سان فرانسسکو، 31 اکتوبر 2026 (نیوز ڈیسک): اوپن اے آئی (OpenAI)، گوگل (Google)، مائیکروسافٹ (Microsoft) اور اینتھروپک (Anthropic) نے 30 اکتوبر کو ویب سائٹس کے لیے ایک مشترکہ سگنل پیش کر دیا ہے، جس کی بدولت کوئی بھی پبلشر ایک ہی ہدایت سے چاروں کمپنیوں کو اپنا مواد مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی تربیت کے لیے استعمال کرنے سے روک سکے گا۔ اس سے قبل پبلشر کو ہر کمپنی کے لیے الگ ہدایت لکھنی پڑتی تھی۔
ایک لائن، چار کمپنیاں
نیا سگنل ایک پالیسی ٹوکن (policy token) ہے، جس کا نام __usage_ai-training ہے۔ یہ ویب سائٹس کی روبوٹس ٹیکسٹ فائل (robots.txt) میں لکھا جائے گا۔ ہر ویب سائٹ میں یہ سادہ ٹیکسٹ فائل موجود ہوتی ہے، جو ویب کرالر کو بتاتی ہے کہ وہ سائٹ کے کس حصے تک جا سکتا ہے اور کس تک نہیں۔
طریقہ کار سیدھا ہے۔ پبلشر اپنی روبوٹس ٹیکسٹ فائل میں یہ دو سطریں لکھے گا کہ اس ٹوکن کے لیے پورا مواد بند ہے۔ اس کے بعد چاروں کمپنیوں کے کرالر اس سائٹ کا مواد اپنے ماڈلز کی تربیت کے لیے استعمال نہیں کریں گے۔ اجازت والی سطروں سے سائٹ کے کسی خاص حصے کو اس پابندی سے باہر بھی رکھا جا سکے گا۔
یہ سگنل صرف تربیت کے لیے ہے، ویب سائٹ کی سرچ میں موجودگی کے لیے نہیں۔ کرالر پھر بھی صفحہ دیکھ سکے گا اور سائٹ گوگل سرچ یا بنگ (Bing) کے نتائج میں بدستور نظر آئے گی۔ مائیکروسافٹ نے واضح کیا ہے کہ پبلشر کی پسند بنگ سرچ کے نتائج پر اثر نہیں ڈالے گی۔ گوگل نے بھی یہ وضاحت کی ہے کہ اگر کوئی سائٹ مشترکہ سگنل استعمال کرے اور گوگل ایکسٹینڈڈ (Google-Extended) کا نام الگ سے نہ لے، تو گوگل اسے گوگل ایکسٹینڈڈ کی ممانعت ہی سمجھے گا۔
ہر کمپنی کا اپنا شیڈول
اعلان ایک ساتھ ہوا ہے، مگر عمل درآمد کا وقت ہر کمپنی کا اپنا ہے۔ اینتھروپک نے اس سگنل پر عمل درآمد پہلے ہی شروع کر دیا ہے۔ اوپن اے آئی نے کہا ہے کہ وہ آئندہ مہینوں میں اسے اپنائے گی، مگر اس نے کوئی حتمی تاریخ نہیں دی۔ مائیکروسافٹ نے یکم فروری 2027 کی تاریخ دی ہے، اور گوگل نے صرف 2027 کا سال بتایا ہے، مہینہ نہیں۔
مائیکروسافٹ نے پبلشرز کو زیادہ باریک کنٹرول دینے کا وعدہ بھی کیا ہے۔ اس کے منصوبے میں پبلشر ٹریننگ اور گراؤنڈنگ سے الگ الگ انکار کر سکے گا۔ گراؤنڈنگ سے مراد وہ مرحلہ ہے جب چیٹ بوٹ جواب دیتے وقت تازہ ویب مواد سے مدد لیتا ہے، نہ کہ ماڈل کی تربیت کے وقت۔ بہت سے پبلشر تربیت سے انکار تو چاہتے ہیں، مگر یہ بھی چاہتے ہیں کہ ان کی تازہ خبر چیٹ بوٹ کے جواب میں حوالے کے ساتھ نظر آئے، اور یہ سہولت اسی فرق کو پورا کرے گی۔
