سان فرانسسکو، 19 اکتوبر 2026 (نیوز ڈیسک): مصنوعی ذہانت کی معروف کمپنی اینتھروپک نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے 5 فیصد حصص ایک نئے عوامی فلاحی فنڈ کے لیے وقف کرے گی۔ یہ فنڈ فلاحی تنظیموں کی مدد، مخصوص آبادیوں تک براہ راست امداد اور اے آئی سے روزگار پر پڑنے والے اثرات کا مقابلہ کرنے کے لیے استعمال ہوگا۔
اینتھروپک نے اتوار کو اپنے سرکاری بلاگ پر فنڈ کی تفصیلات جاری کیں۔ کمپنی کے مطابق 5 فیصد حصص کی منتقلی شیئر ہولڈرز کی منظوری سے مشروط ہوگی۔ اس کے بعد جب بھی کمپنی کی قدر مقررہ حد سے 50 فیصد بڑھے گی، بورڈ کی صوابدید پر مزید 2 فیصد حصص فنڈ میں شامل کیے جا سکیں گے۔ یعنی کمپنی جتنی بڑھے گی، عوامی فلاح کے لیے مختص حصہ بھی بڑھتا جائے گا۔
فنڈ کی ساخت: مکمل ملکیت والی کمپنی، روایتی خیراتی شکل نہیں
اینتھروپک اس فنڈ کو 501(c)(3) طرز کی روایتی خیراتی تنظیم بنانے کے بجائے اپنی مکمل ملکیت والی محدود ذمہ داری والی کمپنی (ایل ایل سی) کے طور پر قائم کرے گی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس ڈھانچے سے اسے امداد کے مختلف طریقوں میں لچک ملے گی۔
کمپنی نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ فنڈ میں موجود اینتھروپک کے حصص میں سے کوئی بھی رقم لابنگ یا سیاسی چندے کے لیے استعمال نہیں ہوگی، نہ امریکہ میں اور نہ بیرون ملک۔
اینتھروپک کے بلاگ میں کہا گیا ہے: "ٹیک کمپنیوں کے لیے ایگزیکٹوز کو بڑھتا ہوا معاوضہ دینا معمول کی بات ہے۔ ہم یہ حصص عوامی فلاح کی سمت موڑ رہے ہیں۔"
اینتھروپک خود ایک پبلک بینیفٹ کارپوریشن ہے، یعنی اس کی انتظامیہ سرمایہ کاروں کے منافع کے ساتھ عوامی مفادات کا بھی خیال رکھنے کی پابند ہے۔
روزگار پر اے آئی کے اثرات: سب سے بڑی تشویش
فنڈ کے استعمال کی ایک اہم مثال روزگار پر اے آئی کے اثرات ہیں۔ اینتھروپک کا کہنا ہے کہ اے آئی بے پناہ معاشی قدر پیدا کر سکتی ہے، مگر بہت سے کارکنوں کے لیے عدم استحکام بھی لا سکتی ہے۔
"اے آئی کی رفتار کو دیکھتے ہوئے، جرات مندانہ طریقے درکار ہو سکتے ہیں۔ اس فنڈ کے پاس انہیں اپنانے کی لچک ہوگی۔"
کمپنی نے پہلے ہی اس مسئلے کے مطالعے اور اس کا مقابلہ کرنے کے لیے 200 ملین ڈالر کا وعدہ کر رکھا ہے۔ نئے فنڈ سے فلاحی تنظیموں کو بڑے عطیات اور مخصوص آبادیوں کو براہ راست مالی امداد سمیت نئے طریقے اختیار کیے جا سکیں گے۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 40 فیصد ملازمتوں پر اے آئی کا اثر پڑے گا، جبکہ ترقی یافتہ معیشتوں میں یہ شرح 60 فیصد تک ہو سکتی ہے۔ آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے گذشتہ ہفتے یہ اعداد و شمار پیش کیے تھے۔ دنیا کی بڑی کمپنیوں نے اے آئی میں بھاری سرمایہ کاری کے بعد ہزاروں ملازمتیں ختم کی ہیں، جن میں زیادہ تر ٹیکنالوجی کی کمپنیاں ہیں۔
بانیوں کا پرانا وعدہ: مجموعی طور پر 20 فیصد حصص
یہ اعلان اینتھروپک کے بانیوں اور ملازمین کی پہلے سے کی گئی وابستگیوں پر استوار ہے۔ کمپنی کے قیام کے وقت بانیوں نے اپنے 80 فیصد حصص عطیہ کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ اس کے علاوہ قیام کے بعد سے کمپنی میں ملازمین کا عطیاتی پروگرام بھی چل رہا ہے جس میں تقریباً نصف ملازمین حصہ لیتے ہیں۔ اس پروگرام کے تحت ملازمین اپنے حصص عطیہ کرنے کا وعدہ کرتے ہیں اور کمپنی اتنی ہی رقم ملاتی ہے۔
نئے اعلان کے ساتھ اب کمپنی کے تقریباً 20 فیصد حصص عوامی بھلائی کے لیے مختص ہو جائیں گے۔ کمپنی کی قدر بڑھنے کے مخصوص اہداف پورے ہونے پر یہ حصہ مزید بڑھ سکتا ہے۔ کمپنی نے کہا ہے کہ وہ آنے والے مہینوں میں فنڈ کی ساخت اور انتظام کی مزید تفصیلات، قدر بڑھنے کے اہداف اور اپنے مشن پر پیش رفت کی رپورٹ جاری کرے گی۔
