برلن، 24 اکتوبر 2026 (ویب ڈیسک): Nvidia کے سربراہ جینسن ہوانگ نے برلن میں کمپنی کی جی ٹی سی کانفرنس کے دوران اسٹیج پر بطخ نما چھوٹے روبوٹس کا ایک جھنڈ پیش کیا تو ویڈیو دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہو گئی، اور اگلے ہی دن ان روبوٹس کے پیشگی آرڈر 20 ہزار سے تجاوز کر گئے۔
مائیکرو ڈَک نامی یہ روبوٹ فرانسیسی کمپنی پولن روبوٹکس نے تیار کیا ہے۔ ہگنگ فیس نے اس کمپنی کو گزشتہ برس خرید لیا تھا۔ ٹیک کرنچ کے مطابق Nvidia نے ستمبر میں ہگنگ فیس خریدنے کا معاہدہ کیا تھا، یوں اس چھوٹی بطخ کا رشتہ بھی Nvidia سے جڑ گیا۔
اسٹیج پر بطخوں کا جلوہ
مظاہرے کی ویڈیو میں یہ بطخیں اپنے چھوٹے پاؤں پٹختی ہوئی چلتی دکھائی دیں۔ انھوں نے آواز کے حکم پر بیٹھ کر دکھایا۔ سونے کا حکم ملا تو ایک طرف لڑھک گئیں، اور ایک بطخ نے ہوا میں کلابازی بھی کھائی۔ ان کی آوازیں کسی چھوٹے خلائی روبوٹ کی سیٹیوں جیسی لگیں، جس نے ویڈیو کو اور بھی دل چسپ بنا دیا۔
مظاہرے کے دوران ایک لمحہ ایسا بھی آیا جب تین بطخیں سونے کے حکم پر ایک ساتھ گر گئیں، مگر چوتھی کو منانا پڑا۔ اختتام پر ایک بطخ غلط سمت میں کھڑی تھی تو ہوانگ نے اسے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ توجہ دو اور مرکوز رہو۔
ہگنگ فیس کے شریک بانی کلیمنٹ ڈیلانگ نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ مظاہرے کے اگلے دن تک مائیکرو ڈَک کے پیشگی آرڈر 20 ہزار سے تجاوز کر گئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ روبوٹ اس برس کا سب سے زیادہ فروخت ہونے والا روبوٹ بھی بن سکتا ہے۔ واضح رہے کہ یہ اعداد ڈیلانگ کے اپنے بیان پر مبنی ہیں، ان کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
مائیکرو ڈَک کیا ہے؟
مائیکرو ڈَک ایک دو ٹانگوں والا چھوٹا روبوٹ ہے جو دیکھنے میں بطخ جیسا لگتا ہے۔ اس کا قد صرف 25 سینٹی میٹر ہے، یعنی ایک فٹ سے بھی کم، اور اس کا وزن 800 گرام سے کم ہے۔ اس میں 15 موٹریں لگی ہیں جو اس کی ٹانگوں، سر اور گردن کو حرکت دیتی ہیں۔
روبوٹ کے سامنے کیمرا نصب ہے، جب کہ اس میں لیزر سے فاصلہ ناپنے والا سینسر (LiDAR) اور دو حرکتی سینسر (IMU) بھی موجود ہیں۔ اس کی چونچ چھوٹی چیزیں اٹھا سکتی ہے، اس میں مائیکروفون اور اسپیکر بھی ہیں، اور اسے گیم پیڈ سے چلایا جا سکتا ہے، اس لیے چلانے کے لیے کوڈنگ سیکھنا ضروری نہیں۔