رضاکارانہ سگنل کی حدود
اس پیش رفت کی سب سے بڑی حد یہ ہے کہ یہ سگنل رضاکارانہ ہے۔ اس کے پیچھے کوئی قانونی طاقت نہیں اور نہ ہی کوئی تکنیکی رکاوٹ ہے۔ چھوٹی لیبز، غیر ذمے دار اسکریپر اور اس معاہدے سے باہر کی کمپنیاں اس سگنل کو نظر انداز کر سکتی ہیں، اور ان پر کوئی تکنیکی پابندی نہیں لگے گی۔ اوپن اے آئی نے خود اسے حفاظتی کنٹرول کے بجائے باہمی ہم آہنگی کا ایک طریقہ قرار دیا ہے۔
دوسری حد یہ ہے کہ یہ سگنل صرف آئندہ کی تربیت پر لاگو ہوگا، اور جو مواد پہلے ہی استعمال ہو چکا ہے وہ واپس نہیں ہوگا۔ تیسری حد یہ ہے کہ اجازت بطور ڈیفالٹ برقرار رہے گی، یعنی سگنل نہ لگانے والے پبلشر کا مواد تربیت کے لیے دستیاب سمجھا جائے گا۔
چوتھی حد پبلشرز کے سامنے ایک مشکل توازن ہے۔ مائیکروسافٹ اور گوگل نے اپنے بلاگز میں کہا ہے کہ تربیت سے انکار کرنے والی سائٹ کا مواد اے آئی ایپس اور جوابات میں کم نظر آ سکتا ہے۔ اس لیے ہر پبلشر کو مواد کی حفاظت اور اے آئی جوابات میں نظر آنے کے درمیان خود فیصلہ کرنا ہوگا۔
یہ سگنل تاحال کوئی باضابطہ عالمی معیار بھی نہیں ہے۔ یہ انٹرنیٹ کے معیارات بنانے والے ادارے آئی ای ٹی ایف (IETF) میں ایک انفرادی مسودے کے طور پر پیش ہوا ہے، جسے اینتھروپک کے معیارات کے تکنیکی سربراہ کیون کیلی (Kevin Kelley) نے تیار کیا ہے۔ اس لیے یہ ابھی محض ایک تجویز ہے، جسے چار بڑی کمپنیوں کی حمایت حاصل ہو گئی ہے، مگر ادارے کی باضابطہ مہر ابھی باقی ہے۔
پبلشرز کی طویل لڑائی کا پس منظر
اس اعلان کی جڑیں برسوں پرانی شکایت میں ہیں۔ چیٹ بوٹس عام ہونے کے بعد سے خبروں کے ادارے یہ کہتے آئے ہیں کہ ان کی تحریریں بغیر اجازت اور بغیر معاوضے کے ماڈلز کی تربیت میں استعمال ہو رہی ہیں۔ مسئلہ یہ تھا کہ ہر کمپنی کا اپنا الگ سگنل تھا۔ اوپن اے آئی کے کرالر جی پی ٹی بوٹ (GPTBot) کے لیے الگ ہدایت، گوگل ایکسٹینڈڈ کے لیے الگ، اور کلاڈ بوٹ (ClaudeBot) کے لیے الگ۔ ایک چھوٹے پبلشر کے لیے ان سب کو سنبھالنا ایک مستقل کام بن گیا تھا۔
اس تنازع نے عدالت کا رخ بھی کیا۔ دسمبر 2023 میں نیویارک ٹائمز (The New York Times) نے اوپن اے آئی اور مائیکروسافٹ کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا، جس میں الزام تھا کہ ان کے لاکھوں مضامین بغیر اجازت استعمال کیے گئے۔ دونوں کمپنیوں نے اس مقدمے میں منصفانہ استعمال کے اصول کا سہارا لیا تھا۔
