مصنوعی ذہانت کی دنیا میں ایک اہم تبدیلی آہستہ آہستہ سامنے آ رہی ہے۔ بڑی کمپنیوں کے درمیان مقابلہ اب صرف یہ نہیں رہا کہ کس کا AI ماڈل زیادہ سوالوں کے جواب دے سکتا ہے۔ اب توجہ اس بات پر بھی ہے کہ کوئی ماڈل کسی مخصوص شعبے کا کام دوسرے عمومی ماڈلز کے مقابلے میں زیادہ درست اور مؤثر طریقے سے انجام دے سکتا ہے یا نہیں۔
Salesforce اور NVIDIA کا نیا Koa اسی بدلتے ہوئے رجحان کی ایک نمایاں مثال ہے۔ Koa عام صارف کے لیے بنایا گیا ایک اور چیٹ بوٹ نہیں بلکہ کاروباری اداروں کے صارفین اور معاملات کے انتظام سے متعلق پیچیدہ کاموں کے لیے تیار کیا گیا استدلالی ماڈل ہے۔
یہ پیش رفت بظاہر ایک کمپنی کے نئے AI ماڈل کی خبر ہے، لیکن اس کے پیچھے ایک بڑا سوال موجود ہے: کیا مصنوعی ذہانت کا مستقبل ایک ایسے ماڈل میں ہے جو ہر کام کر سکے، یا ایسے ماڈلز میں جو اپنے اپنے شعبے میں غیر معمولی مہارت رکھتے ہوں؟
صرف جواب دینے سے کام کرنے تک
ابتدائی دور کے بڑے لینگوئج ماڈلز کی بنیادی صلاحیت سوالات کے جواب دینا اور متن تیار کرنا تھی۔ وقت کے ساتھ ان میں پیچیدہ مسئلے حل کرنے، پروگرام لکھنے، تصاویر سمجھنے اور معلومات کا تجزیہ کرنے کی صلاحیتیں شامل ہوتی گئیں۔
اب اگلا مرحلہ زیادہ عملی ہے۔
ایک کاروباری ادارے کو صرف یہ جاننا کافی نہیں کہ AI کسی صارف کے سوال کا اچھا جواب دے سکتا ہے یا نہیں۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ AI صارف کی درخواست سمجھ سکے، متعلقہ ریکارڈ تلاش کرے، ادارے کے قواعد دیکھے، ضروری معلومات حاصل کرے اور پھر کئی مراحل میں کام مکمل کر سکے۔
مثلاً ایک صارف کسی کمپنی سے اپنی خریداری کے بارے میں شکایت کرتا ہے۔ ایک جدید خودکار نظام کو صرف جواب لکھنے کے بجائے صارف کا ریکارڈ تلاش کرنا، سابقہ شکایت دیکھنا، متعلقہ قواعد کی جانچ کرنا، آرڈر کی صورتحال معلوم کرنا اور آخر میں مناسب کارروائی کرنا پڑ سکتی ہے۔
یہ کام ایک سوال کا جواب دینے سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔
Koa اسی طرح کے کاموں کو بہتر بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
Koa میں کیا نیا ہے؟
Salesforce کے مطابق Koa کو خاص طور پر کاروباری اداروں کے صارفین سے متعلق معلومات اور کاموں کے انتظام کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اس کی بنیاد NVIDIA کے Nemotron-3-Super-120B ماڈل پر رکھی گئی ہے، جسے بعد میں Salesforce کے مخصوص کاروباری کاموں کے مطابق مزید تربیت دی گئی۔
یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے۔
Koa کوئی ایسا ماڈل نہیں جسے Salesforce نے مکمل طور پر ابتدا سے بنایا ہو۔ کمپنی نے ایک موجودہ بنیادی ماڈل کو لیا اور اسے اپنے شعبے کے مخصوص کاموں کے لیے زیادہ ماہر بنایا۔
یہ طریقہ مستقبل میں بہت اہم ہو سکتا ہے۔
اگر ایک عمومی ماڈل ہزاروں مختلف کام کر سکتا ہے لیکن کسی خاص صنعت کے پیچیدہ طریقۂ کار کو پوری طرح نہیں سمجھتا، تو اسے مخصوص معلومات اور کاموں کے ذریعے مزید تربیت دے کر اس شعبے میں زیادہ مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔
حقیقی صارفین کا ڈیٹا استعمال نہیں کیا گیا
Koa کے بارے میں Salesforce کی ایک اہم بات یہ ہے کہ اس کی تربیت کے لیے حقیقی صارفین کا ڈیٹا استعمال نہیں کیا گیا۔
کمپنی نے اپنے کئی دہائیوں کے کاروباری تجربے کی بنیاد پر مختلف مصنوعی حالات اور معلومات تیار کیں۔ ان حالات میں مختلف کاروباری کاموں، صارفین، ملازمین اور سافٹ ویئر ذرائع کے درمیان ممکنہ تعاملات کو شامل کیا گیا۔
