سان فرانسسکو، 25 اکتوبر 2026 (ویب ڈیسک): فون کی جیب سے نکل کر مصنوعی ذہانت (AI) اب گلے، کلائی اور انگوٹھی تک پہنچ گئی ہے۔ ٹیکنالوجی کی معروف ویب سائٹ ٹیک کرنچ (TechCrunch) نے آج اے آئی سے چلنے والی پہننے والی ڈیوائسز (AI Wearables) کی ایک فہرست شائع کی ہے جس میں ایسی نو ڈیوائسز شامل ہیں جو سارا دن آپ کی باتیں سنتی ہیں اور ان سے یاددہانیاں اور خلاصے بناتی ہیں۔ ان کی قیمتیں 49.99 ڈالر سے 299 ڈالر تک ہیں، اور ان ڈیوائسز میں ایمیزون (Amazon) اور میٹا (Meta) کی مصنوعات بھی شامل ہیں۔
اب تک مصنوعی ذہانت زیادہ تر فون یا کمپیوٹر کی اسکرین تک محدود تھی، جہاں صارف کو خود سوال لکھنا یا بولنا پڑتا تھا۔ نئی ڈیوائسز اس ترتیب کو الٹ دیتی ہیں: ڈیوائس خود آس پاس کی گفتگو سنتی ہے اور اس سے اہم باتیں نکالتی ہے۔ ان میں سے کچھ کام کاج میں معاون اوزار ہیں اور کچھ دوست کا کردار ادا کرتی ہیں۔
ایمیزون کا بی: سب سے سستا لاکٹ
اس دوڑ میں سب سے نمایاں نام ایمیزون کے بی (Bee) کا ہے۔ ایمیزون نے گزشتہ برس بی نامی اسٹارٹ اپ (Startup) خرید لیا، اور 15 اکتوبر کو دو نئی ڈیوائسز متعارف کرا دیں۔ بی فرنٹیئر (Bee Frontier) کی قیمت 74.99 ڈالر ہے، جو کلائی پر پہنی جا سکتی ہے، جب کہ بی ایکلپس (Bee Eclipse) کی قیمت 99.99 ڈالر ہے جو فون سے مقناطیس کے ذریعے جڑ جاتی ہے۔ پرانا بی لاکٹ 49.99 ڈالر میں دستیاب تھا۔
بی دن بھر کی گفتگو سن کر اس سے نوٹس، یاددہانیاں اور کام کی فہرستیں بناتا ہے۔ کمپنی کے مطابق ڈیوائس raw آڈیو محفوظ نہیں کرتی، گفتگو کو فوری طور پر تحریر میں بدلا جاتا ہے اور پھر آڈیو حذف کر دی جاتی ہے۔ بنیادی سہولتیں، جیسے گفتگو کا خلاصہ اور 14 دن کی یادداشت، مفت ہیں، جب کہ بی پرو (Bee Pro) سبسکرپشن 11.99 ڈالر ماہانہ میں لامحدود خلاصے اور مزید ایپس سے رابطہ فراہم کرتی ہے۔
ایمیزون کے ڈیوائسز کے سربراہ پینوس پانے (Panos Panay) نے ٹیک کرنچ ڈس رپٹ (TechCrunch Disrupt) کانفرنس میں کہا:
یہ ڈیوائسز آپ کا پورا دن سنتی ہیں، اس لیے آپ کو خود یاددہانیاں بنانے کی ضرورت نہیں رہتی اور آپ لمحے میں زیادہ موجود رہ سکتے ہیں۔ — پینوس پانے، سربراہ برائے ڈیوائسز، ایمیزون
فرینڈ اور لمیٹ لیس: ساتھی یا معاون؟