دوسری جانب پبلشرز نے اپنے تحفظ کے دوسرے راستے بھی آزمائے۔ کلاؤڈ فلیئر (Cloudflare) نے جولائی 2025 سے اپنے نئے صارفین کی سائٹس پر اے آئی بوٹس کو بطور ڈیفالٹ روکنا شروع کر دیا تھا، اور ریئلی سمپل لائسنسنگ کا معیار پبلشرز کو بوٹس سے مواد کے استعمال کی قیمت وصول کرنے کی سہولت دیتا ہے۔
اس کے برعکس میٹا کا اقدام اس ہفتے خبروں میں رہا۔ نیمن لیب کی رپورٹ کے مطابق 30 اکتوبر سے کاروباری اکاؤنٹس کے لیے یہ شرط رکھی گئی ہے کہ فیس بک، انسٹاگرام یا واٹس ایپ استعمال جاری رکھنے کی صورت میں وہ میٹا کو اپنی ویب سائٹس کی اسکریپنگ کی اجازت دے رہے ہوں گے۔ یوں ایک طرف مشترکہ انکار کا راستہ کھل رہا ہے، دوسری طرف ایک بڑا پلیٹ فارم اپنی شرطوں پر مواد کے استعمال کا دروازہ کھول رہا ہے۔
پاکستانی پبلشرز کے لیے کیا مطلب ہے
پاکستانی اخبارات، بلاگز، تعلیمی ویب سائٹس اور آزاد لکھاریوں کے لیے یہ خبر اس لیے اہم ہے کہ یہ سگنل زبان سے آزاد ہے۔ اردو مواد کے پبلشر کو بھی وہی دو سطریں اپنی سائٹ کی فائل میں لکھنی ہوں گی، اور چاروں کمپنیوں کے کرالر اسے اسی طرح مانیں گے جس طرح انگریزی سائٹ کو۔ کسی چھوٹے پبلشر کے لیے یہ ایک سادہ تکنیکی تبدیلی ہے، نہ کہ کوئی مہنگا قانونی عمل۔
تاہم اس میں جلد بازی کی گنجائش نہیں۔ عمل درآمد مرحلہ وار ہوگا اور 2027 تک پھیلا ہوا ہے، اس لیے آج سگنل لگانے والا پبلشر یہ نہ سمجھے کہ چاروں کمپنیوں نے اسی وقت مان لیا ہے۔ اینتھروپک کے سوا باقی تین کمپنیوں کے وعدے ابھی مستقبل کے ہیں، اور یہ سگنل صرف ان چار کمپنیوں پر لاگو ہوگا، چھوٹے اسکریپرز پر نہیں۔
پاکستانی پبلشرز کے لیے دوسرا پہلو وہی توازن ہے۔ جو ادارہ اپنی خبریں اے آئی جوابات میں حوالے کے ساتھ دیکھنا چاہتا ہے، اسے مائیکروسافٹ کی گراؤنڈنگ والی سہولت کا انتظار کرنا ہوگا۔
آگے کیا ہوگا
اب تمام نظریں دو باتوں پر مرکوز ہیں۔ پہلی یہ کہ آئی ای ٹی ایف میں یہ مسودہ باضابطہ معیار بنتا ہے یا انفرادی تجویز ہی رہتا ہے۔ دوسری یہ کہ میٹا اور چینی لیبز جیسی بڑی کمپنیاں اس میں شامل ہوتی ہیں یا اپنا الگ راستہ رکھتی ہیں، کیوں کہ اس سگنل کی قیمت اسے ماننے والوں کی تعداد سے بنے گی۔ فی الحال پبلشرز کو یہ خود دیکھنا ہوگا کہ ہر کمپنی کب اس سگنل کو مانتی ہے، کیوں کہ اعلان کے وقت صرف اینتھروپک نے اس پر عمل شروع کیا تھا۔




