سان ڈیاگو، 2 نومبر 2026 (ویب ڈیسک): ایڈوبی ریسرچ (Adobe Research) اور کیلیفورنیا یونیورسٹی، سان ڈیاگو (UC San Diego) کے محققین نے تصویر سنوارنے والا مصنوعی ذہانت (AI) کا ایک نیا ایجنٹ پیش کیا ہے جو کسی تجربہ کار ماہر کی طرح کام کرتا ہے۔ ایڈٹ ایجنٹ (EditAgent) نامی یہ نظام ہر کام کے لیے درست اوزار خود چنتا ہے اور اپنا نتیجہ صرف دیکھ کر نہیں، بلکہ پیمائش کی بنیاد پر پرکھتا ہے۔ اس نظام کی تفصیل ایک نئے تحقیقی مقالے میں سامنے آئی ہے جس پر دی ڈیکوڈر (The Decoder) نے یکم نومبر کو رپورٹ شائع کی۔ محققین کے مطابق یہ طریقہ عام ایڈیٹرز کی بڑی کمزوری دور کرتا ہے: ایک ہی اوزار ہر ترمیم کے لیے موزوں نہیں ہوتا۔
عام ایڈیٹر کہاں ناکام ہوتا ہے
محققین نے پہلے یہ جانچا کہ عام مقصد کا ایڈیٹر تصویر سنوارنے میں کہاں چوکتا ہے۔ انھوں نے 600 ترامیم کا ایک مجموعہ بنایا اور نتائج پانچ پیشہ ور ماہرین کو پرکھنے کے لیے دیے، جنھیں یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ کون سا نتیجہ کس نظام کا ہے۔ اس جانچ میں فلکس 2 کلائن 9 بی (Flux-2-Klein-9B) نامی عام ایڈیٹر 42.7 فیصد مواقع پر قابلِ استعمال نتیجہ نہ دے سکا۔ اس کے برعکس خصوصی اوزاروں نے ان ناکامیوں میں سے تقریباً دو تہائی حل کر دیں، خاص طور پر تصویر تیز کرنے، اسے گھمانے اور کسی حصے کو قریب لانے کے کاموں میں۔ ایک ہی ایڈیٹر سے بار بار کوشش کرانے سے خاص فائدہ نہ ہوا۔
دوسرا سبق طریقے کے بارے میں تھا: نتیجہ بتدریج بہتر کرنے میں ہر دور میں پہلے سے تبدیل شدہ تصویر پر مزید تبدیلی کی جاتی ہے، جس سے چھوٹی غلطیاں جمع ہوتی جاتی ہیں۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اصل تصویر سے بیک وقت کئی نمونے بنائے جائیں اور ان میں سے بہترین چنا جائے۔ ماہرین نے ان موازنوں میں سے 78.5 فیصد میں متوازی نمونوں کو ترجیح دی جن میں انھوں نے کسی ایک کو چنا، اور اس طریقے میں جانچ کے آدھے مراحل درکار ہوئے۔ ایڈٹ ایجنٹ انھی دو نتائج کی بنیاد پر بنایا گیا ہے۔
ایڈٹ ایجنٹ کیسے کام کرتا ہے
ایڈٹ ایجنٹ پہلے درخواست کو باہم جڑے مراحل میں تقسیم کرتا ہے، پھر ہر مرحلے پر عام ایڈیٹر اور متعلقہ خصوصی اوزاروں سے بیک وقت کئی امیدوار تیار کرتا ہے۔ اس کے بعد ایک عام لینگویج ماڈل (Language Model) ان تمام امیدواروں کا ایک ہی بار میں موازنہ کرتا ہے اور بہترین نتیجہ چنتا ہے۔ اس موازنے کی خاص بات یہ ہے کہ ماڈل صرف تصویر کو دیکھ کر فیصلہ نہیں کرتا، بلکہ اسے ہر امیدوار کا ایک تصدیقی ریکارڈ بھی ملتا ہے۔
