انسان نما روبوٹ کی ویڈیوز گزشتہ چند برسوں سے سوشل میڈیا پر حیرت پیدا کر رہی ہیں۔ کوئی روبوٹ دوڑتا دکھائی دیتا ہے، کوئی سیڑھیاں چڑھتا ہے اور کوئی انسان کی طرح اشیا اٹھاتا ہے۔ لیکن روبوٹکس کی اصل کہانی اب ان مظاہروں سے آگے بڑھ رہی ہے۔
اصل سوال یہ نہیں رہا کہ کیا روبوٹ انسان جیسا چل سکتا ہے؟ سوال یہ ہے کہ کیا وہ کسی فیکٹری یا گودام میں انسانوں کے درمیان کھڑے ہو کر روزانہ کئی گھنٹے ایک حقیقی کام قابلِ اعتماد طریقے سے انجام دے سکتا ہے؟
ستمبر 2026 کی تازہ پیش رفتیں بتاتی ہیں کہ صنعت اب اسی سوال کا جواب تلاش کر رہی ہے۔
روبوٹکس کا نیا امتحان
Agility Robotics نے 15 ستمبر کو Digit 5 متعارف کرایا۔ کمپنی اسے صنعتی ماحول کے لیے تیار کردہ humanoid robot کے طور پر پیش کر رہی ہے۔ اس روبوٹ کی خاص توجہ صرف حرکت یا ظاہری شکل پر نہیں بلکہ cooperative safety پر ہے، یعنی ایسا نظام جس میں روبوٹ اپنے اردگرد موجود انسانوں کو محسوس کرکے اپنی حرکت کو اس طرح تبدیل کر سکے کہ دونوں ایک ہی جگہ کام کر سکیں۔
یہ تبدیلی بظاہر معمولی لگ سکتی ہے، لیکن صنعتی روبوٹکس میں اس کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔
روایتی صنعتی روبوٹ اکثر حفاظتی باڑ یا مخصوص حصے میں کام کرتے ہیں۔ وجہ واضح ہے: ایک بھاری مشین اگر اچانک اپنی سمت تبدیل کرے تو قریب موجود انسان کے لیے خطرناک ہو سکتی ہے۔
اگر AI اور sensors روبوٹ کو انسانوں کے قریب زیادہ محفوظ طریقے سے کام کرنے کے قابل بنا دیں تو فیکٹری کا پورا layout تبدیل کرنے کی ضرورت کم ہو سکتی ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں humanoid شکل بھی عملی فائدہ دے سکتی ہے۔ انسانوں کے لیے بنائی گئی دنیا میں دو ٹانگوں پر چلنے والا روبوٹ ان جگہوں تک پہنچ سکتا ہے جہاں پہلے سے انسانی کارکن جاتے ہیں۔
Physical AI کی اصل اہمیت
یہاں ایک اہم اصطلاح سامنے آتی ہے: Physical AI۔
سادہ الفاظ میں Physical AI سے مراد ایسی مصنوعی ذہانت ہے جو صرف اسکرین پر جواب دینے کے بجائے حقیقی دنیا میں موجود چیزوں کو دیکھ، سمجھ اور ان پر عمل کر سکے۔
ایک chatbot کو اگر میز پر موجود کپ اٹھانے کا حکم دیا جائے تو وہ الفاظ میں ہدایات دے سکتا ہے۔ ایک physical AI system کو میز کی جگہ، کپ کی پوزیشن، کپ کے وزن، ہاتھ کی گرفت، اردگرد موجود لوگوں اور اپنی جسمانی حدود کو بھی سمجھنا ہوگا۔
یعنی روبوٹ کے لیے دنیا صرف معلومات نہیں، بلکہ ایک مسلسل بدلتا ہوا ماحول ہے۔
اسی وجہ سے robotics میں AI کا استعمال زبان کے ماڈل سے کہیں زیادہ مشکل ہے۔ غلط جواب دینے والا chatbot پریشان کن ہو سکتا ہے، لیکن غلط فیصلہ کرنے والا صنعتی روبوٹ نقصان پہنچا سکتا ہے۔
فیکٹری میں AI پہنچانے کی دوڑ
