سان فرانسسکو، 1 نومبر 2026 (ویب ڈیسک): اوپن اے آئی (OpenAI) کی نئی فنڈنگ راؤنڈ (Funding Round) توقعات سے پیچھے رہ گئی ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل (The Wall Street Journal) کے مطابق کمپنی کو اب تک تقریباً 11 ارب امریکی ڈالر کے وعدے مل سکے ہیں، جب کہ اس نے شروع میں 30 ارب ڈالر اکٹھا کرنے کا ہدف مقرر کیا تھا۔ فنانشل ٹائمز (Financial Times) کے مطابق کمپنی نے اپنا ہدف گھٹا کر تقریباً 20 ارب ڈالر کر دیا ہے، اور پہلی قسط اس سے بھی کم رہنے کا امکان ہے۔
یہ پیش رفت دنیا کی سب سے بڑی اے آئی کمپنی کے لیے ایک واضح اشارہ ہے۔ وہ سرمایہ کار جو کچھ عرصہ پہلے تک اے آئی منصوبوں پر بلا جھجک رقم لگا رہے تھے، اب زیادہ محتاط ہو گئے ہیں۔ اسی احتیاط نے اوپن اے آئی کے اس راؤنڈ کی رفتار بھی سست کر دی ہے، جسے کمپنی اسٹاک مارکیٹ میں اندراج کی تیاری کی ایک کڑی سمجھ رہی ہے۔
ہدف 30 ارب سے 20 ارب ڈالر تک کیسے پہنچا
تفصیلات کے مطابق اوپن اے آئی نے ستمبر میں سرمایہ کاروں کے سامنے 1.4 ٹریلین ڈالر کی مالیت پر 30 ارب ڈالر اکٹھا کرنے کا منصوبہ رکھا تھا۔ اس کے بعد مالیت کا تخمینہ گھٹ کر 1.25 ٹریلین ڈالر ہو گیا، جو پاکستانی اکائیوں میں 1 لاکھ 25 ہزار کروڑ ڈالر بنتا ہے۔ جمعہ 30 اکتوبر کو سرمایہ کاروں کے وعدے جمع کرانے کی آخری تاریخ تھی، اور اسی روز دونوں بڑی مالیاتی اشاعتوں نے راؤنڈ کی اصل صورتحال سامنے رکھی۔
وال اسٹریٹ جرنل نے بتایا کہ اب تک صرف 11 ارب ڈالر کے وعدے مل سکے ہیں، جو اصل ہدف کے نصف سے بھی کم ہیں۔ فنانشل ٹائمز نے بتایا کہ کمپنی نے ہدف 20 ارب ڈالر تک محدود کر دیا ہے، مگر پہلی قسط اس نئے ہدف سے بھی نیچے رہ سکتی ہے، کیوں کہ اس ہفتے بعض سرمایہ کاروں نے اپنی رقمیں کم کر دی ہیں۔ واضح رہے کہ یہ تمام اعداد رپورٹس پر مبنی ہیں، کمپنی نے تاحال ان کی عوامی تصدیق نہیں کی ہے۔
اس موازنے سے فرق صاف نظر آتا ہے۔ مارچ 2026 میں اوپن اے آئی نے 122 ارب ڈالر کا راؤنڈ 852 ارب ڈالر کی مالیت پر مکمل کیا تھا۔ اس وقت سرمایہ کاروں کا جوش عروج پر تھا، جب کہ موجودہ راؤنڈ میں وہی سرمایہ کار ہر ڈالر لگانے سے پہلے دو بار سوچ رہے ہیں۔
سرمایہ کاروں کی سرد مہری کی وجوہات
اس تبدیلی کی سب سے بڑی وجہ مارکیٹ کا بدلا ہوا موسم ہے۔ گزشتہ ہفتے ٹیکنالوجی کے حصص میں فروخت کا رجحان زور پکڑ گیا، اور جمعہ کو امریکی اسٹاک انڈیکس نیسڈیک 100 (Nasdaq 100) میں 3.5 فیصد کمی واقع ہوئی۔ رپورٹس کے مطابق گوگل (Google)، ایمازون (Amazon) اور انٹیل (Intel) کے کمزور سہ ماہی نتائج نے اس فروخت کو ہوا دی۔
دوسری جانب وال اسٹریٹ میں اے آئی کے بنیادی ڈھانچے پر بھاری خرچ کے بارے میں تشویش بڑھ رہی ہے۔ ڈیٹا سینٹرز، چپس اور بجلی پر اربوں ڈالر لگ رہے ہیں، مگر اس خرچ سے آمدنی کس رفتار سے واپس آئے گی، اس پر سرمایہ کاروں میں اتفاق نہیں ہے۔ ٹیک کرنچ (TechCrunch) کے مطابق اسی بے یقینی نے اوپن اے آئی کے راؤنڈ کو بھی متاثر کیا ہے۔
اس ضمن میں ایک اور مقابلہ بھی سرمایہ کاروں کی توجہ بانٹ رہا ہے۔ اینتھروپک (Anthropic) کے اسٹاک مارکیٹ میں آنے کی توقع نومبر میں ہے، اور دونوں کمپنیاں سرمایہ کاروں کے ایک ہی حلقے سے رقم مانگ رہی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق اینتھروپک کی آمدنی حالیہ عرصے میں اوپن اے آئی سے زیادہ تیزی سے بڑھی ہے، جس سے اس کی پیشکش بعض سرمایہ کاروں کو زیادہ پرکشش لگ رہی ہے۔
خلا پر کرنے کے لیے نیا منصوبہ
فنانشل ٹائمز کے مطابق اس راؤنڈ کی قیادت متحدہ عرب امارات کے سرمایہ کاروں کا گروپ کرے گا، جس میں ابوظبی کا سرکاری سرمایہ کاری فنڈ ایم جی ایکس (MGX) سب سے بڑا سرمایہ کار ہو سکتا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اس منصوبے کے تحت اوپن اے آئی کو خطے میں نئی کمپیوٹنگ صلاحیت لیز پر لینے کا آپشن بھی مل سکتا ہے۔
دوسری جانب فاؤنڈرز فنڈ (Founders Fund)، کوٹو (Coatue)، سیکویا (Sequoia) اور اینڈریسن ہورووٹز (Andreessen Horowitz) کے بھی اس راؤنڈ میں حصہ لینے کا امکان ہے۔ یہ وہ ادارے ہیں جو ماضی میں بھی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی پشت پر رہے ہیں، مگر اس بار ان کا رویہ پہلے کے مقابلے میں محتاط نظر آ رہا ہے۔
باقی خلا پر کرنے کے لیے اوپن اے آئی نے آنے والے ہفتوں میں فیملی آفسز (Family Offices) یعنی امیر خاندانوں کے سرمایہ کاری اداروں اور دولت مند افراد سے رجوع کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ رپورٹس کے مطابق ان سرمایہ کاروں کو اسی 1.25 ٹریلین ڈالر کی مالیت پر پیشکش کی جائے گی، اور اس ریٹیل طرز کی پیشکش سے مجموعی رقم 20 ارب ڈالر کے نئے ہدف تک پہنچ سکتی ہے۔ تاہم یہ ابھی منصوبہ ہے، حتمی نتیجہ نہیں۔
اوپن اے آئی کے لیے اس کا مطلب کیا ہے
اس راؤنڈ کی کہانی صرف ایک کمپنی کی نہیں ہے، بلکہ پوری اے آئی صنعت کے موسم کی خبر دیتی ہے۔ جب سب سے بڑی اور مشہور کمپنی کو بھی اپنے ہدف کا نصف سے کم ملے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اے آئی پر سرمایہ کاری کا پہلا بے تحاشا دور ختم ہو رہا ہے، اور اب ہر منصوبے کو اپنی آمدنی اور اخراجات کا حساب زیادہ سختی سے دینا ہوگا۔
اوپن اے آئی نے اس دباؤ کا جواب قیمتوں میں کمی اور زیادہ مؤثر ماڈلز سے دیا ہے۔ کمپنی کے مطابق اس کی کوشش یہ ہے کہ چیٹ جی پی ٹی (ChatGPT) جیسی سروسز کم لاگت میں زیادہ صارفین تک پہنچیں، تاکہ مقابلے میں اس کی جگہ برقرار رہے۔ تجزیہ کاروں کے نزدیک یہ حکمت عملی درست سمت میں ہے، مگر اس سے آمدنی پر بھی دباؤ پڑتا ہے، اور یہی کشمکش سرمایہ کاروں کو محتاط کر رہی ہے۔
مجموعی طور پر یہ راؤنڈ اوپن اے آئی کی ناکامی نہیں ہے، بلکہ اس کی قیمت کا دوبارہ تعین ہے۔ 11 ارب ڈالر اب بھی ایک بہت بڑی رقم ہے، اور 1.25 ٹریلین ڈالر کی مالیت دنیا کی سب سے زیادہ مالیت رکھنے والی نجی کمپنیوں میں اس کا شمار برقرار رکھتی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اب سرمایہ کار خواب کے بجائے حساب کتاب دیکھ کر فیصلہ کر رہے ہیں۔
پاکستان کے لیے اس خبر کا مطلب
پاکستانی قاری کے لیے اس خبر کا براہ راست اثر محدود ہے، مگر بالواسطہ اثرات واضح ہیں۔ پاکستان کے سافٹ ویئر ہاؤسز، فری لانسرز اور چھوٹے اسٹارٹ اپس روزمرہ کام میں اوپن اے آئی اور اس جیسی کمپنیوں کے ٹولز استعمال کرتے ہیں۔ قیمتوں کی دوڑ جاری رہی تو ان ٹولز کی لاگت کم ہو سکتی ہے، جس سے پاکستانی صارفین اور چھوٹے کاروبار کو فائدہ پہنچے گا۔
دوسری جانب سرمایہ کاری کا ٹھنڈا موسم پاکستانی اسٹارٹ اپس کے لیے بھی ایک سبق رکھتا ہے۔ جب عالمی سرمایہ کار دنیا کی سب سے بڑی اے آئی کمپنی سے بھی سخت سوالات پوچھ رہے ہیں تو مقامی منصوبوں کو بھی اپنی آمدنی کا واضح خاکہ دکھانا ہوگا، صرف اے آئی کا نام کافی نہیں رہے گا۔ یہ بات خاص طور پر ان نوجوان ڈویلپرز کے لیے اہم ہے جو اے آئی پر مبنی کاروبار شروع کرنا چاہتے ہیں۔
تاہم یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اس راؤنڈ کی حتمی صورت ابھی سامنے نہیں آئی ہے۔ پہلی قسط کا اصل حجم اور فیملی آفسز سے ملنے والی رقم آنے والے ہفتوں میں واضح ہوگی۔ اوپن اے آئی نے تاحال ان رپورٹس پر کوئی عوامی بیان جاری نہیں کیا ہے، اور ٹیک کرنچ نے مؤقف کے لیے کمپنی سے رابطہ کیا ہے۔




