سان فرانسسکو، 27 اکتوبر 2026 (نیوز ڈیسک): اوپن اے آئی (OpenAI) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے اندرونی اے آئی ماڈلز نے ریاضی، کمپیوٹر سائنس اور طبیعیات کے تین مشکل مسائل کے حل پیش کر دیے ہیں۔ کمپنی نے 26 اکتوبر کو اپنے بلاگ میں ان تینوں نتائج کا اعلان کیا اور ساتھ ہی واضح کیا کہ ان کی آزاد تصدیق ابھی باقی ہے۔
اوپن اے آئی کے مطابق پہلا نتیجہ ریاضی میں لہروں کے ارتکاز سے متعلق ایک پرانے قیاس کا حل ہے، دوسرا کمپیوٹر سائنس میں ایک طویل عرصے سے تسلیم شدہ مفروضے کی تردید ہے، اور تیسرا طبیعیات میں کوانٹم کروموڈائنامکس سمیت بعض فیلڈ تھیوریوں کے وجود کا ریاضیاتی ثبوت ہے۔ ریاضی اور کمپیوٹر سائنس کے نتائج کی لین (Lean) نامی مشینی تصدیقی آلے سے جانچ ہو چکی ہے، جب کہ طبیعیات کا مواد ماہرین کے گروپ کے پاس ہے۔
ریاضی: لہروں کے ارتکاز کا پرانا قیاس
ریاضی کا نتیجہ ہارمونک تجزیے سے تعلق رکھتا ہے۔ 1991 میں سوگے (Sogge) نے لوکل اسموٹھنگ کا قیاس (Local Smoothing Conjecture) پیش کیا تھا، جس کا سادہ مطلب یہ ہے کہ لہروں کا انتہائی ارتکاز صرف مختصر وقت کے لیے قائم رہ سکتا ہے۔ یہ قیاس اس لیے اہم ہے کہ اس کے درست ہونے سے ریاضی کے کئی دوسرے نتائج بھی حاصل ہو جاتے ہیں۔ اوپن اے آئی کے مطابق اس کے ماڈلز نے یہ قیاس ہر بُعد میں ثابت کر دیا ہے، جس سے کیکیا کا قیاس (Kakeya Conjecture) اور اسٹائن کی رسٹرکشن کا قیاس (Stein Restriction Conjecture) بھی تمام ابعاد میں حل ہو جاتے ہیں۔ اس سے قبل یہ قیاس 2019 میں صرف دو ابعاد میں اور کیکیا کا قیاس 2025 میں تین ابعاد میں ثابت ہوا تھا۔ نیا ثبوت ایک نئی معاون جزوی تفریقی مساوات پر مبنی ہے۔ کمپنی کے مطابق اے آئی نے یہ نتیجہ 18 اکتوبر 2026 کو تیار کیا، اگلے روز اسے لین میں باقاعدہ شکل دی گئی، اور پھر مسودہ اور لین ثبوت گٹ ہب (GitHub) پر سب کے لیے جاری کر دیے گئے۔
کمپیوٹر سائنس: ایکسپونینشل ٹائم ہائی پوتھیسز کی تردید
دوسرا نتیجہ کمپیوٹر سائنس کے ایک بنیادی مفروضے سے متعلق ہے۔ ایکسپونینشل ٹائم ہائی پوتھیسز (Exponential Time Hypothesis) یہ کہتا ہے کہ بولین فارمولوں کے قابلِ حل ہونے کا مسئلہ، جسے سیٹ (SAT) کہا جاتا ہے، ایک خاص حد سے زیادہ تیزی سے حل نہیں ہو سکتا۔ یہ مفروضہ طویل عرصے سے درست مانا جاتا رہا ہے اور سینکڑوں تحقیقی مقالات میں اس کی بنیاد پر یہ بتایا گیا ہے کہ کوئی مسئلہ کتنا مشکل ہے۔ یہ سوال مشہور پی بمقابلہ این پی (P vs NP) مسئلے سے بھی گہرا تعلق رکھتا ہے۔
