سان فرانسسکو، 15 اکتوبر 2026 (ویب ڈیسک): مصنوعی ذہانت کی دنیا کی ایک بڑی خبر سامنے آئی ہے، اینتھروپک نے سرمایہ کاروں کو بتایا ہے کہ تیسری سہ ماہی میں اس کی آمدنی 16.8 ارب ڈالر رہی، جو پچھلی سہ ماہی سے 45 فیصد زیادہ ہے، اور کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ ایڈجسٹڈ بنیاد پر منافع میں آگئی ہے۔ روئٹرز کے مطابق کمپنی نے بدھ کو سان فرانسسکو میں اپنے ہیڈکوارٹر میں سرمایہ کاروں کے ایک نجی اجلاس میں یہ اعداد و شمار پیش کیے، جو نومبر میں متوقع حصص کی ابتدائی فروخت سے پہلے سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھانے کی کوشش کا حصہ ہیں۔
اجلاس میں شرکت کرنے والے ایک سرمایہ کار کے حوالے سے روئٹرز نے بتایا کہ رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں کمپنی کی آمدنی 4.7 ارب ڈالر تھی، دوسری سہ ماہی میں 11.6 ارب ڈالر، اور اب تیسری سہ ماہی میں 16.8 ارب ڈالر۔ یوں 2026 کے پہلے نو ماہ کی مجموعی آمدنی 33.1 ارب ڈالر بنتی ہے، جبکہ صرف تیسری سہ ماہی کی آمدنی پورے 2025 کی آمدنی کا تین گنا سے بھی زیادہ ہے، جو تقریبا 4.6 ارب ڈالر تھی۔ اینتھروپک نے ان اعداد و شمار پر تبصرے کی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا، اور یہ اعداد کسی سرکاری فائلنگ سے نہیں بلکہ اجلاس میں شریک ایک سرمایہ کار کی زبانی بات پر مبنی ہیں۔
رفتار تو بہت، مگر دھیمی پڑتی ہوئی
ان اعداد میں دو باتیں ایک ساتھ ہیں۔ ایک طرف کمپنی 2021 میں قائم ہونے کے بعد چھ سال سے بھی کم عرصے میں 67 ارب ڈالر کی سالانہ آمدنی کی رفتار پر پہنچ چکی ہے، جو اسے امریکہ کی فورچون 100 فہرست میں جگہ دلواتی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق تاریخ میں کوئی کمپنی اتنی تیزی سے اتنی بڑی نہیں ہوئی، الفابیٹ کو 65 ارب ڈالر کی سالانہ آمدنی تک پہنچنے میں 16 سال لگے تھے، جبکہ میٹا کو 15 سال۔ دوسری طرف اضافے کی رفتار ڈھل رہی ہے۔ دوسری سہ ماہی میں آمدنی پہلی سہ ماہی کے مقابلے میں 140 فیصد سے زیادہ بڑھی تھی، جس کی بڑی وجہ کلاڈ کوڈ کی زبردست مانگ تھی، مگر تیسری سہ ماہی میں اضافہ 45 فیصد رہا۔
سست روی کی کئی وجوہ بتائی جا رہی ہیں۔ گرمیوں کے موسم میں صارفین عموماً کم ٹوکن استعمال کرتے ہیں، ستمبر میں اوپن اے آئی نے استرا لانچ کیا، اور اینتھروپک نے اس کا جواب اوپس 5.5 کی صورت میں سہ ماہی کے بالکل آخر میں دیا۔ دی ڈیکوڈر کی رپورٹ کے مطابق اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا چوتھی سہ ماہی میں طلب واپس اچھلے گی یا مقابلے کا دباؤ برقرار رہے گا۔
منافع کا پہلا اشارہ
اینتھروپک نے سرمایہ کاروں کو بتایا کہ تیسری سہ ماہی میں کمپنی ایڈجسٹڈ بنیاد پر منافع میں رہی، یعنی ملازمین کے حصص کے اخراجات کو نکال کر اس نے پیسے کمائے۔
مالیاتی مبصرین کے مطابق اصل خبر آمدنی کا حجم نہیں بلکہ یہ منافع ہے۔ ڈیل روم کی تحقیق کے مطابق تیسری سہ ماہی تک سال بھر کا ایڈجسٹڈ آپریٹنگ مارجن 11 فیصد رہا، جو اس بات کا پہلا ٹھوس ثبوت ہے کہ بڑے پیمانے پر ماڈل چلانے کا کاروبار بھی نفع میں آ سکتا ہے، اس وقت جب مصنوعی ذہانت کی کمپنیوں کے بڑھتے ہوئے اخراجات پر سخت تنقید ہو رہی ہے۔ ڈیل روم کے مطابق کلاڈ کوڈ اور کوورک کی مانگ کی وجہ سے اینتھروپک اس سال آمدنی میں اوپن اے آئی سے آگے نکل گئی، اور ان ہی مصنوعات نے اسے ادارہ جاتی صارفین میں گہری جگہ دلوائی۔
دو ٹریلین ڈالر کا سوال
