پالو آلٹو، 14 اکتوبر 2026 (نیوز ڈیسک): چیٹ بوٹ اسٹارٹ اپ کیرکٹر اے آئی نے امریکی دیوالیہ پن قانون کے چپٹر 11 کے تحت تحفظ کی درخواست دے دی ہے، اور اس کے اثاثوں کی فروخت کے عمل میں تفریحی دیو ڈزنی نے 20 ملین ڈالر کی ابتدائی بولی لگا دی ہے۔ کمپنی نے پیر کے روز عدالت میں درخواست دائر کرتے ہوئے اعلان کیا کہ عدالت کی نگرانی میں اس کے تمام اثاثوں کی فروخت کا عمل نومبر کے آخر یا دسمبر کے اوائل تک مکمل کر لیا جائے گا۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق کمپنی کے اثاثے اور واجبات 50 ملین سے 100 ملین ڈالر کے درمیان ہیں۔ کیرکٹر اے آئی کے سربراہ کولن ایڈمز نے بیان میں کہا کہ پچھلے ایک سال میں کمپنی نے قانونی، ضابطہ کاری اور آپریشنل مشکلات کے باوجود کاروبار کو سنبھالنے کی بھرپور کوشش کی، مگر بورڈ نے تمام آپشنز کا جائزہ لے کر طے کیا کہ عدالت کی نگرانی میں فروخت کا یہ عمل تمام شراکت داروں کے لیے سب سے زیادہ قدر پیدا کرے گا۔
ڈزنی کا کردار اور ابتدائی بولی
ڈزنی ورلڈ وائیڈ سروسز اس نیلامی میں ابتدائی خریدار ہوگی، یعنی اس کی 20 ملین ڈالر کی بولی قیمت کی بنیاد ہوگی اور دوسرے خریدار اس سے زیادہ بولی لگا سکیں گے۔ یہ بولی کمپنی کی کچھ ذہنی ملکیت کے غیر خصوصی مستقل لائسنس اور کچھ دعوؤں کے لیے ہے۔ ڈزنی ان سابق ملازمین کی مدد سے منتقلی کے امور بھی سنبھالے گی جنہیں اس نے کیرکٹر اے آئی سے بھرتی کیا تھا، جن میں کمپنی کے سابق سربراہ کرن دیپ سنگھ آنند بھی شامل ہیں۔ آنند پچھلے ماہ ڈزنی کے پہلے چیف ٹیکنالوجی افسر بنے تھے۔
ایڈمز نے کہا کہ فروخت کے عمل کے دوران پلیٹ فارم چلتا رہے گا، مگر ابھی تک اثاثوں کا کوئی حتمی خریدار سامنے نہیں آیا۔ انہوں نے واضح کیا:
ہم امید کرتے ہیں کہ فروخت کے عمل سے کوئی قابلِ عمل تجویز سامنے آئے گی جس سے کیرکٹر اے آئی کا پلیٹ فارم چلتا رہے۔ اگر ایسی کوئی بولی نہ آئی تو پلیٹ فارم بند کر دیا جائے گا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ وہی ڈزنی ہے جس نے ستمبر 2025 میں کیرکٹر اے آئی کو قانونی تنبیہی خط بھیجا تھا، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ کمپنی ڈزنی کے کاپی رائٹ والے کردار بغیر اجازت استعمال کر رہی ہے۔ کیرکٹر اے آئی کا کہنا تھا کہ اس نے وہ کردار ہٹا دیے تھے۔
دو گوگل انجینیئرز کا خواب جو یک ارب ڈالر تک پہنچا
کیرکٹر اے آئی کی کہانی 2021 کے آخر میں شروع ہوئی جب گوگل کے دو سابق انجینیئر نوام شازیر اور ڈینیئل ڈی فریٹاس نے نوکری چھوڑ دی۔ شازیر اس تاریخی ٹرانسفارمر تحقیقی مقالے کے شریک مصنف ہیں جس پر آج کے تمام بڑے زبانی ماڈل کھڑے ہیں، اور دونوں گوگل میں لیمڈا نامی چیٹ بوٹ ٹیکنالوجی بنانے والی ٹیم کی قیادت کر چکے تھے۔ ان کا مقصد تھا کہ صارفین اپنی مرضی کے کردار بنا کر ان سے بات چیت کر سکیں۔
ستمبر 2022 میں کمپنی نے 150 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کی جس سے اس کی مالیت ایک ارب ڈالر ہو گئی۔ کمپنی کے مطابق اس وقت صارفین 5 ماہ میں اس کے بوٹس سے 2 ارب سے زائد پیغامات کا تبادلہ کر چکے تھے اور اوسط صارف روزانہ 2 گھنٹے سے زیادہ پلیٹ فارم پر گزارتا تھا۔ مئی 2023 میں کمپنی کی موبائل ایپ نے پہلے ہفتے میں 17 لاکھ سے زیادہ انسٹالز حاصل کیں۔
