برلن (نمائندہ خصوصی): امریکی کارساز کمپنی ٹیسلا نے یورپ میں اپنے سب سے متنازع ڈرائیور معاون نظام کا نام بدل دیا ہے۔ گزشتہ جمعے سے کمپنی کی یورپی ویب سائٹس پر "فل سیلف ڈرائیونگ" کا صفحہ "ٹیسلا اسسٹڈ ڈرائیونگ" کے نام سے نظر آ رہا ہے۔ روئٹرز کے مطابق سلوواکیہ، جرمنی، اسپین اور نیدرلینڈز سمیت کئی ممالک کے صفحات خودکار طور پر نئے نام والے صفحے پر منتقل ہو رہے ہیں۔ یہ تبدیلی جرمن حکومت کے اس مطالبے کے بعد آئی ہے جس میں پرانے نام کو صارفین کے لیے گمراہ کن قرار دیا گیا تھا، اور اس کے بدلے میں جرمنی اب یورپی یونین میں اس نظام کی منظوری کی کھلی حمایت کر رہا ہے۔
ایلون مسک اس خودکار ڈرائیونگ ٹیکنالوجی کو کمپنی کے مستقبل کی ترقی کی کنجی قرار دے چکے ہیں۔ نام کی یہ تبدیلی بظاہر ایک لفظی معاملہ لگتی ہے، مگر اس کے پیچھے مہینوں کی سفارتی کھینچا تانی اور اربوں ڈالر کے کاروباری مفادات چھپے ہیں۔
جرمنی کا دباؤ اور معاہدے کی رات
جرمن وزارت ٹرانسپورٹ کے مطابق وزیر سٹیفن بلگر نے ستمبر میں ٹیسلا سے تکنیکی تفصیلات اور قانونی ذمہ داری پر بات کی۔ منگل چھ اکتوبر کو وزارت نے اعلان کیا کہ ٹیسلا نے نام بدل کر "ٹیسلا اسسٹڈ ڈرائیونگ" رکھنے کی پیشکش کی ہے، کیونکہ پرانا نام نظام کے اصل کام کی درست عکاسی نہیں کرتا۔
اسی ملاقات میں ایک اور اہم نکتے پر اتفاق ہوا: یہ نظام مقررہ حد رفتار سے زیادہ سے زیادہ دس فیصد تیز چل سکے گا۔ جرمنی نے کہا ہے کہ وہ یورپی منظوری کے عمل میں بھی اسی مؤقف کی حمایت کرے گا۔ بلگر نے اپنے بیان میں کہا کہ ان کا مقصد یہ ہے کہ ٹیسلا کے ڈرائیور بلاتاخیر پورے یورپی یونین میں "اسسٹڈ ڈرائیونگ" کے فوائد سے لطف اندوز ہو سکیں۔ اس اعلان کے اگلے ہی روز مسک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جرمن حمایت کا خیرمقدم "ڈانکے شون" لکھ کر کیا۔
یہ معاہدہ دونوں فریقوں کے لیے فائدہ مند ہے۔ ٹیسلا کو یورپ کے سب سے بڑے کار بازار کی حمایت ملی اور جرمنی نے صارفین کے تحفظ کا اپنا مؤقف منوا لیا۔ جرمن وزارت کے مطابق ڈرائیونگ کی ذمہ داری سو فیصد ڈرائیور کے پاس ہی رہے گی۔ نام بدلے یا نہ بدلے، قانون کی نظر میں یہ نظام محض ایک معاون ہے، ڈرائیور کا متبادل نہیں۔
یورپی منظوری کی جنگ اب کہاں کھڑی ہے
یورپی یونین میں کسی بھی گاڑی کی ٹیکنالوجی کی بلاک سطح پر منظوری آسان کام نہیں۔ یورپی قواعد کے مطابق فیصلے کے لیے ستائیس میں سے کم از کم پندرہ رکن ممالک اور یونین کی پینسٹھ فیصد آبادی کی نمائندگی کرنے والے ووٹ درکار ہوتے ہیں۔ ٹیسلا کو اکتوبر میں ہونے والے ووٹ کی امید تھی، مگر بعض ممالک کی جانب سے مزید جانچ کے مطالبے پر ووٹ دسمبر دو ہزار چھبیس تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔
اس وقت نیدرلینڈز، لتھووینیا، ایسٹونیا، ڈنمارک، بیلجیئم، سلووینیا، چیک جمہوریہ اور کروشیا سمیت آٹھ یورپی ممالک اس نظام کو کسی نہ کسی شکل میں تسلیم کر چکے ہیں۔ جرمنی کی حمایت کے بعد حامیوں کی صف میں یورپ کی سب سے بڑی معیشت شامل ہو گئی ہے، مگر مخالفت بھی موجود ہے۔ سویڈن اور فرانس نے رفتار سے متعلق سہولت پر سنگین تحفظات کا اظہار کیا ہے، اور حفاظتی کارکنان کا مطالبہ ہے کہ منظوری سے پہلے یہ سہولت مکمل طور پر ختم کی جائے۔
