آستانہ، 23 اکتوبر 2026 (نیوز ڈیسک): آن لائن ٹیکسی کمپنی ان ڈرائیو نے اعلان کیا ہے کہ وہ 2027 سے قازقستان کے دارالحکومت آستانہ میں ڈرائیور کے بغیر چلنے والی ٹیکسیوں کی آزمائش شروع کرے گی۔ چینی خودکار ڈرائیونگ کمپنی پونی اے آئی اور Nvidia اس منصوبے میں اس کے شراکت دار ہوں گے۔
تینوں کمپنیوں نے جمعے کو ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔ منصوبے کے تحت پونی اے آئی اپنی ساتویں نسل کی روبوٹیکسی گاڑیاں فراہم کرے گی، Nvidia ان میں اپنی خودکار ڈرائیونگ ٹیکنالوجی نصب کرے گا، اور ان ڈرائیو قازقستان میں یہ سروس اپنی موبائل ایپ کے ذریعے چلائے گی۔ آزمائش 2027 کی پہلی ششماہی میں شروع ہونے کا امکان ہے۔
گاڑیاں کیسی ہوں گی
پونی اے آئی کی نئی گاڑیوں میں نو لائڈار سینسر، چودہ کیمرے اور چار ملی میٹر ویو ریڈار لگے ہوں گے۔ لائڈار روشنی کی شعاعوں سے اردگرد کا نقشہ بناتا ہے، جب کہ ریڈار دھند اور برف میں بھی رکاوٹ پہچان لیتا ہے۔ کمپنی کے دعوے کے مطابق یہ سینسر ساڑھے چھ سو میٹر کی دوری تک دیکھ سکتے ہیں۔
پونی اے آئی کا دعویٰ ہے کہ نئی نسل میں سینسر کٹ کی تیاری پر آنے والی لاگت پچھلی نسل کے مقابلے میں ستر فیصد کم ہو گئی ہے، جب کہ کمپیوٹنگ پر خرچ اسی فیصد گھٹ گیا ہے۔ کمپنی نے یہ اعداد رواں برس اپریل میں آٹو شنگھائی نمائش میں پیش کیے تھے۔
گاڑیوں کی ذہانت Nvidia کی ہوگی۔ کمپنی اپنا ہائپیرین (Hyperion) پلیٹ فارم دے گی، جس میں ہیلوز (Halos) نامی حفاظتی نظام اور الپامیو (Alpamayo) نامی ڈرائیونگ ماڈل شامل ہیں۔ یعنی پونی اے آئی گاڑیاں بنائے گی اور Nvidia ان میں سوچنے کی صلاحیت ڈالے گا۔
شروع میں ہر گاڑی میں ایک حفاظتی آپریٹر بیٹھا رہے گا، جو ضرورت پڑنے پر کنٹرول سنبھال سکے گا۔ مکمل ڈرائیور لیس سروس اس منصوبے کا طویل مدتی ہدف ہے۔
آستانہ کا انتخاب کیوں
آستانہ کی آبادی تقریباً سترہ لاکھ ہے اور یہاں سردیاں سخت پڑتی ہیں۔ برف سے ڈھکی سڑکوں اور دھند میں خودکار گاڑی چلانا اس ٹیکنالوجی کا سب سے کٹھن امتحان سمجھا جاتا ہے۔ ان ڈرائیو کے بانی اور سربراہ ارسن ٹومسکی کہتے ہیں کہ یہی اس انتخاب کی اصل وجہ ہے۔
"یہاں سے آغاز ہمیں سخت موسمی حالات میں خودکار ڈرائیونگ ٹیکنالوجی جانچنے کا اہم موقع دے گا۔ آستانہ میں کامیابی ان مقامات تک خودکار سفر پھیلانے کے لیے قیمتی بصیرت فراہم کر سکتی ہے جہاں ایسے ہی چیلنجز درپیش ہیں۔"