پولن روبوٹکس کے مطابق مائیکرو ڈَک ڈبے سے نکلتے ہی سات چالیں جانتا ہے: چلنا، بیٹھنا اور کھڑا ہونا، گیند کو ٹھوکر مارنا، چونچ سے چیز اٹھانا، گرنے کے بعد خود اٹھ کھڑا ہونا، رولر اسکیٹنگ کرنا اور اپنی مخصوص آواز نکالنا۔
مائیکرو ڈَک چالیں سیمولیشن میں سیکھتا ہے
مائیکرو ڈَک کی اصل اہمیت اس کی شکل میں نہیں، اس کے سیکھنے کے طریقے میں ہے۔ اس کی چالیں ہاتھ سے نہیں لکھی جاتیں۔ اس کے بجائے پہلے ہزاروں نقلی بطخیں ایک فزکس سیمولیشن میں مشق کرتی ہیں، جہاں وہ آزمائش و خطا کے طریقے سے چلنا، گرنا اور سنبھلنا سیکھتی ہیں۔ اس طریقے کو تقویت بخش تربیت (Reinforcement Learning) کہتے ہیں۔
جب کوئی چال سیمولیشن میں پختہ ہو جاتی ہے تو اسے حقیقی روبوٹ میں منتقل کر دیا جاتا ہے۔ اس عمل کو سیمولیشن سے حقیقت تک منتقلی (Sim-to-Real) کہتے ہیں۔ Nvidia اور ہگنگ فیس نے 21 اکتوبر کو ایک تفصیلی رہنما مضمون بھی جاری کیا جس میں بتایا گیا کہ ڈویلپر Nvidia کے آئیزیک لیب اور نیوٹن سیمولیشن ٹولز کی مدد سے اس بطخ کو چلنا اور ناہموار سطح پر سنبھلنا کیسے سکھا سکتے ہیں۔
اس نظام کا سافٹ ویئر، سیمولیٹر اور تربیتی اوزار اپاچی 2.0 لائسنس کے تحت گٹ ہب پر سب کے لیے دستیاب ہیں۔ یوں مالک خود بھی روبوٹ کو نئی چالیں سکھا سکتا ہے اور اپنی بنائی ہوئی چال دوسرے مالکان کے ساتھ بھی بانٹ سکتا ہے۔ تاہم ایک اہم وضاحت بھی ضروری ہے: صرف سافٹ ویئر اوپن سورس ہے، روبوٹ کی مکینیکل اور الیکٹرانک ڈیزائن فائلیں اوپن سورس نہیں ہیں۔
یہ ایک چھوٹا، 399 ڈالر کا اوپن سورس روبوٹ ہے جسے آپ تقویت بخش تربیت سے نئی چالیں سکھا سکتے ہیں۔ یہ چل سکتا ہے، چیزیں اٹھا سکتا ہے، گرنے پر خود اٹھ سکتا ہے اور رولر اسکیٹ بھی کر سکتا ہے۔ — کلیمنٹ ڈیلانگ، شریک بانی، ہگنگ فیس
سستی قیمت، بڑا فرق
مائیکرو ڈَک کی ابتدائی قیمت 399 ڈالر رکھی گئی ہے، جس میں ٹیکس اور ترسیل کے اخراجات شامل نہیں۔ یہ قیمت اس لیے اہم ہے کیوں کہ چین اور امریکہ میں بننے والے قابلِ تربیت ہیومنائڈ کٹس کی قیمت عموما 1700 ڈالر سے شروع ہو کر ہزاروں ڈالر تک جاتی ہے۔ وہ مشینیں گھر کے کاموں کے لیے بنائی گئی ہیں، جب کہ مائیکرو ڈَک کا مقصد صرف یہ دکھانا ہے کہ روبوٹ حرکت کرنا کیسے سیکھتا ہے۔
اس موازنے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مائیکرو ڈَک کھلونا کم اور تجرباتی پلیٹ فارم زیادہ ہے۔ طلبہ، محققین اور ڈویلپر اس پر وہ تجربات کر سکتے ہیں جن کے لیے پہلے مہنگی لیبارٹری یا بڑا روبوٹ درکار ہوتا تھا۔