15 ستمبر کو Universal Robots نے Gen 7 پلیٹ فارم متعارف کرایا، جسے کمپنی نے Physical AI کے لیے تیار کیا ہے۔ Gen 7 صرف ایک نیا robotic arm نہیں بلکہ robot، controller، software، interface اور دیگر components کو ایک مربوط platform کے طور پر پیش کرتا ہے۔
اس پیش رفت میں ایک اہم اشارہ چھپا ہے۔
روبوٹکس کی صنعت صرف نئے hardware پر توجہ نہیں دے رہی۔ AI کو موجودہ صنعتی روبوٹس میں شامل کرنا بھی اتنا ہی اہم بن چکا ہے۔
یہ فرق سمجھنا ضروری ہے۔
ممکن ہے مستقبل کی ہر فیکٹری میں humanoid robot نہ ہو۔ بعض کاموں کے لیے ایک مخصوص robotic arm اب بھی زیادہ تیز، سستا اور قابلِ اعتماد رہے گا۔ لیکن اگر AI ایسے روبوٹس کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ لچک دار بنا دے تو ایک ہی مشین زیادہ اقسام کے کام انجام دے سکتی ہے۔
یہ صنعتی automation کے لیے زیادہ اہم تبدیلی ہو سکتی ہے جتنی کہ humanoid robot کی ظاہری شکل۔
چین میں رفتار، لیکن ایک بڑا سوال
چین اس دوڑ میں خاص طور پر نمایاں ہے۔ وہاں humanoid robots کی تیاری، سرمایہ کاری اور صنعتی تجربات تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔
ستمبر میں Reuters نے چین کے TianGong Ultra humanoid robot کے بارے میں رپورٹ کیا کہ اس نے 100 میٹر کی دوڑ 8.64 سیکنڈ میں مکمل کی۔ یہ مظاہرہ روبوٹ کی mobility کی صلاحیت دکھاتا ہے، لیکن خود Reuters نے واضح کیا کہ اصل چیلنج اب بھی حقیقی دنیا کے کام ہیں، جہاں robot کو صرف تیز دوڑنے کے بجائے قابلِ اعتماد طریقے سے مختلف کام انجام دینا ہوتا ہے۔
یہ فرق بہت اہم ہے۔
ایک روبوٹ کا ریکارڈ قائم کرنا خبر بن سکتا ہے، لیکن کسی فیکٹری میں ہزاروں گھنٹے بغیر مسلسل انسانی مداخلت کے کام کرنا کاروباری کامیابی بناتا ہے۔
چین کے بارے میں Reuters کی ایک اور تحقیق نے اسی مسئلے کو نمایاں کیا۔ ملک نے humanoid robotics میں hardware اور manufacturing کے میدان میں تیزی دکھائی ہے، لیکن robots اب بھی dexterity، adaptability اور autonomous operation کے مسائل سے دوچار ہیں۔
سرمایہ کار بھی اب صرف خواب نہیں خریدنا چاہتے
روبوٹکس کے گرد سرمایہ کاری کا جوش بھی بڑھا ہے، لیکن مارکیٹ اب زیادہ سخت سوالات پوچھ رہی ہے۔
Unitree کی حالیہ IPO کے بعد حصص میں شدید اتار چڑھاؤ نے اس شعبے کی بلند valuations پر توجہ مرکوز کر دی۔ Reuters کے مطابق چینی regulators نے humanoid robotics کمپنیوں کی آئندہ IPO منظوریوں کے لیے زیادہ سخت معیار اپنانے کی غیر رسمی ہدایات دی ہیں۔ ان میں recurring revenue، نقصانات کم کرنے کی پیش رفت اور حقیقی تکنیکی جدت جیسے عوامل شامل بتائے گئے ہیں، تاہم چینی regulators نے اس رپورٹ کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔
یہ تبدیلی اہم ہے کیونکہ روبوٹ بنانا اور روبوٹ سے پیسہ کمانا دو مختلف مرحلے ہیں۔
