لندن، 22 اکتوبر 2026 (ویب ڈیسک): گوگل ڈیپ مائنڈ کے شریک بانی اور نوبل انعام یافتہ سائنسدان ڈیمس حسیباس نے دعویٰ کیا ہے کہ انسانی ذہن جیسی مکمل صلاحیت رکھنے والی مصنوعی ذہانت اب صرف دو سے تین سال کی دوری پر ہے۔ یہ دعویٰ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے ایک پروفائل میں کیا گیا، جسے جریدے نے اپنے 2026 کے "انوویٹر ان ٹیک" اعزاز کے موقع پر شائع کیا۔ حسیباس نے کہا ہے کہ ان کا اندازہ مسلسل قریب ہوتا جا رہا ہے۔
نئی ٹائم لائن اور پرانے اندازے
یہ نیا اندازہ ان کے اسی سال کے آغاز میں دیے گئے اندازے سے خاصا قریب ہے۔ حسیباس نے رواں سال کے شروع میں مصنوعی عمومی ذہانت کی آمد کو تین سے پانچ سال دور بتایا تھا۔ پروفائل میں انہوں نے کہا کہ یہ جلد ہونے والا ہے، اور ان کا اندازہ مسلسل موجودہ وقت کے قریب ہوتا جا رہا ہے۔
ان کا اندازہ سال 2026 کے دوران مرحلہ وار قریب ہوا ہے۔ جنوری میں ڈیووس کے عالمی اقتصادی فورم میں انہوں نے اسے پانچ سے دس سال کی دوری پر بتایا تھا۔ اس کے ساتھ یہ بھی کہا تھا کہ دہائی کے اختتام تک اس کے حصول کا امکان تقریباً پچاس فیصد ہے۔ فروری میں نئی دہلی میں منعقدہ اے آئی امپیکٹ سمٹ میں انہوں نے یہ مدت پانچ سال کے اندر قرار دی۔ مئی میں گوگل کی ڈویلپر کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ یہ بس چند سال کی دوری پر ہے۔ انہوں نے اس وقت کے اے آئی ایجنٹس کو مستقبل کی تیاری بھی قرار دیا تھا۔ اب اکتوبر میں انہوں نے یہ مدت دو سے تین سال کر دی ہے۔
اے جی آئی یعنی کیا؟
اے جی آئی یعنی مصنوعی عمومی ذہانت سے حسیباس کی مراد ایک ایسا نظام ہے جو انسانی دماغ کے ذہنی پھیلاؤ کی پوری حد سے میل کھائے۔ ان کے الفاظ میں یہ صرف ہماری کچھ صلاحیتوں کا نہیں بلکہ تمام صلاحیتوں کا نظام ہوگا۔
حسیباس اس کی آزمائش کے لیے ایک معیار بھی بتاتے ہیں جسے وہ آئن اسٹائن ٹیسٹ کہتے ہیں۔ اس کے تحت ایسا نظام بنایا جائے جسے صرف 1901 سے پہلے کے انسانی علم پر تربیت دی گئی ہو۔ پھر دیکھا جائے کہ کیا یہ نظام 1905 میں آئن اسٹائن کے مشہور مقالات خود سے دوبارہ تخلیق کر سکتا ہے۔ 1905 کے ان چار مقالات میں فوٹو الیکٹرک اثر، براؤنین حرکت، خصوصی نظریہ اضافیت اور مادے اور توانائی کے تعلق کا اصول شامل تھے۔ حسیباس کے نزدیک یہی وہ معیار ہے جس پر انسانی سطح کی ذہانت پرکھنا چاہیے۔
"یہ جلد ہونے والا ہے۔ میرا اندازہ مسلسل قریب ہوتا جا رہا ہے۔"
سائنس پہلے، باقی سب بعد میں
حسیباس بچپن سے ہی ایسا نظام بنانا چاہتے تھے جو سائنسی سوالات کا جواب دے سکے۔ انہوں نے اسی مقصد کو اپنی لیب کا مشن بنایا۔
"پہلا مرحلہ، ذہانت کو حل کرنا۔ دوسرا مرحلہ، باقی سب کچھ حل کرنا۔"
وہ کہتے ہیں کہ اے جی آئی ملتے ہی وہ اسے سب سے پہلے طبیعیات کے اہم ترین سوالات کی طرف موڑنا چاہیں گے۔ ان کے الفاظ میں وہ اپنے اے جی آئی نظاموں اور چند عظیم انسانی سائنسدانوں کے ساتھ بیٹھ کر طبیعیات کی اگلی سطح کو سمجھنا چاہیں گے۔
کینسر کے علاج کے سوال پر بھی انہوں نے امید کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق انہیں فی الحال کوئی ایسی رکاوٹ نظر نہیں آتی جسے عبور نہ کیا جا سکتا ہو۔ مشکل کام ضرور ہیں، مگر ناممکن کام کوئی نہیں۔ یہ سوچ اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ وہ اے جی آئی کو سب سے زیادہ سائنس اور صحت کی خدمت میں لگانا چاہتے ہیں۔ اسی مقصد کی خاطر ان کی منشیات کی دریافت پر کام کرنے والی کمپنی آئسومورفک لیبز بھی توجہ کا مرکز ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ کمپنی دو ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کے لیے بات چیت کر رہی ہے، جس سے اس کی قیمت کا اندازہ چالیس سے پچاس ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔
جیت کا مطلب کیا ہے؟
