سان فرانسسکو، 13 اکتوبر 2026 (نیوز ڈیسک): سان فرانسسکو کے اسٹارٹ اپ مسٹ لیبس نے ایمبی کے نام سے ایسی AI ایپ لانچ کر دی ہے جو صارف کی گفتگو پورا دن سن سکتی ہے اور عین بات کے دوران مفید تجاویز اور معلومات پیش کر سکتی ہے۔ کمپنی نے پیر کو اعلان کیا کہ اس نے مختلف مراحل میں مجموعی طور پر 26 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کر لی ہے، جس میں معروف وینچر فرم لومینس وینچرز اور چینی الیکٹرانکس ساز کمپنی ہواچن سب سے بڑے سرمایہ کار ہیں۔
پلاڈ کے سابق ایگزیکٹو کا نیا منصوبہ
ایمبی کے بانی اور چیف ایگزیکٹو پیٹر مو اس سے پہلے AI ریکارڈر بنانے والی معروف کمپنی پلاڈ میں ایگزیکٹو تھے۔ انہوں نے ٹیک کرنچ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ذہانت کے ساتھ انسانوں کا تعامل اب بھی محدود ہے، اسکرین پر قید ہے، اور پلاڈ جیسے ہارڈویئر میں ریکارڈنگ کو فون تک پہنچنے، کلاؤڈ پر اپ لوڈ ہونے اور پروسیس ہونے کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسی خامی کو دور کرنے کے لیے ایمبی بنائی گئی ہے تاکہ AI کسی بھی وقت اور کہیں بھی استعمال ہو سکے۔
پیٹر مو نے ٹیک کرنچ کو بتایا، ذہانت کے ساتھ ہمارا تعامل محدود ہے، اکثر ذہانت اسکرین پر قید ہوتی ہے۔ اسی لیے ہم ایمبی اس طرح بنا رہے ہیں کہ AI کسی بھی وقت اور کہیں بھی استعمال ہو سکے۔
ایپ کرتی کیا ہے
ایمبی کی ایپس آئی فون، میک اور ایپل واچ کے لیے جاری کی جا رہی ہیں۔ یہ عام میٹنگ نوٹ ٹیکر کی طرح بھی کام کرتی ہیں، مگر صارف چاہے تو انہیں پس منظر میں سنتا چھوڑ سکتا ہے تاکہ پورے دن کا سیاق و سباق محفوظ ہو سکے۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کا AI ایجنٹ میٹنگ کے دوران ہی کام شروع کر دیتا ہے۔ آپ کے کیلنڈر، میٹنگز، نالج بیس اور ویب کے ڈیٹا کو دیکھ کر یہ عین اسی لمحے متعلقہ تجویز یا معلومات سامنے لا سکتا ہے، مثلاً گفتگو میں کوئی پرانا فیصلہ یاد دلانا یا کسی دستاویز کا حوالہ پیش کرنا۔
ایک اور خصوصیت یہ ہے کہ صارف ایک ڈیوائس پر کام شروع کر کے دوسری ڈیوائس پر وہیں سے جاری رکھ سکتا ہے۔ آئی فون پر چھوڑی گئی گفتگو میک پر بھی دستیاب ہوگی، اور ایپل واچ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہوگی۔
26 ملین ڈالر اور توسیعی منصوبے
کمپنی کے مطابق 26 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری متعدد راؤنڈز میں آئی ہے، اور اسے پری اے سرمایہ کاری کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ لومینس وینچرز وہی فرم ہے جس نے میتوان اور یونٹری روبوٹکس جیسی کمپنیوں کی حمایت کی ہے، جبکہ ہواچن چین کی ایک بڑی اصل ڈیزائن ساز کمپنی ہے۔
سرمایہ کاری کی رقم سافٹ ویئر سے آگے بڑھنے پر خرچ ہوگی۔ کمپنی کے مطابق آنے والی ڈیسک ٹاپ ایپ صارف کے کام کو دیکھ سکے گی اور اہم باتوں کو اپنی یادداشت میں محفوظ رکھے گی تاکہ آئندہ تجاویز زیادہ ذاتی نوعیت کی ہوں۔ اس شعبے میں لٹل برڈ اور منیمی جیسی ایپس پہلے سے یہی راستہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔
اس سے بھی بڑا منصوبہ اپنا ہارڈویئر ڈیوائس ہے۔ مسٹ لیبس ایک ایسا آلہ بنانا چاہتی ہے جس میں اسکرین، اسپیکر، کیمرہ اور مائیکروفون ہوں گے تاکہ اردگرد کا سیاق و سباق جمع ہو اور معلومات سامنے دکھائی جائیں۔ کمپنی کے پاس اس وقت 50 سے زائد افراد کام کر رہے ہیں، جن کے دفاتر سان فرانسسکو، بیجنگ، شنگھائی اور شینزین میں ہیں، اور وہ فروخت اور AI اسپیچ ریکگنیشن انجینئرز کی بھرتی بھی جاری ہے۔
رازداری کا بڑا سوال
ایمبی کی لانچ ایسے وقت میں ہوئی ہے جب مسلسل ڈیٹا جمع کرنے والے AI آلات پر تشویش بڑھ رہی ہے۔ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ آس پاس موجود لوگوں کو کیسے خبر ہو کہ ان کی گفتگو ریکارڈ ہو رہی ہے، خاص طور پر جب صارف خود اس کا اظہار نہ کرے۔ کچھ میٹنگ نوٹ ٹیکر کمپنیوں پر تو لوگوں کی گفتگو بغیر رضامندی ریکارڈ کرنے پر مقدمے بھی ہو چکے ہیں، اور ایپل کے آڈیو انٹیلی جنس فیچر پر بھی پرائیویسی کے اعتراضات سامنے آئے تھے۔
پیٹر مو کے مطابق ایمبی کی ایپس اور ڈیوائسز پر پس منظر کی ڈیٹا جمع آوری کسی بھی وقت بند کی جا سکتی ہے، اور یہ فیچر بطور ڈیفالٹ بند ہی رہتا ہے۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ وہ صارفین کی ریکارڈنگز محفوظ نہیں کرتی اور ڈیٹا انکرپٹ کرتی ہے، اگرچہ انکرپشن کی نوعیت واضح نہیں کی گئی۔ تاہم خبر کی ذمہ داری بالآخر صارف پر ہے کہ وہ دوسروں کو بتائے کہ ان کی گفتگو سنی جا رہی ہے۔
پیٹر مو نے تسلیم کیا، ہمیں اپنے صارفین کو بتانا ہوگا کہ وہ دوسروں کو پس منظر کی ریکارڈنگ کے بارے میں آگاہ کریں۔ یہ صنعت بھر کا مسئلہ ہے، اس کا حل ابھی تک کسی کے پاس نہیں۔
مارکیٹ میں بڑھتا رجحان
ماہرین کے مطابق AI کا ایک بنیادی وعدہ یہی ہے کہ وہ صارف کے بارے میں جتنا زیادہ جانے گا، اتنی ہی بہتر مدد کر سکے گا، اور یہ وعدہ اسی وقت پورا ہوتا ہے جب ایپس اور ڈیوائسز مسلسل سنیں، دیکھیں اور ریکارڈ کریں۔ اسی بنیاد پر اسٹارٹ اپس مسلسل سننے والی ایپس بنا رہے ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ ذاتی مدد کی مارکیٹ اتنی بڑی ہے کہ پرائیویسی کے خدشات اس کے سامنے دب جائیں گے۔
پاکستان کے صارفین کے لیے بھی یہ رجحان دلچسپ ہے۔ ملک میں فری لانسرز، ریموٹ ورکرز اور کاروباری افراد کی بڑھتی تعداد پہلے ہی میٹنگ نوٹ ٹیکر اور AI اسسٹنٹ استعمال کر رہی ہے۔ ایک ایسی ایپ جو میٹنگ کے دوران ہی معلومات پیش کرے، پیداواریت کے لیے کارآمد ہو سکتی ہے، مگر یہاں بھی وہی سوال اٹھے گا جو امریکہ اور یورپ میں اٹھ رہا ہے: دفتر، گھر یا کسی بیٹھک میں دوسرے لوگوں کی گفتگو بغیر اطلاع کے سننا اخلاقی اور قانونی دونوں لحاظ سے حساس معاملہ ہے۔
آگے کیا
ایمبی ابھی ابتدائی مراحل میں ہے، اور اس کی کامیابی اسی پر منحصر ہوگی کہ آیا صارفین زیادہ ذاتی مدد کے عوض مسلسل سننے کی قیمت دینے کو تیار ہیں یا نہیں۔ ہارڈویئر ڈیوائس کی تفصیلات اور قیمت ابھی سامنے نہیں آئیں، مگر کمپنی کا عزم واضح ہے: ذہانت کو اسکرین سے نکال کر زندگی کے ہر لمحے میں لے آنا۔ رازداری کے خدشات کے باوجود اگر یہ تجربہ کامیاب ہوا تو یہ AI اسسٹنٹس کے اس مرحلے کی ابتدا ہو سکتی ہے جہاں مدد مانگنے سے پہلے ملنا شروع ہو جائے۔



