سان فرانسسکو، 19 اکتوبر 2026 (نیوز ڈیسک): اے آئی لیب اینتھروپک نے اپنے دفتر کے اندر مصنوعی ذہانت کے اثرات پر مبنی ایک اندرونی رپورٹ جاری کی ہے۔ اس میں پہلی بار ٹھوس اعداد کے ساتھ بتایا گیا ہے کہ اے آئی ایجنٹس نے اس کے کام کا ماحول کس حد تک بدل دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ملازمین کے زیرِ ہدایت کام کرنے والے اے آئی ایجنٹ اگست 2026 تک ان انسانوں سے چھ گنا زیادہ گھنٹے کام کر رہے تھے جو انہیں ہدایات دیتے تھے۔ اسی عرصے میں کمپنی میں جونیئر ٹیکنیکل عملے کی بھرتی میں نمایاں کمی آئی ہے، اور ملازمین اب زیادہ وقت میٹنگوں میں گزار رہے ہیں۔
اینتھروپک کے تحقیقی ادارے نے یہ رپورٹ 16 اکتوبر کو جاری کی۔ یہ کمپنی کے اندرونی ڈیٹا اور 17 ملازمین کے انٹرویو پر مبنی ہے۔
اہم نتائج ایک نظر میں
2025 کے آغاز میں اینتھروپک کے ٹیکنیکل شعبوں میں جونیئر عملے کا حصہ 21 فیصد تھا جو اب گھٹ کر 14 فیصد رہ گیا ہے۔ نئی ٹیکنیکل بھرتیوں میں جونیئر حصہ اس سے بھی تیزی سے گرا ہے۔ یہ شرح 27 فیصد سے گھٹ کر صرف 9 فیصد رہ گئی ہے۔ دسمبر 2025 سے جونیئر عہدوں کے اشتہارات میں نمایاں کمی آئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، اپریل تک انجینئرنگ اور ریسرچ ٹیموں نے نچلے درجے کی ٹیکنیکل بھرتی کو ترجیح دینا ہی بند کر دیا تھا۔ اسی سال اپریل میں ہونے والے ایک سروے میں تقریباً ایک تہائی مشین لرننگ مینیجرز اور ایک پانچواں سوفٹ ویئر انجینئرنگ مینیجرز نے کہا کہ اے آئی کی وجہ سے وہ کم بھرتی کر رہے ہیں۔
دوسری طرف اے آئی ایجنٹس کے کام کے گھنٹے تیزی سے بڑھے ہیں۔ مارچ 2026 میں اینتھروپک کے اندرونی اے آئی ایجنٹس نے پہلی بار ان انسانوں سے زیادہ گھنٹے کام کیے جو انہیں استعمال کرتے تھے۔ اگست تک یہ تناسب 6:1 تک پہنچ گیا۔ یعنی ہر ایک انسانی گھنٹے کے مقابلے میں ایجنٹ چھ گھنٹے کام کر رہے تھے۔ ریسرچ شعبوں میں یہ تناسب 19:1 تک گیا۔
پیداوار کے اعداد بھی قابلِ ذکر ہیں۔ ہر انجینئر چھ ماہ پہلے کے مقابلے میں 5.1 گنا زیادہ کوڈ کمیٹس کر رہا تھا۔ ڈیٹا سائنسدان 3.1 گنا زیادہ کوئریز چلا رہے تھے۔ قانونی ٹیم 3.1 گنا زیادہ معاہدے پروسیس کر رہی تھی۔ سیلز ٹیم 1.7 گنا زیادہ ڈیلز بند کر رہی تھی۔ بھرتی کا شعبہ 1.4 گنا زیادہ لوگ بھرتی کر رہا تھا اور اکاؤنٹنگ ٹیم 1.4 گنا زیادہ انوائسز نمٹا رہی تھی۔
جونیئر ملازمت کی سیڑھی سکڑ رہی ہے
