نیویارک، 20 اکتوبر 2026 (نیوز ڈیسک): مصنوعی ذہانت کی دنیا میں ایک اور بڑا معاہدہ تیار ہو رہا ہے۔ ڈیٹا سینٹر بنانے والی برطانوی کمپنی این اسکیل اور اے آئی لیب اینتھروپک کے درمیان تقریباً 45 ارب ڈالر کے دوسرے کمپیوٹنگ معاہدے کی بات چیت جاری ہے۔ یہ بات چیت مغربی ورجینیا کے مونارک ڈیٹا سینٹر کیمپس میں ایک نئی سہولت کے لیے ہو رہی ہے۔ خبر سب سے پہلے بلومبرگ نے دی اور بعد میں روئٹرز کو بھی معاملے سے واقف ایک ذریعے نے اس کی تصدیق کی۔ دونوں کمپنیوں نے ابھی تک باضابطہ تبصرہ نہیں کیا ہے۔
نئی بات چیت کی تفصیلات
ذرائع کے مطابق یہ معاہدہ پہلے معاہدے کے تقریباً برابر کا ہوگا۔ این اسکیل مونارک کیمپس میں دوسری عمارت کے لیے اینتھروپک سے بات کر رہی ہے۔ اس عمارت سے 460 میگاواٹ کمپیوٹنگ طاقت ملے گی۔ اس میں Nvidia کی جدید ویرا روبن چپس لگائی جائیں گی۔ یہ وہی چپس ہیں جو اگلی نسل کے اے آئی ماڈلوں کی تربیت اور چلانے کے لیے بنائی گئی ہیں۔
معاہدے کی ایک اور دلچسپ شرط بھی سامنے آئی ہے۔ ذریعے کے مطابق اینتھروپک کو اسی کیمپس میں متوقع تیسری عمارت پر حقِ اول ملے گا۔ یعنی اگر وہ عمارت بنتی ہے تو اینتھروپک کو پہلی پیشکش کی جائے گی۔ روئٹرز نے لکھا ہے کہ بات چیت ابھی جاری ہے اور تفصیلات بدل بھی سکتی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ معاہدہ ابھی حتمی نہیں ہوا۔
اگست کا پہلا معاہدہ
یہ دونوں کمپنیوں کے درمیان دوسرا بڑا معاہدہ ہوگا۔ اس سے پہلے اگست میں اینتھروپک نے این اسکیل کے اسی مغربی ورجینیا کیمپس سے اے آئی کلاؤڈ کمپیوٹنگ طاقت کرائے پر لینے کے لیے 45 ارب ڈالر کا معاہدہ کیا تھا۔ وہ معاہدہ چھ سال کا تھا۔ اس میں بھی 460 میگاواٹ کی طاقت شامل تھی۔ اس کی فراہمی 2027 کے آخر سے شروع ہونی ہے۔
مونارک ڈیٹا سینٹر کیمپس این اسکیل کا اہم ترین منصوبہ ہے۔ یہ مغربی ورجینیا کے پوائنٹ پلیزنٹ اور میسن کاؤنٹی میں دو ہزار دو سو پچاس ایکڑ سے زیادہ زمین پر پھیلا ہے۔ اس کا پہلا مرحلہ 1.35 گیگاواٹ طاقت کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ باقی عمارتوں سے 2028 میں طاقت ملنا شروع ہونے کی توقع ہے۔ یہ منصوبہ اس بات کی واضح علامت ہے کہ اے آئی کی دوڑ اب ماڈلوں سے بڑھ کر بجلی، زمین اور چپس تک پہنچ چکی ہے۔
قرضوں پر چلتی توسیع پر سرمایہ کاروں کی نظر
بلومبرگ کی ہی رپورٹ میں ایک اور اہم بات سامنے آئی ہے۔ اس کے مطابق کچھ سرمایہ کاروں نے اینتھروپک سے کہا ہے کہ وہ اپنے آئی پی او کی ہدف قیمت کم کرے۔ وجہ اے آئی کمپنیوں کے لیے حالیہ مارکیٹ دھچکے ہیں۔
سرمایہ کاروں کی تشویش کی وجہ سمجھنا مشکل نہیں۔ پچھلے ہفتے این اسکیل کی حریف کمپنی کور ویو کے حصص گر گئے۔ وجہ اس کا 50 ارب ڈالر کا قرض تھا۔ اس سے اے آئی کے حصص میں عالمی سطح پر فروخت کا رجحان پیدا ہوا۔ اسی ہفتے ریٹنگ ایجنسی ایس اینڈ پی گلوبل نے بھی خبردار کیا کہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کا اے آئی سے منسلک قرض اس سے زیادہ ہو سکتا ہے جتنا ابھی تک معلوم ہے۔
یہ تشویش ایک بڑی تبدیلی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ پہلے سرمایہ کار صرف یہ دیکھتے تھے کہ اے آئی کمپنی کتنی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اب وہ یہ بھی پوچھ رہے ہیں کہ یہ توسیع کتنے قرض پر ہو رہی ہے۔ ڈیٹا سینٹر کی تعمیر میں اربوں ڈالر لگتے ہیں۔ کمپنیاں قرض لے کر یہ عمارتیں بنا رہی ہیں۔ اگر اے آئی کی آمدنی توقع کے مطابق نہ بڑھی تو یہ قرض بوجھ بن سکتا ہے۔
این اسکیل کی بلند اڑان اور رکاوٹیں
این اسکیل کی ترقی کی رفتار حیران کن ہے۔ کمپنی نے ڈھائی سال میں اپنی معاہدہ شدہ رقم 100 ملین ڈالر سے بڑھا کر 103 ارب ڈالر سے زیادہ کر دی ہے۔ وہ نیبیوس، کروسو اور لیمبڈا جیسی کمپنیوں سے مقابلہ کر رہی ہے۔ اس کے پراسپیکٹس کے مطابق مائیکروسافٹ اور اینتھروپک مستقبل میں اس کے بڑے گاہک ہوں گے۔
لیکن راستہ ہموار نہیں ہے۔ مائیکروسافٹ نے حال ہی میں این اسکیل کے ایک اہم ڈیٹا سینٹر معاہدے سے دستبرداری اختیار کر لی۔ وجہ بجلی کی فراہمی میں تاخیر تھی۔ اس تاخیر نے بجلی کی متوقع فراہمی کو 2030 کی دہائی تک دھکیل دیا۔ یہ واقعہ دکھاتا ہے کہ ڈیٹا سینٹر کی سب سے بڑی رکاوٹ اب چپس نہیں بلکہ بجلی ہے۔ ایک ڈیٹا سینٹر کو شہر کے برابر بجلی چاہیے ہوتی ہے۔
این اسکیل کی ناروے کی اہم سہولت بھی چھ ماہ پیچھے ہے۔ وہاں صرف 6.4 میگاواٹ طاقت چل رہی ہے جبکہ ہدف 30 میگاواٹ کا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ کمپنی کے نیویارک اسٹاک ایکسچینج میں متوقع آئی پی او پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ این اسکیل 3 ارب ڈالر تک جمع کرنا چاہتی ہے۔ وہ تقریباً 30 ارب ڈالر کی مالیت چاہتی ہے۔ لیکن کچھ سرمایہ کاروں کا کہنا ہے کہ 16 سے 19 ارب ڈالر کی مالیت پر زیادہ خریدار آئیں گے۔
پاکستان اور خطے کے لیے سبق
پاکستان کے لیے اس خبر میں کئی سبق ہیں۔ پہلا سبق یہ ہے کہ اے آئی کی دوڑ میں اصل مقابلہ اب ماڈل بنانے کا نہیں رہا۔ اصل مقابلہ کمپیوٹنگ طاقت کا ہے۔ جس کے پاس زیادہ بجلی اور زیادہ چپس ہیں، وہی آگے ہے۔ پاکستان میں بجلی پہلے ہی مہنگی ہے۔ اگر ملک اے آئی میں کوئی کردار چاہتا ہے تو اسے بجلی کی پالیسی پر نئے سرے سے سوچنا ہوگا۔
دوسرا سبق سرمایہ کاری کا ہے۔ دنیا میں ڈیٹا سینٹر قرضوں پر بن رہے ہیں۔ پاکستان میں بھی اگر ڈیٹا سینٹر بنانے کی بات ہوتی ہے تو سوال یہ ہوگا کہ یہ پیسہ کہاں سے آئے گا۔ غیر ملکی سرمایہ کار وہیں پیسہ لگائیں گے جہاں بجلی سستی اور مستحکم ہو۔ پاکستان کی ٹیکنالوجی انڈسٹری کے لیے یہ ایک موقع بھی ہے۔ چھوٹے اور درمیانے ڈیٹا سینٹر علاقائی خدمات دے سکتے ہیں۔
تیسرا سبق مائیکروسافٹ کے دستبردار ہونے سے ملتا ہے۔ اس نے دکھایا کہ بڑے معاہدے بھی بجلی کی کمی سے ٹوٹ سکتے ہیں۔ پاکستان میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ اور مہنگی بجلی پہلے سے ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اے آئی کے دور میں یہ مسئلہ اور بھی بڑا ہو جائے گا۔
مجموعی طور پر یہ خبر بتاتی ہے کہ اے آئی کی معیشت اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ پہلے مرحلے میں ماڈل بنے۔ اب دوسرے مرحلے میں ان ماڈلوں کو چلانے والی مشینیں بن رہی ہیں۔ اس مرحلے میں اربوں ڈالر داؤ پر ہیں۔ اینتھروپک اور این اسکیل کا یہ معاہدہ اسی نئے مرحلے کی ایک کڑی ہے۔ آنے والے مہینوں میں ایسے مزید معاہدے سامنے آئیں گے۔ سوال صرف یہ ہے کہ یہ قرضوں پر کھڑی عمارت کتنی مضبوط ہے۔




