واشنگٹن، 30 اکتوبر 2026 (نیوز ڈیسک): امریکی محکمہ انصاف (US Department of Justice) نے Nvidia کے ہگنگ فیس (Hugging Face) خریدنے کے معاہدے کی جانچ شروع کر دی ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز (Reuters) کے مطابق حکام یہ دیکھ رہے ہیں کہ آیا اس سودے سے Nvidia کو مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی تقسیم کے ایک اہم مرکز پر کنٹرول مل جائے گا اور اس سے حریف کمپنیوں کو نقصان پہنچے گا۔ یہ جانچ ان وسیع تحقیقات کا حصہ ہے جو Nvidia کے کاروباری طریقوں کے بارے میں کئی برس سے جاری ہیں۔
Nvidia نے ستمبر 2026 کے آغاز میں ہگنگ فیس خریدنے کا اعلان کیا تھا۔ اس سودے کی مالیت 12 ارب 93 کروڑ ڈالر (12.93 ارب ڈالر) ہے اور کمپنی کے مطابق اس کے 2027 کی پہلی ششماہی میں مکمل ہونے کی توقع ہے۔ اس رقم میں سے تقریباً 11 ارب 90 کروڑ ڈالر ہگنگ فیس کے سرمایہ کاروں کو ملیں گے، جبکہ تقریباً ایک ارب ڈالر کا حصہ ان ملازمین کے لیے رکھا گیا ہے جو معاہدے کے بعد Nvidia کا حصہ بنیں گے۔
سودا کیا ہے اور ہگنگ فیس کیوں اہم ہے
ہگنگ فیس ایک اوپن سورس (Open Source) پلیٹ فارم ہے جہاں دنیا بھر کے ڈویلپرز اور محققین مصنوعی ذہانت کے ماڈلز، ڈیٹا سیٹس اور ٹولز ایک دوسرے کے ساتھ بانٹتے ہیں۔ یہ پلیٹ فارم اے آئی کی دنیا میں ایک بڑے مرکز کی حیثیت رکھتا ہے، کیوں کہ یہاں موجود ماڈلز کو ہر طرح کی چپس اور کلاؤڈ سروسز پر چلایا جا سکتا ہے۔ اسی وجہ سے یہ سوال پیدا ہوا ہے کہ اگر یہ مرکز Nvidia کی ملکیت میں آ جائے تو اس کی غیر جانبداری کا کیا بنے گا۔
Nvidia مصنوعی ذہانت کی چپس بنانے والی دنیا کی سب سے نمایاں کمپنی ہے۔ اس کی چپس اے آئی ماڈلز کی تربیت اور انھیں چلانے کے کام آتی ہیں، اور اس کا پروگرامنگ سافٹ ویئر CUDA بھی اسی نظام کا حصہ ہے۔ اس پس منظر میں ہگنگ فیس کا سودا محض ایک کمپنی کی خریداری نہیں، بلکہ اے آئی کی تقسیم کے ایک اہم راستے پر کنٹرول کا معاملہ بن گیا ہے۔
محکمہ انصاف کو کس بات پر تشویش ہے
روئٹرز نے معاملے سے واقف دو ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ محکمہ انصاف کے حکام نے حالیہ دنوں میں اس سودے کے بارے میں سوالات کیے ہیں۔ ان کا بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا ہگنگ فیس کے حصول سے Nvidia کو اے آئی ماڈلز اور ٹولز کی تقسیم کے ایک اہم مرکز پر ایسا کنٹرول مل جائے گا جس سے وہ حریف چپ ساز کمپنیوں اور سروس فراہم کرنے والوں کو نقصان پہنچا سکے۔
Nvidia کی جانب سے یہ یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ معاہدے کے بعد بھی ہگنگ فیس مختلف چپ ساز، کلاؤڈ اور اے آئی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری جاری رکھے گا۔ تاہم ریگولیٹرز یہ جانچ رہے ہیں کہ عملی طور پر اس سودے کے بعد مسابقت کی صورتحال کیا ہوگی۔
واضح رہے کہ یہ جانچ کسی خلاف ورزی کا فیصلہ نہیں ہے۔ روئٹرز کے مطابق محکمہ انصاف کی یہ پوچھ گچھ کسی رسمی کارروائی میں تبدیل بھی ہو سکتی ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے کوئی کارروائی سامنے ہی نہ آئے۔ محکمہ انصاف نے اس معاملے پر مخصوص تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔ اس کے ترجمان کا کہنا تھا:
محکمہ کے لیے مسابقتی طرز عمل کی تحقیقات کی آڑ میں انضمام کی تحقیقات کرنا نامناسب ہوگا۔ (ترجمان، امریکی محکمہ انصاف)
تحقیقات کا دائرہ ہگنگ فیس سے آگے ہے
اس معاملے کا اہم پہلو یہ ہے کہ ہگنگ فیس کا سودا تنہا نہیں دیکھا جا رہا۔ روئٹرز کے مطابق Nvidia کے خلاف وسیع تحقیقات سابق صدر جو بائیڈن (Joe Biden) کے دور میں شروع ہوئی تھی اور موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ (Donald Trump) کے دور میں بھی جاری ہے۔ ان تحقیقات میں کمپنی کے حصول، سرمایہ کاری، فروخت کے طریقے اور صارفین پر ممکنہ دباؤ، سب کچھ شامل ہے۔
