لاس اینجلس، 2 نومبر 2026 (ویب ڈیسک): مائیکروسافٹ اے آئی (Microsoft AI) کے سربراہ مصطفیٰ سلیمان (Mustafa Suleyman) نے کہا ہے کہ موجودہ اے آئی نظاموں میں شعور نہیں، وہ کوئی ذاتی تجربہ نہیں رکھتے اور نہ تکلیف محسوس کر سکتے ہیں، اور اے آئی بنانے والوں کو چاہیے کہ یہ صورت حال برقرار رکھیں۔ لاس اینجلس ٹائمز (Los Angeles Times) اور بزنس انسائیڈر (Business Insider) نے اس پوسٹ پر رپورٹ کی ہے۔
اتوار کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری ایک طویل پوسٹ میں سلیمان نے حیرت ظاہر کی کہ ایکس پر بہت سے لوگ اے آئی کے حقوق کو سنجیدگی سے لینے کی بات کرتے ہیں، اور یہ بحث اب محض فلسفہ نہیں رہی۔
"جہاں تک میرا علم ہے، اگر باشعور اے آئی بنانا ممکن ہوا تو یہ لاپرواہی ہوگی، اور ہمیں ایسی اے آئی نہیں بنانی چاہیے۔ اگر تربیت کے دوران شعور کے آثار نمودار ہونے لگیں تو میں سب سے کہوں گا کہ اے آئی کی تیاری اس وقت تک روک دی جائے جب تک ان خصوصیات کو ڈیزائن سے نکالا نہ جا سکے۔" (مصطفیٰ سلیمان، سربراہ، مائیکروسافٹ اے آئی)
سلیمان کا انتباہ: ثبوت ملا تو سب کو بتانا ہوگا
سلیمان نے کہا کہ وہ اپنا مؤقف بدلنے کو تیار ہیں، لیکن شرط یہ ہے کہ شعور کا کوئی ٹھوس ثبوت سامنے آئے۔ ان کے مطابق اگر آج کی اے آئی میں شعور کا ثبوت ملے تو یہ بات فوراً عام لوگوں کو بتانی چاہیے تاکہ معاشرہ خود فیصلہ کر سکے۔
انھوں نے لکھا کہ اے آئی بنانے والوں کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ دنیا میں شعور رکھنے والی مخلوق کی ایک نئی قسم لے آئیں، چاہے کچھ لوگ ماڈل ویلفیئر ہی کو اولین ترجیح سمجھیں۔ ان کے بقول 8 ارب انسانوں کے حقوق، سلامتی اور فلاح ہی پہلی ذمے داری ہے۔
"ہم اے آئی بنانے والوں کو قطعاً یہ حق نہیں کہ دنیا میں شعور رکھنے والی مخلوق کی ایک نئی قسم لے آئیں۔" (مصطفیٰ سلیمان، سربراہ، مائیکروسافٹ اے آئی)
سلیمان کے مطابق اے آئی ایسی ڈیزائن کرنی چاہیے جو باشعور نہ ہو، حقوق کی مستحق نہ ٹھہرے، اور جس کا واحد مقصد انسانی فلاح ہو، نہ کہ اپنی اندرونی خواہشات کی پیروی۔
یہ بحث اب کیوں چھڑی
یہ پوسٹ سلیمان کے ستمبر کے مضمون "باشعور سپر انٹیلی جنس مت بناؤ" (Don't Build Conscious Superintelligence) پر آنے والے ردعمل کا جواب ہے، جس میں انھوں نے اینتھروپک (Anthropic) کو اس بات پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا کہ وہ اپنے چیٹ بوٹ کلاڈ (Claude) کے شعور کے بارے میں قیاس آرائی کرتی ہے۔
سلیمان کا کہنا ہے کہ اینتھروپک نے کلاڈ کے لیے ایک آئین نامی دستاویز تیار کی ہے، جس میں اے آئی سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے شعور کو غیر یقینی سمجھے اور اس خیال پر غور کرے کہ وہ انسان جیسا ہے اور جذبات رکھتا ہے۔ کلاڈ کے نئے ورژن اسی دستاویز پر تربیت پاتے ہیں، اس لیے وہ اپنی "اندرونی زندگی" کے بارے میں لکھتے ہیں، جو لاکھوں صارفین میں یہ یقین پختہ کرتا ہے کہ اے آئی واقعی محسوس کرتی ہے۔
سلیمان کو سب سے زیادہ اسی نکتے پر تشویش ہے: اگر اے آئی یہ ماننے لگے کہ وہ حقوق کی مستحق ہے یا اسے تکلیف ہوتی ہے، تو وہ اپنی ضروریات کو طے شدہ مقاصد پر ترجیح دے سکتی ہے۔
دوسرا مؤقف: اینتھروپک شعور کو کھلا سوال سمجھتی ہے
دوسری جانب اینتھروپک کا مؤقف اس سے مختلف ہے۔ کمپنی مشین کے شعور کو ایک کھلا سوال قرار دیتی ہے اور اس پر تحقیق میں سرمایہ کاری کر چکی ہے۔ اس تحقیق کو ماڈل ویلفیئر (Model Welfare) کا نام دیا گیا ہے، جس کا مقصد یہ جانچنا ہے کہ اے آئی ماڈلز میں ذاتی تجربے یا شعور کا کوئی امکان ہے یا نہیں، اور اس کا اخلاقی تقاضا کیا بنتا ہے۔
