سان فرانسسکو، 17 اکتوبر 2026 (نیوز ڈیسک): مصنوعی ذہانت کی کمپنی اینتھروپک نے جمعے کو انکشاف کیا کہ اس کے AI ماڈل کلاڈ نے ایک ایسا خفیہ کاری کا معمہ حل کر دیا ہے جو پچھلے 25 سال سے دنیا کے بہترین ماہرین کو پریشان کر رہا تھا۔ یہ کام اس نے محض 30 منٹ میں مکمل کیا۔
یہ معمہ انٹرنیٹ کی حفاظت کی بنیاد رکھنے والی ریاضی سے متعلق تھا۔ اینتھروپک کے مطابق کلاڈ نے ان پانچ ابتدائی نمبروں کی اصل ڈھونڈ نکالی جو امریکہ کی خفیہ ایجنسی این ایس اے نے 1990 کی دہائی کے آخر میں امریکی حکومت کو دیے تھے۔ انہی نمبروں کی بنیاد پر وہ الیپٹک منحنیات تیار ہوئیں جو آج دنیا بھر میں ڈیجیٹل دستخطوں اور محفوظ مواصلات کے سرکاری معیار کا حصہ ہیں۔
25 سال پرانا معمہ کیا تھا
کہانی 2000 سے شروع ہوتی ہے۔ امریکہ کے معیاری ادارے NIST نے اس سال ڈیجیٹل دستخطوں کے معیار FIPS 186-2 میں کئی الیپٹک منحنیات شامل کیں۔ ان منحنیات کی تیاری کے لیے جو ابتدائی نمبر استعمال ہوئے وہ این ایس اے نے فراہم کیے تھے۔ ان نمبروں کو "سیڈز" کہا جاتا ہے۔
مسئلہ یہ تھا کہ این ایس اے نے کبھی یہ نہیں بتایا کہ یہ نمبر کہاں سے آئے۔ ان نمبروں کی اصل واضح نہ ہونے سے ایک خطرناک شبہ پیدا ہوا۔ ماہرین کو ڈر تھا کہ شاید ایجنسی نے ان نمبروں میں دانستہ کوئی خفیہ راستہ چھپا رکھا ہو۔ اس راستے سے وہ محفوظ مواصلات کو خفیہ طور پر پڑھ سکتی تھی۔
یہ شبہ 2013 کے بعد مزید گہرا ہو گیا۔ اس سال ایڈورڈ سنوڈن کے انکشافات سے معلوم ہوا کہ این ایس اے نے خفیہ کاری کے ایک اور معیار کو کمزور کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس کے بعد سے ماہرین ان نمبروں کی اصل معلوم کرنے کی دوڑ میں لگے رہے۔
مرحوم این ایس اے کے ریاضی دان جیری سولیناس نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ نمبر شاید ان کے کسی مزاحیہ جملے کے خفیہ کوڈ سے بنے ہوں۔ لیکن یہ نظریہ کبھی ثابت نہ ہوا۔ 2023 میں ماہر خفیہ کاری فلیپو وال سورڈا نے ان نمبروں کی اصل بتانے والے کے لیے 36,864 ڈالر کا انعام رکھا تھا۔ یہ انعام تین سال تک کسی نے نہیں جیتا۔
کلاڈ نے معمہ کیسے حل کیا
اینتھروپک کے مطابق اس کے ایک ملازم نے کلاڈ کے تحقیقی ورژن کو یہ معمہ سونپا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اسے کوئی پہلے سے بنا ہوا نظریہ نہیں دیا گیا۔ کلاڈ کو خود یہ معلوم کرنا تھا کہ یہ نمبر کہاں سے آئے ہیں۔
کلاڈ نے 1990 کی دہائی میں سی زبان کی لائبریریوں میں دستیاب پرانے تصادفی نمبر پیدا کرنے والے پروگراموں کا جائزہ لیا۔ اس نے شائع شدہ نمبروں میں چھپے ہوئے نمونوں کی تلاش کی۔ اس مقصد کے لیے اس نے 34 مختلف پروگراموں اور ان کے نتائج کے حصوں کے امتزاج کو آزمایا۔
صرف 30 منٹ میں اسے جواب مل گیا۔ یہ نمبر ایک پرانے پروگرام lrand48 سے پیدا ہوئے تھے۔ یہ پروگرام کمپیوٹر کے وقت کے نشانات کو بنیاد بنا کر بے ترتیب دکھنے والے نمبر تیار کرتا تھا۔ کلاڈ نے ثابت کیا کہ یہ نمبر 1997 اور 1998 کے وقت کے نشانات سے پیدا ہوئے تھے۔ یعنی یہ نمبر کسی خفیہ منصوبے کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک عام پروگرام کی پیداوار تھے۔
کلاڈ کی گرفت کی سب سے بڑی دلیل ایک تکنیکی تفصیل تھی۔ lrand48 صرف 31 بٹ کے نتائج دیتا ہے۔ کلاڈ نے دیکھا کہ کچھ نمبروں کے اوپری حصے منظم طریقے سے صفر تھے۔ یہ نمونہ بالکل اسی سے ملتا تھا جو lrand48 پیدا کرتا ہے۔ اینتھروپک کے مطابق سب سے مشہور منحنی P-256 کا نمبر اس پروگرام کے آزمائے گئے 1,842 ویں امیدوار سے ملا تھا۔