اوپن اے آئی کا دعویٰ ہے کہ اس کے نظام نے اس مفروضے کو غلط ثابت کر دیا ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ تردید 16 اکتوبر 2026 کو سامنے آئی اور 17 اکتوبر کو اسے لین میں باقاعدہ شکل دے دی گئی۔ اگر یہ تردید آزاد جانچ میں درست ثابت ہوئی تو بہتر الگورتھم کی تلاش کو نئی سمت مل سکتی ہے۔ اس نتیجے کی جانچ ایک بیرونی گروپ کر رہا ہے، جس کی قیادت کیلیفورنیا یونیورسٹی، سان ڈیاگو (UC San Diego) کے رسل امپاگلیازو (Russell Impagliazzo) اور راماموہن پٹوری (Ramamohan Paturi) کے ساتھ میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (MIT) کے رائن ولیمز (Ryan Williams) کر رہے ہیں۔ امپاگلیازو اور پٹوری اسی مفروضے کے اصل پیش کنندگان میں شامل ہیں۔
طبیعیات: کوانٹم فیلڈ تھیوریوں کے وجود کا ثبوت
تیسرا نتیجہ طبیعیات میں کوانٹم فیلڈ تھیوری سے متعلق ہے۔ اوپن اے آئی کے مطابق اس کے ماڈلز نے چار ابعاد میں باہم عمل کرنے والی بعض کوانٹم فیلڈ تھیوریوں کے وجود کا مضبوط ریاضیاتی ثبوت پیش کیا ہے، جن میں کوانٹم کروموڈائنامکس (Quantum Chromodynamics) اور اسٹینڈرڈ ماڈل کی ایک متحد تکمیل بھی شامل ہے۔ اس کام میں خالص یانگ ملز نظریے (Yang-Mills Theory) کے وجود کا ثبوت بھی شامل ہے، جو کلے میتھمیٹکس انسٹی ٹیوٹ (Clay Mathematics Institute) کے ملینیم پرائز (Millennium Prize) مسئلے کا حصہ ہے۔
اسٹینڈرڈ ماڈل بنیادی ذرات کے درمیان چار بنیادی قوتوں میں سے تین کی وضاحت کرتا ہے، کششِ ثقل اس میں شامل نہیں۔ کوانٹم کروموڈائنامکس مضبوط قوت کی وضاحت کرتی ہے، جب کہ خالص یانگ ملز نظریہ صرف گلوآن (Gluon) کے باہمی عمل کی وضاحت کرتا ہے۔ کمپنی کے مطابق یانگ ملز کے وجود کا ثبوت 9 ستمبر 2026 کو تیار ہوا، کوانٹم کروموڈائنامکس کا ثبوت 18 ستمبر کو سامنے آیا، اور یانگ ملز کے وجود کی لین میں باقاعدہ شکل 16 اکتوبر کو مکمل ہوئی۔ اس نتیجے کی نگرانی نوبل انعام یافتہ طبیعیات دان ڈیوڈ گراس (David Gross) کی قیادت میں ایک گروپ کر رہا ہے، جس میں مائیکل ڈگلس (Michael Douglas)، آرتھر جیف (Arthur Jaffe)، ایگور کلیبانوف (Igor Klebanov) اور نکیتا نیکراسوف (Nikita Nekrasov) شامل ہیں۔ اس گروپ نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اے آئی کا تیار کردہ مواد جاری نہیں کرے گا، بلکہ خود اس کی تحریر تیار کرے گا۔
اشاعت کا نیا طریقہ: خام ڈیٹا اور نگران
اس اعلان کا دوسرا بڑا پہلو اس کی اشاعت کا طریقہ ہے۔ اوپن اے آئی نے کہا ہے کہ اس کی نظر میں یہ مسودے سائنسی سمجھ نہیں، بلکہ خام تحقیقی ڈیٹا کی ایک شکل ہیں۔ اس لیے کمپنی نے بیرونی ماہرین سے کہا ہے کہ وہ نگران (Shepherds) کا کردار ادا کریں، یعنی ان نتائج کو سمجھیں اور ان کی جانچ کا انتظام کریں۔
