سان فرانسسکو، 22 اکتوبر 2026 (نیوز ڈیسک): اینتھروپک نے اپنا نیا اے آئی ایجنٹ کلاڈ ڈوئٹ متعارف کرا دیا ہے۔ یہ ایک ایسی ایپ ہے جو صارف کے کہنے سے پہلے ہی کام کی طرف بڑھتی ہے۔ کلاڈ ڈوئٹ عام چیٹ بوٹ کی طرح سوال کا جواب دینے کا انتظار نہیں کرتا۔ یہ صارف کی ایپس پر نظر رکھتا ہے۔ اہم چیزیں خود سامنے لاتا ہے۔ اور دیے گئے کام پس منظر میں خود مکمل کرتا ہے۔ کمپنی نے اسے پیشہ ور افراد اور چھوٹے کاروبار کے مالکان کے لیے تیار کیا ہے۔
روئٹرز کے مطابق ڈوئٹ ہر صبح مختصر بریفنگ بھیجتا ہے۔ میٹنگز کا شیڈول بناتا ہے۔ مالیاتی پیش گوئیاں تیار کرتا ہے۔ اور ویب ایپس بھی بنا سکتا ہے۔ اینتھروپک نے اسے بدھ 21 اکتوبر کو ویٹ لسٹ کے ذریعے تحقیقی پیش نظارے کے طور پر جاری کیا ہے۔ فی الحال یہ صرف امریکہ میں پرو اور میکس پلانز کے صارفین کے لیے دستیاب ہے۔
ایک ایسا معاون جو خود بات کرتا ہے
کلاڈ ڈوئٹ کی سب سے بڑی خوبی اس کا خودکار ہونا ہے۔ عام چیٹ میں صارف ہدایت دیتا ہے اور جواب ملتا ہے۔ ڈوئٹ اس کے برعکس اپنا کام خود شروع کرتا ہے۔ یہ ہر چند گھنٹوں بعد صارف کے منسلک اکاؤنٹس کی جانچ کرتا ہے۔ جب کوئی چیز توجہ مانگتی ہے تو وہ صارف کو پیغام بھیجتا ہے۔
ڈوئٹ صارف کی یادداشت، مہارتوں اور کنیکٹرز کو اپنے ساتھ استعمال کرتا ہے۔ یہ ماضی کی گفتگو بھی تلاش کر سکتا ہے۔ اس لیے صارف کو ایک بات بار بار دہرانی نہیں پڑتی۔ ساری بات چیت ایک ہی جاری تھریڈ میں ہوتی ہے۔
اینتھروپک نے اعلان میں کہا ہے:
کلاڈ ڈوئٹ کو آپ اس طرح پیغام بھیجتے ہیں جیسے کسی انسان کو بھیجتے ہیں۔ آپ کو جو چاہیے وہ لکھیں یا بولیں، اور یہ آپ کی منسلک ایپس میں کام کرتا ہے۔ جب کسی چیز پر آپ کی توجہ درکار ہوتی ہے تو یہ آپ کو بتاتا ہے۔ اور یہ اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ پیغام بھیجنے، ادائیگی کرنے، دستاویز پر دستخط کرنے یا کچھ ڈیلیٹ کرنے سے پہلے آپ سے پوچھے۔
ڈوئٹ اپنے کلاؤڈ کمپیوٹر پر چلتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صارف فون بند کر دے یا ایپ بند کر دے، تب بھی یہ کام جاری رکھتا ہے۔
وصول شدہ بلوں سے لے کر خریداری تک
کلاڈ ڈوئٹ چھ ہزار سے زائد کنیکٹرز سے جڑ سکتا ہے۔ ان میں Gmail اور Slack جیسی مقبول ایپس شامل ہیں۔ کمپنی کے مطابق یہ ایجنٹ ادھورے چھوڑے گئے بلوں کی جانچ کر سکتا ہے۔ ادائیگی کی یاددہانی کے مسودے بنا سکتا ہے۔ اور گاہکوں کے لیے پیروی کے پیغامات تیار کر سکتا ہے۔