قازقستان کی حکومت نے گزشتہ ماہ ڈرائیور کے بغیر چلنے والی ٹیکسیوں کے لیے آزمائشی قواعد کا اعلان کیا تھا، اس لیے قانونی رکاوٹ بھی دور ہو چکی ہے۔ ایک دلچسپ اتفاق یہ ہے کہ یہ معاہدہ اسی دن طے پایا جس دن Nvidia کے سربراہ جینسن ہوانگ نے قازقستان کا اپنا پہلا دورہ کیا۔
ہر کمپنی کا اپنا حساب
ان ڈرائیو کے چیف ٹیکنالوجی افسر یوری مسنک کہتے ہیں کہ ان کی کمپنی بھاری سرمایہ لگائے بغیر آگے بڑھنے کی حکمت عملی پر گامزن ہے۔
"ہمارا کاروباری ماڈل کم سرمایے پر مبنی ہے۔ ہم مختلف مارکیٹوں میں متعدد شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں اور ان کی مہارت کو اپنی مہارت کے ساتھ جوڑ کر صارفین کو بہتر تجربہ فراہم کرتے ہیں۔"
Nvidia کے آٹوموٹو شعبے کے نائب صدر علی کانی کے مطابق لاگت میں کمی خاص طور پر ابھرتی معیشتوں کے لیے معنی رکھتی ہے۔
"لاگت میں یہ کمی خاص طور پر ابھرتی معیشتوں کے لیے اہم ہے، جہاں آن لائن ٹیکسی کی سواری پہلے سے نسبتاً سستی ہے اور خودکار سروسز کو لاگت کے محاذ پر مقابلہ کرنا ہوگا۔"
ان کا اشارہ واضح ہے: جہاں ٹیکسی پہلے سے سستی ہو، وہاں ڈرائیور کے بغیر چلنے والی ٹیکسی تبھی چلے گی جب اس کی قیمت بھی مسابقتی ہو۔
کمپنیوں کا پس منظر
ان ڈرائیو 2013 میں روس کے شہر یاکوتسک میں قائم ہوئی تھی اور آج سینتالیس ممالک کے بارہ سو سے زائد شہروں میں کام کرتی ہے۔ اس کی پہچان اس کا بولی والا ماڈل ہے، جس میں مسافر خود کرایہ تجویز کرتا ہے۔ پونی اے آئی 2016 میں قائم ہونے والی چینی کمپنی ہے، جسے ٹویوٹا کی پشت پناہی حاصل ہے اور یہ امریکی اسٹاک مارکیٹ میں لسٹڈ ہے۔ چین میں یہ پہلے سے تجارتی روبوٹیکسی سروس چلا رہی ہے اور اب دیگر ممالک میں توسیع کی کوشش کر رہی ہے۔
لندن میں اوبر کے ساتھ پونی اے آئی کی آزمائش جاری ہے۔ کمپنی کا ہدف 2026 کے آخر تک بیس سے زائد شہروں میں ساڑھے تین ہزار سے زیادہ روبوٹیکسیاں چلانا ہے؛ جون کے آخر تک اس کے بیڑے میں انیس سو پچھتر گاڑیاں تھیں۔
ان ڈرائیو کے لیے بھی یہ پہلا تجربہ نہیں۔ گزشتہ دسمبر میں اس نے چینی کمپنی وی رائیڈ کے ساتھ مل کر ریاض میں اسی نوعیت کے منصوبے کا اعلان کیا تھا، جس کی آزمائش 2026 کی پہلی ششماہی میں شروع ہونا تھی، تاہم اس کے آغاز کی تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔
پاکستان کے لیے اس کا مطلب
ان ڈرائیو پاکستان میں بھی سرگرم ہے، اس لیے یہ خبر یہاں کے قارئین کے لیے اجنبی نہیں۔ تاہم یہ سب ابھی اعلان تک ہی محدود ہے؛ آزمائش کے نتائج آنے کے بعد ہی اصل صورتحال واضح ہوگی۔ آستانہ کی سخت سردیوں میں کامیابی کی صورت میں ہی اس ٹیکنالوجی کو دیگر ممالک تک پھیلانے کی بات آگے بڑھے گی۔