حسیباس نے اس پروفائل میں اے جی آئی کی رفتار سے زیادہ اس کی حفاظت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جیتنے کا مطلب یہ ہے کہ انسانیت اے جی آئی کو اس دنیا میں سب کی بھلائی کے لیے محفوظ اور سلامتی کے ساتھ لانے میں مدد کرے۔
"جیت کا مطلب ہے کہ ہم اے جی آئی کو اس دنیا میں سب کی بھلائی کے لیے محفوظ اور سلامتی کے ساتھ لانے میں انسانیت کی مدد کریں۔"
ان کے مطابق خطرات بہت گہرے ہیں۔ مگر وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ صرف تباہی بھی نہیں اور صرف خوشی بھی نہیں۔ وہ خود کو خطرات کے حل نکالنے کے کام میں مصروف قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کوئی مسئلہ ہے تو اسے انسانی ذہانت کے اجتماعی استعمال سے کیسے حل کیا جائے۔
حسیباس نے حالیہ ہفتوں میں ایک تجویز بھی پیش کی ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ماڈلز کے اجرا سے پہلے ان کی جانچ کے لیے صنعت کی مالی اعانت سے ایک نگرانی بورڈ قائم کیا جائے جو حکومت کے ماتحت کام کرے۔ تاہم وہ قوانین کے بارے میں محتاط بھی ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ غلط ضابطہ کاری، ضابطے کے نہ ہونے سے بھی بدتر ہے۔ ان کے الفاظ میں ایسی چیزوں پر ضابطے بنانے کی کوشش کرنا غلط ہوگا جنہیں ہم ابھی مکمل طور پر سمجھے ہی نہیں۔
ایک خبر رساں ادارے کے مطابق حسیباس نے گزشتہ ہفتے ڈبلن میں ایک بین الاقوامی اے آئی اجلاس میں یہ انتباہ بھی دیا تھا۔ ان کے مطابق اگر حکومتیں اور کمپنیاں حفاظتی معیارات نہ بڑھائیں تو اگلے تقریباً دو سال میں صنعت کو کسی سنگین حفاظتی واقعے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اثرات کتنے بڑے ہوں گے؟
حسیباس نے اے جی آئی کے اثرات کا موازنہ صنعتی انقلاب سے کیا ہے۔ ان کے مطابق اس کے اثرات صنعتی انقلاب سے دس گنا بڑے ہوں گے اور دس گنا رفتار سے ظاہر ہوں گے۔ یہ موازنہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ اس تبدیلی کو تاریخ کی سب سے بڑی تبدیلیوں میں سے ایک سمجھتے ہیں۔
تاہم سائنسدانوں کی ایک بڑی تعداد ان کے اندازوں سے متفق نہیں۔ کئی ماہرین کے مطابق انسانی دماغ کے مکمل پھیلاؤ کی نقل ابھی دہائیوں کی دوری پر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ ماڈل زبان اور استدلال میں تو بہت آگے نکل گئے ہیں۔ مگر ان میں انسانی سمجھ، جذباتی بیداری اور جسمانی دنیا سے براہ راست تجربے کی کمی ہے۔ ناقدین یہ بھی کہتے ہیں کہ ایسے اندازے اکثر لیبوں کی توجہ اور سرمایہ کاری کے لیے بھی استعمال ہوتے ہیں۔
اگست 2026 میں گوگل ڈیپ مائنڈ کی قیادت میں بڑی تبدیلی ہوئی۔ حسیباس روزمرہ سربراہی سے ہٹ کر کمپنی کے چیئرمین بن گئے ہیں۔ وہ گوگل کی مادر کمپنی الفابیٹ کے چیف سائنسدان بھی ہیں۔
پاکستان کے لیے اس خبر کا پیغام
یہ خبر پاکستان کے لیے بھی اہم ہے۔ اگر انسانی سطح کی مصنوعی ذہانت واقعی دو سے تین سال کی دوری پر ہے تو اس کا مطلب ہے کہ سافٹ ویئر، ادویات اور تعلیم سمیت ہر شعبہ ایک بڑی تبدیلی کی دہلیز پر کھڑا ہے۔ پاکستان کی آئی ٹی صنعت پہلے ہی برآمدات کے میدان میں آگے بڑھ رہی ہے۔ مگر مصنوعی ذہانت کی بنیادی تحقیق میں ہمارا حصہ ابھی بہت کم ہے۔
اس خبر کا اصل سبق یہ ہے کہ حکومتوں، یونیورسٹیوں اور نجی اداروں کو ابھی سے منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔ نصاب کو بدلنا، تحقیقی لیبوں کو مضبوط کرنا اور نوجوان سائنسدانوں کو مواقع دینا وہ کام ہیں جو آج شروع کیے جا سکتے ہیں۔ اے جی آئی کی آمد کو کوئی بھی ملک تاخیر سے سمجھنے کی غلطی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
وال اسٹریٹ جرنل میگزین نے ڈیمس حسیباس کو 2026 کے ٹیک شعبے کا سب سے نمایاں جدت کار قرار دیا ہے۔ بقیہ شخصیات کا اعلان آنے والے ہفتوں میں ہوگا۔




