183 AI ٹولز، صفر ربط — اربوں کی سرمایہ کاری کہاں جا رہی ہے؟
نیویارک (نمائندہ خصوصی) — دنیا کی بڑی کمپنیاں مصنوعی ذہانت پر اربوں ڈالر لگا رہی ہیں۔ ہر ہفتے کوئی نیا AI ٹول خریدا جاتا ہے، ہر ٹیم اپنا چیٹ بوٹ بناتی ہے، ہر ڈیپارٹمنٹ اپنا ڈیش بورڈ سجاتا ہے۔ مگر ایک نئی تحقیق نے اس چمکتی تصویر کے پیچھے ایک تلخ حقیقت بے نقاب کی ہے: اوسطاً 183 AI ٹولز رکھنے کے باوجود 85 فیصد کمپنیوں کے پاس ان ٹولز کو آپس میں جوڑنے کا کوئی نظام ہی نہیں۔
یہ انکشاف WSJ Intelligence اور Code and Theory کی مشترکہ رپورٹ میں ہوا ہے، جو 801 بڑی امریکی کمپنیوں (ہر ایک کی سالانہ آمدنی 50 کروڑ ڈالر سے زائد) کے اعلیٰ افسران کے سروے پر مبنی ہے۔
آرکیسٹریشن گیپ: اصل مسئلہ
رپورٹ اس صورتحال کو "آرکیسٹریشن گیپ" کا نام دیتی ہے — AI لگانے اور AI کو ایک مربوط نظام کے طور پر چلانے کے درمیان بڑھتا ہوا فاصلہ۔
اعداد و شمار چونکا دینے والے ہیں:
- **183** — ایک اوسط کمپنی میں AI ٹولز کی تعداد
- **85 فیصد** — جن کے پاس ان ٹولز کو جوڑنے کا نظام نہیں
- **94 فیصد** — جو مانتے ہیں کہ ٹولز کی بہتر آرکیسٹریشن ترقی کے لیے ناگزیر ہے
- **پانچ میں سے تین** افسران کے مطابق ٹولز کی بھرمار سے عملی کام کی رفتار سست ہو گئی ہے
- **دو تہائی** کمپنیاں بار بار ایسے AI اخراجات دریافت کرتی ہیں جو دہرے نکلتے ہیں
- صرف **15 فیصد** کمپنیوں کے AI نظام ایک مربوط اکائی کے طور پر کام کر رہے ہیں
یعنی کمپنیاں جانتی ہیں کہ مسئلہ کیا ہے، مانتی بھی ہیں — مگر حل نہیں نکال پا رہیں۔
ذمہ دار کون؟ کوئی نہیں!
رپورٹ کا سب سے دلچسپ انکشاف قیادت کے حوالے سے ہے۔ AI آرکیسٹریشن کی ذمہ داری کس کی ہے؟ اس سوال پر:
- **42 فیصد** CEOs سمجھتے ہیں کہ یہ ان کی ذمہ داری ہے
- **57 فیصد** ٹیکنالوجی لیڈرز بھی یہی سمجھتے ہیں
- اور **چار میں سے ایک** کمپنی مانتی ہے کہ واضح طور پر کوئی ذمہ دار ہے ہی نہیں
یعنی جہاز کا کپتان کون ہے، یہی طے نہیں — اور جہاز میں 183 انجن لگے ہیں جو الگ الگ سمت میں زور لگا رہے ہیں۔
رکاوٹ ٹیکنالوجی نہیں، انسان ہیں
حیرت کی بات یہ ہے کہ افسران کے مطابق آرکیسٹریشن کی راہ میں رکاوٹیں تکنیکی نہیں، ثقافتی اور تنظیمی ہیں:
- **61 فیصد** — بند ذہنیت اور کارپوریٹ کلچر (ہر ڈیپارٹمنٹ اپنا ٹول، اپنا ڈیٹا)
- **58 فیصد** — بکھرا ہوا ڈیٹا اور ناہموار ڈیٹا ماڈلز
- **56 فیصد** — مرکزی آپریٹنگ لیئر کا فقدان
- **38 فیصد** — مہارتوں کی کمی
- **29 فیصد** — بجٹ
اور دو تہائی سے زائد کمپنیوں نے ابھی تک کسی مرکزی آرکیسٹریشن سسٹم کے لیے ٹینڈر (RFP) تک جاری نہیں کیا۔ یعنی مسئلہ تسلیم شدہ ہے، حل کی خریداری ابھی شروع بھی نہیں ہوئی۔
ROI کا دباؤ بڑھ رہا ہے
85 فیصد اعلیٰ افسران کہتے ہیں کہ اب AI کو ناپنے کے قابل منافع (ROI) دینا ہوگا۔ مگر ہو اس کے برعکس رہا ہے — جتنے ٹولز بڑھ رہے ہیں، اتنا ہی اسٹریٹجک عمل سست ہو رہا ہے۔ یہ وہ نکتہ ہے جہاں AI کی "تجرباتی" دور ختم ہو کر "احتسابی" دور شروع ہو رہا ہے۔ بورڈ رومز اب ڈیمو نہیں، ڈالر مانگ رہے ہیں۔
یہ خبر کیوں اہم ہے؟
اس رپورٹ کی اہمیت اس لیے دوچند ہے کہ یہ عین اس وقت آئی ہے جب گوگل، OpenAI اور Meta "AI ایجنٹس" کی دوڑ میں ہیں — ایسے ایجنٹس جو بکھرے ٹولز کی جگہ پورا کام خود سنبھالیں۔ دراصل یہ ایجنٹس اسی آرکیسٹریشن گیپ کو بیچنے کی کوشش ہیں: ایک ایجنٹ جو 183 ٹولز کے بجائے ایک مربوط نظام دے۔
جو کمپنیاں یہ خلا پُر کریں گی — چاہے ایجنٹس کے ذریعے یا مرکزی پلیٹ فارمز کے ذریعے — وہ اگلے پانچ سال کی انٹرپرائز مارکیٹ کی مالک ہوں گی۔ اور جو صرف ٹولز خریدتی رہیں گی، وہ اسی رپورٹ کے اعداد میں گم ہو جائیں گی۔
پاکستان کے لیے سبق
پاکستانی کاروباروں کے لیے یہ رپورٹ ایک مفت مشورہ ہے۔ یہاں بھی یہی نمونہ دہرایا جا رہا ہے — ایک چیٹ بوٹ یہاں، ایک AI ٹول وہاں، ہر ڈیپارٹمنٹ اپنی دوڑ میں۔ فرق صرف پیمانے کا ہے۔
سبق واضح ہے: پہلے ٹول سے پہلے نظام سوچیں۔ ایک چھوٹا کاروبار جس کے تین AI ٹولز آپس میں جڑے ہوں، اس بڑی کمپنی سے بہتر حالت میں ہے جس کے 183 ٹولز ایک دوسرے سے بات نہیں کرتے۔ AI میں جیت تعداد کی نہیں، ربط کی ہے۔