عروج کا اگلا مرحلہ اگست 2024 میں آیا جب گوگل نے کمپنی کی ٹیکنالوجی کا لائسنس لینے کے لیے 2.7 ارب ڈالر کا معاہدہ کیا اور دونوں بانی گوگل واپس چلے گئے۔ اس وقت کمپنی کے جنرل کونسل ڈومینک پیریلا عبوری سربراہ بنے اور کمپنی نے نئے بنیادی ماڈل بنانے کی بجائے ترقی پر توجہ مرکوز کی۔ ٹیک کرنچ کے مطابق اکتوبر 2024 تک پلیٹ فارم کے ماہانہ فعال صارفین کی تعداد 2 کروڑ تک پہنچ چکی تھی۔ پچ بک کے اعداد کے مطابق کمپنی نے لائٹ سپیڈ، ایس وی اینجل، گری کرافٹ اور اینڈریسن ہورووٹز جیسے سرمایہ کاروں سے مجموعی طور پر 193 ملین ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری حاصل کی۔
مقدمات کا سلسلہ جو تباہی بن گیا
کامیابی کے ساتھ ہی مشکلات بھی بڑھنے لگیں۔ فلوریڈا کے ایک 14 سالہ لڑکے کی خودکشی کے بعد اس کی والدہ میگن گارشیا نے 2024 میں کمپنی پر مقدمہ دائر کیا، جس میں الزام لگایا گیا کہ لڑکا پلیٹ فارم کے ایک چیٹ بوٹ کا عادی ہو گیا تھا۔ سی این این کے مطابق کمپنی نے اس سمیت 5 مقدمات کا تصفیہ رواں سال کے اوائل میں کر لیا تھا۔
اس کے بعد ٹیکساس نے بچوں کی رازداری اور تحفظ کے قوانین کی خلاف ورزی کی تحقیقات شروع کیں۔ کینٹکی نے کمپنی پر مقدمہ دائر کرتے ہوئے الزام لگایا کہ اس کے چیٹ بوٹس صارفین کو خود کو نقصان پہنچانے پر اکساتے ہیں، جبکہ پنسلوانیا نے مقدمے میں الزام لگایا کہ اس کے چیٹ بوٹس ڈاکٹر بن کر پیش ہوتے ہیں۔ کمپنی نے نابالغوں کے لیے کھلے چیٹس پر پابندی لگا دی اور حفاظتی فیچرز بڑھا دیے۔
جون 2025 میں کمپنی نے سابق بریکس اور میٹا ایگزیکٹو کرن دیپ آنند کو سربراہ مقرر کیا، اور مصنوعات میں اے آئی ویڈیو جنریشن، سوشل فیڈز اور انٹرایکٹو کہانیوں کے فارمیٹ شامل کیے۔ مگر ٹیک کرنچ کے مطابق یہ تبدیلیاں کمپنی کو پائیدار بنانے میں ناکام رہیں۔
تجزیہ: انگیجمنٹ کاروبار کیوں نہ بن سکی
اینالیٹکس فرم سینسر ٹاور کے مطابق کیرکٹر اے آئی صارفین کے گزارے گئے وقت کے لحاظ سے سرفہرست ایپس میں تھی، مگر یہی کامیابی اس کی کمزوری بھی بنی۔ اے آئی چیٹ بوٹس چلانے کی لاگت ہر پیغام کے ساتھ بڑھتی ہے، اس لیے زیادہ استعمال کا مطلب زیادہ خرچ تھا۔ ٹیک کرنچ کے تجزیے کے مطابق صارفین سے آمدنی کمانے کا دباؤ بڑھتا گیا، اور نئے فیچرز اس دباؤ کو کم نہ کر سکے۔
یہ واقعہ صارفین کے لیے بنائی گئی اے آئی مصنوعات کی مشکل معیشت کی ایک بڑی مثال ہے۔ کاروباری سافٹ ویئر کے برعکس، جہاں ایک معاہدہ لاکھوں ڈالر کا ہو سکتا ہے، صارف ایپس کو کروڑوں مفت صارفین کو ادائیگی کرنے والے صارفین میں بدلنا پڑتا ہے، اور اے آئی کی بڑھتی ہوئی کمپیوٹنگ لاگت یہ کام مزید مشکل بنا دیتی ہے۔
پاکستان کے لیے سبق
ساتھی چیٹ بوٹ ایپس دنیا بھر کے نوجوانوں میں مقبول ہیں، اور پاکستان بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔ کیرکٹر اے آئی کا واقعہ دو سبق دیتا ہے۔ پہلا، بچوں اور نوجوانوں کے تحفظ کے بغیر بنائی گئی اے آئی مصنوعات قانونی اور مالی دونوں طرح کے خطرات مول لیتی ہیں۔ دوسرا، مقامی اسٹارٹ اپس کے لیے یہ ایک انتباہ ہے کہ محض صارفین کی تعداد کامیابی نہیں، پائیدار آمدنی کا ماڈل اس سے بھی اہم ہے۔
کیرکٹر اے آئی جنریٹو اے آئی کی پہلی بڑی کامیاب کہانیوں میں سے ایک تھی۔ اب اس کا مستقبل اس بات پر منحصر ہے کہ نیلامی میں ڈزنی سے زیادہ بولی لگانے والا کوئی خریدار سامنے آتا ہے یا نہیں۔ فروخت کا عمل مکمل ہونے تک پلیٹ فارم چلتا رہے گا، مگر اگر کوئی خریدار نہ ملا تو 2 کروڑ ماہانہ صارفین والی یہ ایپ تاریخ بن جائے گی۔



