اسلام آباد، 25 اکتوبر 2026 (ویب ڈیسک): اسٹیٹ بینک کے مطابق پاکستان کی آئی ٹی برآمدات گزشتہ مالی سال میں ریکارڈ 4.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں اور فری لانسرز نے بھی ریکارڈ 1.76 ارب ڈالر کمائے۔ مگر اس نمو کے نیچے ایک خاموش تبدیلی جاری ہے۔ جس کام کے ذریعے نئے لوگ اس صنعت میں داخل ہوتے تھے، وہ کام اب تیزی سے مشینوں کے سپرد ہو رہا ہے۔ اسٹینفرڈ یونیورسٹی سے لے کر اینتھروپک کے اپنے دفتر تک کے اعداد و شمار ایک ہی طرف اشارہ کرتے ہیں: جونیئر سطح پر داخلے کے دروازے تنگ ہو رہے ہیں، جب کہ تجربہ کار افراد کی مانگ تاحال برقرار ہے۔
دنیا میں تبدیلی کے واضح آثار
اسٹینفرڈ یونیورسٹی کے ڈیجیٹل اکانومی لیب کے محققین نے امریکہ کے لاکھوں ملازمین کے تنخواہ ریکارڈ کا جائزہ لیا۔ ان کی تحقیق کے مطابق 2022 کے آخر سے اب تک اے آئی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے شعبوں میں 22 سے 25 سال کے نوجوانوں کی ملازمتوں میں تقریباً 16 فیصد کمی آئی ہے۔ سافٹ ویئر ڈویلپرز میں یہ کمی تقریباً 20 فیصد تک جا پہنچی ہے۔ اس کے برعکس ان شعبوں میں 35 سے 49 سال کے تجربہ کار ملازمین کی تعداد 6 سے 9 فیصد بڑھ گئی۔ محققین کے مطابق یہ کمی چھانٹیوں سے نہیں آئی، بھرتیاں کم ہونے سے آئی ہے، یعنی کمپنیاں جونیئر افراد کو نکال نہیں رہیں، بس انھیں رکھنا بند کر رہی ہیں۔
بھرتیوں کے اعداد و شمار بھی اسی کی تصدیق کرتے ہیں۔ سگنل فائر (SignalFire) کی 2026 کی رپورٹ کے مطابق بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں نئے گریجویٹس اور انٹری لیول بھرتیاں 2019 کے مقابلے میں تقریباً 65 فیصد کم ہو گئی ہیں، جب کہ مجموعی انجینئرنگ بھرتیوں میں کمی صرف 11 فیصد ہے۔ یعنی کوڈ لکھنے والوں کی مانگ ختم نہیں ہوئی، مانگ ان کی ختم ہوئی ہے جنہیں ابھی تربیت درکار ہے۔
یہ تبدیلی اے آئی بنانے والی کمپنیوں کے اپنے دفاتر میں سب سے واضح ہے۔ اینتھروپک کی اپنی رپورٹ کے مطابق اگست 2026 تک اس کے اے آئی ایجنٹس ملازمین کے مقابلے میں چھ گنا زیادہ گھنٹے کام کر رہے تھے، اور تکنیکی شعبوں میں جونیئر بھرتیوں کا حصہ 27 فیصد سے گھٹ کر 9 فیصد رہ گیا۔ رپورٹ میں کمپنی نے خود لکھا:
ہم دیکھتے ہیں کہ کمپنی کے بڑھنے کے باوجود جونیئر تکنیکی عہدوں پر بھرتیوں کی رفتار سست پڑ گئی ہے۔ — اینتھروپک کی رپورٹ
تاہم ماہرین پوری کمی کو اے آئی سے جوڑنے سے خبردار بھی کرتے ہیں۔ ہارورڈ یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق اے آئی اپنانے والی کمپنیوں میں جونیئر ڈویلپرز کی ملازمتوں میں تقریباً 10 فیصد کمی آئی، اور اس کے ساتھ معاشی سست روی اور بلند شرح سود کا دباؤ بھی بھرتیوں کو کم کرتا رہا ہے۔
پاکستان: برآمدات عروج پر، ڈھانچہ بدل رہا ہے
پاکستان کے اعداد و شمار بظاہر حوصلہ افزا ہیں۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق مالی سال 2025-26 میں آئی سی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ ریکارڈ 4.6 ارب ڈالر رہیں۔ فری لانسرز کی کمائی 78 فیصد بڑھ کر 1.76 ارب ڈالر تک جا پہنچی، جس میں سے صرف آئی ٹی فری لانسرز نے تقریباً 1.16 ارب ڈالر کمائے۔ ملک میں رجسٹرڈ فری لانسرز کی تعداد 23 لاکھ 70 ہزار ہے، اور جزوی اوقات کے فری لانسرز ملا کر صنعتی تخمینوں کے مطابق یہ تعداد تقریباً 30 لاکھ بنتی ہے۔ انہی تخمینوں کے مطابق پاکستان دنیا کی چوتھی بڑی فری لانس مارکیٹ ہے۔ حکومت کا ہدف 2028-29 تک آئی ٹی برآمدات 10 ارب ڈالر تک لے جانا ہے۔
