کیوپرٹینو، 3 نومبر 2026 (ویب ڈیسک): ایک نئی رپورٹ کے مطابق ایپل (Apple) 2027 میں ایک گھریلو روبوٹ پیش کرنے کی تیاری کر رہی ہے، جس کی قیمت امریکا میں تقریباً ایک ہزار ڈالر ہو سکتی ہے۔ یہ آلہ ایک عام اسمارٹ ڈسپلے نہیں ہوگا، بلکہ اس کی اسکرین ایک گھومنے والے بازو پر نصب ہوگی جو کمرے میں موجود شخص کی جانب خود رخ کر سکے گی۔ رپورٹ کے مطابق یہ منصوبہ برسوں سے زیرِ تیاری ہے، مگر اس کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہارڈویئر نہیں، سافٹ ویئر بنا ہوا ہے۔
یہ تفصیلات ٹیکنالوجی کی اشاعت دی انفارمیشن (The Information) کی رپورٹ میں سامنے آئی ہیں، جس کا حوالہ آرس ٹیکنیکا (Ars Technica) اور میک رومرز (MacRumors) نے بھی دیا ہے۔ ایپل نے تاحال نہ اس منصوبے کی تصدیق کی ہے، نہ اس کی قیمت یا پیشکش کی تاریخ کے بارے میں کوئی بیان جاری کیا ہے۔
روبوٹ کیا کرے گا
رپورٹ کے مطابق اس آلے کا اندرونی کوڈ نام جے 595 (J595) ہے، اور اس کا ممکنہ نام ہوم ویو الٹرا (HomeView Ultra) یا ہوم ویو میکس (HomeView Max) ہو سکتا ہے، تاہم حتمی نام کا فیصلہ ابھی نہیں ہوا۔ اس میں 9 انچ کی اسکرین ایک باریک بازو پر لگی ہوگی، اور یہ بازو مکمل 360 ڈگری گھوم سکے گا۔ اس کی صورت پکسر (Pixar) کے مشہور لیمپ کے کردار اور ایپل کے پرانے آئی میک جی 4 (iMac G4) سے ملتی جلتی بتائی گئی ہے۔
اس روبوٹ کا اصل کام اس کی حرکت میں ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس میں کیمرے اور سینسرز نصب ہوں گے جن کی بدولت یہ اپنے ماحول سے آگاہ رہے گا اور ازخود حرکت کر سکے گا۔ فیس ٹائم (FaceTime) ویڈیو کال کے دوران اس کی اسکرین بولنے والے شخص کی جانب مڑ جائے گی، کمرے میں کسی کے داخل ہوتے ہی یہ بتیاں جلا سکے گا، راستے میں حائل رکاوٹوں سے بچ کر گزرے گا، اور رپورٹ کے ایک دل چسپ دعوے کے مطابق میز پر چڑھی بلی کو نیچے اترنے کا اشارہ بھی کر سکے گا۔
یہی وہ فرق ہے جو اسے ایک عام اسمارٹ ڈسپلے سے الگ کرتا ہے۔ عام ڈسپلے کاؤنٹر پر رکھا رہتا ہے اور حکم کا انتظار کرتا ہے، جب کہ یہ آلہ خود ماحول کو سمجھ کر حرکت کرنے کے لیے بنایا جا رہا ہے۔ اس کے لیے آواز کی شناخت، کیمرے کی مدد سے منظر کی سمجھ اور گھر کے آلات سے رابطے کو ایک ساتھ کام کرنا ہوگا۔
ہارڈویئر تیار، سافٹ ویئر رکاوٹ
رپورٹ کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس آلے کا ہارڈویئر تقریباً دو برس سے بڑی حد تک تیار پڑا ہے، مگر سافٹ ویئر ابھی تک اس کا ساتھ نہیں دے سکا۔ اس منصوبے کے ابتدائی نمونے 2018 میں بنائے گئے تھے، اور 2019 میں ایپل کے اس وقت کے سربراہ ٹم کک (Tim Cook) نے اسے آگے بڑھانے کی منظوری دی تھی، اس کے باوجود یہ آلہ اب تک مارکیٹ تک نہیں پہنچ سکا۔
رپورٹ کے مطابق کمپنی کے اندر اس بات پر اختلاف ہے کہ پہلی نسل کے آلے میں کون سی سہولتیں شامل ہوں اور کون سی اگلی نسل تک مؤخر کر دی جائیں۔ ہارڈویئر کی ٹیم اسے جلد پیش کرنے پر زور دیتی ہے، جب کہ سافٹ ویئر کی ٹیم گزشتہ ایک برس سے سہولتوں کی فہرست مختصر کر رہی ہے تاکہ پہلا ماڈل صرف ویڈیو کال اور گھر کے بنیادی کاموں تک محدود رہے۔
قیمت اور وقت: ایک ہزار ڈالر کا سوال
رپورٹ کے مطابق ایپل اس روبوٹ کو 2027 میں پیش کرنے کی امید رکھتی ہے، مگر تاخیر کی صورت میں اس کی پیشکش 2028 تک بھی ٹل سکتی ہے۔ قیمت کا ہدف امریکا میں تقریباً ایک ہزار ڈالر ہے، اور رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پرزوں، خاص طور پر میموری کی قیمتوں کے لحاظ سے حتمی قیمت اس سے زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔
یہ قیمت اس آلے کو عام اسمارٹ ڈسپلے سے کہیں اوپر لے جاتی ہے۔ موازنے کے لیے، ایپل نے 13 اکتوبر 2026 کو اپنا عام ہوم ویو (HomeView) ڈسپلے متعارف کرایا تھا، جو ساکت رہتا ہے، اس کی اسکرین 7 انچ کی ہے اور اس کی قیمت 299 ڈالر ہے۔ نیا روبوٹ اس سے تین گنا سے زیادہ مہنگا ہوگا، کیوں کہ اس میں گھومنے والا بازو، موٹرز، کیمرے اور سینسرز کا پورا نظام شامل ہے۔
ایک ہزار ڈالر کی قیمت پر سوال یہ ہے کہ عام گھرانہ اس کے لیے رقم کیوں دے گا۔ ویڈیو کال اور بتیاں جلانا تو کہیں سستے آلات بھی کر لیتے ہیں، اس لیے اس روبوٹ کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ اس کی خودکار حرکت روزمرہ زندگی میں کوئی واضح سہولت پیدا کرے، نہ کہ صرف ایک دل چسپ مظاہرہ بن کر رہ جائے۔
نئی قیادت کے تحت روبوٹکس کی سنجیدگی
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایپل کے نئے سربراہ جان ٹرنس (John Ternus) روبوٹکس کے منصوبوں کو سنجیدگی سے آگے بڑھا رہے ہیں۔ انھوں نے ستمبر 2026 میں ٹم کک سے کمپنی کی قیادت سنبھالی تھی، اور ان کے دور میں گھریلو روبوٹ کو محض ایک تجرباتی منصوبہ نہیں، بلکہ کمپنی کے مستقبل کے ایک سنجیدہ شعبے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اسی دوران ایک اور منصوبہ بھی زیرِ بحث ہے جس کا مقصد گھر کے روزمرہ کاموں میں مدد دینے والا روبوٹ بنانا ہے، اگرچہ اس کی تفصیلات تاحال بہت کم سامنے آئی ہیں۔ بلومبرگ (Bloomberg) کے صحافی مارک گرمن (Mark Gurman) نے بھی ماضی میں اس منصوبے کی بعض تفصیلات رپورٹ کی تھیں، جن میں 9 انچ کی اسکرین کے مکمل گھومنے کی صلاحیت شامل تھی۔
اب بھی باقی سوالات
اس خبر کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ یہ تاحال ایک رپورٹ ہے، اعلان نہیں۔ ایپل نے نہ اس آلے کے وجود کی تصدیق کی ہے، نہ اس کے نام، قیمت یا تاریخ کی۔ رپورٹوں میں بتائی گئی ہر تفصیل بدل سکتی ہے، اس لیے قارئین کو اس خبر کو ایک مصدقہ مصنوعات کے بجائے کمپنی کے اندر جاری کام کی ایک جھلک کے طور پر پڑھنا چاہیے۔
اس کے ساتھ ہی گھر کے اندر کیمرے اور سینسرز والے آلات پر رازداری کے سوالات بھی اٹھتے ہیں۔ ایک ایسا آلہ جو کمرے میں لوگوں کی حرکت پر نظر رکھے اور آواز سن کر رخ بدلے، اس کے لیے صارف کو یہ یقین درکار ہوگا کہ اس کا ڈیٹا کہاں جاتا ہے۔ ایپل نے ماضی میں رازداری کو اپنی مصنوعات کی نمایاں خوبی کے طور پر پیش کیا ہے، اور اس روبوٹ کے معاملے میں بھی یہی نکتہ فیصلہ کن ہو سکتا ہے۔
پاکستانی قارئین کے لیے کیا معنی رکھتا ہے
پاکستان کے قارئین کے لیے اس خبر کا فوری مطلب محدود ہے۔ اس آلے کی پاکستان میں دستیابی، قیمت یا تاریخ کے بارے میں کوئی معلومات موجود نہیں، اور ایک ہزار ڈالر کا درجہ یہاں کے بیشتر صارفین کی پہنچ سے باہر ہوگا۔ تاہم اس کی اہمیت اس سمت میں ہے جس کی جانب بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں بڑھ رہی ہیں: گھر کے آلات اب صرف حکم سننے والے اسپیکر نہیں رہیں گے، بلکہ ماحول کو سمجھنے اور خود حرکت کرنے والے نظام بنیں گے۔
پاکستان میں سافٹ ویئر ہاؤسز اور ڈویلپرز کے لیے یہ رجحان ایک اشارہ ہے کہ آنے والے برسوں میں گھر کے خودکار نظام، آواز کی شناخت اور کیمرے کی مدد سے منظر سمجھنے کی مہارتوں کی مانگ بڑھ سکتی ہے۔
مجموعی طور پر اس رپورٹ نے ایک بات واضح کر دی ہے کہ ایپل کا گھریلو روبوٹ ایک ٹھوس منصوبے کی صورت میں موجود ہے، جس کا ہارڈویئر تیار ہے اور جس کی منزل 2027 بتائی جا رہی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ سافٹ ویئر کی ٹیم اس منزل تک پہنچنے میں کتنا وقت لیتی ہے، اور کیا ایپل خود اس منصوبے پر مہرِ تصدیق ثبت کرتی ہے۔