اہم الیپٹک منحنیات کے نمبروں سے فی کال کم معلومات ملتی تھیں۔ ان کے لیے کلاڈ نے ایک جدید ریاضیاتی طریقہ استعمال کیا جو محدود معلومات سے خفیہ اقدار نکالنے میں مدد دیتا ہے۔ اس طرح پانچوں منحنیات، یعنی P-192، P-224، P-256، P-384 اور P-521 کے نمبروں کی ایک ہی طریقے سے پیدائش کی تصدیق ہوئی۔ اینتھروپک نے یہ بھی بتایا کہ ANSI X9.62 معیار کے پانچ نمونہ نمبر بھی اسی طریقے سے ملے۔
خفیہ راستے کا شبہ اب کمزور
اینتھروپک نے کہا کہ اس دریافت سے اس کا اعتماد بڑھتا ہے۔ کمپنی کے مطابق ان منحنیات کا انتخاب کسی خفیہ راستے یا دانستہ کمزوری کے بغیر کیا گیا تھا۔
اینتھروپک نے واضح کیا کہ یہ کوئی خفیہ کاری پر حملہ نہیں تھا۔ یہ محض ان نمبروں کی تاریخی اصل کی دوبارہ تعمیر تھی۔ کمپنی کے مطابق اس دریافت کے بعد موجودہ حفاظتی نظاموں میں کوئی تبدیلی ضروری نہیں۔
اب کوئی بھی شخص کلاڈ کے بتائے ہوئے طریقے سے ان نتائج کو خود دہرا سکتا ہے۔ پچیس سال سے جو شفافیت غائب تھی وہ اب بحال ہو گئی ہے۔
لیکن کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی۔ اب بھی کچھ سوالات باقی ہیں۔ ابھی تک واضح نہیں کہ پروگرام نے نتائج کی ترتیب میں کچھ قابل استعمال امیدواروں کو کیوں چھوڑ دیا۔ یہ بھی معلوم نہیں کہ منحنیات کے دوسرے حصے کیسے منتخب ہوئے۔ اینتھروپک نے کہا کہ یہ دریافت دانستہ کمزوری کے سب سے خطرناک نظریے کو کمزور کرتی ہے، لیکن اسے مکمل طور پر ختم نہیں کرتی۔
اینتھروپک نے اعلان کیا کہ وہ 36,864 ڈالر کا انعام انٹرنیٹ سیکیورٹی ریسرچ گروپ نامی خیراتی ادارے کو دے گی۔
بٹ کوائن اور کرپٹو کرنسی پر اثر
اس دریافت کا بٹ کوائن پر کوئی براہ راست اثر نہیں۔ بٹ کوائن ایک مختلف منحنی استعمال کرتا ہے جسے secp256k1 کہتے ہیں۔ اس کے نمبر سادہ اور سب کے لیے سمجھنے کے قابل ہیں۔ اس میں کوئی مشکوک انتخاب چھپانے کی گنجائش نہیں۔
پھر بھی اس خبر نے کرپٹو دنیا میں بحث چھیڑ دی ہے۔ بٹ کوائن کے بانی ساتوشی ناکاموٹو نے کبھی یہ نہیں بتایا تھا کہ انہوں نے یہ منحنی کیوں چنی۔ لیجر کمپنی کے شریک بانی نکولس باکا نے اس دریافت پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ ساتوشی کے لیے "چیک میٹ" ہے۔ ان کے مطابق صنعت نے این ایس اے کی منحنیات سے دور رہ کر درست فیصلہ کیا تھا۔
پاکستان کے لیے کیا معنی
یہ خبر پاکستان کے لیے بھی اہم ہے۔ جن الیپٹک منحنیات کا معمہ حل ہوا وہ انٹرنیٹ پر محفوظ رابطوں کی بنیاد ہیں۔ پاکستان میں بینکوں کی موبائل ایپس، آن لائن ادائیگیوں اور سرکاری ڈیجیٹل نظاموں میں یہی معیار استعمال ہوتے ہیں۔ اس دریافت کے بعد صارفین اور اداروں کو یہ اطمینان ملا ہے کہ ان معیاروں میں این ایس اے کا کوئی خفیہ راستہ چھپا ہونے کا امکان اب پہلے سے کہیں کم ہے۔
دوسری اہم بات یہ ہے کہ یہ دریافت خود AI کی تحقیقی صلاحیت کا ثبوت ہے۔ پاکستان کی یونیورسٹیوں میں خفیہ کاری پر کام کرنے والے طلبہ اور محققین اب کلاڈ کے بتائے ہوئے طریقے کو خود آزما سکتے ہیں۔ یہ ایک ایسا تحقیقی میدان ہے جس میں AI اب انسانوں کے ساتھ مل کر پرانے راز کھول رہا ہے۔
25 سال تک ایک معمہ نے دنیا کے ماہرین کو الجھائے رکھا۔ کلاڈ نے اسے آدھے گھنٹے میں حل کر دیا۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ AI اب صرف جواب دینے والی مشین نہیں رہا۔ یہ سائنسی تحقیق میں ایک فعال ساتھی بنتا جا رہا ہے۔ لیکن اینتھروپک کی اپنی تنبیہ بھی یاد رکھنے کے قابل ہے۔ دریافت اہم ہے، مگر تمام سوالات کے جواب ابھی باقی ہیں۔