خریداری کا پہلو بھی قابل ذکر ہے۔ ڈوئٹ Stripe کے ڈیجیٹل والیٹ Link کے ذریعے خریداری کر سکتا ہے۔ Shopify کے Shop Pay سے آن لائن دکانوں پر ادائیگی بھی ممکن ہے۔ ڈوئٹ پہلے چیز صارف کو دکھاتا ہے۔ پھر Link خرچ کی منظوری مانگتا ہے۔ ادائیگی ورچوئل کارڈ سے ہوتی ہے۔ اس طرح اصل کارڈ نمبر کہیں شیئر نہیں ہوتا۔
وینچر بیٹ کے مطابق ڈوئٹ ایک مکمل ڈیمو کے طور پر بھی کام کرتا ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ اینتھروپک چاہتا ہے کہ اے آئی ایجنٹ روزمرہ کے کاروباری کاموں میں حصہ لیں۔ کئی سسٹمز سے معلومات نکالیں۔ اور فیصلہ کریں کہ کس چیز کو توجہ دینی ہے۔
حفاظت اور رازداری کے اقدامات
اینتھروپک کا کہنا ہے کہ ڈوئٹ صارف کی پاسورڈ یا لاگ ان معلومات نہیں دیکھتا۔ اس میں ایک خاص کلاسیفائر اور حفاظتی ہدایات کا نظام لگایا گیا ہے۔ یہ ہر پیغام کی جانچ کرتا ہے۔ اور حساس معلومات کے لیک ہونے سے روکتا ہے۔
حساس کاموں کے لیے صارف کی منظوری لازمی ہے۔ ان میں پیغام بھیجنا، ادائیگی کرنا، دستاویز پر دستخط کرنا اور فائل ڈیلیٹ کرنا شامل ہیں۔ کمپنی نے یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ ڈوئٹ بعض اوقات صورتحال کی شدت کا غلط اندازہ لگا سکتا ہے۔ ذاتی نوعیت کے کاموں، جیسے ٹکٹ بکنگ، میں یہ اتنا مؤثر نہیں رہتا۔
یہ اعتراف اہم ہے کیونکہ اے آئی ایجنٹس کی حفاظت پر سوالات بڑھ رہے ہیں۔ اس پس منظر میں ڈوئٹ کا ہر حساس قدم پر منظوری مانگنا قابل توجہ ہے۔
اوپن اے آئی اور میٹا سے براہ راست مقابلہ
کلاڈ ڈوئٹ ایسے وقت میں آیا ہے جب اے آئی ایجنٹس کی جنگ تیز ہو رہی ہے۔ گزشتہ ماہ اوپن اے آئی نے ہمیشہ چالو رہنے والے ڈاٹس ایجنٹس لانچ کیے تھے۔ یہ Slack اور Microsoft Teams جیسی ایپس میں صارف کے اہداف پورے کرتے ہیں۔ میٹا کا میوز ایجنٹ بھی اس دوڑ میں آگے ہے۔ TechCrunch کے مطابق میوز کے دس ملین سے زائد صارفین ہو چکے ہیں۔ خریداری اس کی سب سے مقبول سرگرمیوں میں سے ایک ہے۔ میک رمرز کے مطابق ڈوئٹ بھی اسی طرح کا خودکار ایجنٹ ہے جو صارف سے پوچھنے سے پہلے اس کی طرف بڑھتا ہے۔
اینتھروپک نے ڈوئٹ کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے:
کلاڈ ڈوئٹ کو اتنا مفید بنانے والی چیز اس کی فہم ہے۔ ہم نے اسے کلاڈ اوپس 5.5 کے گرد ڈیزائن کیا ہے۔ اور اسے وسائل سے بھرپور بنایا ہے تاکہ یہ فیصلہ کر سکے کہ کس چیز کو آپ کی ضرورت ہے، کیا انتظار کر سکتا ہے اور کب پہلے آپ سے پوچھنا ہے۔
