سان فرانسسکو، 4 نومبر 2026 (نیوز ڈیسک): اینتھروپک (Anthropic) نے ایک ایسا اوپن سورس تحقیقی نظام پیش کر دیا ہے جو یہ ثابت کر سکتا ہے کہ اسکرین پر نظر آنے والا جواب واقعی اسی اے آئی ماڈل نے دیا ہے جس کا نام صارف کو بتایا گیا تھا۔ فلیش پروو (FlashProve) نامی یہ نظام کرپٹوگرافک ثبوت استعمال کرتا ہے، یعنی جواب کے ساتھ ریاضی کی ایک ایسی دلیل لگی ہوتی ہے جسے ماڈل کے خفیہ وزن دیکھے بغیر پرکھا جا سکتا ہے۔ کمپنی نے یہ تحقیق 2 نومبر کو شائع کی ہے۔
آج صارف ماڈل کو سوال بھیجتا ہے اور جواب پا لیتا ہے، مگر اس کے پاس یہ جانچنے کا کوئی آزاد ذریعہ نہیں ہوتا کہ جواب کس ماڈل نے دیا۔ جواب اچھا لگے تو بھی یہ یقین نہیں ملتا کہ پیچھے وہی ماڈل تھا جس کے لیے ادائیگی کی گئی تھی۔ محققین کے مطابق یہی خلا فلیش پروو کا ہدف ہے۔
مسئلہ: جواب تو مل جاتا ہے، یقین نہیں ملتا
اے آئی کی دنیا میں ماڈل کی تبدیلی کا خطرہ اب محض نظریاتی نہیں رہا۔ کوئی فراہم کنندہ لاگت بچانے کے لیے خاموشی سے سستا ماڈل چلا سکتا ہے، یا بینچ مارک میں بہتر نمبر دکھانے کے لیے زیادہ طاقتور ماڈل پیش کر سکتا ہے۔ اسی طرح کوئی کمپنی یہ دعویٰ کر سکتی ہے کہ اس کے سافٹ ویئر کی جانچ کسی جدید سائبر سیکیورٹی ماڈل سے کرائی گئی، مگر صارف کے پاس اس دعوے کی تصدیق کا کوئی طریقہ نہیں ہوتا۔ گفتگو کا ریکارڈ بھی کافی نہیں، کیوں کہ اسے بھی جعلی بنایا جا سکتا ہے۔
محققین نے اسے ایک سادہ مثال سے سمجھایا ہے:
جب آپ کسی دوست سے روبرو بات کرتے ہیں تو آپ کے پاس کئی طریقے ہوتے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ واقعی وہی شخص ہے۔ اے آئی ماڈل سے بات کرتے ہوئے آپ کے پاس تقریباً کوئی طریقہ نہیں ہوتا۔
فلیش پروو کیسے کام کرتا ہے
فلیش پروو کی بنیاد قابل تصدیق انفرنس (provable inference) کا تصور ہے: جواب دینے والا فریق جواب کے ساتھ ایک کرپٹوگرافک ثبوت بھی بھیجتا ہے جو ریاضی کی بنیاد پر ثابت کرتا ہے کہ فلاں جواب فلاں ماڈل نے دیا ہے۔ اس قسم کے ثبوت کو صفر علمی ثبوت (zkSNARK) کہتے ہیں۔ صفر علمی کا مطلب یہ ہے کہ ثبوت ماڈل کے وزن کے بارے میں کچھ ظاہر نہیں کرتا، اور مختصر کا مطلب یہ ہے کہ اس کی جانچ اصل حساب چلانے کے مقابلے میں بہت تیزی سے ہو جاتی ہے۔
اس نظام میں دو مرحلے ہوتے ہیں۔ پہلے مرحلے میں فراہم کنندہ اپنے ماڈل کے وزن کا ایک مختصر کرپٹوگرافک عہد شائع کرتا ہے، جسے ماڈل کا فنگر پرنٹ سمجھا جا سکتا ہے۔ یہ فنگر پرنٹ وزن کو چھپا کر رکھتا ہے، مگر وزن کی ایک مخصوص ترتیب کو طے کر دیتا ہے۔ دوسرے مرحلے میں ہر جواب کے ساتھ ثبوت منسلک ہوتا ہے جسے اسی فنگر پرنٹ سے ملا کر جانچا جاتا ہے۔
اس طریقے کی بڑی خوبی یہ ہے کہ تصدیق کے لیے ماڈل کو دوبارہ چلانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اینتھروپک کے مطابق تصدیق عام کمپیوٹر پر سیکنڈوں میں ہو سکتی ہے۔ تجارتی ماڈلز کے ساتھ بھی یہ نظام چل سکتا ہے، کیوں کہ وزن خفیہ رہتے ہیں۔
آزمائش میں کیا نکلا
اینتھروپک نے فلیش پروو کی آزمائش میٹا (Meta) کے لاما 4 میورک (Llama 4 Maverick) پر کی، جو 400 ارب پیرامیٹرز والا ماڈل ہے اور ماہر نظاموں کے امتزاج (Mixture-of-Experts) پر مبنی ہے۔ آزمائش میں 4 بٹ کوانٹائزڈ وزن استعمال ہوئے۔ ایک ایچ 100 (H100) گرافکس پروسیسر پر ثبوت تقریباً 110 ٹوکن فی سیکنڈ کی رفتار سے بنے، اور 1024 ٹوکن کے جواب کے لیے ثبوت کا حجم تقریباً 19 میگا بائٹ رہا۔