ہگنگ فیس کے پہلے روبوٹ ریچی منی کی مجموعی ترسیل 10 ہزار سے کچھ زیادہ رہی ہے، جب کہ مائیکرو ڈَک نے ایک بھی یونٹ فراہم کیے بغیر اس سے دوگنا پیشگی آرڈر حاصل کر لیے ہیں۔
احتیاط بھی ضروری ہے
اس کہانی میں احتیاط کے کئی پہلو بھی ہیں، جنھیں نظرانداز کرنا درست نہیں ہوگا۔ پہلی بات یہ کہ 20 ہزار کا عدد کسی آڈٹ شدہ فروخت کا نہیں، ایک ایگزیکٹو کے سوشل میڈیا بیان کا ہے۔ دوسری بات یہ کہ پیشگی آرڈر کا مطلب فراہمی نہیں ہوتا۔ اگر پیداوار یا ترسیل میں تاخیر ہوئی تو یہی جوش ٹھنڈا بھی پڑ سکتا ہے۔
تیسری بات قیمت کی ہے۔ 399 ڈالر ابتدائی قیمت ہے، اس لیے بعد میں خریدنے والوں کو زیادہ ادا کرنا پڑ سکتا ہے۔ چوتھی بات دستیابی کی ہے۔ پہلی فراہمی کا ہدف کرسمس 2026 سے پہلے ہے، مگر ابتدا میں یہ روبوٹ صرف شمالی امریکہ، یورپ اور برطانیہ میں ملے گا۔ ایشیا، لاطینی امریکہ اور دیگر خطوں کے لیے کوئی تاریخ نہیں دی گئی۔
پانچویں بات رازداری کی ہے۔ مائیکرو ڈَک میں کیمرا اور مائیکروفون لگے ہیں، اور یہ گھر میں گھوم پھر سکتا ہے۔ اوپن سورس سافٹ ویئر کی بدولت ڈویلپرز یہ جانچ سکتے ہیں کہ روبوٹ دیکھی اور سنی ہوئی معلومات کا کیا کرتا ہے، مگر عام خریدار یہ کوڈ کبھی نہیں پڑھے گا۔
پاکستانی طلبہ کے لیے موقع
پاکستان کے لیے اس خبر کا سب سے عملی پہلو یہ ہے کہ مائیکرو ڈَک کا تربیتی سافٹ ویئر اور سیمولیٹر سب کے لیے دستیاب ہیں۔ یوں پاکستانی طلبہ اور ڈویلپر روبوٹ خریدے بغیر بھی سیمولیشن میں چلنے، گرنے اور سنبھلنے کی چالیں سکھانے کا تجربہ کر سکتے ہیں۔ روبوٹکس سیکھنے کے لیے یہ ایک سستا اور عملی راستہ ہے، جب کہ مہنگے ہیومنائڈ روبوٹ یہاں کے اکثر اداروں کی پہنچ سے باہر ہیں۔
تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان میں اس روبوٹ کی فراہمی کا کوئی اعلان نہیں ہوا۔ اگر کوئی پاکستانی خریدار اسے باہر سے منگوانا چاہے تو اسے قیمت کے علاوہ ٹیکس اور ترسیل کے اخراجات بھی برداشت کرنا ہوں گے۔ اس کے باوجود اوپن سورس سافٹ ویئر کا فائدہ پاکستان تک پہنچتا ہے: روبوٹکس اب صرف بڑی لیبارٹریوں تک محدود نہیں رہا۔
دوسری جانب، اس واقعے نے یہ بھی دکھایا کہ ایک مختصر اسٹیج مظاہرہ کسی پروڈکٹ کی قسمت بدل سکتا ہے۔ مائیکرو ڈَک کے پیشگی آرڈر اگست میں شروع ہوئے تھے، مگر اصل تیزی اس وقت آئی جب دنیا نے اسے حرکت کرتے ہوئے دیکھا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا کمپنی کرسمس سے پہلے پہلی کھیپ وقت پر فراہم کر پائے گی۔




