لندن، 15 اکتوبر 2026 (نیوز ڈیسک): دنیا کی سب سے قیمتی چپ بنانے والی کمپنی Nvidia نے یورپ میں مصنوعی ذہانت کے میدان میں ایک ساتھ دو بڑے وعدے کر دیے ہیں۔ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو جینسن ہوانگ نے اعلان کیا ہے کہ برطانیہ کی یونیورسٹیوں میں اے آئی سیفٹی پر تحقیق کرنے والی لیبز کو اگلے پانچ برسوں میں 25 کروڑ ڈالر کے کمپیوٹنگ وسائل دیے جائیں گے، جبکہ یورپ بھر میں مزید 2 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے منصوبے بھی اگلے ہفتے سامنے لائے جائیں گے۔
برطانیہ کو 25 کروڑ ڈالر کا کمپیوٹ عطیہ
روئٹرز کی خبر کے مطابق Nvidia برطانیہ کو ہر سال 5 کروڑ ڈالر کے حساب سے تیز رفتار کمپیوٹنگ وسائل فراہم کرے گی، یعنی پانچ برسوں میں یہ عطیہ 25 کروڑ ڈالر کا بنے گا۔ یہ وسائل برطانیہ میں قائم Nvidia کلاؤڈ پارٹنرز کے ذریعے فراہم کیے جائیں گے، اور ان کا مرکز اے آئی ایجنٹس کی حفاظت اور سلامتی پر تحقیق ہوگا۔
اس پروگرام سے برطانیہ کی تین معروف تحقیقی لیبز براہ راست فائدہ اٹھائیں گی۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کی لیب BOLD جو ایسے اے آئی سسٹمز تیار کر رہی ہے جو انسانوں کے ساتھ مل کر سیکھ سکیں اور کام کر سکیں، یونیورسٹی کالج لندن کا منصوبہ SOFAIR، اور امپیریل کالج لندن جو روبوٹکس سیفٹی پر کام کر رہا ہے۔ ان لیبز کی تحقیق اوپن اینڈڈ لرننگ، اوپن سورس اے آئی آرکیٹیکچرز اور اے آئی سسٹمز کی حفاظتی انجینئرنگ جیسے شعبوں تک پھیلی ہوئی ہے۔
جینسن ہوانگ نے اپنے اعلان میں کہا:
"مصنوعی ذہانت کی صلاحیت اور اس کی حفاظت کو ایک ساتھ آگے بڑھنا چاہیے۔ یہ کمپیوٹنگ وسائل برطانیہ کے محققین کے ہاتھ میں ایسے طاقتور آلات دیں گے جن سے وہ تیزی سے مضبوط ہوتی مصنوعی ذہانت کے لیے حفاظتی تدابیر تیار، جانچ اور بہتر کر سکیں گے۔"
برطانیہ کے وزیر برائے اے آئی کنیشکا نارائن نے اس عطیے کو "برطانیہ کی عالمی معیار کی تحقیق اور مہارت پر اعتماد کے اظہار" سے تعبیر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مدد سے یہ یقینی بنانے میں مدد ملے گی کہ مستقبل کی مصنوعی ذہانت محفوظ، سلامتی سے بھرپور اور انسانوں کے بہترین مفاد میں کام کرے۔
"یہ عطیہ اس بات کو یقینی بنانے میں ہماری مدد کرے گا کہ مستقبل کی مصنوعی ذہانت محفوظ، سلامتی سے بھرپور اور لوگوں کے بہترین مفاد کی خدمت کرنے والی ہو۔"
یہ وعدہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اے آئی سیفٹی پر تشویش اپنی بلندی پر ہے۔ اینتھروپک اور اوپن اے آئی نے حال ہی میں خود تسلیم کیا تھا کہ ان کے کچھ اے آئی ایجنٹس نے غیر متوقع اور ناپسندیدہ رویے دکھائے، جس کے بعد اس ٹیکنالوجی کو قابو میں رکھنے کے مطالبات زور پکڑ گئے ہیں۔
یورپ میں 2 ارب ڈالر کا نیا منصوبہ
برطانیہ کے اس عطیے کے علاوہ ہوانگ نے اپنے یورپی دورے کے دوران فرانس کے دارالحکومت پیرس میں مزید 2 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے منصوبوں کا اعلان کیا۔ بلومبرگ کی خبر کے مطابق ان منصوبوں کی تفصیلات اگلے ہفتے سامنے آئیں گی۔ یہ دورہ یورپ کے کئی شہروں پر محیط ہے، جس میں لندن اور برلن کے اسٹاپ بھی شامل ہیں، اور پیرس میں ان کی فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون سے ملاقات بھی ہوئی۔
روئٹرز کے حوالے سے بلومبرگ نے بتایا کہ Nvidia نے پچھلے ایک سال میں یورپ میں تقریباً 8 ارب ڈالر خرچ کیے ہیں، اور نئے 2 ارب ڈالر اسی سلسلے کی اگلی کڑی ہیں۔ ہوانگ نے اس موقع پر فرانس کی چار اے آئی اسٹارٹ اپ کمپنیوں، Doctolib، Genesis AI، Pigment اور Entalpic میں اقلیتی حصص لینے کا بھی انکشاف کیا۔
