چلا رہی ہیں، جبکہ اصل خبر بنانے والوں کو کچھ نہیں ملتا۔ ان کا یہ بھی الزام ہے کہ چیٹ بوٹ کے جوابات اصل خبروں کا متبادل بن جاتے ہیں — قاری خبر پڑھنے کے بجائے AI سے پوچھ لیتا ہے، جس سے اخبارات کی آمدنی مزید گھٹتی ہے۔
دوسری طرف ٹیک کمپنیوں کا استدلال ہے کہ ماڈل مواد کو "یاد" نہیں کرتا بلکہ اس سے زبان کے نمونے سیکھتا ہے، بالکل جیسے ایک طالب علم کتابیں پڑھ کر سیکھتا ہے۔
فیصلہ کیا ہوگا؟
قانونی ماہرین کے مطابق ان مقدمات کا نتیجہ پوری AI انڈسٹری کی بنیادیں ہلا سکتا ہے۔ اگر عدالتیں پبلشرز کے حق میں فیصلہ دیتی ہیں تو AI کمپنیوں کو یا تو اربوں ڈالر ہرجانے دینے پڑیں گے یا پھر تربیتی ڈیٹا کے لیے لائسنسنگ کے معاہدے کرنے ہوں گے — جو AI کی معیشت کو بنیادی طور پر بدل دے گا۔ اور اگر فیصلہ کمپنیوں کے حق میں آیا تو "منصفانہ استعمال" کا دائرہ اتنا وسیع ہو جائے گا کہ پبلشرز کے پاس بچنے کو کچھ نہیں رہے گا۔
ایک بات طے ہے: یہ جنگ ابھی شروع ہوئی ہے، اور اس کا فیصلہ آنے والے سالوں میں یہ طے کرے گا کہ ڈیجیٹل دور میں خبر کی ملکیت کس کی ہے۔
پاکستان کے لیے سبق
پاکستان میں بھی یہ بحث اتنی ہی زندہ ہے۔ یہاں کے اخبارات اور ڈیجیٹل میڈیا ہاؤسز کا مواد بھی AI ماڈلز کی تربیت میں استعمال ہوا ہے — بغیر اجازت، بغیر معاوضہ۔ فرق صرف یہ ہے کہ یہاں ابھی کسی بڑے ادارے نے عدالت کا دروازہ نہیں کھٹکھٹایا۔ USA TODAY کا مقدمہ دنیا بھر کے پبلشرز کے لیے ایک ٹیسٹ کیس ہے؛ اس کا نتیجہ پاکستانی میڈیا کے لیے بھی راستہ متعین کرے گا کہ وہ اپنے مواد کے حقوق کیسے مانگے۔