فرینڈ (Friend) اس شعبے کی سب سے زیادہ زیر بحث ڈیوائس ہے۔ یہ 129 ڈالر کا سفید لاکٹ ہے جو گلے میں پہنا جاتا ہے اور خود کو ایک جذباتی ساتھی کے طور پر پیش کرتا ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ ڈیوائس بولنے والے کے لہجے اور مزاج کو پہچانتی ہے اور فون سے بلیو ٹوتھ (Bluetooth) کے ذریعے جڑتی ہے۔ حال ہی میں کمپنی نے فرینڈ 2.0 کے نام سے ایک اپ ڈیٹ متعارف کرائی ہے جس میں اندر ہی اسپیکر موجود ہے تاکہ ڈیوائس خود بول کر جواب دے سکے۔ تاہم اسے تنقید کا بھی سامنا ہے: نیویارک میں اس کی سب وے مہم کے اشتہاروں پر لوگوں نے "نگرانی والی سرمایہ داری" لکھ دیا۔
دوسری جانب لمیٹ لیس (Limitless) نامی ڈیوائس 99 ڈالر میں دستیاب ہے جو پہلے ری وائنڈ (Rewind) کے نام سے جانی جاتی تھی۔ یہ لاکٹ مسلسل گفتگو سنتا ہے اور میٹنگز، کالز اور بات چیت کو تحریر میں بدل کر محفوظ کر لیتا ہے تاکہ انھیں بعد میں تلاش کیا جا سکے۔ ایپ میں ماہانہ 10 گھنٹے کی اے آئی سہولتیں شامل ہیں، لامحدود سہولتوں کی قیمت 29 ڈالر ماہانہ ہے۔
میٹا اور اوپن اے آئی بھی میدان میں
میٹا نے ستمبر میں اپنی پہلی اے آئی پہننے والی ڈیوائس میوز چارم (Muse Charm) متعارف کرائی تھی۔ یہ جیب میں رکھی جانے والی یا چابی کے حلقے سے لگائی جانے والی ڈیوائس ہے، جس کی اسکرین پر جولی (Jolly) نامی متحرک کردار نظر آتا ہے۔ یہ ڈیوائس تاحال صارفین تک نہیں پہنچی، مگر اس کا اعلان میٹا کی اس دوڑ میں شمولیت کی علامت ہے۔ ٹیک کرنچ کے مطابق اوپن اے آئی (OpenAI) بھی ایک چھوٹی اے آئی ساتھی ڈیوائس پر کام کر رہی ہے جس کی تفصیلات تاحال سامنے نہیں آئیں۔
باقی دوڑ: نیروا، اومی، پلاڈ، ریبٹ اور سینڈ بار
اس فہرست میں کئی اور ڈیوائسز بھی شامل ہیں۔ نیروا (Nirva) میٹا کی ریئلٹی لیبز (Reality Labs) کے سابق ملازمین کی قائم کردہ کمپنی ہے۔ اس ڈیوائس کا مقصد صارف کی ذاتی ترقی ہے: یہ روزمرہ تجربات سے ذاتی ڈائری بناتی ہے۔ اس کی قیمت 249 ڈالر ہے، بکنگ نومبر میں شروع ہوگی اور پہلی کھیپ سال کے آخر تک صارفین تک پہنچنے کا ہدف ہے۔
اومی (Omi) کی قیمت 89 ڈالر ہے اور اسے گلے میں لاکٹ کی طرح پہنا جا سکتا ہے، یا سر کے پہلو پر طبی ٹیپ سے لگایا جا سکتا ہے۔ یہ ڈیوائس سوالات کے جواب دیتی ہے اور گفتگو کا خلاصہ بناتی ہے۔ یہ چیٹ جی پی ٹی (ChatGPT) کی مدد سے گفتگو کرتی ہے۔
پلاڈ (Plaud) کا نوٹ پن (NotePin) 159 ڈالر میں دستیاب ہے۔ یہ چھوٹا وائس ریکارڈر گفتگو کو فوری طور پر فون پر تحریر میں بدل دیتا ہے۔ اس میں ہر ماہ 300 منٹ کی مفت ٹرانسکرپشن (Transcription) شامل ہے، جب کہ 8.33 ڈالر ماہانہ کے پرو منصوبے پر یہ حد 1,200 منٹ تک بڑھ جاتی ہے۔ 179 ڈالر کے پلاڈ نوٹ پرو (Note Pro) کی پیشگی بکنگ بھی شروع ہو چکی ہے۔