اگر ایک کمپنی بہترین prototype تیار کر لے لیکن اس کے robots مہنگے ہوں، بار بار خراب ہوں یا انہیں چلانے کے لیے بہت زیادہ انسانی نگرانی درکار ہو تو بڑے پیمانے پر کاروبار بنانا مشکل ہوگا۔
Boston Dynamics بھی اسی حقیقت سے دوچار ہے
Boston Dynamics کا Atlas دنیا کے معروف humanoid robots میں شمار ہوتا ہے، لیکن Hyundai کے ایک سینئر عہدیدار کے مطابق کمپنی کے robot کی بڑے پیمانے پر تعیناتی ابھی نہیں ہوئی اور 2027 میں IPO کا امکان کم ہے۔ Reuters کے مطابق Hyundai 2028 تک سالانہ 30 ہزار robots تیار کرنے کی صلاحیت رکھنے والی فیکٹری کا منصوبہ رکھتا ہے، جبکہ Boston Dynamics گزشتہ برسوں میں مسلسل مالی نقصانات سے گزری ہے۔
یہ مثال ایک اہم حقیقت واضح کرتی ہے:
روبوٹکس میں تکنیکی شہرت، بڑے پیمانے کی پیداوار اور منافع بخش کاروبار ایک ہی چیز نہیں ہیں۔
کیا 2040 تک کروڑوں روبوٹ آ جائیں گے؟
Berg Insight کی ستمبر 2026 میں جاری ہونے والی تحقیق نے humanoid robotics کے مستقبل کے بارے میں انتہائی بڑا تخمینہ پیش کیا ہے۔ ادارے کے مطابق سالانہ humanoid robot shipments تقریباً 16 ہزار یونٹس سے بڑھ کر 2040 تک 26 ملین یونٹس تک پہنچ سکتی ہیں۔ اسی تحقیق میں 2040 تک دنیا بھر میں زیرِ استعمال humanoid robots کی تعداد تقریباً 83 ملین تک پہنچنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
لیکن ان اعداد کو موجودہ حقیقت سمجھنا غلط ہوگا۔
یہ مارکیٹ forecast ہے، اس بات کی ضمانت نہیں کہ 2040 میں واقعی 26 ملین robots ہر سال فروخت ہوں گے۔
البتہ یہ پیش گوئی ایک اہم صنعتی سمت ضرور دکھاتی ہے۔ Berg Insight کے مطابق ابتدائی adoption کا بڑا حصہ manufacturing، logistics اور warehousing سے آنے کا امکان ہے، جبکہ گھریلو استعمال بعد کے مرحلے میں وسیع ہو سکتا ہے۔
یہ اندازہ موجودہ صنعتی رجحانات سے بھی مطابقت رکھتا ہے۔
گھروں سے پہلے فیکٹریاں کیوں؟
گھر میں کام کرنے والا robot فیکٹری کے robot سے کہیں زیادہ مشکل مسئلہ ہے۔
فیکٹری میں ماحول نسبتاً منظم ہو سکتا ہے۔ ایک robot کو مخصوص راستہ، مخصوص سامان اور مخصوص کام دیا جا سکتا ہے۔
گھر میں ہر چیز بدلتی رہتی ہے۔ فرش پر کھلونا پڑا ہے، میز پر کپ ہے، کمرے میں بچہ چل رہا ہے، دروازہ آدھا کھلا ہے اور ایک ہی کام مختلف گھروں میں مختلف طریقے سے کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس لیے ممکن ہے کہ humanoid robots کی پہلی بڑی تجارتی کامیابی گھروں میں نہیں بلکہ فیکٹریوں، گوداموں اور logistics مراکز میں نظر آئے۔
یہ بھی ممکن ہے کہ مستقبل میں ہر کام کے لیے humanoid robot استعمال نہ ہو۔ جہاں robotic arm بہتر اور سستا ہے وہاں robotic arm ہی غالب رہے گا۔
اصل تبدیلی شاید یہ ہوگی کہ AI مختلف قسم کے robotic systems کو زیادہ لچک دار بنا دے گی۔
پاکستان کے لیے اصل سبق
پاکستان میں humanoid robot کی فوری بڑے پیمانے پر آمد شاید ابھی دور ہو، لیکن اس ٹیکنالوجی کا اثر پہلے ہی تعلیمی اور صنعتی منصوبہ بندی میں نظر آنا چاہیے۔
