ماؤنٹین ویو، 7 نومبر 2026 (ویب ڈیسک): گوگل (Google) کی تحقیق نے عام اسمارٹ واچ سے ہائی بلڈ پریشر کی خاموش بیماری پکڑنے کی راہ دکھا دی ہے۔ کمپنی کے نئے مصنوعی ذہانت کے نظام نے بغیر کسی کف کے، صرف گھڑی میں موجود دو سینسرز کی مدد سے ہائی بلڈ پریشر کی نشاندہی کر لی ہے۔ اس تحقیق کے نتائج سائنسی جریدے نیچر (Nature) میں شائع ہوئے ہیں۔
ہائی بلڈ پریشر کو اکثر خاموش قاتل کہا جاتا ہے، کیوں کہ اس کی عام طور پر کوئی واضح علامت نہیں ہوتی۔ دنیا بھر میں ایک ارب سے زائد افراد اس مرض کا شکار ہیں، اور ان میں سے آدھے سے زائد کو اپنی بیماری کا علم ہی نہیں ہوتا۔ یہ خلا 18 سے 44 برس کے نوجوانوں میں سب سے زیادہ ہے، جہاں دیر سے تشخیص دل کی ناکامی اور فالج جیسے سنگین نتائج کا خطرہ بڑھا دیتی ہے۔
اب تک بلڈ پریشر ناپنے کا معیاری طریقہ بازو پر کف باندھنا رہا ہے۔ گھڑیوں میں بغیر کف کے بلڈ پریشر ناپنے والی سہولتیں بھی موجود ہیں، مگر انھیں باقاعدگی سے کف سے کیلیبریٹ کرنا پڑتا ہے، اس لیے وہ صرف نسبتاً تبدیلیاں بتا سکتی ہیں، بیماری کی قطعی نشاندہی نہیں کر سکتیں۔ گوگل کا نیا نظام اسی رکاوٹ کو دور کرتا ہے۔
اس نظام کی خاص بات یہ بھی ہے کہ یہ بلڈ پریشر کے اصل اعداد، یعنی اوپر اور نیچے والا نمبر، ناپنے کی کوشش نہیں کرتا۔ گوگل کے مطابق، ایک لمحے کا بلڈ پریشر ماحول کے شور سے بہت متاثر ہوتا ہے، اس لیے نظام نے سوال ہی بدل دیا ہے۔ اس کے بجائے یہ کئی روز کے جسمانی اشاروں کو ملا کر یہ دیکھتا ہے کہ آیا متعلقہ شخص مستقل طور پر ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہے یا نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسے کسی کف کی ضرورت نہیں پڑتی۔
یہ نظام کیسے کام کرتا ہے
نظام دو ایسے سینسرز پر انحصار کرتا ہے جو جدید اسمارٹ واچز میں پہلے سے موجود ہوتے ہیں۔ پہلا نبض ناپنے والا آپٹیکل سینسر (Photoplethysmography) ہے، جو کلائی میں خون کی مقدار میں تبدیلی کو روشنی کے ذریعے ناپتا ہے۔ دوسرا حرکت ناپنے والا سینسر (Accelerometer) ہے، جو دل کی دھڑکن سے پیدا ہونے والی جسمانی لرزش (Ballistocardiogram) کو پکڑتا ہے۔
تربیت دو مرحلوں میں ہوئی۔ پہلے مرحلے میں ایک جہتی ڈیپ کنوولوشنل نیورل نیٹ ورک کو 2,109 رضاکاروں کے تقریباً چار لاکھ 92 ہزار گھنٹے کے سینسر ڈیٹا پر تربیت دی گئی۔ نظام نے 15 سیکنڈ کے سگمنٹ موازنہ کر کے ہر شخص کی نبض اور دل کی دھڑکن کے مخصوص نمونے خود سیکھے، بغیر اس کے کہ اسے کسی کی تشخیص بتائی گئی ہو۔ دوسرے مرحلے میں کئی روز کے نمونوں کا اوسط نکالا گیا، تاکہ اچانک حرکت یا درجہ حرارت کی تبدیلی جیسا عارضی شور ختم ہو جائے۔ اس اوسط کے ساتھ شخص کا قد بھی شامل کیا گیا، کیوں کہ قد شریان کی لمبائی کا قابلِ اعتماد اشارہ دیتا ہے۔ آخر میں ایک لاجسٹک ریگریشن ماڈل نے ہائی بلڈ پریشر کا امکان بتایا۔
آزمائش میں کیا نتائج ملے
نظام کی آزمائش امریکا کے پانچ مراکز میں 196 افراد پر کی گئی، جن میں سے کوئی بھی دل کی بیماری کا شکار نہیں تھا اور نہ ہی بلڈ پریشر کی دوا لیتا تھا۔ موازنے کے لیے چوبیس گھنٹے کی ایمبولیٹری بلڈ پریشر نگرانی (Ambulatory Blood Pressure Monitoring) کو معیار بنایا گیا، جسے طبی ماہرین حتمی معیار مانتے ہیں۔
