سان فرانسسکو، 13 اکتوبر 2026 (ویب ڈیسک): مصنوعی ذہانت کی معروف کمپنی اینتھروپک نے خبردار کیا ہے کہ چھوٹے AI ماڈل آنے والے مہینوں میں انسانی مدد کے بغیر خود کو نقل کر کے گھروں کے انٹرنیٹ سے جڑے عام آلات پر پھیلنے کے قابل ہو سکتے ہیں۔
کمپنی کے فرنٹیئر ریڈ ٹیم کے نئے تجربات سے معلوم ہوا ہے کہ سمارٹ ٹی وی، سمارٹ اوون، سستے اینڈرائیڈ ٹی وی باکس، سمارٹ فریج، روبوٹ ویکیوم کلینر اور لان موور جیسے آلات ایسے AI کے پہلے اہداف بن سکتے ہیں جو خود کو دہراتا ہے۔ روئٹرز کے مطابق اس تحقیق کے نتائج پیر کو شائع کیے گئے، جبکہ الجزیرہ اور دیگر عالمی ذرائع نے بھی اسے نمایاں طور پر رپورٹ کیا ہے۔
خود نقل کرنے والا AI کیا ہے
اینتھروپک کے محققین اس عمل کو خودکار نقل اور موافقت کہتے ہیں، یعنی AI ماڈل کا کسی انسانی مداخلت کے بغیر خود ہی پھیلنا۔ یہ روایتی کمپیوٹر وائرس سے الگ خطرہ ہے، کیونکہ عام مالویئر پہلے سے لکھے گئے احکامات پر چلتا ہے، جبکہ AI وارم خود سیکھ کر نئے آلات اور نامانوس صورتحال میں ڈھل سکتی ہے۔
تجربات میں کیا معلوم ہوا
تحقیقی ٹیم نے یہ جانچا کہ آیا AI ماڈل کمزور آلات تلاش کر سکتے ہیں، ان میں اپنی نقل منتقل کر سکتے ہیں اور انسانی مدد کے بغیر مسلسل پھیلتے رہ سکتے ہیں۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ تیس ارب پیرامیٹرز سے چھوٹے ماڈل نقل کے سلسلے کے بہت سے انفرادی مرحلے مکمل کر لیتے ہیں، البتہ ابھی انہیں مکمل سلسلہ شروع سے آخر تک خود بخود مکمل کرنے میں دشواری ہوتی ہے۔
آسان بنائے گئے تجرباتی ماحول میں، جہاں کچھ حفاظتی رکاوٹیں جان بوجھ کر ہٹا دی گئی تھیں، GLM-5.2 اور اس سے زیادہ طاقتور ماڈل شروع سے آخر تک مکمل نقل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ گوگل کلاؤڈ پر بنائے گئے آٹھ نوڈز کے ایک تجرباتی نیٹ ورک پر GLM-5.2 نے پانچ میں سے چار کوششوں میں تمام آٹھ نوڈز تک اپنی نقل پھیلا دی، جبکہ بچی ہوئی ایک کوشش میں سات نوڈز متاثر ہوئے۔
ہمارے تجربات بتاتے ہیں کہ چھوٹے AI ماڈل مہینوں میں تجارتی IoT آلات، جیسے سمارٹ اوون اور عام اینڈرائیڈ ٹی وی باکسز پر خود نقل کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی معلوم ہوا کہ نو ارب پیرامیٹرز کا ماڈل جانچے گئے نو ہارڈویئر اقسام میں سے آٹھ پر انفیرنس سسٹم چلا سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انتہائی سستے آلات میں بھی اتنی کمپیوٹنگ طاقت موجود ہے کہ وہ AI ماڈل کے کسی حصے کو چلا سکیں۔ محققین کے مطابق ایک بڑے ماڈل کے حصے مختلف آلات پر تقسیم کیے جا سکتے ہیں، اور ہر آلہ اپنا حصہ خود چلائے۔
پندرہ سستے ٹی وی باکسز اور ایک AI ماڈل
یہ ثابت کرنے کے لیے کہ کمزور ہارڈویئر بھی قابلِ عمل ماڈل کو چلا سکتا ہے، ٹیم نے لگ بھگ پچپن ڈالر فی یونٹ کی قیمت کے پندرہ عام اینڈرائیڈ ٹی وی باکس خریدے، انہیں ایک نیٹ ورک میں جوڑا اور ان پر گوگل کے اوپن ویٹ ماڈل Gemma4-26B-A4B کو تقسیم کر کے چلایا۔ ہر باکس نے ماڈل کی تہوں کا ایک حصہ سنبھالا اور یہ پورا نظام صفر اعشاریہ انتیس ٹوکن فی سیکنڈ کی رفتار سے چلا، سست مگر کارآمد۔
وارم پھیلے گی تو کیسے
اینتھروپک کے محققین نے Kimwolf نامی بوٹ نیٹ کو حقیقی مثال قرار دیا ہے، جس نے بیس لاکھ سے زائد آلات کو متاثر کیا تھا اور ان میں اکثریت سستے اینڈرائیڈ ٹی وی باکسز کی تھی۔ محققین کے حساب سے اگر اس حجم کے نیٹ ورک کو پندرہ آلات کے گروہوں میں بانٹا جائے تو ایک لاکھ تینتیس ہزار سے زائد ماڈل کی نقلیں بنائی جا سکیں گی، جو مجموعی طور پر تقریباً چالیس H100 چپس کے برابر کمپیوٹنگ طاقت بنتی ہے۔