یہ نمو اصل ہے، مگر اس کا ڈھانچہ بدل رہا ہے۔ برآمدات میں جس کام کی مانگ بڑھ رہی ہے، اس میں مصنوعی ذہانت، سائبر سیکیورٹی، کلاؤڈ اور خودکار نظاموں کی خدمات آگے آ رہی ہیں، جب کہ سادہ اور دہرائے جانے والے کام کی قیمت اور مانگ دونوں گھٹ رہی ہیں۔
اصل خطرہ کس کے لیے ہے
اعداد و شمار سے واضح ہے کہ خطرہ سب کے لیے یکساں نہیں۔ سب سے پہلے نشانے پر وہ کام ہے جو قاعدے کے تحت دہرایا جاتا ہے: سادہ ویب سائٹس، معمول کے موبائل ایپ فیچرز، دہرایا جانے والا کوڈ اور بنیادی جانچ پڑتال۔ یہی وہ کام تھا جس سے جونیئر ڈویلپر اور نیا فری لانسر اپنے کیریئر کا آغاز کرتا تھا۔
دوسرا مسئلہ تربیت کا ہے۔ جونیئر عہدے صرف نوکریاں نہیں تھے، وہ سیکھنے کی سیڑھی تھے۔ اگر کمپنیاں نئے لوگ رکھنا ہی بند کر دیں تو چند برس بعد تجربہ کار افراد کی اگلی نسل کہاں سے آئے گی، یہ سوال اب امریکہ اور یورپ میں بھی اٹھ رہا ہے۔ کمپیوٹر سائنس کے موجودہ طلبہ کے لیے اس کا سادہ مطلب یہ ہے کہ صرف ڈگری اب کافی نہیں رہی۔ جو طالب علم پڑھائی کے ساتھ اے آئی ٹولز کا عملی استعمال، کسی ایک شعبے کی مہارت اور اصل پراجیکٹس کا تجربہ حاصل کر لے گا، اس کے لیے دروازہ بند نہیں ہوگا۔
تیسری تبدیلی ٹیموں کے حجم میں ہے۔ جب ایک تجربہ کار ڈویلپر اے آئی ایجنٹس کی مدد سے کئی گنا زیادہ کام کر سکتا ہے تو کمپنیوں کے لیے بڑی مستقل ٹیمیں رکھنے کی معاشی وجہ کمزور پڑ جاتی ہے۔ اینتھروپک کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق اس کے انجینئرز کی کوڈ پروڈکشن پانچ گنا سے بڑھ چکی ہے۔ ایسی صورت میں کمپنیوں کے لیے چھوٹی، تجربہ کار اور اے آئی سے لیس ٹیمیں رکھنا اور پراجیکٹ کی بنیاد پر ماہرین کی خدمات لینا زیادہ پرکشش ہو جاتا ہے۔
تصویر کا دوسرا رخ
اس ساری بحث میں ایک اہم نکتہ نظر انداز ہو جاتا ہے: سافٹ ویئر کی مجموعی مانگ ختم نہیں ہو رہی۔ اکتوبر 2026 میں انڈیڈ (Indeed) کے اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ کی نوکریوں کی فہرستوں میں تقریباً 15 فیصد اضافہ ہوا۔ اسٹینفرڈ کی تحقیق یہ بھی بتاتی ہے کہ جہاں کمپنیوں نے اے آئی کو ملازمین کا متبادل بنایا، وہاں بھرتیاں گھٹیں، اور جہاں اسے ملازمین کی مدد کے لیے استعمال کیا، وہاں ملازمتوں میں استحکام یا اضافہ دیکھا گیا۔
پاکستان کے فری لانسرز کی بڑھتی کمائی بھی اسی رخ کی گواہی دیتی ہے۔ اگر کام مکمل ختم ہو رہا ہوتا تو فری لانس آمدن 78 فیصد نہ بڑھتی۔ اصل تبدیلی یہ ہے کہ کمائی کا رخ ان افراد کی طرف مڑ رہا ہے جو اے آئی کو اپنا اوزار بنا چکے ہیں، اور پیچھے وہ رہ رہے ہیں جو اب بھی وہی کام پرانے طریقے سے کر رہے ہیں۔ نئے مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں پاکستانی فری لانسرز کی آمدن تقریباً 55 کروڑ ڈالر رہی، جو گزشتہ سال کی اسی مدت سے 46 فیصد زیادہ ہے۔