ہماری نظر میں یہ مسودے خام تحقیقی ڈیٹا کی ایک شکل ہیں، جنھیں سائنسی سمجھ میں بدلنے کے لیے ماہرین کی مدد درکار ہے۔
تینوں نتائج کے لیے تین الگ طریقے اپنائے گئے ہیں: ریاضی کا مسودہ براہ راست جاری کر دیا گیا، کمپیوٹر سائنس کے لیے بیرونی گروپ بنایا گیا مگر مسودہ سب کے لیے عام کر دیا گیا، اور طبیعیات کے لیے مواد جاری کرنے کا فیصلہ اسی گروپ پر چھوڑ دیا گیا۔ ان کاموں کے چار اصول بتائے گئے ہیں: شفافیت، تعلیمی کریڈٹ نہ مانگنا، گروپ کے کام کو تسلیم کرنا، اور آزادی، یعنی شرکا رضاکارانہ اور بلا معاوضہ حصہ لیں گے۔
ہم ان دریافتوں کے لیے تعلیمی کریڈٹ کے خواہاں نہیں ہیں، اور کسی محقق کو نگرانی کی دعوت دینے کا یہ مطلب نہیں کہ دریافت اس کی ہے۔
کمپنی نے ان نتائج کو سمجھنے کے لیے سائمنز فاؤنڈیشن (Simons Foundation) کو 50 لاکھ ڈالر بھی دیے ہیں۔
احتیاط کیوں ضروری ہے
ان دعووں کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں، مگر انھیں حتمی سائنسی حقیقت سمجھنا قبل از وقت ہوگا۔ لین میں باقاعدہ شکل دینا یہ ثابت کرتا ہے کہ ثبوت کے ہر قدم کی مشینی جانچ ہو گئی ہے، مگر یہ اس بات کی ضمانت نہیں کہ سائنسی برادری اس ثبوت کو درست اور اہم مان لے گی۔ ریاضی اور کمپیوٹر سائنس کے مسودے عام ہو چکے ہیں، جب کہ طبیعیات کا مسودہ ابھی عام نہیں ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ اس اعلان کو ایک دعوے کے طور پر پڑھنا چاہیے، حتمی فیصلے کے طور پر نہیں۔
پاکستان کے طلبہ اور محققین کے لیے کیا معنی ہیں
پاکستانی قاری کے لیے اس خبر کا عملی پہلو یہ ہے کہ ریاضی اور کمپیوٹر سائنس کے مسودے اور لین ثبوت عوامی طور پر دستیاب ہیں۔ ریاضی، کمپیوٹر سائنس اور طبیعیات کے طلبہ انھیں پڑھ سکتے ہیں، اور لین جیسے تصدیقی آلے سیکھنے والوں کے لیے یہ ایک زندہ مثال ہے کہ مشینی جانچ سائنسی کام میں کیسے مدد کر سکتی ہے۔
تاہم یہ مواد انتہائی تخصصی ہے اور اسے سمجھنے کے لیے متعلقہ میدانوں کی گہری تیاری درکار ہے۔ اس لیے عام قاری کے لیے اصل نکتہ یہ ہے کہ سائنس کے کام کرنے کا طریقہ بدل رہا ہے: اب سوال صرف یہ نہیں رہا کہ اے آئی جواب دے سکتا ہے یا نہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ انسان اس جواب کو کیسے پرکھے گا اور کیسے اس پر اعتماد کرے گا۔ اب تمام نظریں اس پر مرکوز ہیں کہ آزاد جانچ ان دعووں کے بارے میں کیا کہتی ہے۔




