ہانگ ژو، 14 اکتوبر 2026 (نیوز ڈیسک): چینی ٹیکنالوجی دیو علی بابا نے اپنی نئی نسل کی اے آئی عینک "کیوون گلاسز این 1" چین میں فروخت کے لیے پیش کر دی ہے۔ ہانگ ژو میں منگل کے روز منعقدہ ایک تقریب میں متعارف کرائی گئی اس عینک کی قیمت 2,999 یوآن (تقریباً 450 ڈالر) سے شروع ہوتی ہے، جبکہ اس کا بہتر ماڈل "این 1 پرو" 3,499 یوآن (تقریباً 500 ڈالر) میں دستیاب ہوگا۔ یہ عینک چین کی بڑی آن لائن دکانوں ٹاؤ باؤ، ٹی مال، جے ڈی ڈاٹ کام اور ڈوئن پر فروخت کے لیے رکھ دی گئی ہے، اور کمپنی اسے اپنے اے آئی معاون کیوون کو عام صارفین تک پہنچانے کا نیا راستہ قرار دے رہی ہے۔
نئی عینک میں 50 میگا پکسل کا کیمرہ نصب ہے جو 4K ویڈیو ریکارڈ کر سکتا ہے۔ اس میں ہڈیوں کے ذریعے آواز پہنچانے والا مائیکرو فون لگایا گیا ہے، جس کے ذریعے صارف کیوون سے آواز کے ذریعے براہ راست بات کر سکتا ہے۔ رپورٹس کے مطابق عینک میں زبانوں کا فوری ترجمہ، اجلاس کی خودکار نوٹس، آن لائن خریداری، ادائیگیوں اور صحت کی نگرانی جیسی سہولتیں بھی موجود ہیں۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ ایک بار چارج کرنے پر عینک 25 گھنٹے تک اسٹینڈ بائی پر رہتی ہے، یا مسلسل 9 گھنٹے موسیقی سنائی جا سکتی ہے۔ بلومبرگ کے مطابق یہ قیمت میٹا کی معروف رے بین اے آئی عینک کے برابر رکھی گئی ہے، یعنی علی بابا سستی قیمت کے بجائے معیار اور خصوصیات کے ذریعے مقابلہ کرنا چاہتی ہے۔
کیوون این 1 کی اہم خصوصیات
نئی عینک کی سب سے بڑی تبدیلی اس کا بہتر کیمرہ اور سینسر سسٹم ہے۔ پچاس میگا پکسل کا سینسر اور بہتر لینز اسے اس زمرے کی طاقتور ترین عینکوں میں سے ایک بناتے ہیں۔ اینالٹکس انڈیا میگزین کے مطابق صارف عینک پہنے ہوئے خریداری کر سکتا ہے، ادائیگیاں کر سکتا ہے اور اپنی صحت کی حالت کی نگرانی بھی کر سکتا ہے۔ ہڈیوں کے ذریعے آواز پہنچانے والی ٹیکنالوجی کا مطلب یہ ہے کہ عینک کے اسپیکر کی آواز باہر نہیں پھیلتی، بلکہ براہ راست صارف کی ہڈیوں کے ذریعے کان تک پہنچتی ہے، جس سے ہجوم والی جگہ پر بھی نجی گفتگو ممکن ہوتی ہے۔
این 1 پرو: آنکھوں کی حرکت کی شناخت اور آنکھ سے ادائیگی
این 1 پرو ماڈل میں ایک ایسی سہولت شامل ہے جو عام ماڈل میں نہیں: آنکھوں کی حرکت کی شناخت۔ رپورٹس کے مطابق پرو ماڈل صارف کی آنکھوں کی حرکت کو پہچان کر کمانڈ لے سکتا ہے، یعنی کئی کام محض دیکھنے سے انجام پائیں گے۔ اس کے ساتھ آنکھ کی رگوں کے ذریعے شناخت کر کے ادائیگی کی سہولت بھی متوقع ہے، جو چین میں پہلے سے مقبول چہرے اور ہتھیلی کی شناخت والی ادائیگیوں کا نیا روپ ہوگی۔ صحت کی بہتر نگرانی بھی پرو ماڈل کا حصہ ہے۔
کیوون اے آئی ہارڈ ویئر مصنوعات کے جنرل مینیجر وو جیان جون کے مطابق پرو ماڈل ان صارفین کے لیے ہے جو عینک کو اپنی روزمرہ زندگی کا مرکزی آلہ بنانا چاہتے ہیں۔
بوز کے ساتھ مل کر بنائے گئے ایئر بڈز
عینک کے ساتھ علی بابا نے "کیوون کلپ" نامی اے آئی ایئر بڈز بھی فروخت کے لیے پیش کیے ہیں، جو معروف ہیڈ فون ساز کمپنی بوز کے ساتھ مل کر تیار کیے گئے ہیں اور ان کی قیمت 1,299 یوآن (تقریباً 200 ڈالر) رکھی گئی ہے۔ یہ ان صارفین کے لیے سستا راستہ ہیں جو عینک خریدے بغیر کیوون معاون کو اپنے ساتھ رکھنا چاہتے ہیں۔
پس منظر: دوسری نسل اور مکمل اے آئی حکمت عملی
یہ علی بابا کی اے آئی عینک کی دوسری نسل ہے۔ پہلی نسل نومبر 2025 میں پیش کی گئی تھی، اور نئے ماڈل میں عینک کو کیوون کے ساتھ کہیں زیادہ گہرائی سے جوڑا گیا ہے۔ اب یہ صرف ایک گیجٹ نہیں بلکہ کمپنی کی مجموعی اے آئی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے۔ علی بابا خود کو چین کا "مکمل اے آئی فراہم کنندہ" قرار دیتی ہے، یعنی ڈیٹا سینٹرز اور بڑے زبان ماڈلز سے لے کر چپس اور صارفین کے آلات تک، ہر سطح پر اس کی موجودگی ہے۔ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو ایڈی وو نے گزشتہ ماہ اپسرا کانفرنس میں کہا تھا:
