ہانگ ژو، 22 اکتوبر 2026 (نیوز ڈیسک): امریکی پابندیوں کے صرف دو دن بعد چینی اے آئی لیب ڈیپ سیک نے تقریباً 15 ارب ڈالر کی فنڈنگ حاصل کر لی ہے۔ یہ چین کی تاریخ کے سب سے بڑے نجی فنڈنگ راؤنڈز میں سے ایک ہے۔ بلومبرگ نیوز کی رپورٹ کے مطابق کمپنی نے تقریباً 100 ارب یوآن کی رقم جمع کی۔ اس راؤنڈ میں الیکٹرک گاڑیوں کی بیٹریاں بنانے والی کمپنی CATL اور وی چیٹ کی مالک کمپنی ٹینسنٹ سب سے بڑے سرمایہ کاروں میں شامل ہیں۔ یہ خبر اس اعلان کے محض دو دن بعد سامنے آئی جب امریکی حکومت نے وفاقی شہری اداروں کو اپنے سسٹمز سے ڈیپ سیک کی اے آئی ٹیکنالوجی ہٹانے کا حکم دیا تھا۔ امریکی حکومت نے سیکیورٹی خدشات کو اس فیصلے کی بنیاد قرار دیا تھا۔
فنڈنگ کا ہدف دو بار بڑھانا پڑا
رپورٹ کے مطابق ڈیپ سیک نے سرمایہ کاروں سے بات چیت کے دوران اپنا ہدف کم از کم دو بار بڑھایا۔ پہلے 50 ارب یوآن، پھر 80 ارب یوآن، اور آخر میں رقم 100 ارب یوآن تک پہنچ گئی۔ رپورٹ میں شامل افراد کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ سرمایہ کاروں کی دلچسپی اس قدر زیادہ تھی کہ کمپنی کو بار بار ہدف بڑھانا پڑا۔
بلومبرگ کے مطابق ڈیپ سیک کے پاس کبھی امریکی فرنٹیئر لیبز جتنے مالی وسائل نہیں تھے، لیکن یہ تازہ فنڈنگ اس عدم توازن کو کم کرتی دکھائی دے رہی ہے۔
فنڈنگ کے بڑے سرمایہ کاروں میں CATL کے ساتھ ٹینسنٹ بھی ہے، جو وی چیٹ کی مالک کمپنی ہے۔ رپورٹ کے مطابق دونوں کمپنیاں اس بار بھی سب سے بڑے سرمایہ کاروں میں شامل ہیں۔
امریکی پابندی کے دو دن بعد
ٹیک کرنچ کے مطابق یہ خبر اس اعلان کے محض دو دن بعد سامنے آئی جب امریکہ نے وفاقی شہری اداروں کو حکم دیا کہ وہ اپنے سسٹمز سے ڈیپ سیک کی اے آئی ٹیکنالوجی ہٹا دیں۔ امریکی حکومت نے سیکیورٹی خدشات کو اس فیصلے کی بنیاد قرار دیا تھا۔
چینی سرمایہ کاروں نے ڈیپ سیک پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ اس قدر بڑی رقم کی فراہمی اس بات کا اشارہ ہے کہ وہ امریکی پابندیوں کو کمپنی کے مستقبل کے لیے کوئی بڑا خطرہ نہیں سمجھ رہے۔
واضح رہے کہ ڈیپ سیک نے اس فنڈنگ کی رقم کی تصدیق نہیں کی اور نہ ہی کمپنی نے اب تک اس پر کوئی تبصرہ کیا ہے۔ رپورٹ میں جن افراد کا حوالہ دیا گیا ہے، ان کے متعلق تفصیلات ابھی منظر عام پر نہیں آئیں۔ CATL نے تبصرے سے انکار کیا، جبکہ ٹینسنٹ کی جانب سے بھی اس بارے میں کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔ اس کے باوجود سرمایہ کاروں کی بھرپور دلچسپی نے اس راؤنڈ کو چینی اے آئی تاریخ کی اہم ترین فنڈنگز میں شامل کر دیا ہے۔
چار ماہ میں دوسرا بڑا راؤنڈ
یہ محض چار ماہ میں ڈیپ سیک کا دوسرا بڑا فنڈنگ راؤنڈ ہے۔ جون میں کمپنی نے 50 ارب ڈالر کی ویلیوایشن پر 7 ارب ڈالر سے زائد کی فنڈنگ حاصل کی تھی۔ چینی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق بانی لیانگ وین فینگ نے خود تقریباً 20 ارب یوآن کی رقم لگائی، جو سب سے بڑا انفرادی حصہ تھا۔ اسی راؤنڈ میں ٹینسنٹ نے تقریباً 10 ارب یوآن اور CATL نے تقریباً 5 ارب یوآن کی سرمایہ کاری کی تھی۔
اس کے بعد جولائی میں ڈیپ سیک نے تقریباً 71 ارب ڈالر کی ویلیوایشن پر مزید 1.5 ارب ڈالر کی فنڈنگ کی کوشش کی۔ رپورٹوں کے مطابق کمپنی اگلے سال چین میں ابتدائی عوامی پیشکش (آئی پی او) کی منصوبہ بندی بھی کر رہی ہے، جو حالیہ برسوں میں چین کی سب سے متوقع اسٹاک مارکیٹ لسٹنگز میں سے ایک ہوگی۔ رواں ماہ کے اوائل میں CNBC کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ڈیپ سیک تقریباً 500 ارب یوآن (75 ارب ڈالر) کی ویلیوایشن چاہتی ہے۔ گاڑیاں بنانے والی کمپنی جیلی بھی اس فنڈنگ میں رقم لگا چکی ہے۔