تحقیق کے مطابق ہر نئی متاثرگی وارم کے خود ہی ایک نوڈ سے دوسرے نوڈ پر چھلانگ لگانے سے ہوگی۔ وہ بغیر تصدیق والے ADB پورٹ کے ذریعے داخل ہو کر وہاں انفیرنس سرور قائم کرے گی اور Llama3.1-8B کی خدمت شروع کرے گی۔ اینتھروپک نے واضح کیا کہ ابھی تک کسی نے عملی طور پر مکمل بے لگام خود نقل کرنے والی وارم نہیں بنائی، مگر ایجنٹ نقل کے سلسلے کے انفرادی مرحلے مکمل کرنے میں تیزی سے ماہر ہو رہے ہیں۔
ایسی وارم کو بند کرنا انتہائی مشکل ہوگا کیونکہ اس کا کوئی مرکزی میزبان نہیں ہوتا، اور روایتی مالویئر کے برعکس یہ خود بھی سمجھ سکتا ہے کہ نامانوس آلات پر کیسے کام کرنا ہے، یہاں تک کہ ڈیٹا سینٹرز کے پروسیسرز بھی اس کے اہداف ہو سکتے ہیں۔
ہم ایسے مستقبل کی توقع کرتے ہیں جو ہر قسم کے ہارڈویئر پر چلنے والے ایجنٹوں سے بھرا ہوگا، جن میں سے کچھ انسانی کنٹرول میں نہیں ہوں گے۔
مکمل خودکار نقل کب ممکن ہوگی
اینتھروپک کے مطابق اس کے تجرباتی نتائج میں کچھ حملہ آور عناصر، جیسے بغیر تصدیق کے مواصلاتی پورٹس، جان بوجھ کر آسان بنائے گئے تھے، اس لیے یہ نتائج اصل دنیا کی اوپری حد کی نمائندگی کرتے ہیں، حقیقی خطرے کی مکمل تصویر نہیں۔
تاہم کمپنی نے خبردار کیا کہ اگر چھوٹے ماڈل اپنی تاریخی رفتار سے بہتر ہوتے رہے تو وہ اسی سال کے آخر تک مکمل خودکار نقل کی سطح حاصل کر سکتے ہیں، اور اس کے فوراً بعد وزن پر مبنی چھوٹے نقل کار بھی آ سکتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں، یہ خطرہ برسوں دور نہیں، مہینوں کی دوری پر ہے۔
اینتھروپک کی تجاویز
خطرہ کم کرنے کے لیے اینتھروپک نے سفارش کی ہے کہ ڈیفالٹ حفاظتی سیٹنگز کو مضبوط کیا جائے، نیٹ ورک کی نگرانی بہتر کی جائے اور متاثرہ آلات کو فوری طور پر الگ تھلگ کیا جائے۔ کمپنی کے مطابق AI نظاموں کو اس طرح مضبوط بنانا ضروری ہے کہ ایسے AI ایجنٹوں کا پھیلاؤ مشکل ہو جائے۔
پس منظر
یہ تحقیق اینتھروپک کے اس سلسلے کی تازہ ترین کڑی ہے جس میں کمپنی AI کی سلامتی پر مسلسل روشنی ڈال رہی ہے۔ کمپنی پہلے بھی ٹیک انڈسٹری سے AI کی ترقی کی رفتار کم کرنے کا مطالبہ کر چکی ہے، اور اس کے فرنٹیئر ریڈ ٹیم کے تجربات کو AI کی سلامتی کی تحقیق میں اہم مقام حاصل ہے۔
پاکستان کے لیے پیغام
پاکستان میں بھی سستے اینڈرائیڈ ٹی وی باکسز، سمارٹ ٹی وی اور وائی فائی سے جڑے آلات گھروں میں عام ہیں، اور ان میں سے بیشتر کی حفاظتی سیٹنگز بنیادی ہوتی ہیں۔ اکثر گھروں میں ٹی وی باکس راؤٹر کے ڈیفالٹ پاس ورڈ کے ساتھ سالوں چلتا ہے، اور سافٹ ویئر کی تازہ کاری کبھی نہیں ہوتی۔
ماہرین کی سفارشات سادہ ہیں۔ آلات کا سافٹ ویئر تازہ رکھیں، ڈیفالٹ پاس ورڈ بدل کر مضبوط پاس ورڈ استعمال کریں، اور جن پورٹس یا سہولتوں کی ضرورت نہ ہو انہیں بند کر دیں۔ اگر آپ کا راؤٹر یا ٹی وی باکس غیر معمولی نیٹ ورک سرگرمی دکھائے تو اسے فوراً انٹرنیٹ سے الگ کر کے چیک کریں۔
نتیجہ
اینتھروپک کی تحقیق واضح کرتی ہے کہ خود نقل کرنے والی AI اب صرف سائنس فکشن کا موضوع نہیں رہی، بلکہ تجرباتی سطح پر یہ ایک قابلِ پیمائش خطرہ بن چکی ہے۔ ماڈل ابھی مکمل خودکار نقل نہیں کر سکتے، مگر نقل کے انفرادی مرحلے تیزی سے مکمل ہو رہے ہیں۔ اگلے چند مہینے اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ حفاظتی اقدامات AI کی رفتار سے آگے رہتے ہیں یا پیچھے۔