یہ طریقہ اس لیے اہم ہے کہ کاروباری اداروں کے پاس انتہائی حساس معلومات موجود ہوتی ہیں۔
بینک کے پاس مالی معلومات ہوتی ہیں، ہسپتال کے پاس مریضوں کا ریکارڈ، آن لائن کاروبار کے پاس صارفین اور خریداری کا ڈیٹا جبکہ بڑی کمپنیوں کے پاس داخلی دستاویزات اور کاروباری منصوبے ہوتے ہیں۔
ایسے ڈیٹا کو AI ماڈل کی تربیت کے لیے استعمال کرنا رازداری اور قانونی مسائل پیدا کر سکتا ہے۔
مصنوعی معلومات اس خطرے کو کم کرنے کا ایک راستہ ہیں۔
تاہم اس کا دوسرا پہلو بھی ہے۔ مصنوعی حالات حقیقی دنیا کی تمام پیچیدگیوں کو مکمل طور پر نہیں دہرا سکتے۔ اس لیے صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ ماڈل نے مصنوعی ماحول میں اچھا نتیجہ دیا۔ اصل امتحان حقیقی کاروباری حالات میں اس کی کارکردگی ہوگی۔
ماڈل کو مخصوص کام کیسے سکھایا جاتا ہے؟
Koa کے تحقیقی کام میں ایسے طریقوں کا استعمال کیا گیا جن میں ماڈل کو صرف درست جواب دینے کے بجائے درست طریقے سے پورا کام انجام دینے کی تربیت دی گئی۔
اس فرق کو ایک سادہ مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔
فرض کریں کسی AI نظام کو صارف کی شکایت حل کرنے کے لیے پانچ مراحل طے کرنے ہیں۔ اگر وہ آخری جواب درست لکھ دے لیکن راستے میں غلط ریکارڈ دیکھ لے یا غلط نظام سے معلومات حاصل کرے تو پورا عمل ناکام ہو سکتا ہے۔
اس لیے ایسے ماڈل کی تربیت میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس نے پورے عمل کے دوران کون سے اقدامات کیے اور آیا اس نے درست ذرائع اور طریقۂ کار اختیار کیا یا نہیں۔
Koa کی تحقیق میں اسی قسم کے کئی مرحلوں پر مشتمل کاموں کو مصنوعی ماحول میں آزمایا گیا۔ اس کا مقصد ماڈل کو کاروباری کام کے صرف آخری جواب کے بجائے پورے عمل کو بہتر انداز میں مکمل کرنے کے قابل بنانا تھا۔
کیا Koa نے بڑے AI ماڈلز کو پیچھے چھوڑ دیا؟
یہاں مبالغے سے بچنا ضروری ہے۔
Koa کی خبر کو یہ کہہ کر پیش کرنا کہ Salesforce نے OpenAI، Anthropic یا Google کے تمام جدید ماڈلز کو پیچھے چھوڑ دیا ہے، دستیاب تحقیق سے ثابت نہیں ہوتا۔
Salesforce کی تحقیق میں Koa نے بعض مخصوص کاروباری اور مختلف سافٹ ویئر ذرائع استعمال کرنے والے کاموں میں اپنے بنیادی ماڈل سے نمایاں بہتری دکھائی۔ لیکن اس کا مقصد عمومی طور پر دنیا کا سب سے طاقتور AI ماڈل بننا نہیں ہے۔
یہاں Koa کی اصل اہمیت سامنے آتی ہے۔
Koa کی کامیابی کا پیمانہ یہ نہیں کہ وہ ہر کام میں سب سے آگے ہے، بلکہ یہ ہے کہ کیا وہ ایک مخصوص کام میں زیادہ ماہر بن سکتا ہے۔
یہ AI صنعت کے لیے زیادہ اہم سوال بن سکتا ہے۔
ایک بڑا ماڈل یا کئی ماہر ماڈل؟
اب تک AI صنعت میں بڑے ماڈل بنانا ایک بنیادی حکمت عملی رہی ہے۔ خیال یہ تھا کہ جتنا طاقتور عمومی ماڈل ہوگا، اتنے زیادہ کام وہ سنبھال سکے گا۔
لیکن کاروباری اداروں کی ضرورت مختلف ہے۔
ایک بینک کو ضروری نہیں کہ اس کا AI ماڈل شاعری، پیچیدہ طبیعیات اور پروگرام نویسی کے عالمی امتحان میں سب سے زیادہ نمبر حاصل کرے۔ اسے ایسا نظام چاہیے جو بینکاری کے کام کو اچھی طرح سمجھے۔
اسی طرح ایک ہسپتال کو ایسا AI درکار ہو سکتا ہے جو طبی انتظامی کاموں میں ماہر ہو، جبکہ ایک آن لائن دکان کو ایسا نظام چاہیے جو آرڈر، واپسی اور صارفین کی شکایات سے متعلق کام بہتر انداز میں انجام دے۔
اس صورت میں ایک مخصوص ماڈل زیادہ مفید ہو سکتا ہے۔