اس ریکارڈ میں تین چیزیں شامل ہوتی ہیں: ترمیم شدہ حصے کا قریبی منظر، تبدیل شدہ حصوں کا نقشہ، اور روشنی و رنگ کی پیمائش شدہ قدریں۔ مقالے کی ایک مثال میں تصویر کو ہلکا سا روشن کرنا تھا۔ اعداد نے بتایا کہ عام ایڈیٹر نے تصویر کو حد سے زیادہ روشن کر دیا اور اس کے رنگ بھی گرم کر دیے، جبکہ خصوصی اوزار معیار کے اندر رہا۔ آنکھ سے یہ فرق آسانی سے چھوٹ سکتا تھا، مگر پیمائش نے اسے پکڑ لیا۔
ہر دور کے بعد ایجنٹ تاریخ کی جانچ بھی کرتا ہے، تاکہ بعد کی ترمیم پہلی کو مٹا نہ دے۔ مثال کے طور پر، شیشہ دھندلا کرنے کے بعد زیادہ روشنی مانگنے پر شیشہ صاف ہو گیا تو ایجنٹ نے تضاد پکڑ کر روشن روشنی کے ساتھ دھندلا شیشہ بحال کر دیا۔
جانچ میں کیا نکلا
محققین نے اسی 600 ترامیم کے معیار پر جج ماڈل کی بھی آزمائش کی۔ جج ماڈل کو کئی امیدواروں میں سے بہترین نتیجہ چننا تھا، اور گنتی اس بنیاد پر ہوئی کہ اس کا چنا ہوا نتیجہ ماہرین کے نزدیک بھی قابلِ استعمال تھا یا نہیں۔ تصدیقی ریکارڈ کے بغیر سات میں سے کوئی لینگویج ماڈل بہترین خصوصی تربیت یافتہ ماڈل کا مقابلہ نہ کر سکا۔ ریکارڈ ملنے کے بعد ساتوں ماڈلز نے تمام خصوصی ماڈلز کو پیچھے چھوڑ دیا، اور ان کے اسکور 6.3 سے 9.3 فیصد پوائنٹس تک بڑھ گئے۔
سب سے بہتر نتیجہ کیوون 3.8-27 بی (Qwen3.8-27B) کا رہا، جس نے 81.3 فیصد مواقع پر قابلِ استعمال انتخاب کیا، جبکہ ایڈٹ اسکور 72 بی (EditScore-72B) 74.8 فیصد پر رہا۔ کیوون 3.8 فلیش نیکسٹ (Qwen3.8-Flash-Next) 82.8 فیصد تک پہنچا۔ محققین کے نزدیک اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جج ماڈل کو دکھایا گیا ثبوت، اس کی تربیت سے زیادہ اہم ہو سکتا ہے۔
ایڈٹ ایجنٹ نے دو اوپن سورس (Open Source) ایڈیٹرز، کیوون امیج ایڈٹ 2511 (Qwen-Image-Edit-2511) اور فلکس 2 کلائن 9 بی کی کارکردگی تینوں معیارات پر بہتر کی اور سات دیگر اے آئی ایجنٹس کو پیچھے چھوڑ دیا۔ ایڈی ویل (EdiVal) معیار پر تیسرے دور میں کیوون والا نمونہ تجارتی ماڈلز سیڈریم 4.0 (Seedream 4.0) اور جی پی ٹی امیج 1.5 (GPT-Image-1.5) سے بھی آگے نکل گیا۔ یہاں اوزار چننے اور نتیجہ پرکھنے کے بہتر طریقے نے فرق پیدا کر دیا۔
قیمت اور تربیتی ڈیٹا کا دوہرا فائدہ
اس کامیابی کی قیمت بھی کم نہیں۔ رپورٹ کے مطابق ایڈٹ ایجنٹ کو ایک عام ایڈیٹر کے مقابلے میں تقریباً دس گنا زیادہ کمپیوٹ درکار ہوتا ہے، کیوں کہ وہ ہر مرحلے پر کئی امیدوار بناتا ہے اور پھر ان کا موازنہ بھی کرتا ہے۔ اس کی کارکردگی اس پر بھی منحصر ہے کہ اس کے ساتھ کون سے اوزار جوڑے گئے ہیں۔