اگر روبوٹس کو قدرتی زبان، computer vision اور AI کے ذریعے نئے کام سکھانا آسان ہوتا جاتا ہے تو مستقبل میں automation صرف بڑی multinational کمپنیوں تک محدود نہیں رہ سکتی۔
ٹیکسٹائل، پیکیجنگ، گودام، خوراک، فارماسیوٹیکل اور assembly industries ایسے شعبے ہیں جہاں مخصوص repetitive tasks کو خودکار بنانے کے مواقع موجود ہیں۔
اس کے ساتھ روزگار کا سوال بھی اہم ہوگا۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر انسانی کارکن کی جگہ robot لے لے گا۔ لیکن repetitive جسمانی کاموں کی طلب کم ہو سکتی ہے جبکہ robot operators، maintenance technicians، AI engineers، computer vision specialists اور automation integrators کی ضرورت بڑھ سکتی ہے۔
پاکستان کے لیے بہتر حکمت عملی روبوٹس سے خوفزدہ ہونے کے بجائے روبوٹ بنانے، چلانے، maintain کرنے اور ان کے لیے AI software تیار کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا ہوگی۔
اگلا مقابلہ کس چیز پر ہوگا؟
اگلے چند برسوں میں humanoid robotics کی کامیابی کا فیصلہ ممکنہ طور پر چند بنیادی سوالات کریں گے۔
کیا robot کئی گھنٹے قابلِ اعتماد طریقے سے کام کر سکتا ہے؟
کیا وہ انسانوں کے قریب محفوظ ہے؟
کیا اسے نئے کام کے لیے دوبارہ پروگرام کرنا آسان ہے؟
کیا اس کی maintenance قابلِ برداشت ہے؟
اور سب سے بڑھ کر، کیا اس سے حاصل ہونے والی productivity اس کی مجموعی لاگت سے زیادہ ہے؟
یہی وجہ ہے کہ Digit 5 جیسے robots میں safety پر زور، Universal Robots جیسے پلیٹ فارمز میں AI integration اور چین میں commercial deployment پر بڑھتی توجہ ایک ہی بڑے رجحان کی مختلف شکلیں ہیں۔
روبوٹکس اب صرف mechanical engineering کا مقابلہ نہیں رہا۔ یہ AI، sensors، batteries، software، manufacturing اور economics کا مشترکہ امتحان بن چکا ہے۔
روبوٹکس کا اصل مستقبل
ممکن ہے اگلی بڑی robotic breakthrough کوئی ایسا robot نہ ہو جو انسان کو حیران کر دے۔
ممکن ہے اصل کامیابی ایک ایسے robot کی ہو جو کسی فیکٹری میں خاموشی سے روزانہ آٹھ، دس یا بیس گھنٹے وہی مشکل کام انجام دیتا رہے، کم supervision مانگے، انسانوں کے ساتھ محفوظ رہے اور کمپنی کو حقیقی مالی فائدہ دے۔
یہ تبدیلی زیادہ پرکشش ویڈیو نہیں بنائے گی، لیکن صنعت کے لیے اس کی اہمیت کہیں زیادہ ہوگی۔
آج کی humanoid robotics اسی مرحلے میں داخل ہو رہی ہے جہاں مظاہروں سے زیادہ قابلِ اعتماد کارکردگی، safety اور business economics اہم ہو رہے ہیں۔
اور اگر AI واقعی روبوٹس کو صرف حرکت کرنے والی مشینوں سے سیکھنے اور فیصلہ کرنے والے physical systems میں تبدیل کر دیتی ہے، تو اگلا انقلاب ہماری اسکرینوں پر نہیں، ان جگہوں پر نظر آئے گا جہاں انسان روزانہ کام کرتے ہیں۔