اب سب کی نظریں نومبر کی متوقع حصص کی ابتدائی فروخت پر ہیں، جس میں کمپنی کی قدر 2 ٹریلین ڈالر سے زیادہ رکھنے کی بات ہو رہی ہے، حالانکہ کچھ سرمایہ کاروں کا کہنا ہے کہ سست ہوتی رفتار کو دیکھتے ہوئے قدر 1.5 ٹریلین ڈالر سے کم رکھی جائے۔ مئی میں کمپنی کی نجی قدر 965 ارب ڈالر لگی تھی۔ روئٹرز کے مطابق حصص کی فروخت نومبر میں امریکی ضمنی انتخابات کے بعد ہوگی، اور باضابطہ مہم 9 نومبر کے ہفتے سے شروع ہو سکتی ہے، تاکہ یوم تشکر سے پہلے شیئرز کی خرید و فروخت شروع ہو جائے۔
تشویش کی باتیں بھی ہیں۔ 2025 میں کمپنی کو آپریٹنگ بنیاد پر 8 ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوا تھا، اور اس نے آنے والے دس سال میں کلاؤڈ اور کمپیوٹنگ انفرااسٹرکچر پر 518 ارب ڈالر خرچ کرنے کے معاہدے کیے ہیں۔ سرمایہ کار یہ بھی پوچھ رہے ہیں کہ کمپنی نے ستمبر کی سالانہ آمدنی کی شرح اور پورے سال کا تخمینہ کیوں نہیں بتایا، جبکہ اسی پیمانے پر اوپن اے آئی کے اعداد پر پہلے ہی الجھن پیدا ہو چکی ہے۔
اوپن اے آئی سے پہلے بازار میں آنے کی دوڑ
یہ فروخت اوپن اے آئی کی متوقع فہرست سے پہلے ہوگی، اس لیے اسے سرمایہ کاروں کے مزاج کا پہلا بڑا امتحان سمجھا جا رہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایمازون اور گوگل دونوں اینتھروپک کے سرمایہ کار ہیں، اسے کمپیوٹنگ کی طاقت فراہم کرتے ہیں، اور اس کے حریف بھی ہیں، کیونکہ دونوں کے اپنے ماڈل بھی بازار میں ہیں۔ یعنی وہی کمپنیاں جو اینتھروپک کو طاقت دیتی ہیں، اسی سے مقابلہ بھی کر رہی ہیں۔
رکاوٹیں بھی کم نہیں۔ بلند شرح سود، نو کلاؤڈ کمپنیوں کے حصص میں گراوٹ، اوپن اے آئی کی قیمتوں میں کٹوتی، اور سستے اوپن سورس ماڈلز کی بڑھتی ہوئی دستیابی، یہ سب سرمایہ کاروں کے ذہن میں ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق کمپنی کی 5 سے 7 فیصد آمدنی ایسی سرگرمیوں سے ہے جو آنے والے سہ ماہیوں میں کم ہونے والی ہے۔
تجزیہ: کاروبار اب نمبروں کے مرحلے میں
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ خبر مصنوعی ذہانت کی صنعت کے لیے ایک موڑ ہے۔ اب تک بحث ماڈلز کی صلاحیتوں پر تھی، اب بحث ان کے مالی حساب کتاب پر ہے۔ سوال یہ نہیں کہ ماڈل کتنا ذہین ہے، بلکہ یہ ہے کہ اسے چلانے پر آنے والا خرچ کب نکلے گا۔ اینتھروپک کا ایڈجسٹڈ منافع اس سوال کا پہلا مثبت جواب ہے، مگر یہ جواب ابھی نامکمل ہے، کیونکہ اس میں ملازمین کے حصص کے بھاری اخراجات شامل نہیں۔
پاکستان کے لیے اس خبر کا براہ راست تعلق ان سافٹ ویئر ٹیموں اور اسٹارٹ اپس سے ہے جو کلاڈ پر مبنی ایجنٹس بنا رہی ہیں۔ اگر فہرست کے بعد اینتھروپک کی قیمتیں سرمایہ داروں کے دباؤ پر تبدیل ہوتی ہیں، تو اس کا اثر پاکستانی ڈویلپرز کے ماہانہ اخراجات پر بھی پڑے گا، جو پہلے ہی ڈالر کے نرخ کی وجہ سے دباؤ میں ہیں۔ یہ بھی سبق ہے کہ مصنوعی ذہانت کا کاروبار اب صرف ٹیکنالوجی نہیں، مالیاتی نظم و ضبط کا کھیل بن چکا ہے، اور جو لیب اپنے نمبر درست نہیں رکھے گی، بازار اسے سزا دے گا۔
اب سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ کمپنی عوامی فہرست سے پہلے جاری ہونے والے رسمی دستاویز میں اپنے حساب کتاب کی کتنی تفصیل دیتی ہے۔ یاد رہے کہ ابھی کے اعداد و شمار تصدیق شدہ آڈٹ کے بغیر ایک سرمایہ کار کی زبانی بات پر مبنی ہیں، اور اصل امتحان تب ہوگا جب بینکوں کے تجزیوں سے لے کر وال سٹریٹ تک سب ایک ہی زبان میں نمبر دیکھیں گے۔