کب اور کس کے لیے دستیاب
فی الحال ڈوئٹ تحقیقی پیش نظارے میں ہے۔ رسائی ویٹ لسٹ کے ذریعے مرحلہ وار دی جا رہی ہے۔ یہ امریکہ میں پرو اور میکس پلانز کے صارفین کے لیے ہے۔ ٹیم اور انٹرپرائز پلانز میں یہ ابھی دستیاب نہیں ہے۔ ڈوئٹ کے لیے کوئی اضافی فیس نہیں ہے۔ یہ موجودہ پلان کی حدود میں شامل ہے۔ لیکن پس منظر میں کیے جانے والے کام بھی ان حدود میں شمار ہوں گے۔ کمپنی نے خبردار کیا ہے کہ صارف صرف چیٹ سے پہلے ان حدود کو چھو سکتے ہیں۔ ایپ آئی او ایس، اینڈروئیڈ اور claude.ai پر چلتی ہے۔ اینتھروپک نے ابھی ڈوئٹ کی API یا انٹرپرائز منصوبے کا اعلان نہیں کیا ہے۔
پس منظر: ایجنٹس کی جنگ کا نیا مرحلہ
اے آئی ایجنٹس کی ترقی اس سال کی سب سے بڑی ٹیکنالوجی کہانیوں میں سے ایک ہے۔ چیٹ بوٹس سوالوں کے جواب دیتے تھے۔ ایجنٹس اب کام بھی کرتے ہیں۔ وہ ایپس کھولتے ہیں۔ معلومات اکٹھی کرتے ہیں۔ اور فیصلے لے کر عمل کرتے ہیں۔ بڑی کمپنیاں اس میدان کو مستقبل کا میدان جنگ سمجھ رہی ہیں۔ جو کمپنی ایجنٹ کو صارف کی روزمرہ زندگی میں اتارے گی، وہی ڈیٹا اور عادتوں کی جنگ جیتے گی۔ ڈوئٹ کا زور چھوٹے کاروباروں اور پیشہ ور افراد پر ہے۔ یہ ایک مخصوص گاہک طبقے کو نشانہ بنانے کی کوشش ہے۔
پاکستان کے لیے اس کا کیا مطلب ہے
فی الحال کلاڈ ڈوئٹ صرف امریکہ کے صارفین کے لیے ہے۔ پاکستانی صارفین اسے ابھی استعمال نہیں کر سکتے۔ لیکن اس کی خبروں میں پاکستان کے لیے بھی سبق ہیں۔
پہلی بات، ایجنٹس کی یہ جنگ پاکستانی اسٹارٹ اپس کے لیے موقع ہے۔ چھوٹے کاروباروں کے لیے خودکار معاونین کی مانگ بڑھ رہی ہے۔ جو مقامی کمپنی اردو اور پاکستانی کاروباری ماحول کے مطابق ایجنٹ بنائے گی، اسے بازار ملے گا۔
دوسری بات، ادائیگی کا نظام۔ ڈوئٹ Stripe کے Link اور Shop Pay سے خریداری کرتا ہے۔ پاکستان میں یہ سہولتیں محدود ہیں۔ یہاں کے ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام ابھی اس سطح پر نہیں کہ ایجنٹ ان پر محفوظ خریداری کر سکے۔ یہ فرق مقامی فن ٹیک کمپنیوں کے لیے ایک خلا بھی ہے۔
تیسری بات، حفاظت کا سوال۔ اینتھروپک کا ہر حساس قدم پر منظوری مانگنا ایک اچھا نمونہ ہے۔ پاکستانی بینک اور کاروباری ایپس جب ایجنٹ شامل کریں گے، انہیں بھی اسی معیار کی پیروی کرنی چاہیے۔
ایجنٹس کی یہ دوڑ ابھی شروع ہوئی ہے۔ ڈوئٹ کے تجربے سے پاکستانی صارفین اور کاروبار سیکھ کر خود کو تیار رکھ سکتے ہیں۔




