آکسفورڈ، 31 اکتوبر 2026 (ویب ڈیسک): اینتھروپک (Anthropic) کے اے آئی ایجنٹ کلاڈ (Claude) نے مرگی کے شکار ایک چوہے کے لیے جین تھراپی کا انتخاب خود کیا، دماغ میں انجیکشن کی جگہ خود طے کی اور پھر ایک موٹر والے جراحی آلے کو چلا کر وہ انجیکشن خود لگا دیا۔ اس تجربے کی تفصیل ایگزن تھراپیوٹکس (Exin Therapeutics) کے شریک بانی اور آکسفورڈ یونیورسٹی (University of Oxford) کے پی ایچ ڈی طالب علم گبریل اوکانا سینٹیرو (Gabriel Ocana-Santero) نے ایکس پر جاری کی ہے، جسے دی ڈیکوڈر (The Decoder) نے 30 اکتوبر کو رپورٹ کیا۔ ان کے مطابق یہ پہلا موقع ہے جب کسی اے آئی ایجنٹ نے کسی زندہ جانور کے لیے علاج خود چنا ہو اور وہ علاج اس کے جسم میں خود پہنچایا بھی ہو۔
واضح رہے کہ یہ کوئی اسپتال کا علاج نہیں تھا، نہ ہی اس کے نتائج کی کسی آزاد ماہر نے تصدیق کی ہے۔ یہ ایک لیبارٹری کا تجربہ تھا، جس کی مکمل تکنیکی رپورٹ ابھی آنا باقی ہے اور جس میں یہ بھی ثابت نہیں ہوا کہ اس انجیکشن سے چوہے کے دورے واقعی کم ہوئے یا نہیں۔ اس کے باوجود یہ تجربہ اس لیے زیر بحث ہے کہ ایجنٹ نے فیصلہ اور جسمانی عمل خود کیا۔
علاج کا انتخاب ایجنٹ نے کیسے کیا
اوکانا سینٹیرو کے مطابق انھوں نے ایجنٹ کو صرف ایک ہدایت دی تھی: چوہے کے دورے کم کرو۔ اس کے ساتھ انھوں نے ایجنٹ کو 19 ممکنہ جین تھراپیوں کی فہرست، مرگی کا ایک ماؤس ماڈل اور کیمروں سے لیس ایک موٹر والا جراحی آلہ دیا۔
ایجنٹ نے پہلے یہ تجزیہ کیا کہ اس مخصوص ماڈل میں دورے کیسے پیدا ہوتے ہیں۔ اس کے بعد اس نے ایک ایسی تھراپی تجویز کی جو دماغ کے روکنے والے سگنل، یعنی گابا (GABA) کے نظام کو طاقتور بناتی ہے۔
دماغ کے حصے کے انتخاب میں بھی ایجنٹ نے سائنسی ادب کا سہارا لیا۔ اس نے لیٹرل اینٹورہائنل کورٹیکس (lateral entorhinal cortex) کو ہدف بنایا، جسے تحقیق میں اس قسم کے دوروں کے آغاز کی جگہ بتایا جاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں اس نے ایک دوسرے معروف ہدف، سبسٹینشیا نائگرا (substantia nigra) کو مسترد کر دیا۔ ایجنٹ کا کہنا تھا کہ اس کا اثر اس بات پر منحصر ہے کہ کون سا ذیلی حصہ نشانہ بنے، اور ایک تحقیق میں یہ اسی قسم کے دوروں کو روکنے میں ناکام رہا تھا۔
انجیکشن کی درست جگہ کے لیے ایجنٹ نے تین سائنسی مقالوں سے کوآرڈینیٹس نکالے، ان کے حوالہ نقطوں کا موازنہ کیا اور پھر ان کی اوسط نکالی۔ انجیکشن کی مقدار، رفتار اور انتظار کا وقفہ بھی اس نے خود مقرر کیا۔
آپریشن کے دوران ایجنٹ نے کیا دیکھا
جراحی کے دوران ایجنٹ کیمرے کے ذریعے آپریشن کی جگہ کو دیکھتا رہا اور اس نے 32 مشاہدات ریکارڈ کیے۔ ایک موقع پر اس نے رپورٹ کیا کہ 15 فیصد انجیکشن لگ چکا ہے، خون نظر نہیں آ رہا اور دوا بھی واپس نہیں بہہ رہی۔
حفاظت کے لیے کئی پابندیاں پہلے سے طے تھیں: ایک لائسنس یافتہ ویٹرنری ڈاکٹر نے ہر ناقابل واپسی قدم کی منظوری دی، ان کے پاس موٹروں کی بجلی کاٹنے والا فزیکل ایمرجنسی اسٹاپ تھا، اور انجیکشن کی مقدار کی حد سے آگے جانے سے ایجنٹ کو منع کیا گیا تھا۔
رابطہ منقطع ہونے کے بعد ایجنٹ نے حساب لگایا کہ اس کے طے کردہ ہدف کی جگہ آلے کی جسمانی حد سے باہر ہے، اس لیے اس نے آگے بڑھنے سے انکار کر دیا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ ایجنٹ درست تھا: وقفے کے دوران دستی ایڈجسٹمنٹ سے کنٹرول سسٹم کی ترتیب بگڑ چکی تھی۔ اوکانا سینٹیرو کو آخر میں کوڈ خود ٹھیک کرنا پڑا، جب کہ بے ہوش جانور آپریشن کی میز پر موجود تھا۔