ٹیسلا اس منظوری کے لیے صرف سرکاری راہداریوں میں نہیں لڑ رہی۔ روئٹرز کی اسی ہفتے شائع ہونے والی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق کمپنی نے اپنے مالکان اور حامیوں کو متحرک کیا ہے کہ وہ اپنے اپنے ممالک کے نگران اداروں پر منظوری تیز کرنے کے لیے دباؤ ڈالیں۔ ستمبر میں ناروے کے ایک ٹیسلا مالک نے اپنی روڈز انتظامیہ سے پوچھا تھا کہ کیا نام کی تبدیلی سے تشویش دور ہو گئی ہے۔ روئٹرز نے یہ خط معلومات تک رسائی کے قانون کے تحت حاصل کیا۔ سویڈن میں صارفین کے تحفظ کے اداروں نے پہلے ہی ٹرانسپورٹ ایجنسی سے کہا تھا کہ وہ جانچے کہیں اس نام کی تشہیر سے خریداروں کو یہ غلط تاثر تو نہیں مل رہا کہ گاڑی مکمل خودکار ڈرائیونگ کی صلاحیت رکھتی ہے۔
رفتار کی وہ سہولت جس پر سب سے بڑا جھگڑا ہے
نام کے پیچھے اصل تنازع ایک تکنیکی سہولت ہے جسے رفتار کا فرق کہا جا سکتا ہے۔ ٹیسلا کا نظام گاڑی کو مقررہ حد سے زیادہ رفتار پر چلنے کی اجازت دیتا ہے۔ جرمنی اور ٹیسلا کے درمیان طے پانے والی دس فیصد کی حد اسی جھگڑے کا سمجھوتہ ہے، مگر ناقدین کے مطابق یہ کافی نہیں۔ بعض رپورٹس کے مطابق نیدرلینڈز والے ورژن میں انتہائی ترتیب تو نکال دی گئی تھی مگر رفتار بڑھانے کی سہولت برقرار رہی، اور برسلز کے ایک ٹیسٹ میں یہ نظام تیس کلومیٹر فی گھنٹہ والے علاقوں میں پچپن فیصد راستے پر حد سے زیادہ رفتار پر پایا گیا۔ ٹریفک سیفٹی کے محققین خبردار کر چکے ہیں کہ ٹیسلا کے حفاظتی دعوے بڑھا چڑھا کر پیش کیے گئے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ نام کی تبدیلی کو بعض حلقے محض علامتی قدم قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک نظام کی اصل صلاحیتیں اور حدود صارف پر واضح نہیں ہوتیں، نام بدلنے سے سڑک پر کچھ نہیں بدلے گا۔ دوسری طرف حامیوں کا مؤقف ہے کہ نیا نام ایماندارانہ ہے کیونکہ یہ تسلیم کرتا ہے کہ انسان ہی ڈرائیور ہے اور مشین صرف اس کی مدد کر رہی ہے۔
نام بدلنے سے ٹیکنالوجی نہیں بدلتی، مگر بازار بدل سکتا ہے
"ٹیسلا اسسٹڈ ڈرائیونگ" وہی سافٹ ویئر ہے جو پہلے "فل سیلف ڈرائیونگ" کہلاتا تھا۔ یہ اسٹیئرنگ، رفتار، بریک اور لین کی تبدیلی سنبھالتا ہے، مگر ڈرائیور کو ہر لمحہ ہوشیار رہنا اور کسی بھی وقت کنٹرول سنبھالنے کے لیے تیار رہنا ہوتا ہے۔ قانونی طور پر گاڑی کی ہر حرکت کی ذمہ داری ڈرائیور کی ہے۔ پرانا نام اس حقیقت کے برعکس ایک ایسا تاثر دیتا تھا جیسے گاڑی خود سب کچھ سنبھال لیتی ہے، اور یہی وہ نکتہ تھا جس پر یورپی نگران ادارے برسوں سے اعتراض کر رہے تھے۔
اس واقعے کا بڑا سبق یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کے دور میں مصنوعے کا نام بھی اس کی حفاظت کا حصہ ہے۔ غلط توقع سڑک پر جان لیوا ہو سکتی ہے، اور ٹیسلا جیسی بڑی کمپنی کو بھی تسلیم کرنا پڑا کہ دعوے اور حقیقت میں فرق ہو تو نام بدلنا پڑتا ہے۔
یہ نام ٹیسلا کے لیے نیا نہیں۔ چین میں یہی فیچر مئی سے "ٹیسلا اسسٹڈ ڈرائیونگ" کے نام سے بک رہا ہے۔ البتہ امریکہ میں یہ نظام اب بھی "فل سیلف ڈرائیونگ (نگرانی میں)" کہلاتا ہے، یعنی نام کی جنگ ہر ملک کے قانون کے مطابق الگ لڑی جا رہی ہے۔
پاکستان اور خطے کے لیے اس خبر کا مطلب
پاکستان میں برقی گاڑیوں کی درآمد میں اضافہ ہو رہا ہے اور حکومت برقی گاڑیوں کے فروغ کی پالیسی پر کام کر رہی ہے۔ خودکار ڈرائیونگ کی ٹیکنالوجی پاکستانی سڑکوں پر ابھی دور کی بات ہے، مگر اس خبر کا اصل سبق پالیسی سازوں اور صارفین دونوں کے لیے ہے۔ جب مصنوعی ذہانت سڑکوں، دفاتر اور گھروں میں اترے گی تو اس کے نام، دعووں اور ذمہ داری کے قواعد ٹیکنالوجی سے پہلے طے ہونے چاہئیں، بعد میں نہیں۔
یورپ کا یہ تجربہ ایک اور اہم بات بھی سکھاتا ہے: بڑی سے بڑی ٹیکنالوجی کمپنی کو بھی آخرکار عوامی مفاد کے نگران اداروں کی بات ماننی پڑتی ہے۔ نام میں سچائی، دعوے میں ذمہ داری اور سڑک پر حفاظت: یہ تینوں اصول کسی بھی ملک میں مصنوعی ذہانت کے مستقبل کی بنیاد ہیں، چاہے وہ برلن ہو یا اسلام آباد۔