آگے چل کر ذہانت ہر جگہ موجود ہوگی، اور اے آئی تیزی سے ڈیسک ٹاپ اور موبائل کے ماحول میں داخل ہو رہی ہے۔
یہ بیان اس لانچ کا فلسفہ واضح کرتا ہے: اے آئی کو اسکرینوں سے نکال کر انسانی جسم کے ساتھ جوڑنا۔ عینک اور ایئر بڈز اسی سوچ کی عملی شکل ہیں۔
میٹا سے براہ راست مقابلہ
اس لانچ کی سب سے اہم بات اس کا ہدف ہے: میٹا۔ میٹا کی رے بین اے آئی عینک اس وقت اس شعبے میں سب سے آگے ہے، اور علی بابا نے قیمت بھی اسی کے برابر رکھی ہے۔ بلومبرگ کے مطابق میٹا گزشتہ ماہ اپنی عینکوں کی نئی قسم بھی پیش کر چکی ہے، جس میں کیمرہ نہیں ہے اور قیمت 349 ڈالر رکھی گئی ہے، جو بنیادی طور پر میٹا کے نئے اے آئی معاون میوز کے ساتھ بات چیت کے لیے بنائی گئی ہے۔ اس کے برعکس علی بابا کی عینک میں کیمرہ برقرار رکھا گیا ہے اور آنکھوں کی حرکت کی شناخت جیسی نئی سہولتیں شامل کی گئی ہیں۔
مالیاتی تجزیہ کاروں کے نزدیک اے آئی عینک اب اسمارٹ فون کے بعد کمپیوٹنگ کا اگلا بڑا پلیٹ فارم بننے کی دوڑ میں ہے۔ لوپ کیپیٹل کے تجزیہ کار روب سینڈرسن کے مطابق اس شعبے میں ایک اہم موڑ پہلے ہی آ چکا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ گوگل، سام سنگ، ایپل اور اسنیپ بھی اپنی اے آئی عینکیں تیار کر رہی ہیں۔ علی بابا نے اس دوڑ میں چین کی نمائندگی باقاعدہ کر دی ہے۔
تجزیہ: عینک اے آئی کا اگلا میدان کیوں ہے
اے آئی کی دنیا میں ایک خاموش مگر گہرا مقابلہ چل رہا ہے: اے آئی صارف تک کیسے پہنچے گی؟ اب تک جواب فون کی اسکرین تھی، لیکن بڑی کمپنیوں کو یقین ہے کہ اگلا جواب چہرے پر پہنا جانے والا آلہ ہوگا۔ عینک اس لیے خاص ہے کہ وہ دیکھنے اور سننے دونوں کے راستے پر بیٹھی ہے: کیمرہ وہی دیکھتا ہے جو صارف دیکھتا ہے، اور مائیک وہی سنتا ہے جو صارف سنتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اے آئی کو صارف کے ماحول کا مکمل سیاق ملتا ہے، جو فون کی اسکرین کبھی نہیں دے سکتی۔
علی بابا کی حکمت عملی میں ایک اور پہلو بھی ہے: ادائیگیاں اور خریداری۔ چین میں علی بابا کی ادائیگی اور خریداری کی سلطنت پہلے سے موجود ہے، اور عینک اسے صارف کے چہرے تک لے آتی ہے۔ بازار میں کھڑے ہو کر کسی چیز کی قیمت پوچھنا اور وہیں سے ادائیگی کر دینا اب ایک ہی آلے سے ممکن ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ اس لانچ کو صرف ایک گیجٹ کی خبر نہیں، بلکہ اے آئی کو روزمرہ معیشت میں داخل کرنے کی ایک بڑی چال قرار دیا جا رہا ہے۔
پاکستان کے لیے پیغام
پاکستان میں ابھی اے آئی عینک کا باقاعدہ بازار موجود نہیں، لیکن یہ خبریں یہاں کے صارفین اور کاروبار کے لیے بھی اہم ہیں۔ پہلی بات تو یہ کہ اے آئی کی دوڑ اب صرف چیٹ بوٹس تک محدود نہیں رہی، وہ پہننے کے قابل آلات تک پہنچ چکی ہے، اور آنے والے برسوں میں یہ آلات پاکستان کی درآمدی منڈیوں میں بھی نظر آئیں گے۔ 450 ڈالر کی قیمت موجودہ شرح کے مطابق تقریباً سوا لاکھ روپے بنتی ہے، یعنی یہ عام صارف کی پہنچ سے باہر ہے، لیکن ٹیکنالوجی کی قیمت وقت کے ساتھ گرتی ہے، جیسا کہ اسمارٹ فونز کے ساتھ ہوا۔
دوسری اہم بات پرائیویسی ہے۔ کیمرے والی عینک جہاں سہولت دیتی ہے، وہاں عوامی جگہوں پر ریکارڈنگ کے اصولوں کا سوال بھی اٹھاتی ہے، جس کے لیے پاکستان سمیت دنیا بھر کے قانون سازوں کو تیار ہونا ہوگا۔ تیسری بات کاروباری ہے: جو پاکستانی کمپنیاں آن لائن خریداری یا ادائیگیوں کے شعبے میں کام کر رہی ہیں، انہیں سمجھنا ہوگا کہ اے آئی کا اگلا رابطہ فون کی اسکرین نہیں، بلکہ چہرے پر پہنا جانے والا آلہ ہو سکتا ہے۔