رپورٹ کا سب سے زیادہ بحث شدہ حصہ نوجوان اور کم تجربہ رکھنے والے تکنیکی عملے کا ہے۔ جونیئر ملازمین معمول کی کوڈنگ، ٹیسٹنگ اور ڈیبگنگ کر کے ہی فیصلہ سازی اور سسٹمز کی سمجھ حاصل کرتے ہیں۔ اب انہی کاموں کو اے آئی ٹولز تیزی سے انجام دے رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، اینتھروپک کے ایجنٹ اگست 2026 تک انسانی ملازمین سے چھ گنا زیادہ گھنٹے کام کر رہے تھے، اور کوڈ لکھنا اور کیڑے ڈھونڈنا جیسے کام بڑھتی ہوئی شرح سے کلاڈ کے سپرد کیے جا رہے تھے۔
ماہرین کے مطابق اس سے بھرتی کا ایک مشکل چکر جنم لیتا ہے۔ جونیئر عملہ وہی بنیادی کام کر کے تجربہ حاصل کرتا ہے جو اب اے آئی تیزی سے کر رہا ہے۔ اگر ان کاموں تک رسائی کم ہو جائے گی تو سینئر صلاحیت تک کا راستہ بھی کم سیدھا ہو جائے گا۔ رپورٹ خود تسلیم کرتی ہے کہ اس سے جونیئر بھرتی کی سست روی کا کوئی حل نہیں نکلتا۔ اینتھروپک کہتا ہے کہ وہ ان ملازمتوں کے لیے ایک پیشگی انتباہی نظام بنا رہا ہے جنہیں خطرہ لاحق ہو سکتا ہے، لیکن کمپنی کے مطابق یہ بھی اس مسئلے کا حل نہیں ہے۔
انسان کی توجہ اب سب سے بڑی رکاوٹ
رپورٹ کا ایک اور اہم انکشاف یہ ہے کہ کام کی نوعیت بدل گئی ہے۔ انسانی ملازمین اب کم کام "خود" کرتے ہیں اور زیادہ کام "نگرانی" کا کرتے ہیں۔ انٹرایکٹو کلاڈ سیشنز میں کام کی منصوبہ بندی اور ہم آہنگی کا حصہ 10 فیصد سے بڑھ کر 22 فیصد ہو گیا ہے۔ ملازمین کا میٹنگوں میں گزارا گیا وقت سال بہ سال 20 فیصد بڑھا ہے۔ ٹیکنیکل عملے کے لیے یہ اضافہ 16 فیصد رہا۔ غیر ٹیکنیکل عملے کو اب ہفتے کا آدھے سے زیادہ وقت اے آئی کے تیار کردہ کام کا جائزہ لینے میں گزارنا پڑتا ہے۔
کلاڈ سیشنز میں انسانوں کا تقریباً 80 فیصد وقت ان پٹ کے انتظار میں گزرتا ہے۔ یعنی پیداوار کی سب سے بڑی رکاوٹ اب انسانی توجہ ہے۔ کمپنی کے ٹیکنیکل شعبوں کا ورک فورس میں حصہ بھی 61 فیصد سے گھٹ کر 56 فیصد رہ گیا ہے۔ ٹیکنیکل بھرتی مطلق تعداد میں بڑھی ہے، لیکن سیلز، فنانس اور بھرتی کے شعبے اس سے تیزی سے بڑھے ہیں۔ انتظامی عہدے آہستہ بڑھے ہیں۔ ایجنٹ اسسٹنٹس، خودکار جائزے اور آؤٹ سورس کی گئی ٹکٹ ہینڈلنگ ان کا زیادہ تر کام سنبھال رہے ہیں۔
رپورٹ خود اپنی حدود بھی بتاتی ہے
