اسلام آباد — مصنوعی ذہانت کی ترقی کی خبریں عام طور پر مستقبل کی امید کے طور پر پڑھی جاتی ہیں، مگر اس ہفتے سامنے آنے والی ایک رپورٹ نے اسی ترقی کا دوسرا، قدرے کڑوا رخ بے نقاب کر دیا ہے۔ عالمی تحقیقی ادارے آئی ڈی سی (IDC) کے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق 2026 کی تیسری سہ ماہی میں دنیا بھر میں ذاتی کمپیوٹرز کی فروخت حیران کن طور پر 20.1 فیصد گر گئی اور صرف 62.7 ملین یونٹ فروخت ہوئے۔ گزشتہ سال کی اسی سہ ماہی میں یہ تعداد 78.5 ملین تھی۔ ماہرین کے مطابق اس گراوٹ کی سب سے بڑی وجہ AI ڈیٹا سینٹرز کی وہ بھوک ہے جو میموری چپس کی عالمی سپلائی نگلتی جا رہی ہے — اور اس کا خمیازہ اب عام صارف کو زیادہ قیمتوں کی صورت میں بھگتنا پڑ رہا ہے۔
یہ مسلسل دوسری سہ ماہی ہے جس میں PC بازار سکڑا ہے — دوسری سہ ماہی میں 3.8 فیصد کمی آئی تھی، مگر اب گراوٹ کی شدت کئی گنا بڑھ گئی ہے اور تیسری سہ ماہی معمول کے برعکس دوسری سے بھی 9.1 فیصد پیچھے رہی۔
رپورٹ کے اہم نکات — کون کتنا گرا
آئی ڈی سی کی رپورٹ میں پانچ بڑے کمپیوٹر ساز کمپنیوں کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ عالمی بازار کی رہنما لینووو (Lenovo) 23.8 فیصد مارکیٹ شیئر کے ساتھ پہلے نمبر پر رہی، مگر اس کی فروخت میں بھی 22.6 فیصد کمی آئی۔ سب سے بڑا جھٹکا HP کو لگا، جس کی فروخت 30.9 فیصد گر گئی اور اس کا مارکیٹ شیئر 16.5 فیصد رہ گیا۔ ڈیل (Dell) کی فروخت میں 25 فیصد کمی آئی۔
ایپل (Apple) کی فروخت بھی کم ہوئی مگر باقیوں کے مقابلے میں کم — میک کمپیوٹرز کی فروخت 11.3 فیصد گر کر 5.9 ملین یونٹ رہ گئی، جبکہ گزشتہ سال کی اسی سہ ماہی میں 6.7 ملین تھی۔ مگر چونکہ حریف زیادہ گرے، اس لیے ایپل کا عالمی مارکیٹ شیئر 8.5 سے بڑھ کر 9.5 فیصد ہو گیا اور وہ چوتھے نمبر پر برقرار رہا۔
آئی ڈی سی کے کنزیومر ڈیوائسز کے ریسرچ ڈائریکٹر جیتیش اُبرانی کے مطابق اس گراوٹ کے پیچھے تین بڑی وجوہات ہیں: سال کی پہلی ششماہی میں دکان داروں اور تقسیم کاروں کی طرف سے قبل از وقت بڑی مقدار میں اسٹاک جمع کرنا، میموری کی مسلسل قلت، اور بڑھتی ہوئی قیمتیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ چینلز اب اتنے زیادہ اسٹاک کے ساتھ پریشان ہیں کہ زیادہ قیمتوں والے بازار میں مانگ دب رہی ہے۔ ان کے الفاظ میں، خصوصی رعایتیں اور وقتی چھوٹ صارفین کو عارضی ریلیف تو دے سکتی ہیں، مگر قیمتیں گزشتہ سال جتنی کم ہونے کی توقع نہیں — اور معاشی حالات مزید خراب ہو رہے ہیں۔
میموری بحران — AI کی بھوک کا اصل کہانی
اس رپورٹ کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس نے ایک بڑے مسئلے کو اعداد کے ساتھ ثابت کر دیا ہے: AI ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر میموری چپس کی قیمتوں کو آسمان تک لے جا رہی ہے۔ سیمسنگ، ایس کے ہائنکس اور مائکرون — جو مل کر دنیا کی 95 فیصد سے زیادہ DRAM میموری بناتی ہیں — اب اپنی پیداواری صلاحیت کا بڑا حصہ ہائی بینڈوڈتھ میموری (HBM) کی طرف موڑ رہی ہیں، جو AI سرورز میں استعمال ہوتی ہے۔ اس کی وجہ صاف ہے: HBM پر منافع 50 فیصد سے بھی زیادہ ہے، جبکہ عام صارفین کی DRAM پر منافع اس کا ایک حصہ بھی نہیں۔
نتیجہ یہ نکلا ہے کہ لیپ ٹاپ، ٹیبلٹ اور فون میں لگنے والی عام میموری کی سپلائی کم ہو گئی ہے۔ ٹرینڈ فورس کے مطابق 2026 کی پہلی سہ ماہی میں عام DRAM کی کنٹریکٹ قیمتوں میں ایک ہی سہ ماہی میں 90 سے 95 فیصد اضافہ ہوا — جو ریکارڈ ہے۔ گارٹنر کے اندازے کے مطابق 2026 کے آخر تک DRAM اور SSD کی قیمتیں 2025 کے مقابلے میں 130 فیصد بڑھ چکی ہوں گی، جس سے اوسط PC کی قیمت میں 17 فیصد اور اسمارٹ فونز کی قیمت میں 13 فیصد اضافہ ہوگا۔ گارٹنر کے تجزیہ کار رنجیت اٹوال کے مطابق 2026 میں عالمی PC فروخت میں 10.4 فیصد کمی متوقع ہے — جو ایک دہائی سے زیادہ عرصے کی تیز ترین گراوٹ ہوگی۔