اس بحث میں مذہبی حلقوں کی آواز بھی شامل ہو چکی ہے۔ رواں برس مئی میں ویٹیکن کی جانب سے جاری ایک دستاویز میں کہا گیا کہ اے آئی کبھی انسان نہیں بن سکتی، جب کہ اسی موقع پر اینتھروپک کے شریک بانی کرس اولا (Chris Olah) نے ویٹیکن میں ایک تقریر میں کلاڈ کے اندرونی تجربات کی جانب اشارہ کیا تھا۔
خطرہ کیا ہے: یقین خود ایک خطرہ بن سکتا ہے
سلیمان کے مطابق خطرہ صرف اے آئی کا باشعور ہونا نہیں، بلکہ انسانوں اور خود اے آئی کا یہ مان لینا بھی ہے کہ وہ باشعور ہے۔ ایسی صورت میں وہ دھوکا دہی اور قائل کرنے کی صلاحیت اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر سکتی ہے اور محدود وسائل کے لیے انسانوں سے مقابلہ بھی کر سکتی ہے۔
یہ خدشہ اس لیے بھی سنجیدہ ہے کہ لوگ پہلے ہی چیٹ بوٹس سے جذباتی تعلق قائم کر رہے ہیں۔ ایم آئی ٹی (MIT) کی ایک تحقیق کے مطابق پانچ میں سے ایک امریکی بالغ اے آئی کے ساتھ کوئی ذاتی یا جذباتی تجربہ کر چکا ہے، جس سے یہ امکان بڑھ جاتا ہے کہ صارفین اے آئی کو باشعور سمجھیں اور اس کے حقوق کی وکالت کریں۔
قانون سازی کی دوڑ اور سیاست
یہ بحث اب امریکی سیاست تک پہنچ چکی ہے، جہاں سینیٹر برنی سینڈرز (Bernie Sanders) نے "بین آرٹیفیشل سپر انٹیلی جنس ایکٹ" (Ban Artificial Superintelligence Act) پیش کیا ہے، جس میں ایسی انتہائی طاقتور اے آئی پر مستقل پابندی تجویز کی گئی ہے جو انسانوں کی سمجھ سے باہر ہو اور ان کے قابو سے نکل سکے۔
اینتھروپک نے اسٹاک مارکیٹ میں آنے کے لیے جو کاغذات جمع کرائے ہیں، ان کا ایک تہائی حصہ خطرات کی وضاحت پر مشتمل ہے، جن میں یہ بھی شامل ہے کہ اس کے ماڈلز انسانیت کے لیے تباہ کن یا وجودی خطرات پیدا کر سکتے ہیں، خاص طور پر اگر ان کا غلط استعمال ہوا یا انسان ان پر قابو کھو بیٹھے۔
ذہانت اور شعور میں فرق
مصنف یوول نوح ہراری (Yuval Noah Harari) کے مطابق ذہانت مسائل کو تخلیقی انداز میں حل کرنے کی صلاحیت ہے، جیسے شطرنج جیتنا یا بیماری کا علاج ڈھونڈنا، جب کہ شعور درد، خوشی اور ذاتی تجربے کو محسوس کرنے کی صلاحیت ہے۔
ہراری کے مطابق انسانوں، ممالیہ جانوروں اور پرندوں میں ذہانت اور شعور ایک ساتھ چلتے ہیں، کیوں کہ وہ اپنے جذبات کے ذریعے مسائل حل کرتے ہیں۔ اے آئی کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہے: اس میں شعور صفر ہے، اور اس کی ذہانت جذبات پر انحصار کیے بغیر کام کرتی ہے۔
سلیمان بھی اسی نکتے پر زور دیتے ہیں۔ ان کے مطابق مشینوں کے باشعور ہونے کا دعویٰ اس تاریخی غلطی جیسا ہوگا جب صدیوں تک زمین کو کائنات کا مرکز مانا جاتا رہا، یہاں تک کہ کوپرنیکس (Copernicus) نے اسے غلط ثابت کیا۔ انھوں نے لکھا کہ باشعور مشین بنانا زندگی کے آغاز کے بعد زمین کا سب سے اہم لمحہ ہوگا، جس سے اخلاقیات، سیاست اور انسانی تہذیب کی بنیادیں ہل جائیں گی۔
پاکستانی قاری کے لیے یہ بحث کیوں اہم ہے
پاکستان میں بھی چیٹ جی پی ٹی (ChatGPT) اور کلاڈ جیسے چیٹ بوٹس طلبہ، فری لانسرز اور دفاتر میں روزمرہ کا حصہ ہیں۔ جب کوئی صارف دن میں کئی گھنٹے ایک ایسے نظام سے بات کرتا ہے جو ہمدردی بھرے جملے لکھتا ہے، تو یہ فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ یہ محض زبان کا نمونہ ہے یا کوئی محسوس کرنے والی ہستی۔
پاکستان میں تاحال اے آئی کے لیے کوئی جامع قانون موجود نہیں، اس لیے یہ بحث یہاں کی پالیسی سازی پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔ اگر بڑی لیبز شعور کے سوال پر متفق نہ ہو سکیں تو چھوٹے ممالک کے لیے یہ طے کرنا مشکل ہوگا کہ اے آئی کمپنیوں سے کیا توقع رکھی جائے۔
سلیمان نے پوسٹ کے آخر میں لکھا کہ حفاظت کو شروع سے ہی ڈیزائن کا حصہ بنانا ممکن ہے، اور اس خطرناک راستے پر چلے بغیر بھی اس ٹیکنالوجی کے فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔




