ریڈمنڈ، 12 اکتوبر 2026 (نیوز ڈیسک): مائیکروسافٹ نے Decision-1 کے نام سے ایک نیا AI ماڈل متعارف کرایا ہے جو عام زبان کے ماڈلز کی طرح متن بنانے کے بجائے تیز اور درست فیصلے کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یہ ماڈل 36 بینچ مارکس پر مشتمل تقریباً ڈیڑھ لاکھ سوالات کے موازنے میں سب سے زیادہ درست ثابت ہوا، اور رفتار میں GPT-6 Sol سے 35 گنا تیز ہے۔ یہ ماڈل Microsoft Foundry اور OpenRouter کے ذریعے دستیاب ہے۔
ڈیسیژن ماڈل کیا ہے، اور یہ LLM سے کیسے مختلف ہے
پچھلے چند سالوں میں مصنوعی ذہانت کی دنیا large language models کے گرد گھومتی رہی ہے، جو متن بناتے ہیں اور پیچیدہ سوالات پر استدلال کرتے ہیں۔ ڈیسیژن ماڈل ایک الگ راستہ ہیں۔ یہ متن بنانے کے بجائے ایسے منظم نتائج دیتے ہیں جن پر سافٹ ویئر فوراً عمل کر سکتا ہے، یعنی کسی سوال کا جواب نہیں بلکہ ایک قابلِ عمل فیصلہ۔ مائیکروسافٹ کے آفس آف دی چیف ٹیکنالوجی آفیسر میں سافٹ ویئر انجینئرنگ کے نائب صدر اچنت سری واستو نے اس اعلان میں کہا:
ڈیسیژن ماڈل AI کی تیزی سے ابھرتی ہوئی نئی کیٹیگری بن رہے ہیں
ان کے مطابق جب یہ بات سمجھ آ جائے کہ بہت کم قیمت پر اعلیٰ کارکردگی کے ساتھ فیصلے اور درجہ بندی کی جا سکتی ہے، تو بے شمار نئے کام ممکن ہو جاتے ہیں۔ Decision-1 کو routing، classification، prioritization، verification اور workflow control کے لیے بنایا گیا ہے۔ عملی طور پر اس کا مطلب ہے کہ AI agent جب کوئی کام کرتا ہے تو اسے ہر قدم پر چھوٹے چھوٹے فیصلے کرنے پڑتے ہیں، جیسے کسی درخواست کو کس محکمے کو بھیجنا ہے، کسی مواد کو کس زمرے میں رکھنا ہے، یا کسی AI جواب کو درجہ بندی کے پیمانے پر پرکھنا ہے۔
رفتار کی اہمیت کو مائیکروسافٹ نے ایک سادہ مثال سے سمجھایا ہے۔ اگر کسی workflow میں 20 مسلسل فیصلے ہوتے ہیں اور ہر فیصلے میں صرف 100 ملی سیکنڈ کی تاخیر شامل ہو جائے، تو مجموعی طور پر دو سیکنڈ کی تاخیر پیدا ہو جاتی ہے۔ اسی لیے Decision-1 کی P50 لیٹینسی GPT-6 Sol سے تقریباً 35 گنا کم رکھی گئی ہے۔ ماڈل yes/no، multiple-choice اور rating options پر calibrated probability scores دیتا ہے، اور AI responses اور agent actions کی rubric-based grading بھی ایک سادہ structured API call کے ذریعے کی جا سکتی ہے۔
اعداد و شمار: دعوے کتنے بڑے ہیں
مائیکروسافٹ کے مطابق Decision-1 نے 36 بینچ مارکس پر مشتمل تقریباً ایک لاکھ پچاس ہزار سوالات کے موازنے میں سب سے زیادہ درستگی حاصل کی، اور یہ تمام بینچ مارکس ٹریننگ کے عمل سے بلائنڈ رکھے گئے تھے۔ رفتار کے موازنے میں یہ ماڈل H2O-Lightning-4B v1.1 سے 2.5 گنا تیز نکلا، جو اس مقابلے میں دوسرے نمبر پر تھا۔ کمپنی کے اپنے چارٹ کے مطابق ماڈل نے 83.5 فیصد درستگی اور 85 ملی سیکنڈ کی لیٹینسی حاصل کی، جیسا کہ The Decoder نے رپورٹ کیا۔
استحکام کی جانچ بھی دلچسپ ہے۔ مائیکروسافٹ نے ایک ہی درخواست کو آٹھ مختلف طریقوں سے بدلا اور دیکھا کہ فیصلہ کتنی بار پلٹتا ہے۔ اوسطاً صرف 1.3 فیصد صورتوں میں فیصلہ بدلا، اور جب آپشنز کی تفصیل کو دوبارہ لکھا گیا یا آپشنز کو الٹ پلٹ کیا گیا تو فیصلہ ایک بار بھی نہیں بدلا۔ یعنی ایک ہی مطلب کے مختلف الفاظ پر ماڈل کا فیصلہ مستحکم رہتا ہے۔ سیفٹی کی جانچ میں 11 بینچ مارکس پر 5,250 درخواستوں کا تجربہ کیا گیا، جس میں نقصان دہ مواد، jailbreak کی کوششیں اور prompt injection شامل تھے۔ ماڈل نے نقصان دہ رویے سے انکار کیا مگر عام مفید کاموں میں اس کی افادیت برقرار رہی۔ The Decoder کے مطابق یہ ماڈل Qwen3.5-9B پر مبنی ہے، جو علی بابا کا اوپن ماڈل ہے۔
دوڑ میں کون کون شامل ہے: Jev، OpenAI اور Cloudflare
ڈیسیژن ماڈلز کا رجحان نیا ہے مگر اس میں مقابلہ پہلے ہی تیز ہو چکا ہے۔ The Decoder کے مطابق اس رجحان کا آغاز ستمبر کے وسط میں اسٹارٹ اپ Jev نے کیا، جس کے بعد OpenAI اور Cloudflare نے اپنے ڈیسیژن ماڈل پیش کیے۔ Cloudflare کے Clef ماڈل اوپن سورس ہیں اور وہ بھی Qwen پر مبنی ہیں، مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ مائیکروسافٹ کے موازنے میں شامل نہیں تھے۔ مائیکروسافٹ نے بعد میں اپنے بلاگ پوسٹ کو اپڈیٹ کر کے Jev کے 1.13.0 ماڈل کے بینچ مارک نتائج بھی درستگی اور calibration کے خانوں میں شامل کیے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ مقابلہ ابھی جاری ہے اور ہر فریق اپنے اعداد و شمار کو مضبوط کر رہا ہے۔
قیمت کے لحاظ سے بھی یہ ماڈل جارحانہ ہے۔ OpenRouter پر Decision-1 کی قیمت دس لاکھ input tokens کے لیے صرف 0.042 ڈالر رکھی گئی ہے، جبکہ آؤٹ پٹ tokens بالکل مفت ہیں۔ یہ وہی فارمولا ہے جس نے پہلے کئی چھوٹے ماڈلز کو مقبول بنایا: فیصلہ جتنا سستا اور تیز ہو گا، اتنے زیادہ workflows میں اسے استعمال کیا جا سکے گا۔
اندرونی استعمال اور عملی صورتحال
مائیکروسافٹ نے بتایا ہے کہ وہ اس ماڈل کو خود بھی اندرونی طور پر آزما رہا ہے۔ Xbox Research نے Decision-1 کے ذریعے surveys، Steam اور Twitter/X سے حاصل شدہ دس ہزار سے زائد کھلے جوابات اور ریویوز کو محققین کے طے کردہ زمرے بندی کے نظام میں sort کیا، تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ صارفین مختلف گیمز، لانچز اور streams کے بارے میں کیا کہہ رہے ہیں۔ کمپنی نے کچھ ڈیمو مثالیں بھی دکھائی ہیں، جن میں سے ایک میں ماڈل نے بیگ خریدنے کا computer-use والا کام GPT-6 Sol کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیز رفتاری سے مکمل کیا۔
ایک اور اہم اشارہ مائیکروسافٹ کی اس توقع میں ہے کہ اس ماڈل میں ایجنٹس کو پیچیدہ ماحول میں رہنمائی اور کنٹرول کرنے کی صلاحیت ہے:
اس میں ایجنٹس کو پیچیدہ ماحول میں رہنمائی اور کنٹرول کرنے کی صلاحیت موجود ہے
پاکستان کے لیے اس کا کیا مطلب ہے
پاکستان میں software houses اور startups کی بڑی تعداد اب AI agents پر مبنی products بنا رہی ہے، چاہے وہ customer support کے خودکار نظام ہوں یا دستاویزات کی درجہ بندی کے workflows۔ ان سب کے لیے دو چیزیں بنیادی ہیں: ہر فیصلے کی قیمت اور ہر فیصلے میں لگنے والا وقت۔ ایک ایسا ماڈل جو بڑے LLM کی قیمت کا ایک حصہ لے اور اس سے درجنوں گنا تیز جواب دے، ان کمپنیوں کو اپنے agent workflows کو سستے داموں اسکیل کرنے کا موقع دیتا ہے۔
ایک عام مثال لیجیے: کسی غیر ملکی e-commerce کمپنی کے customer support نظام میں ہر آنے والے پیغام کو پہلے درجہ بندی کرنا ہوتا ہے کہ یہ شکایت ہے، واپسی کی درخواست ہے یا عام سوال، اور پھر اسے متعلقہ ٹیم کو بھیجنا ہوتا ہے۔ ڈیسیژن ماڈل اسی کام کو بڑے ماڈل کی قیمت کے ایک حصے میں اور ملی سیکنڈز میں کر سکتا ہے۔ پاکستانی ڈویلپرز کے لیے، جو بین الاقوامی کلائنٹس کے لیے ایسے نظام بناتے ہیں، یہ قیمت اور رفتار کا فرق براہِ راست منافع میں بدل سکتا ہے۔
نتیجہ
مائیکروسافٹ کا Decision-1 اس بات کی علامت ہے کہ AI کی دوڑ اب صرف بڑے اور ہوشیار ماڈل بنانے کی نہیں رہی، بلکہ سستے، تیز اور مخصوص کاموں کے ماڈلز کی بھی ہے۔ Jev نے رجحان شروع کیا، OpenAI اور Cloudflare میدان میں آئے، اور اب مائیکروسافٹ درستگی اور رفتار کے دعووں کے ساتھ سب سے آگے ہونے کا دعویٰ کر رہا ہے۔ اگر یہ اعداد و شمار آزاد جانچ میں بھی قائم رہے تو ڈیسیژن ماڈل AI agents کے دور کا وہ خاموش انجن بن سکتے ہیں جس پر صارف کی نظر تو نہیں پڑے گی، مگر جس کے بغیر کوئی بڑا خودکار نظام چل نہیں سکے گا۔