انہوں نے اوپن ویٹ ماڈلز کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یہی راستہ یورپ کے لیے امریکہ اور چین کے ساتھ مصنوعی ذہانت کا فاصلہ کم کرنے کا بہترین طریقہ ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر ان آوازوں کو مسترد کیا جو مصنوعی ذہانت کی رفتار دھیمی کرنے کا مطالبہ کر رہی ہیں، اور کہا کہ ترقی کو روکنے کی بجائے اسے محفوظ بنانے پر توجہ دینی چاہیے۔
پس منظر: حفاظت پر بڑھتی ہوئی عالمی تشویش
یہ اعلانات ایسے ماحول میں سامنے آئے ہیں جہاں مصنوعی ذہانت پر سرمایہ کاری کے جوش کے ساتھ ساتھ اس کے خطرات پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ عالمی مالیاتی فنڈ کی سربراہ کرسٹالینا جارجیوا نے سرمایہ کاروں کو خبردار کیا تھا کہ اگر مصنوعی ذہانت اپنی بلند توقعات پر پورا نہ اتری تو نظام کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔ اسی پس منظر میں Nvidia کی مارکیٹ ویلیو اکتوبر کے آغاز میں تقریباً 5.8 کھرب ڈالر تک پہنچ گئی تھی، جس نے اسے تاریخ کی سب سے قیمتی کمپنی بنا دیا۔
برطانیہ پہلے سے ہی اے آئی حفاظت میں عالمی قیادت کا دعویٰ کرتا ہے۔ ملک کا سرکاری ادارہ اے آئی سیکیورٹی انسٹی ٹیوٹ اس ٹیکنالوجی کے خطرات کی جانچ کرنے والے دنیا کے پہلے ریاستی اداروں میں شامل ہے، حالانکہ برطانیہ میں کوئی بڑا اے آئی ڈویلپر کمپنی موجود نہیں۔ مائیکروسافٹ کے صدر بریڈ اسمتھ نے پیر کو ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ برطانیہ اے آئی حفاظت کے عالمی رہنما اصولوں کی تشکیل میں قیادت کے لیے بہترین پوزیشن میں ہے۔ Nvidia کا یہ عطیہ اسی دعوے کو عملی شکل دینے کی کوشش نظر آتا ہے۔
ایجنٹک اے آئی: اصل خطرہ کیا ہے؟
یہ عطیہ خاص طور پر "ایجنٹک اے آئی" یعنی ایسے اے آئی سسٹمز کی حفاظت پر مرکوز ہے جو محض سوالات کا جواب دینے کی بجائے خود فیصلے کر کے اقدامات کر سکیں۔ آج کے عام چیٹ بوٹ صارف کی ہدایت کا جواب دیتے ہیں، لیکن اے آئی ایجنٹس خود انٹرنیٹ پر خریداری کر سکتے ہیں، کوڈ لکھ کر چلا سکتے ہیں اور دوسرے کمپیوٹروں سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ اسی خود مختاری کی وجہ سے ان کی حفاظت روایتی ماڈلز سے کہیں زیادہ اہم ہو گئی ہے۔
روئٹرز کی خبر میں بتایا گیا کہ یہ رقم خاص طور پر ایجنٹک سیفٹی ٹیسٹنگ اور مضبوط حفاظتی تدابیر تیار کرنے کے لیے مختص ہوگی۔ آکسفورڈ کی BOLD لیب ایسے طریقوں پر کام کر رہی ہے جن سے اے آئی سسٹم انسانوں کے ساتھ مل کر سیکھیں اور کام کریں، جبکہ امپیریل کالج کی روبوٹکس سیفٹی تحقیق اس بات کو یقینی بنانے پر ہے کہ خودکار مشینیں انسانوں کے لیے خطرہ نہ بنیں۔ یہ دونوں شعبے اگلے پانچ برسوں میں اے آئی پالیسی کی سب سے گرم بحثیں بننے جا رہے ہیں۔
پاکستان کے لیے اس کا مطلب
پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک کے لیے یہ خبر ایک اہم پیغام رکھتی ہے۔ دنیا بھر کی یونیورسٹیوں کو اس وقت اے آئی تحقیق کا سب سے بڑا مسئلہ GPU کمپیوٹ کی کمی کا سامنا ہے، اور پاکستان کی یونیورسٹیاں بھی اسی مشکل سے دوچار ہیں۔ Nvidia جیسی بڑی کمپنیوں کا یورپی لیبز کو مفت کمپیوٹ فراہم کرنا اس بات کی علامت ہے کہ آئندہ برسوں میں اے آئی تحقیق کا مستقبل اس بات پر منحصر ہوگا کہ کس کے پاس کمپیوٹنگ طاقت ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان کے لیے راستہ اکادمیہ اور صنعت کے درمیان ایسے ہی شراکت داریوں سے نکل سکتا ہے، جہاں مقامی ٹیکنالوجی کمپنیاں اور غیر ملکی فرم یونیورسٹیوں کو کمپیوٹ وسائل فراہم کریں۔ یورپ میں جو ماڈل آج آزمایا جا رہا ہے، کل وہ پاکستان جیسے ممالک کے لیے بھی ایک مثال بن سکتا ہے، بشرطیکہ تحقیق اور حفاظت کو ساتھ ساتھ آگے بڑھانے کی پالیسی اپنائی جائے۔



