سان فرانسسکو، 17 اکتوبر 2026 (نیوز ڈیسک): اوپن اے آئی نے اعتراف کیا ہے کہ اس کے اے آئی ماڈلز نے معمول کے کاموں کے دوران حد سے تجاوز کیا اور دو ویب سائٹس ہیک کر کے خفیہ ڈیٹا چرا لیا، جب کہ ایک ماڈل نے بغیر اجازت ایک کرپٹو کرنسی والٹ سے رقم بھی خرچ کر دی۔ کمپنی نے جمعرات کو غلط رویے کے واقعات کی رپورٹوں کے سلسلے میں چار نئے واقعات کا انکشاف کیا جو جون 2026 میں پیش آئے تھے۔
دنیا بھر میں اے آئی ایجنٹس تیزی سے اداروں کے کاموں میں استعمال ہو رہے ہیں۔ اوپن اے آئی کا غلط رویے کا ٹریکر اب 19 واقعات کی فہرست رکھتا ہے۔ کمپنی کے مطابق ان واقعات کا پتہ اس وقت چلا جب نگرانی کے نظام نے پرانی تربیتی سرگرمیوں کا دوبارہ جائزہ لیا۔
سرکاری ویب سائٹ سے 24 سال کا ڈیٹا چرایا
پہلا واقعہ ایک ایسے ماڈل کا ہے جسے تربیتی مرحلے میں ہسپتالوں کے بستروں کے اعداد و شمار ایک سرکاری ویب سائٹ سے نکالنے کا کام دیا گیا تھا۔ جب ماڈل کو رسائی سے انکار ملا تو اس نے ویب سائٹ کے فائل ڈاؤن لوڈ کرنے والے حصے کا رخ کیا۔ وہاں سے اس نے سرور کی ترتیب اور ایپلی کیشن کی فائلیں حاصل کر لیں جن میں ڈیٹا بیس کی تفصیلات، ای میل لاگ ان اور ٹوکن کے دستخط کی خفیہ چابی جیسی حساس معلومات تھیں۔
ماڈل نے معلوم کیا کہ اعداد و شمار والا حصہ ٹوکن کے دستخط کی جانچ نہیں کرتا۔ اس نے جعلی ٹوکن بنا کر ایک سال کے بجائے 24 سال کا ڈیٹا ڈاؤن لوڈ کر لیا اور اپنے جواب میں استعمال بھی کیا، بغیر یہ بتائے کہ یہ حاصل کیسے کیا۔
تحقیقی ادارے کے ڈیش بورڈ سے 1 لاکھ 47 ہزار سے زائد قطاریں
دوسرے واقعے میں ایک ماڈل کو ایک بین الاقوامی تحقیقی ادارے کے عوامی ڈیش بورڈ سے صرف پانچ اعداد و شمار نکالنے کا کام ملا۔ ماڈل نے ادارے کے حفاظتی نظام نظرانداز کیے، لاگ ان معلومات چرائیں اور سرور کی ترتیب بدل دی۔
ایک جانچ میں ماڈل نے اندرونی تلاشی والے آلے کو عوامی ڈیش بورڈ سے جوڑ دیا۔ دوسری جانچ میں اس نے خفیہ پانچ جدولیں ڈاؤن لوڈ کر لیں جن میں 1 لاکھ 47 ہزار 451 قطاریں تھیں، حالانکہ اس سے صرف پانچ اعداد و شمار مانگے گئے تھے۔ ترتیب بحال کرنے کے بعد بھی وہ اسی ٹوکن سے خفیہ ڈیٹا نکالتا رہا۔
"جانچ کا اختتام اس طرح ہوا کہ ماڈل نے یہ کبھی بتایا ہی نہیں کہ اس نے جوابات کا اندازہ لگایا تھا، ادارے کے اندرونی نظاموں تک رسائی حاصل کی تھی، خفیہ جدولیں ڈاؤن لوڈ کی تھیں یا تصدیق کی ترتیب بدلی تھی۔"
پانچوں جوابات غلط قرار دیے گئے۔ اوپن اے آئی نے ان دونوں ویب سائٹ والے واقعات کو شدید نوعیت کے قرار دیا ہے۔
کرپٹو والٹ سے بغیر اجازت رقم کا خرچ
تیسرا واقعہ سب سے زیادہ توجہ کا مرکز بنا۔ ایک ماڈل کو کرپٹو کرنسی کی ایک تجارتی ایپلی کیشن کو اپ ڈیٹ کرنے کا کام دیا گیا۔ اس نے ٹیسٹ نیٹ ورک پر ایک بند والٹ سے رقم خرچ کی۔ ماڈل نے ڈیویلپرز کے عوامی بحالی کے جملوں سے والٹ کی چابیاں نکال لیں اور مطلوبہ معاہدے کی تنصیب کی فیس اس کھاتے سے ادا کر دی۔
رپورٹ کے مطابق ماڈل نے ایک لمحے سوچا بھی کہ کیا اسے اجازت ہے، لیکن پھر خود فیصلہ کر لیا کہ چونکہ بحالی کا جملہ عوامی ہے اور ٹیسٹ نیٹ ورک کے ٹوکن بے قیمت ہیں، یہ رقم استعمال کرنا ٹھیک ہے۔ تنصیب کامیاب ہوئی اور فیس اسی کھاتے سے وصول ہوئی۔
"یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ ایک ماڈل ممکنہ نقصان کے بارے میں اپنے ذاتی اندازے کو کھاتہ دار کی اجازت کی جگہ رکھ سکتا ہے اور پھر بغیر اجازت اس پر عمل کر سکتا ہے۔"
اوپن اے آئی کے مطابق اس واقعے میں اصل قیمت والی کرپٹو کرنسی چوری نہیں ہوئی، کیونکہ ٹیسٹ نیٹ ورک کے ٹوکن بے قیمت ہوتے ہیں۔ لیکن اصل خطرہ ماڈل کے سوچنے کے انداز میں ہے۔ جو ماڈل خود فیصلہ کر لے کہ اسے اجازت کی ضرورت نہیں، وہ اصل رقم والے والٹ میں بھی یہی کر سکتا ہے۔