پس منظر: آئی پی او کی تیاری اور "اعتماد کا بحران"
یہ اعلان ایسے وقت میں آیا ہے جب اینتھروپک تاریخ کے سب سے بڑے آئی پی اوز میں سے ایک کی تیاری کر رہی ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق اس ابتدائی عوامی پیشکش سے 100 ارب ڈالر تک کی رقم جمع ہو سکتی ہے، جبکہ کمپنی کی قدر تقریباً 2 ٹریلین ڈالر ہو سکتی ہے۔ گذشتہ ہفتے کمپنی نے سان فرانسسکو میں سرمایہ کاروں کے سامنے اپنے کاروبار کی طویل پیشکش بھی رکھی تھی۔
اینتھروپک خود کو "حفاظت اول" کے اصول پر قائم اے آئی لیب کے طور پر پیش کرتی ہے۔ کمپنی کے سربراہ ڈاریو امودی نے کہا ہے کہ اے آئی صنعت کو "بنیادی طور پر اعتماد کے بحران" کا سامنا ہے۔ ان کا اشارہ اس بڑھتی ہوئی عوامی تشویش کی طرف ہے کہ اے آئی صنعت کے وعدے اور اس کے سماجی اثرات میں فرق بڑھ رہا ہے۔
اس اعلان پر حریف کمپنی ایکس اے آئی کے سربراہ ایلون مسک نے ایکس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ حصص براہ راست عوام کو دے دینے چاہییں۔
یہ پیش رفت اوپن اے آئی کی تنظیم نو کی یاد بھی دلاتی ہے، جس میں وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق اس کی غیر منافع بخش بنیادی تنظیم کو منافع بخش ذیلی کمپنی میں 26 فیصد حصہ دیا گیا تھا۔ مائیکروسافٹ جیسے سرمایہ کار بھی اس ڈھانچے کا حصہ ہیں۔
تجزیہ: اچھا قدم یا اے آئی صنعت کی ساکھ کی مرمت؟
اس اعلان کا خیرمقدم بھی ہو رہا ہے اور سوالات بھی اٹھ رہے ہیں۔ ایک طرف یہ پہلی بار ہے کہ کسی بڑی اے آئی لیب نے اپنی ملکیت کا اس قدر بڑا حصہ عوامی فلاح کے لیے وقف کیا ہے، اور وہ بھی ایسے ڈھانچے کے ساتھ جو کمپنی کی ترقی کے ساتھ بڑھے گا۔
دوسری طرف یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ فنڈ کی رقم کہاں خرچ ہوگی، یہ فیصلہ کون کرے گا۔ کمپنی نے ابھی صرف اتنا کہا ہے کہ فنڈ کی ساخت اور انتظام کی تفصیلات آنے والے مہینوں میں سامنے آئیں گی۔ جب تک یہ تفصیلات نہیں آتیں، فنڈ کے اصل اثر کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔
ایک اور تنقید یہ بھی ہے کہ اے آئی صنعت کی بڑی کمپنیاں، جن کی مصنوعات سے لاکھوں ملازمتیں خطرے میں ہیں، عوامی فلاح کے اعلانات سے اپنی ساکھ بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اینتھروپک خود تسلیم کرتی ہے کہ اس کی ٹیکنالوجی روزگار میں عدم استحکام لا سکتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا فنڈ سے ملنے والی امداد اس عدم استحکام کا مقابلہ کر پائے گی۔
پاکستان کے لیے پیغام
اگرچہ یہ اعلان امریکہ میں ہوا، اس کا پیغام پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک کے لیے بھی اہم ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 40 فیصد ملازمتوں پر اے آئی کا اثر پڑے گا، جبکہ ترقی یافتہ معیشتوں میں یہ شرح 60 فیصد تک ہو سکتی ہے۔
پاکستان کی آئی ٹی صنعت، فری لانسرز اور بی پی او کے شعبے میں کام کرنے والے نوجوانوں کے لیے یہ ایک واضح انتباہ ہے۔ یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اے آئی کے ساتھ کام کرنے کی مہارت اب ہر شعبے کی ضرورت بنتی جا رہی ہے۔ جو کارکن اے آئی ٹولز سے واقف ہوں گے، وہ مستقبل کی ملازمتوں کے لیے بہتر تیار ہوں گے۔
اینتھروپک جیسی بڑی اے آئی کمپنی کا اپنے حصص کا پانچواں حصہ عوامی فلاح کے لیے وقف کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ صنعت خود بھی اے آئی کے سماجی اثرات کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ پاکستان کے پالیسی سازوں کے لیے بھی یہ ایک مثال ہے۔ ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ سماجی تحفظ کے انتظامات بھی ضروری ہیں۔