یہ رفتار پہلے کے اوپن سورس نظاموں سے کہیں بہتر ہے، مگر اس کی قیمت بھی ہے۔ ثبوت بنانے پر وی ایل ایل ایم (vLLM) نامی عام اوپن سورس لائبریری سے ماڈل چلانے کے مقابلے میں تقریباً 70 سے 95 گنا زیادہ گرافکس پروسیسر وقت صرف ہوا۔ واضح رہے کہ یہ آزمائش مخصوص شرائط میں ہوئی تھی، اس لیے یہ اعداد موجودہ حالت بتاتے ہیں، حتمی کارکردگی نہیں۔
اس تحقیق کے ساتھ کمپنی نے تکنیکی رپورٹ، پروٹوکول کی تفصیلی دستاویز، قابل عمل کوڈ اور لین (Lean) میں ریاضیاتی ثبوت بھی اوپن سورس کر دیے ہیں۔ یہ تمام مواد اپاچی 2.0 (Apache 2.0) لائسنس کے تحت جاری ہوا ہے۔
ریگولیٹرز اور آڈیٹرز کے لیے یہ کیوں اہم ہے
اینتھروپک نے اس نظام کے چار بڑے استعمالات گنائے ہیں۔ پہلا، ترقی کی رفتار پر نظر رکھنا: اگر کسی فراہم کنندہ کو پابند کیا جائے کہ اس کا ہارڈویئر صرف جواب دینے کے لیے استعمال ہو، تربیت کے لیے نہیں، تو ثبوت سے یہ جانچا جا سکے گا کہ ہارڈویئر واقعی وہی ماڈل چلا رہا تھا۔ دوسرا، چھیڑ چھاڑ کی نشاندہی: اگر کوئی حملہ آور سرور سے چھیڑ چھاڑ کر کے جواب بدل دے، یا کوئی زیادہ طاقتور ماڈل خود کو کمزور ماڈل ظاہر کرے، تو درست ثبوت کے بغیر اس کی چال پکڑی جا سکتی ہے۔
تیسرا استعمال تحریر کی اصل کا ثبوت ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی کمپنی دعویٰ کرے کہ اس کے کاروباری منصوبے کی منظوری کسی مناسب ماڈل نے دی ہے، تو ثبوت سے اس دعوے کی تصدیق ہو سکتی ہے۔ چوتھا استعمال منظور شدہ ماڈلز کا نفاذ ہے: اگر ضوابط کے تحت صرف منظور شدہ ماڈل چلانے کی اجازت ہو تو ریگولیٹر ہر جواب کے ساتھ منسلک ثبوت سے یہ جانچ سکتا ہے کہ غیر منظور شدہ ماڈل تو نہیں چلایا گیا۔
اینتھروپک نے اپنے فرنٹیئر سیفٹی روڈ میپ میں 30 ستمبر 2026 تک قابل تصدیق انفرنس کا نمونہ تیار کرنے کا عوامی ہدف طے کیا تھا۔ کمپنی کے مطابق وہ ہدف ایک متعلقہ منصوبے سے پورا ہو چکا ہے، اور فلیش پروو اسی مقصد کو ایک اور طریقے سے آگے بڑھاتا ہے۔
حدود: یہ ابھی مکمل حل نہیں
سب سے اہم بات یہ ہے کہ فلیش پروو ابھی ایک تجرباتی نمونہ ہے، باقاعدہ پروڈکٹ نہیں۔ اینتھروپک نے واضح کیا ہے کہ فی الحال اسے کسی مصنوعات میں لانے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ محققین نے خود لکھا ہے:
یہ تحقیقی تحریر درمیانی پیش رفت کو سامنے لانے کے لیے ہے، مکمل تحقیقی ایجنڈا نہیں۔ ہم اسے اس لیے شائع کر رہے ہیں تاکہ دوسرے لوگ ہمارے کام کو دیکھیں، اسے لیں اور اس میں بہتری لائیں۔
دوسری حد لاگت کی ہے: ہر جواب کے لیے 70 سے 95 گنا اضافی خرچ فی الحال عملی نہیں لگتا۔ تیسری حد یہ ہے کہ ثبوت صرف یہ ثابت کرتا ہے کہ جواب اسی وزن سے بنا جس کا عہد کیا گیا تھا، یہ خود یہ ثابت نہیں کرتا کہ فراہم کنندہ نے شروع میں درست ماڈل کا عہد کیا تھا۔ اس لیے ماہرین کے نزدیک یہ نظام اعتماد کی زنجیر کا ایک کڑا ہے، پوری زنجیر نہیں۔
پاکستان کے قارئین کے لیے اس کا مطلب
پاکستان میں سافٹ ویئر ہاؤسز، اسٹارٹ اپس اور فری لانسرز تیزی سے بیرونی اے آئی ماڈلز کی اے پی آئی استعمال کر رہے ہیں، اور ہر ٹوکن کی قیمت ادا کرتے ہیں۔ اگر مستقبل میں اس طرح کی تصدیق عام ہو گئی تو ایک پاکستانی کاروبار بھی یہ جانچ سکے گا کہ اسے واقعی وہی ماڈل ملا جس کے لیے اس نے ادائیگی کی تھی، نہ کہ کوئی سستا متبادل۔ اسی طرح بینکوں، صحت کے اداروں اور سرکاری منصوبوں میں، جہاں آڈٹ ضروری ہوتا ہے، ماڈل کی تصدیق شدہ شناخت ایک دستاویزی ثبوت بن سکتی ہے۔
تاہم فی الحال یہ سب مستقبل کی بات ہے: فلیش پروو آج کسی صارف کی اسکرین پر کوئی نیا بٹن یا بیج نہیں لگاتا۔ اس کی اہمیت یہ ہے کہ اعتماد کا سوال اب صرف کمپنی کے وعدے پر نہیں چھوڑا جا رہا، بلکہ اسے ریاضی کے ثبوت سے جانچنے کی کوشش شروع ہو گئی ہے۔