یہی وہ جگہ ہے جہاں Koa جیسے ماڈلز ایک نئے راستے کی نشاندہی کرتے ہیں۔
Open ماڈلز کا کردار بھی بڑھ سکتا ہے
Koa کی بنیاد NVIDIA کے کھلے وزن والے ماڈل پر ہونا بھی قابل توجہ ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ Salesforce کو بنیادی AI ماڈل کی تمام تربیت ابتدا سے خود کرنے کی ضرورت نہیں پڑی۔ اس نے ایک موجودہ بنیادی ماڈل کو اپنے مخصوص کاموں کے مطابق ڈھالا۔
اس طریقے سے چھوٹی اور درمیانے درجے کی کمپنیاں بھی مستقبل میں اپنے شعبے کے مطابق AI تیار کر سکتی ہیں۔
مثلاً ایک کمپنی موجودہ کھلے ماڈل کو لے کر اسے اردو قانونی دستاویزات، طبی انتظام، مقامی تجارت یا کسی مخصوص کاروباری شعبے کے لیے تربیت دے سکتی ہے۔
یہ طریقہ بڑے عالمی AI ماڈلز کے مقابلے میں کم وسائل کا تقاضا کر سکتا ہے، اگرچہ اصل لاگت ڈیٹا، تربیت، کمپیوٹنگ اور ماڈل کو چلانے کے وسائل پر منحصر ہوگی۔
پاکستان کے لیے اس رجحان کی اہمیت
پاکستان میں AI کے استعمال کی موجودہ بحث زیادہ تر عمومی چیٹ بوٹس کے گرد گھومتی ہے۔ لیکن کاروباری سطح پر اگلا مرحلہ زیادہ مختلف ہو سکتا ہے۔
بینک ایسا AI معاون چاہتے ہیں جو صارفین کے سوالات سمجھنے کے ساتھ ساتھ متعلقہ ریکارڈ تک رسائی اور ادارے کے مقررہ طریقۂ کار کے مطابق کام کر سکے۔
ٹیلی مواصلاتی کمپنیاں شکایات کے حل کو خودکار بنا سکتی ہیں۔ آن لائن کاروبار آرڈر اور واپسی کے معاملات سنبھال سکتے ہیں۔ ہسپتال انتظامی کاموں میں AI کا استعمال کر سکتے ہیں۔
لیکن پاکستانی اداروں کے لیے ایک بنیادی سوال باقی رہے گا: کیا ان ماڈلز کو مقامی زبان اور مقامی حالات کی مناسب سمجھ بھی حاصل ہے؟
یہ مسئلہ خاص طور پر اردو کے لیے اہم ہے۔
پاکستان میں اردو کے علاوہ پشتو، پنجابی، سندھی، بلوچی اور دیگر زبانیں بھی بڑے پیمانے پر استعمال ہوتی ہیں۔ کسی عالمی ماڈل کی عمومی ذہانت اچھی ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ان تمام زبانوں اور مقامی کاروباری طریقۂ کار کو یکساں طور پر سمجھتا ہوگا۔
یہی خلا پاکستانی AI developers کے لیے ایک بڑا موقع بھی بن سکتا ہے۔
مستقبل میں AI کا نقشہ کیسا ہو سکتا ہے؟
ممکن ہے آنے والے برسوں میں AI نظام ایک ہی ماڈل پر انحصار نہ کریں۔
ایک نظام صارف کی بات سمجھنے کے لیے ایک ماڈل استعمال کرے، دوسرا پیچیدہ مسئلہ حل کرے، تیسرا کسی خاص صنعت کا کام سنبھالے اور چوتھا انتہائی حساس معلومات والے کام مقامی نظام میں انجام دے۔
اس طرح مختلف ماڈلز ایک ہی AI نظام کے اندر مختلف ذمہ داریاں ادا کر سکتے ہیں۔
یہ ابھی ایک ممکنہ سمت ہے، یقینی مستقبل نہیں۔ لیکن Koa جیسے ماڈلز اس امکان کو عملی شکل دینے کی کوشش ضرور کر رہے ہیں۔
اصل مقابلہ اب مہارت کا ہے
مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں گزشتہ چند سال کا بنیادی سوال یہ تھا کہ کون سا ماڈل زیادہ طاقتور ہے۔
اب سوال بدل رہا ہے۔
کون سا ماڈل کسی خاص کام کو زیادہ درست طریقے سے انجام دے سکتا ہے؟ کون سا ماڈل کم وسائل میں کام کر سکتا ہے؟ کون سا ماڈل حساس معلومات کو زیادہ محفوظ رکھ سکتا ہے؟ اور کون سا ماڈل کسی ادارے کے حقیقی کام کے طریقۂ کار کو بہتر طور پر سمجھ سکتا ہے؟
Koa نے ان تمام سوالوں کے حتمی جواب نہیں دیے، لیکن اس نے ایک اہم سمت ضرور واضح کی ہے۔
مصنوعی ذہانت کا مستقبل ضروری نہیں کہ ایک ایسے ماڈل کا ہو جو دنیا کا ہر کام کر سکے۔ ممکن ہے اصل مستقبل ایسے متعدد ماڈلز کا ہو جو اپنے اپنے کام میں غیر معمولی مہارت رکھتے ہوں۔