سیمسنگ کے شریک چیف ایگزیکٹو ٹی ایم رو نے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے اس قلت کو غیر معمولی قرار دیا اور خبردار کیا کہ یہ مہینوں یا سالوں تک جاری رہ سکتی ہے۔
قیمتیں بڑھیں، خریدار رک گئے
اس بحران کا براہ راست اثر صارفین کی جیب پر پڑا ہے۔ ایپل نے جون میں میک بک اور آئی پیڈ کی قیمتیں بڑھا دیں، اور ستمبر میں بھارت میں آئی فون کی قیمتوں میں 41 فیصد تک اضافہ کیا — روئٹرز کے مطابق اس کی ایک وجہ AI کی مانگ سے بڑھتی میموری لاگت تھی۔ HP نے انکشاف کیا کہ میموری اور اسٹوریج اب PC کی کل لاگت کا تقریباً 35 فیصد بن چکے ہیں، جبکہ پہلے یہ 15 سے 18 فیصد تھے۔
آئی ڈی سی کی اس سے پہلے کی پیش گوئی کے مطابق 2026 کی چوتھی سہ ماہی — جو عام طور پر سال کا بہترین فروخت کا موسم ہوتی ہے — میں بھی PC فروخت میں 20 فیصد کمی متوقع ہے۔ گارٹنر تو یہاں تک کہتا ہے کہ 2028 تک 500 ڈالر سے کم قیمت والا نیا PC بازار سے غائب ہو جائے گا۔
پاکستان کے لیے اس کا کیا مطلب ہے
پاکستان میں یہ خبر خاص اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ یہاں کمپیوٹر اب بھی تعلیم، فری لانسنگ اور چھوٹے کاروبار کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ لاہور کی ہال روڈ، کراچی کی ٹیکنو سٹی اور اسلام آباد کی کمپیوٹر مارکیٹوں میں پہلے ہی لیپ ٹاپ کی قیمتوں میں اضافے کی شکایات سننے کو مل رہی ہیں۔ ایک طالب علم کے لیے جو آن لائن پڑھائی یا فری لانسنگ کے لیے لیپ ٹاپ خریدنا چاہتا ہے، ہر اضافی ہزار روپے ایک رکاوٹ ہے۔ فری لانسرز — جو پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کا اہم ستون ہیں — کے لیے مہنگا ہارڈویئر براہ راست ان کی آمدنی پر اثر ڈالتا ہے، کیونکہ ویڈیو ایڈیٹنگ اور سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ جیسے کاموں میں طاقتور مشینیں ناگزیر ہیں۔
یونیورسٹیوں اور کالجوں کے کمپیوٹر لیبز بھی اس دباؤ میں ہیں — جب ایک لیب کے لیے درجنوں کمپیوٹر خریدنے ہوں تو 17 فیصد قیمت کا اضافہ بجٹ کو بری طرح متاثر کرتا ہے۔ پرانے کمپیوٹرز کی مرمت بھی مہنگی ہو رہی ہے، کیونکہ RAM اور SSD کی قیمتوں میں اضافے سے اپ گریڈ کا خرچ بھی بڑھ گیا ہے۔
آگے کیا ہوگا
ماہرین کی رائے میں یہ بحران جلد ختم ہونے والا نہیں۔ سیمسنگ کے شریک چیف ایگزیکٹو کی وارننگ، گارٹنر کے 2028 تک سستے PC کے غائب ہونے کے اندازے، اور آئی ڈی سی کی اگلی سہ ماہیوں کے بارے میں محتاط پیش گوئی — سب ایک ہی سمت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ AI ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری جاری ہے، اور جب تک میموری کی نئی فیکٹریاں پیداوار نہیں بڑھاتیں، سپلائی کا دباؤ برقرار رہے گا۔
مگر اس تصویر کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے: میموری کی قلت چپ ساز کمپنیوں کو زیادہ موثر ٹیکنالوجیز بنانے پر مجبور کر رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ ایجادات عام صارف تک پہنچنے سے پہلے اس کی جیب خالی کر دیں گی؟
فی الحال، جواب خریداروں کے رویے میں نظر آ رہا ہے: لوگ انتظار کر رہے ہیں۔ آئی ڈی سی کے الفاظ میں، قیمتیں گزشتہ سال جتنی کم ہونے والی نہیں — سو اگر ضرورت ہے تو جو سودا ملے، اسے ہاتھ سے نہ جانے دیں۔
مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں ایک عجیب تضاد پیدا ہو گیا ہے: وہی ٹیکنالوجی جو مستقبل کو بدلنے کا وعدہ کرتی ہے، آج کے کمپیوٹر کو عام آدمی کی پہنچ سے دور کر رہی ہے۔ یہ کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی — اور اس کے اگلے باب کا انتظار پوری دنیا کے خریدار کر رہے ہیں۔