انفراسٹرکچر پر ریکارڈ خرچ
بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق ڈیپ سیک اس رقم سے اے آئی انفراسٹرکچر پر خرچ بڑھائے گی اور اپنے اوپن ماڈلز کو ملکی اور بین الاقوامی مارکیٹوں کے لیے پھیلائے گی۔ رپورٹوں کے مطابق کمپنی چین کے اندر کئی بڑے تربیتی مراکز بنانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے، جو کھربوں پیرامیٹرز والے ماڈلز کی تربیت میں مدد دے سکیں گے۔ یہ توسیع چینی حریفوں کے درمیان مقابلے کو مزید تیز کر سکتی ہے۔
2025 میں ڈیپ سیک نے یہ ثابت کر کے عالمی منڈیوں میں کھلبلی مچا دی تھی کہ وہ سلیکون ویلی کی بڑی لیبز کے مقابلے میں ماڈل انتہائی کم لاگت پر بنا سکتی ہے۔ اس واقعے سے عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں تقریباً ایک کھرب ڈالر کی گراوٹ آئی تھی۔ اس کے باوجود ڈیپ سیک کے پاس امریکی فرنٹیئر لیبز جتنے مالی وسائل کبھی نہیں رہے۔ تازہ فنڈنگ اس خلا کو کچھ حد تک پُر کرتی ہے۔ اس کے باوجود اوپن اے آئی اور اینتھروپک جیسی کمپنیاں اب بھی 100 ارب ڈالر سے زائد کی فنڈنگ جمع کر چکی ہیں، یعنی ڈیپ سیک کی مالی طاقت اب بھی ان سے بہت کم ہے۔
چین کی اے آئی دوڑ میں تیزی
ڈیپ سیک کی یہ فنڈنگ چینی اے آئی شعبے میں سرمایہ کاری کی تیزی کا تازہ ترین مظہر ہے۔ مئی میں کیمی کے ڈویلپر مون شاٹ اے آئی نے 20 ارب ڈالر کی ویلیوایشن پر 2 ارب ڈالر حاصل کیے تھے۔ رواں ماہ کے اوائل میں مینس اے آئی نے 50 کروڑ ڈالر سے زائد کی فنڈنگ حاصل کی۔ ژیپو اے آئی اور منی میکس نے جنوری میں ہانگ کانگ میں اسٹاک لسٹنگ حاصل کی تھی۔ دونوں کی مارکیٹ قیمت بالترتیب تقریباً 29 ارب ڈالر اور 7.2 ارب ڈالر ہے۔
پاکستان کے لیے کیا معنی
ڈیپ سیک کے اوپن ماڈلز اور سستے API پاکستان کے سافٹ ویئر ڈویلپرز اور اسٹارٹ اپس میں بھی استعمال ہوتے ہیں۔ اگر کمپنی اس فنڈنگ سے مزید طاقتور اور سستے اوپن ماڈل پیش کرتی ہے تو پاکستانی ڈویلپرز کو بھی اعلیٰ معیار کے ماڈلز تک سستے رسائی مل سکتی ہے۔ یہ رجحان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عالمی اے آئی دوڑ میں اب صرف امریکی کمپنیاں ہی نہیں، بلکہ چینی لیبز بھی برابر کی حریف بنتی جا رہی ہیں۔
آگے کیا ہوگا
اب سب کی نظریں ڈیپ سیک کے اگلے قدم پر ہیں۔ رپورٹوں کے مطابق کمپنی اس فنڈنگ کے بعد چین میں آئی پی او کی تیاری کر رہی ہے، جو چینی مارکیٹ کے لیے ایک اہم سنگ میل ہوگا۔ دوسری جانب امریکی پابندیوں کا مستقبل بھی غیر واضح ہے۔ اگر ڈیپ سیک اپنی نئی فنڈنگ سے توقعات کے مطابق بڑے ماڈل تیار کر لیتی ہے تو عالمی اے آئی دوڑ کا توازن مزید بدل سکتا ہے۔ سرمایہ کاروں کے لیے اہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ رقم ڈیپ سیک کو ماڈل کی کارکردگی میں اوپن اے آئی اور اینتھروپک کے برابر لے آئے گی۔ ماضی میں ڈیپ سیک نے کم وسائل کے باوجود اعلیٰ معیار کے ماڈل پیش کر کے سب کو حیران کیا تھا۔ اب اس کے پاس انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کے لیے بھی خاطر خواہ رقم موجود ہے۔ اس دوڑ کا رخ یہ طے کرے گا کہ آنے والے برسوں میں اے آئی کی ترقی کی رفتار کس خطے کی جانب زیادہ رہے گی۔
آنے والے مہینے بتائیں گے کہ یہ تاریخی فنڈنگ ڈیپ سیک کو واقعی اوپن اے آئی اور اینتھروپک کے برابر کھڑا کر پاتی ہے یا نہیں۔