ریبٹ آر ون (Rabbit R1) 199 ڈالر کا ہاتھ میں پکڑا جانے والا چھوٹا آلہ ہے۔ یہ فون کے متبادل کے طور پر کام کرتا ہے، یعنی اس سے پرواز کی بکنگ، کھانا منگوانا اور ایپس چلائی جا سکتی ہیں۔ ایک سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کے بعد اس میں "کری ایشنز (Creations)" نامی سہولت بھی شامل ہو گئی ہے۔ سینڈ بار (Sandbar) کی اسٹریم رنگ (Stream Ring) 299 ڈالر کی انگوٹھی ہے جس کا مائیکروفون عام طور پر بند رہتا ہے۔ ٹچ پینل کو دبا کر رکھنے سے نوٹس ریکارڈ کیے جا سکتے ہیں اور موسیقی کنٹرول کی جا سکتی ہے۔
ہر وقت سننے پر سوال
ان تمام ڈیوائسز کا بنیادی طریقہ کار ایک جیسا ہے: مائیکروفون آواز سنتا ہے، فون کی ایپ اسے تحریر میں بدلتی ہے، اور پھر اے آئی ماڈل اس تحریر سے خلاصہ اور یاددہانیاں نکالتا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ کون سی ڈیوائس کب سنتی ہے۔ یہی فرق رازداری کی بحث کو جنم دیتا ہے۔ کمپنیوں کا کہنا ہے کہ صارف خود فیصلہ کرتا ہے کہ ڈیوائس کب چالو رہے، اور وہ اپنی گفتگو کی تحریر کسی بھی وقت حذف کر سکتا ہے۔ ایمیزون کا دعوٰی ہے کہ بی خام آڈیو محفوظ نہیں کرتا۔ تاہم ناقدین کا سوال یہ ہے کہ جب ایک ڈیوائس سارا دن کان لگائے بیٹھی ہو تو اس کی تحریریں کس سرور پر جاتی ہیں اور کون ان تک رسائی رکھتا ہے۔
پاکستانی صارفین کے لیے کیا مطلب؟
پاکستانی صارفین کے لیے یہ لہر فی الحال صرف ایک خبر ہے، عملی خریداری کا موقع نہیں۔ ان ڈیوائسز کی قیمتیں ڈالر میں ہیں اور ان پر ماہانہ سبسکرپشن بھی لگتی ہے۔ بی کی ایپ فی الحال صرف آئی فون (iPhone) پر دستیاب ہے۔ خریداری سے پہلے یہ جانچنا بھی ضروری ہے کہ آیا ڈیوائس اردو گفتگو کو کس حد تک سمجھتی ہے، کیوں کہ ان کمپنیوں کی توجہ اب تک زیادہ تر انگریزی گفتگو پر رہی ہے۔ تاہم صحافیوں اور طلبہ کے لیے یہ تصور دلچسپ ہے، بشرطیکہ رازداری اور زبان کا مسئلہ حل ہو۔
یہ دوڑ ابھی اپنے ابتدائی مرحلے میں ہے: میٹا کی ڈیوائس تاحال صارفین تک نہیں پہنچی، نیروا کی بکنگ نومبر میں شروع ہوگی اور پلاڈ کا نیا آلہ پیشگی بکنگ کے مرحلے میں ہے۔ ایمیزون کی بی فرنٹیئر اور بی ایکلپس اس وقت اس لہر کی سب سے ٹھوس مثالیں ہیں۔