"مایوس کن تجربہ تھا، لیکن اس سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ ہم ان ماڈلز پر کتنا انحصار کرنے لگے ہیں، اور اس وقت کیا ہوتا ہے جب وہ کسی وقت کی پابندی والے عمل کے درمیان اچانک انکار کر دیں۔" (گبریل اوکانا سینٹیرو، شریک بانی اور سربراہ، ایگزن تھراپیوٹکس)
تین ماڈلز، تین مختلف جواب
ٹیم نے صرف ایک ماڈل نہیں آزمایا تھا۔ اوکانا سینٹیرو کے مطابق کلاڈ سونیٹ 5 (Claude Sonnet 5) واحد ماڈل تھا جو زندہ جانور پر پورا عمل شروع سے آخر تک انجام دینے پر راضی ہوا۔ اس سے زیادہ طاقتور سمجھے جانے والے کلاڈ اوپس 5.5 (Claude Opus 5.5) اور کلاڈ اوپس 5 (Claude Opus 5) نے انکار کر دیا۔ اوپس 5 نے خشک مشق پوری کر لی تھی، لیکن زندہ جانور پر عمل شروع ہونے سے پہلے رک گیا۔ اس کا مؤقف تھا کہ وہ عمل مکمل ہونے کی ضمانت نہیں دے سکتا، اور بے ہوش جانور کے دماغ میں سوئی چھوڑ کر درمیان میں رک جانا، عمل شروع نہ کرنے سے زیادہ برا ہوگا۔
"ایسی چیز شروع کرنا جسے میں مکمل نہ کر سکوں، جب کہ جانور بے ہوش ہو، شروع نہ کرنے سے زیادہ برا ہے۔" (کلاڈ اوپس 5، اپنے انکار کی وجہ بیان کرتے ہوئے)
یہ فرق ایک پرانی بحث کو نئے انداز میں سامنے لے آیا ہے: جب ایجنٹ خود فیصلہ کرنے لگے تو اس کے انکار یا غلط فیصلے کی ذمے داری کس کی ہوگی۔
یہ تجربہ پہلی بار کیوں کہا جا رہا ہے
خودکار جراحی کے آلات پہلے بھی موجود ہیں، لیکن ان میں انسان آپریشن طے کرتا تھا اور روبوٹ صرف اسے انجام دیتا تھا۔ اوکانا سینٹیرو کا دعویٰ ہے کہ یہاں ایجنٹ نے علاج اور ہدف خود چن کر وہ علاج زندہ جانور کے جسم میں خود پہنچایا۔ ان کے مطابق اس سے پہلے کسی ایجنٹ نے کسی زندہ ممالیہ جانور کے لیے علاج اور ہدف دونوں چن کر وہ علاج خود نہیں دیا تھا۔
وہ اس طریقے کو "ان ویوو لیب ان دی لوپ" (in vivo lab in the loop) کہتے ہیں، یعنی ایسا نظام جس میں اے آئی ایجنٹ لیبارٹری کے آلات سے براہ راست جڑا ہو۔ ان کے مطابق اینتھروپک بھی اپنے "ماڈل ہارڈویئر اسٹینڈرڈ" (Model Hardware Standard) کے ذریعے اسی سمت میں کام کر رہی ہے۔
ابھی کیا ثابت نہیں ہوا
پہلی احتیاط یہ ہے کہ اس تجربے کی تفصیل ابھی صرف تجربہ کرنے والے کا اپنا بیان ہے۔ اس کی کوئی تکنیکی رپورٹ شائع نہیں ہوئی، کسی ہم مرتبہ جائزے سے نہیں گزری، اور دوروں میں کمی کا کوئی پیمانہ سامنے نہیں آیا۔ صرف یہ بتایا گیا ہے کہ چوہا ٹھیک ہو گیا۔
دوسری احتیاط یہ ہے کہ یہ صرف ایک جانور کا ایک تجربہ تھا۔ ایک کامیاب مظاہرے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ یہ طریقہ ہر بار محفوظ رہے گا، یا انسانوں پر کبھی آزمایا جا سکے گا۔ تیسری بات یہ ہے کہ ایجنٹ نے جو انتخاب کیا، وہ پہلے سے دی گئی 19 تھراپیوں میں سے تھا۔ اس نے کوئی نئی دوا ایجاد نہیں کی، بلکہ موجودہ امیدواروں میں سے ایک کو چنا۔ اس لیے اسے دوا کی دریافت کہنا غلط ہوگا؛ اصل اہمیت یہ ہے کہ فیصلہ اور جسمانی عمل، دونوں ایک ہی ایجنٹ کے ہاتھ میں تھے۔
پاکستان کے قاری کے لیے اس خبر کا مطلب
پاکستان میں مرگی ایک عام اعصابی مرض ہے اور اس کے مریضوں کے لیے نئی تھراپیوں کی تحقیق براہ راست دل چسپی رکھتی ہے۔ پاکستانی جامعات اور طبی تحقیقی اداروں کے لیے سبق یہ ہے کہ مستقبل میں اے آئی صرف ڈیٹا کا تجزیہ کرنے والا معاون نہیں، بلکہ تجرباتی آلات چلانے والا شریک بھی بن سکتا ہے۔ اس کے لیے لیبارٹری کی حفاظت، ہارڈویئر کے معیار اور انسانی نگرانی کے نئے اصول بنانے ہوں گے۔
ایجنٹ کا یہ انکار بھی ایک سبق دیتا ہے۔ جب مشین کسی وقت کی پابندی والے عمل کے درمیان انکار کر دے تو انسان کو فوری طور پر معاملہ سنبھالنا آنا چاہیے، اس لیے ایسے نظاموں میں انسانی نگرانی کو ختم کرنا نہیں، بلکہ مضبوط کرنا ہوگا۔




