مونٹریال، 30 اکتوبر 2026 (نیوز ڈیسک): کینیڈا کی حکومت نے اپنے ملک کی اے آئی کمپنی کوہیئر (Cohere) میں ایک ارب ساٹھ کروڑ کینیڈین ڈالر تک کی حصہ داری لینے کا اعلان کیا ہے۔ یہ رقم ایک ساتھ نہیں دی جائے گی، بلکہ مرحلہ وار جاری ہوگی اور ہر مرحلے پر کمپنی کی پیش رفت کی رپورٹ لی جائے گی۔ حکومت کے مطابق اس سرمایہ کاری کا مقصد یہ ہے کہ کینیڈا کے کاروباری اداروں اور حکومتوں کو محفوظ اور اپنے ملک میں بنی ہوئی مصنوعی ذہانت (AI) استعمال کرنے کا اختیار ملے، اور حساس معلومات پر ان کا اپنا کنٹرول قائم رہے۔
یہ اعلان کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی (Mark Carney) نے 29 اکتوبر کو مونٹریال میں کیا۔ ان کے ساتھ نجی سرمایہ کار بھی اس فنڈنگ راؤنڈ میں شریک ہیں، جن میں چپ ساز کمپنی Nvidia، ٹیلی کام کمپنی بیل (Bell) اور جرمن کمپنی شوارز گروپ (Schwarz Group) شامل ہیں۔ کوہیئر نے اسی روز اپنے سیریز ای (Series E) فنڈنگ راؤنڈ کے ابتدائی مرحلے کی تکمیل کا بھی اعلان کیا۔ کمپنی کا ہدف اس راؤنڈ میں سات ارب کینیڈین ڈالر تک جمع کرنا ہے، اور اس کے بعد کمپنی کی قدر 35 ارب ستر کروڑ کینیڈین ڈالر تک پہنچ جائے گی۔
اعلان کی تفصیل
کینیڈا کی حکومت نے واضح کیا ہے کہ یہ سرمایہ کاری تجارتی بنیادوں پر کی جا رہی ہے، یعنی حکومت محض امداد نہیں دے رہی، بلکہ کمپنی میں حصہ دار بن رہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جوں جوں کمپنی کی قدر بڑھے گی، کینیڈا کے عوام کو بھی اس ترقی میں حصہ ملے گا۔ وزیر اعظم کارنی نے اس فیصلے کو کینیڈا کی خودمختاری سے جوڑا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دنیا کی طاقتور ترین اے آئی ٹیکنالوجی چند کمپنیوں اور چند ملکوں تک محدود ہوتی جا رہی ہے، اور اس صورت حال میں کینیڈا کے پاس اپنی شرائط پر ٹیکنالوجی بنانے کا اختیار ہونا چاہیے۔
کینیڈا کی کوہیئر میں سرمایہ کاری، انتخاب، سلامتی اور اپنی مرضی سے زندگی گزارنے کی صلاحیت میں سرمایہ کاری ہے۔ آج حقیقی خودمختاری کا انحصار اس بات پر ہے کہ ہم اے آئی کو اپنی شرائط پر بنا سکیں، اپنا سکیں اور اس پر حکمرانی کر سکیں۔
یہ الفاظ وزیر اعظم کارنی کے ہیں۔
حکومت کے بیان کے مطابق یہ سرمایہ کاری کینیڈا اور یورپی یونین کے سربراہی اجلاس کے موقع پر سامنے آئی ہے۔ کینیڈا چاہتا ہے کہ وہ امریکا اور چین کے باہر ایک قابلِ اعتماد متبادل کے طور پر ابھرے، اور یورپی شراکت داروں کے ساتھ مل کر محفوظ اے آئی کے نظام بنائے۔
کوہیئر کون سی کمپنی ہے
کوہیئر کی بنیاد 2019 میں ٹورنٹو میں رکھی گئی تھی۔ یہ کمپنی عام صارفین کے لیے چیٹ بوٹ بنانے کے بجائے کاروباروں اور حکومتوں کے لیے محفوظ اے آئی نظام تیار کرتی ہے۔ اس کی ٹیکنالوجی کی خاص بات یہ ہے کہ ادارے اپنے حساس ڈیٹا کی جگہ، استعمال اور رسائی پر خود اختیار رکھتے ہیں۔
کمپنی کے شریک بانی اور چیف ایگزیکٹو ایڈن گومز (Aidan Gomez) جدید اے آئی کی بنیاد بننے والے تحقیقی کام کے شریک مصنفین میں سے ہیں۔ انھوں نے اعلان کے موقع پر کہا کہ کوہیئر کی بنیاد اس یقین پر رکھی گئی تھی کہ کینیڈا عالمی سطح پر مقابلہ کرنے والی اے آئی کمپنیاں بنا سکتا ہے۔
ہم نے کوہیئر کی بنیاد اس یقین کے ساتھ کینیڈا میں رکھی تھی کہ یہ ملک عالمی سطح پر مقابلہ کرنے والی اے آئی کمپنیاں بنا سکتا ہے۔ یہ سرمایہ کاری اس تصور کو آگے بڑھانے میں مدد دے گی۔
اس سے قبل کوہیئر نے جرمن اے آئی کمپنی ایلف الفا (Aleph Alpha) کے ساتھ انضمام بھی کیا تھا، جس سے کینیڈا اور جرمنی کی مہارت ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو گئی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ نئی سرمایہ کاری سے وہ زیادہ جدید ماڈل تیار کرے گی اور کمپیوٹنگ کے بنیادی ڈھانچے کو وسعت دے گی۔