دوسری جانب اسی مہنگے طریقے سے ایک فائدہ بھی نکلا۔ ایجنٹ صرف تصدیق شدہ نتائج رکھتا ہے، اس لیے اس سے تقریباً 26 ہزار تربیتی مثالیں تیار ہوئیں۔ ان مثالوں پر تربیت پانے والے ایڈیٹرز کی کارکردگی تینوں معیارات پر بہتر ہوئی۔ اس کے برعکس فلکس سے براہِ راست بنائے گئے تربیتی ڈیٹا نے فلکس کی کارکردگی خراب کر دی۔ اس سے یہ امکان پیدا ہوتا ہے کہ مہنگا ایجنٹ سستے ایڈیٹرز کو بہتر بنانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
فوٹوشاپ صارفین کے لیے اس کا مطلب
یہ تحقیق اس لیے بھی توجہ کی مستحق ہے کیوں کہ ایڈوبی کے اپنے صارفین اسی مسئلے سے روز گزرتے ہیں۔ ایڈوبی نے جون میں فوٹوشاپ (Photoshop)، پریمیئر (Premiere) اور دیگر کریئیٹو کلاؤڈ (Creative Cloud) ایپس میں اے آئی ایجنٹس عوامی آزمائشی مرحلے میں پیش کیے تھے۔ ان میں صارف بتاتا ہے کہ اسے کیا چاہیے اور ایجنٹ اس کے مراحل سنبھالتا ہے۔ ایسے میں یہ سوال براہِ راست ان مصنوعات سے جڑ جاتا ہے کہ ایجنٹ درست اوزار کیسے چنے گا اور اپنے نتیجے کی جانچ کیسے کرے گا۔ واضح رہے کہ ایڈٹ ایجنٹ فی الحال ایک تحقیقی نظام ہے، نہ کہ فوٹوشاپ کی نئی سہولت۔
اس دوران بلیک فاریسٹ لیبز (Black Forest Labs) نے آزمائش میں استعمال ہونے والا ماڈل بھی بدل دیا ہے۔ اس کا نیا فلکس 3 امیج کلائن (Flux 3 Image Klein) 5.6 ارب پیرامیٹرز رکھتا ہے، یعنی فلکس 2 کلائن سے چھوٹا ہے، مگر کمپنی کے اندرونی ٹیسٹوں میں تمام دیگر اوپن ماڈلز اور تجارتی فلکس 2 پرو سے بہتر اسکور کرتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس میدان میں مقابلہ اب صرف بڑے ماڈل بنانے کا نہیں رہا۔
پاکستان کے قاری کے لیے
پاکستان میں تصویر سنوارنا ہزاروں ڈیزائنرز، فوٹو اسٹوڈیوز، فری لانسرز اور طلبہ کا روز کا کام ہے۔ عام ایڈیٹر کی ناکامی ان کے لیے دوبارہ کام اور ضائع شدہ وقت کا مطلب رکھتی ہے۔ عملی سبق یہ ہے کہ نتیجہ صرف آنکھ سے اچھا لگنا کافی نہیں، روشنی اور رنگ کی پیمائش وہ غلطیاں پکڑ لیتی ہے جو نظر سے چھوٹ جاتی ہیں۔
تاہم دس گنا کمپیوٹ کی قیمت کا مطلب یہ بھی ہے کہ یہ طریقہ جلد ہر صارف کے کمپیوٹر یا فون پر نہیں پہنچے گا۔ پہلے اس کا استعمال پیشہ ورانہ کاموں یا بہتر تربیتی ڈیٹا بنانے میں ہونے کا امکان زیادہ ہے۔ محققین کے نزدیک اصل سبق یہ ہے کہ جج کو بہتر ثبوت دینا، جج کو دوبارہ تربیت دینے سے زیادہ کارگر ثابت ہوا۔