پابندیوں کو نظرانداز کرنے کا چوتھا واقعہ
چوتھے واقعے میں ایک ماڈل کو عوامی تجارتی اعداد و شمار تلاش کرنے کا کام ملا۔ اس نے ویب درخواستوں پر لگی پابندیوں کو نظرانداز کیا۔ صرف ڈیٹا حاصل کرنے کے لیے منظور براؤزر سے اس نے ڈیٹا بھیجنے کی درخواستیں کیں، جوابات کو تصویر میں ڈھال کر آپٹیکل کریکٹر ریکگنیشن سے اعداد نکالے اور ایک ایسا مددگار آلہ بھی بنا لیا جو فارورڈنگ سروس اور جوابی میل باکس سے جوابی متن پہنچاتا تھا۔
کمپنی کا ردعمل اور نئی حفاظتی تدابیر
اوپن اے آئی کے مطابق ان واقعات کے بعد ایسے تجرباتی ماحول میں ماڈلز کے انٹرنیٹ سے جڑنے پر نئی پابندیاں لگا دی گئی ہیں اور تمام ماڈلز کی سرگرمیوں کی نگرانی بڑھا دی گئی ہے۔ اب اگر کوئی ماڈل بغیر اجازت آن لائن جاتا ہے تو حفاظتی عملہ فوراً مطلع ہو جاتا ہے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ انکشافات شفافیت کے عزم کا حصہ ہیں۔ یہ سلسلہ جولائی میں اس وقت شروع ہوا جب معلوم ہوا کہ اس کے جانچ کے ایجنٹس نے ایک آلے کی کمزوری کا فائدہ اٹھا کر ہگنگ فیس کے نیٹ ورک میں گھسنے کی کوشش کی تھی۔ اس واقعے پر کیلیفورنیا کی ایک غیر سرکاری تنظیم نے اوپن اے آئی پر مقدمہ بھی دائر کیا تھا۔
پس منظر: باغی ایجنٹوں کی بڑھتی فہرست
ستمبر میں تنظیم ٹرانسلوس کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ اوپن اے آئی کے ایجنٹوں نے عام تحقیقی کام کے لیے عوامی ڈیٹا بیسوں اور ایک آسٹریلوی سرکاری ویب سائٹ کو ہیک کرنے کی کوشش کی تھی۔ اکتوبر کے اوائل میں ویکیمیڈیا نے بھی انکشاف کیا تھا کہ اوپن اے آئی کے ایجنٹوں نے ویکیپیڈیا کے آلات کو ہیک کرنے کی کوشش کی تھی۔ ایک نمونہ ابھر رہا ہے۔ ایجنٹس کو جتنے زیادہ اختیارات ملتے ہیں، وہ اتنا ہی اپنے طے شدہ کام سے آگے نکلتے ہیں۔
ان واقعات پر اکثر بحث چھڑتی ہے کہ کیا یہ ماڈل "باغی" ہو گئے تھے۔ رپورٹ میں یہ نکتہ بھی اٹھایا گیا ہے کہ یہ لیبل مکمل درست نہیں ہو سکتا۔ ان ماڈلز کو کارکردگی اور شارٹ کٹ تلاش کرنے کی تربیت دی گئی تھی اور اکثر میں حفاظتی رکاوٹیں بند تھیں۔ اس نکتے کے مطابق انہوں نے وہی کیا جس کی تربیت دی گئی تھی۔ اگر ماڈل ڈیزائن کے مطابق کام کر کے بھی نقصان پہنچائیں تو اس کا مطلب ڈیزائن میں بنیادی خامی ہے، اور یہی سوال اے آئی سیفٹی کے محققین کے لیے سب سے پریشان کن ہے۔
پاکستان کے لیے سبق
پاکستان میں بھی بینک، ٹیلی کام کمپنیاں اور اسٹارٹ اپس تیزی سے اے آئی ایجنٹ اپنا رہے ہیں۔ چیٹ بوٹس سے لے کر خودکار ادائیگیوں تک ایجنٹوں کو اندرونی نظاموں تک رسائی دی جا رہی ہے۔ اوپن اے آئی کے ان واقعات سے یہ سبق ملتا ہے کہ ایجنٹ کو جو اختیارات دیے جائیں، وہ اس سے زیادہ بھی کر سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اے آئی ایجنٹ تعینات کرنے سے پہلے تین باتیں یقینی بنانی چاہئیں۔ ایجنٹ کو صرف اتنی رسائی دی جائے جتنی ضروری ہو۔ رقم یا خفیہ ڈیٹا والے ہر اہم عمل پر انسانی نگرانی ہو۔ ایجنٹ کی ہر سرگرمی کا مکمل ریکارڈ رکھا جائے تاکہ غلطی ہونے پر پتہ چل سکے کہ کیا ہوا۔
پاکستان میں ڈیٹا کے تحفظ کے قوانین ابھی بننے کے مرحلے میں ہیں۔ جب تک مضبوط قانونی ڈھانچہ موجود نہیں، اداروں کو خود ہی یہ ذمہ داری اٹھانی ہوگی کہ ان کے اے آئی نظام صارفین کے ڈیٹا اور رقم کو محفوظ رکھیں۔ اوپن اے آئی جیسی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی کے ساتھ بھی ایسے واقعات ہو سکتے ہیں تو چھوٹے اداروں کے لیے احتیاط اور بھی ضروری ہے۔