سرمایہ کاری سے کیا وعدے جڑے ہیں
حکومت نے رقم کے ساتھ کئی شرائط بھی طے کی ہیں، اور یہی شرائط اس اعلان کو عام فنڈنگ خبروں سے الگ کرتی ہیں۔ کوہیئر نے وعدہ کیا ہے کہ وہ 2030 تک کینیڈا میں کم از کم ایک ہزار نئی اور اچھی تنخواہ والی تکنیکی ملازمتیں پیدا کرے گی۔ اس کے ساتھ کمپنی 2030 تک کینیڈا میں کمپیوٹنگ کے بنیادی ڈھانچے پر کم از کم ایک ارب ستر کروڑ کینیڈین ڈالر کی اضافی سرمایہ کاری کرے گی۔ کمپنی اپنا صدر دفتر اور اپنی رجسٹریشن کینیڈا میں ہی رکھے گی۔
اس کے علاوہ کوہیئر کینیڈا میں تحقیقی شراکت داریوں میں سرمایہ کاری کرے گی اور طلبہ اور نئے گریجویٹس کے لیے مواقع پیدا کرے گی۔ کمپنی کینیڈا کے اے آئی سیفٹی انسٹی ٹیوٹ کے ساتھ مل کر بھی کام جاری رکھے گی۔ حکومت کے مطابق رقم مرحلہ وار ملے گی اور ہر مرحلے پر ملازمتوں اور سرمایہ کاری کے وعدوں پر پیش رفت کی رپورٹ لی جائے گی۔
خودمختار اے آئی کی عالمی دوڑ
خودمختار اے آئی (Sovereign AI) کا مطلب یہ ہے کہ کوئی ملک یا ادارہ اپنی اے آئی ٹیکنالوجی، اس کے ڈیٹا اور اس کے بنیادی ڈھانچے پر خود اختیار رکھے، اور کسی دوسرے ملک یا کمپنی کی مرضی کا محتاج نہ ہو۔ گزشتہ دو برسوں میں یہ تصور تیزی سے اہم ہوا ہے، کیوں کہ حکومتیں اور بڑے ادارے یہ سوچنے لگے ہیں کہ حساس معلومات کسی اور کے سرور پر رکھنا سلامتی کا سوال بھی بن سکتا ہے۔ فرانس کی کمپنی مسٹرل (Mistral) نے بھی اپنے ماڈل کے وزن عام کر کے یہی راستہ اختیار کیا ہے۔
کینیڈا کا یہ قدم اسی دوڑ کا حصہ ہے، مگر اس میں ایک فرق ہے۔ کینیڈا نے محض ایک پالیسی بیان جاری نہیں کیا، بلکہ سرکاری پیسہ لگا کر کمپنی میں حصہ داری لی ہے۔ دوسری جانب اس فیصلے پر سوالات بھی اٹھ سکتے ہیں، مثلاً حکومت کو نجی کمپنی میں سرمایہ کار بننا چاہیے یا نہیں، اور اگر کمپنی کی کارکردگی توقع کے مطابق نہ رہی تو عوامی رقم کا کیا ہوگا۔ حکومت کا جواب یہ ہے کہ سرمایہ کاری مرحلہ وار ہوگی اور رپورٹنگ کے ذریعے اس پر نظر رکھی جائے گی، مگر اس کا حتمی نتیجہ آنے والے برسوں میں ہی سامنے آئے گا۔
اس اعلان سے اوپن اے آئی (OpenAI)، اینتھروپک (Anthropic) اور گوگل ڈیپ مائنڈ (Google DeepMind) جیسی بڑی کمپنیوں کے لیے بھی ایک پیغام ہے۔ وہ کمپنیاں صارفین کے لیے طاقتور ماڈل بنانے پر توجہ دیتی ہیں، جب کہ کوہیئر کا زور کاروباروں اور حکومتوں کے لیے محفوظ اور قابو میں رہنے والے نظاموں پر ہے۔ اگر کینیڈا کا تجربہ کامیاب رہا تو دوسرے ملک بھی اسی طرز پر اپنی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔
پاکستان کے لیے اس خبر کا پیغام
پاکستان کے لیے اس خبر کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ اے آئی کی دوڑ اب صرف ماڈل بنانے کی دوڑ نہیں رہی، بلکہ ڈیٹا، بنیادی ڈھانچے اور قابو کی دوڑ بن گئی ہے۔ پاکستان کے سافٹ ویئر ہاؤسز اور فری لانسرز پہلے ہی عالمی کمپنیوں کے لیے کام کرتے ہیں، مگر ان کے پاس اپنے ملک میں محفوظ اے آئی نظام بنانے کا موقع محدود ہے۔ کینیڈا کی مثال یہ بتاتی ہے کہ حکومت، صنعت اور جامعات مل کر کام کریں تو ایک چھوٹی مارکیٹ سے بھی عالمی سطح کی کمپنی ابھر سکتی ہے، بشرطیکہ سرمایہ کاری کے ساتھ ملازمتوں اور تحقیق کے واضح وعدے جڑے ہوں۔
تاہم یہ بھی واضح رہے کہ کینیڈا کا ماڈل پاکستان پر براہِ راست لاگو نہیں ہوتا، کیوں کہ دونوں ملکوں کے وسائل اور سرمایہ کاری کا ماحول مختلف ہے۔ اس لیے اس خبر سے سبق یہ ہے کہ اے آئی کی پالیسی میں صرف نعرے کافی نہیں ہوتے، بلکہ سرمایہ کاری، جواب دہی اور مقامی صلاحیت کی تعمیر ساتھ ساتھ چلنی چاہیے۔