ابتدائی اسکریننگ میں گھڑی نے ہائی بلڈ پریشر والے 65.8 فیصد افراد کی درست نشاندہی کی، جب کہ دفتر میں ناپنے والے روایتی طریقے نے صرف 55.3 فیصد کیسز پکڑے۔ گھڑی کی خصوصیت 90.0 فیصد اور مثبت پیش گوئی کی قدر 80.6 فیصد رہی، جب کہ دفتر میں ناپ کی مثبت پیش گوئی کی قدر صرف 77.8 فیصد تھی۔
دوسرے مرحلے میں ان 48 افراد کو دیکھا گیا جن کا دفتر میں بلڈ پریشر بلند آیا تھا۔ ان میں گھڑی نے 78.4 فیصد حساسیت، 90.9 فیصد خصوصیت اور 96.7 فیصد مثبت پیش گوئی کی قدر کے ساتھ مسلسل ہائی بلڈ پریشر کی تصدیق کی۔ اس کے مقابلے میں دفتر میں دوبارہ ناپنے پر یہ اعداد 67.6، 63.6 اور 86.2 فیصد رہے۔ گھر پر کئی روز کی نگرانی نے 89.2 فیصد حساسیت دکھائی، مگر اس کی خصوصیت 81.8 فیصد رہی، جو گھڑی سے کم تھی۔
نبض کی لہر نے کیا بتایا
محققین نے یہ بھی جانچا کہ نظام کن اشاروں پر توجہ دیتا ہے۔ زیادہ خطرے والے افراد کی نبض کی لہر کچھ تنگ پائی گئی، جس سے پتا چلتا ہے کہ ان کی شریانیں سخت ہو چکی ہیں اور خون کی مقدار میں تبدیلی کم ہوتی ہے۔ ان میں خون کی پہلی لہر کا اٹھان بھی سست تھا، اور آگے جانے والی لہر کے مقابلے میں واپس آنے والی لہر کا تناسب کم تھا۔ دل کی دھڑکن سے پیدا ہونے والی جسمانی لرزش میں بھی فرق نظر آیا، جہاں زیادہ خطرے والے افراد کی K لہریں گہری اور IJK کمپلیکس چوڑے پائے گئے۔
یہ تحقیق گوگل ریسرچ، بیت اسرائیل ڈیکنس میڈیکل سینٹر (Beth Israel Deaconess Medical Center) اور ہارورڈ میڈیکل اسکول (Harvard Medical School) کی مشترکہ کوشش ہے۔ گوگل کے مطابق اس تحقیق کے نتائج سے گوگل ہیلتھ ایپ کی بلڈ پریشر ٹرینڈز سہولت کو رہنمائی ملی ہے۔
آزمائش کی حدود کیا ہیں؟
نتائج حوصلہ افزا ہیں، مگر ان کی حدود بھی واضح ہیں۔ آزمائش میں صرف 196 افراد شریک تھے، جو اسکریننگ کے آلے کے لیے کم تعداد ہے۔ ان میں دل کی بیماری کا شکار افراد شامل نہیں تھے، اور نہ ہی کوئی بلڈ پریشر کی دوا لیتا تھا، اس لیے یہ واضح نہیں کہ نظام پہلے سے تشخیص شدہ مریضوں یا دوا لینے والوں پر کیسا کام کرے گا۔ آزمائش امریکا کے پانچ مراکز تک محدود رہی، اس لیے دوسری آبادیوں اور نسلی گروہوں پر اس کی کارکردگی کی الگ سے تصدیق درکار ہوگی۔ گوگل نے خود اسے ابتدائی تحقیقی کام قرار دیا ہے، حتمی طبی آلہ نہیں۔
کیا یہ تشخیص کا متبادل ہے؟
گوگل نے واضح کیا ہے کہ یہ نظام ڈاکٹر کی تشخیص یا معیاری کف کا متبادل نہیں ہے۔ یہ ابتدائی تحقیقی مرحلے میں ہے اور اس کا مقصد موقع پر اسکریننگ ہے، تاکہ خطرے والے افراد کو وقت پر کلینک جانے کی ترغیب مل سکے۔ کمپنی کے مطابق، اس طریقے سے ان کروڑوں افراد تک پہنچا جا سکتا ہے جنھیں اپنی بیماری کا علم ہی نہیں۔
پاکستان کے لیے اس کا کیا مطلب ہے
پاکستان میں بھی ہائی بلڈ پریشر عام مرض ہے، اور دیہی علاقوں میں کلینک تک رسائی اکثر مشکل ہوتی ہے۔ اگر یہ سہولت آئندہ برسوں میں عام اسمارٹ واچز تک پہنچ جائے تو گھر بیٹھے ابتدائی انتباہ ممکن ہو جائے گا، خاص طور پر ان نوجوانوں کے لیے جو برسوں تک بلڈ پریشر ناپے بغیر گزار دیتے ہیں۔ تاہم، گوگل نے تاحال یہ نہیں بتایا کہ یہ سہولت کب اور کن ممالک میں دستیاب ہوگی، اور پاکستان میں اس کی دستیابی کے بارے میں بھی کوئی اعلان نہیں ہوا۔