اینتھروپک نے خود خبردار کیا ہے کہ اس کے تجربے کو عام معیشت پر لاگو نہیں کیا جا سکتا۔ رپورٹ کے مطابق، اینتھروپک ایک غیر معمولی صورت حال ہے۔ یہ فرنٹیئر اے آئی کمپنی اپنے جدید ترین ماڈل خود استعمال کرتی ہے اور کام کو تیزی سے بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کمپنی کی ملازمت سے متعلق بہت سے طریقوں کو معیشت کے دوسرے حصوں میں دہرایا نہیں جا سکتا، اس لیے یہ اعداد ہر دفتر پر لاگو نہیں ہوتے۔
کاروبار کی تیز رفتار نمو اور ملازمین کی اپنی مرضی سے ٹولز اپنانے کی عادت بھی اعداد کو متاثر کر سکتی ہے۔ اب تک وسیع معیشت میں اے آئی سے کوئی قابلِ پیمائش پیداواری فائدہ ظاہر نہیں ہوا ہے۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ یہ نتائج کسی کنٹرول شدہ تجربے کی طرح نہیں ہیں، کیونکہ ٹولز اپنانے والے اور نہ اپنانے والوں کا موازنہ بے ترتیب نہیں تھا۔
پاکستان کے لیے کیا معنی ہیں
پاکستان کی سوفٹ ویئر انڈسٹری تیزی سے بڑھ رہی ہے اور ہر سال ہزاروں نوجوان کمپیوٹر سائنس کی ڈگری کے ساتھ مارکیٹ میں داخل ہوتے ہیں۔ اینتھروپک کی رپورٹ ان کے لیے ایک پیشگی انتباہ ہے۔ جب دنیا کی جدید ترین کمپنیاں معمول کی کوڈنگ اور ڈیبگنگ ایجنٹوں سے کرا رہی ہیں تو ابتدائی درجے کی ملازمتوں کا مقابلہ بدل جائے گا۔ نوجوان ڈویلپرز کے لیے اب صرف کوڈ لکھنا کافی نہیں ہوگا۔ سسٹمز کی سمجھ، اے آئی ٹولز کی نگرانی اور پیچیدہ مسائل حل کرنے کی صلاحیت زیادہ اہم ہو جائے گی۔
تربیتی اداروں اور یونیورسٹیوں کو بھی اپنے نصاب پر نظر ثانی کرنی پڑے گی۔ اگر صنعت میں داخلے کی پہلی سیڑھی سکڑ رہی ہے تو طلبہ کو ان مہارتوں کی طرف دھکیلنا ہوگا جو ایجنٹ آسانی سے نہیں دے سکتے۔ فیصلہ سازی، ڈیزائن اور ذمہ دار نگرانی وہ شعبے ہیں جہاں انسانی کردار باقی رہے گا۔
دوسری طرف، رپورٹ یہ بھی بتاتی ہے کہ پیداوار بڑھنے سے کمپنیوں کی مانگ بھی بڑھی ہے۔ اینتھروپک کی ورک فورس اسی عرصے میں تین گنا بڑھی ہے۔ یعنی اے آئی نے کام ختم نہیں کیا، کام کی نوعیت بدل دی ہے۔ پاکستان کی سوفٹ ویئر کمپنیوں کے لیے سبق یہ ہے کہ ایجنٹس کو اپنانے والے ادارے زیادہ پیداوار دے سکیں گے۔ جو اس تبدیلی سے پیچھے رہیں گے وہ مقابلے میں پیچھے رہ جائیں گے۔
مجموعی طور پر، اینتھروپک کی یہ رپورٹ اس سوال کا پہلا تفصیلی جواب ہے جو دنیا بھر کے مینیجر، ملازم اور تربیتی ادارے پوچھ رہے ہیں: جب اے آئی معمول کا کام سستا کر دے تو اس کی جگہ کون سا کام بڑھتا ہے، اور کوئی کمپنی کیسے جانے کہ وہ واقعی زیادہ پیداوار دے رہی ہے یا صرف محنت کو ایسی نگرانی میں منتقل کر رہی ہے جو نظر نہیں آتی۔