انھی تحقیقات میں حکام نے Nvidia کے کئی دوسرے سودوں کا بھی جائزہ لیا ہے۔ ان میں دسمبر 2025 میں اسکیڈ ایم ڈی (SchedMD) کا حصول، رن اے آئی (Run:ai) کی خریداری اور 2025 میں چپ بنانے والی نئی کمپنی گروک (Groq) سے ٹیکنالوجی لائسنس کرنے اور اس کے انجینئرز کو اپنے ہاں لانے کا معاہدہ شامل ہے۔ حکام یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ آیا Nvidia نے صارفین کو اس شرط پر زیادہ چپس فراہم کیں کہ وہ اس کا نیٹ ورکنگ سازوسامان اور گروک سے منسلک پروسیسرز بھی خریدیں۔
یہ سوالات اس لیے اہم ہیں کیوں کہ اے آئی چپس کی مانگ بہت زیادہ ہے اور ان کی فراہمی محدود ہے۔ اگر کوئی کمپنی چپس کی فراہمی کو اپنی دوسری مصنوعات کی خریداری سے مشروط کر دے تو چھوٹی کمپنیوں کے لیے مقابلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
فرانس میں بھی Nvidia کی جانچ جاری ہے
Nvidia کو صرف امریکہ میں ہی جانچ کا سامنا نہیں ہے۔ فرانس کے مسابقتی ادارے نے بھی کمپنی کے خلاف مبینہ غیر مسابقتی کاروباری طریقوں کی تحقیقات شروع کر رکھی ہے۔ فرانسیسی ریگولیٹر کی تشویش دو باتوں پر مرکوز ہے: ایک تو صنعت کا Nvidia کے پروگرامنگ سافٹ ویئر CUDA پر انحصار، اور دوسرا کلاؤڈ فراہم کرنے والی کمپنیوں، جیسے کور ویو (CoreWeave)، میں Nvidia کی سرمایہ کاری۔
فرانسیسی ادارے نے جن خطرات کی نشاندہی کی ہے ان میں فراہمی پر پابندیاں، غیر منصفانہ معاہدوں کی شرائط اور بعض صارفین کے ساتھ امتیازی سلوک شامل ہیں۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ Nvidia پر ضابطہ کاری کا دباؤ صرف ایک ملک تک محدود نہیں، بلکہ یہ ایک عالمی بحث بن چکی ہے کہ اے آئی کی بنیادی ڈھانچے پر کسی ایک کمپنی کا کنٹرول کتنا ہونا چاہیے۔
دوسری جانب بازار نے بھی اس خبر پر ردعمل ظاہر کیا ہے۔ رپورٹ سامنے آنے کے بعد Nvidia کے حصص میں تقریباً ایک فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرمایہ کار اس ریگولیٹری جانچ کو کمپنی کے لیے ایک حقیقی خطرہ سمجھ رہے ہیں۔
پاکستان کے قارئین کے لیے اس خبر کا مطلب
یہ خبر پاکستان کے قارئین کے لیے بھی اہم ہے، کیوں کہ ہگنگ فیس وہی پلیٹ فارم ہے جسے پاکستانی ڈویلپرز، طلبہ اور چھوٹے سافٹ ویئر ہاؤسز مفت اور اوپن سورس ماڈلز کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اگر اس پلیٹ فارم کی ملکیت تبدیل ہونے کے بعد اس کی پالیسیوں یا شرائط میں کوئی تبدیلی آتی ہے تو اس کا اثر براہ راست ان لوگوں پر پڑ سکتا ہے جو مہنگی چپس یا بڑے کلاؤڈ بجٹ کے بغیر اے آئی پر کام کر رہے ہیں۔
اس کے علاوہ Nvidia کی چپس کی قیمت اور دستیابی کا معاملہ بھی پاکستان سے جڑا ہوا ہے۔ مقامی سافٹ ویئر ہاؤسز اور تحقیقی ادارے پہلے ہی چپس کی بلند قیمتوں اور محدود فراہمی سے متاثر ہیں۔ اگر ریگولیٹرز کی جانچ کے نتیجے میں Nvidia کے کاروباری طریقوں میں شفافیت آتی ہے تو اس سے چھوٹے ممالک کے صارفین کو بھی بالواسطہ فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر یہ سودا بغیر کسی شرط کے مکمل ہو جاتا ہے تو اے آئی کی دنیا میں طاقت مزید چند بڑی کمپنیوں تک محدود ہونے کا خدشہ رہے گا۔
فی الحال یہ معاملہ تحقیقات کے مرحلے میں ہے اور اس کا نتیجہ آنے میں وقت لگ سکتا ہے۔ ہگنگ فیس کا سودا 2027 کی پہلی ششماہی میں مکمل ہونے کی توقع ہے، اور اس سے پہلے ریگولیٹرز کے سوالات اور Nvidia کے جوابات ہی یہ طے کریں گے کہ یہ معاہدہ اپنی موجودہ صورت میں آگے بڑھتا ہے یا اس پر کوئی شرائط عائد کی جاتی ہیں۔




